Friday, November 28, 2025

غزل ( شاعر : گردیال روشن ) گرمکھی لیپی انتر : امرجیت سنگھ جیت

 











ਪੰਜਾਬੀ ਗ਼ਜ਼ਲ ਦੇ ਮਾਣਮੱਤੇ ਹਸਤਾਖ਼ਰ, ਪ੍ਰੋੜ੍ਹ ਤੇ ਉਸਤਾਦ ਗ਼ਜ਼ਲਗੋ ਜਨਾਬ ਗੁਰਦਿਆਲ ਰੋਸ਼ਨ ਹੁਰਾਂ ਦੀ ਇਕ ਗ਼ਜ਼ਲ: 


ਰਾਹਾਂ  'ਚ  ਵਿਛਿਆ  ਖ਼ੂਨ  ਤੇ  ਗ਼ਮਜ਼ਦ ਕਹਾਣੀਆਂ।

ਭੁੱਲੇ    ਨਾ   ਕਾਲ਼ਾ   ਦੌਰ   ਤੇ   ਸਾਂਝਾਂ   ਪੁਰਾਣੀਆਂ।

راہاں 'چ وچھیا خون تے غمزد کہانیاں۔

بُھلّے نہ کالا دَور تے سانجھاں  پُرانیاں۔ 


ਏਹੀ    ਮੇਰੇ    ਪੰਜਾਬ    ਨੂੰ      ਦਿੱਤਾ     ਆਜ਼ਾਦੀਏ,

ਤਵਿਆਂ 'ਤੇ  ਜਲ਼ੀਆਂ  ਰੋਟੀਆਂ, ਗੁਮਸੁਮ  ਮਧਾਣੀਆਂ।

ایہی  میرے   پنجاب  نوں   دِتا   آزادیئے،

تویاں 'تے جلیاں روٹیاں، گُمسُم مدھانیاں۔ 


ਵੱਢੇ    ਗਏ ,   ਲੁੱਟੇ    ਗਏ,   ਰਾਹਾਂ   'ਚ    ਕਾਫ਼ਿਲੇ,

ਸੂਹੇ   ਮੜ੍ਹਾਸੇ   ਬੰਨ੍ਹ   ਲਏ,  ਨਦੀਆਂ  ਦੇ   ਪਾਣੀਆਂ।

وڈّھے  گئے،   لُٹّے  گئے،    راہاں  'چ  قافِلے،

سوہے مڑھاسے بنھ لئے، ندیاں دے پانیاں۔ 


ਪੁੱਛੋ ਨਾ, ਜਲ਼ਿਆ ਹੋਰ ਕੀ,  ਨਫ਼ਰਤ  ਦੀ  ਅੱਗ  ਵਿਚ,

ਦਿੱਤੀ    ਅਹੂਤੀ    ਜਾਨ    ਦੀ,   ਲੱਖਾਂ    ਪ੍ਰਾਣੀਆਂ।

پُچھو نہ، جلیا ہور کی، نفرت دی اگّ وِچ،

دِتی  اہوتی  جان  دی،   لکّھاں   پرانیاں۔ 


ਉਹਨਾਂ  ਨੇ  ਖੂਹਾਂ   ਖ਼ਾਤਿਆਂ  ਵਿਚ  ਘਰ  ਬਣਾ  ਲਏ,

ਅਜ਼ਮਤ  ਬਚਾ ਸਕੀਆਂ ਨਾ ਜੋ, ਧੀਆਂ ਧਿਆਣੀਆਂ।

اُہناں نے  کُھوہاں  خاتیاں  وِچ گھر  بنا لئے،

عظمت بچا سکیاں نہ جو، دھیاں دھیانیاں۔ 


ਹਾਏ ਦਿਲਾ, ਲਾਸ਼ਾਂ ਨੂੰ  ਕੱਫ਼ਣ  ਵੀ  ਨਾ  ਮਿਲ  ਸਕੇ,

ਜਦ ਰਾਜਿਆਂ ਦੇ ਨਾਲ ਮਰ ਗਈਆਂ ਸੀ  ਰਾਣੀਆਂ।

ہائے دِلا، لاشاں نوں کفن وی نہ مِل سکے،

جد راجیاں دے نال مر گئیاں سی رانیاں۔ 


ਭੁੱਖੇ,   ਪਿਆਸੇ   ਰਹਿਣ   ਪਿੱਛੋਂ    ਬੋਟ    ਮਰ   ਗਏ,

ਛੱਤਾਂ 'ਚ ਹੋਈਆਂ ਕਤਲ ਜਦ ਚਿੜੀਆਂ ਨਿਤਾਣੀਆਂ।

بُھکّھے،   پیاسے رہن پِچھوں بوٹ مر گئے،

چھتاں 'چ ہوئیاں قتل جد چِڑیاں نتانیاں۔ 


ਦੋ    ਹਿੱਸਿਆਂ    ਵਿਚ    ਵੰਡਿਆ    ਪੰਜਾਬ,   ਕੂਕਦੈ,

ਸਾਂਈਆਂ,  ਲਿਆ  ਦੇ  ਮੋੜ  ਕੇ,  ਯਾਦਾਂ ਸੁਹਾਣੀਆਂ।

دو حِصّیاں  وِچ  ونڈیا  پنجاب،   کوکدے،

سائیاں،  لیا دے موڑ کے،  یاداں سُہانیاں۔ 


ਬਿਹਤਰ   ਹੈ,  ਬੀਤੇ   ਵਕਤ   ਦੇ  ਖੰਡਰ  ਫਰੋਲ  ਨਾ,

ਤੈਥੋਂ   ਕਥਾਵਾਂ  ਸਾਡੀਆਂ,  ਸੁਣੀਆਂ  ਨਾ   ਜਾਣੀਆਂ।

بہتر ہے،  بیتے  وقت دے  کھنڈر  پھرول نہ،

تیتھوں کتھاواں ساڈیاں،  سُنیاں نہ جانیاں۔ 


ਦਿੱਲੀ   ਤਾਂ   ਵੱਡੀ   ਭੈਣ   ਹੈ,  ਵਿਛੜੇ   ਲਾਹੌਰ   ਦੀ,

ਫਿਰ ਕਿਉਂ ਦਿਲਾਂ ਵਿਚ ਨਫ਼ਰਤਾਂ ਖ਼ਸਮਾਂ ਨੂੰ ਖਾਣੀਆਂ।

دِلّی  تاں  وڈّی  بھین  ہے،   وِچھڑے  لاہور  دی،

فِر کیوں دِلاں وِچ نفرتاں خصماں نوں کھانیاں۔ 


ਬਰਬਾਦੀਆਂ   ਵਿਚ   ਵਟਣਗੇ   ਮੀਲਾਂ  ਦੇ   ਫ਼ਾਸਲੇ,

ਇਸ ਵਕਤ  ਵੀ  ਜੇ  ਸੁਲਝੀਆਂ  ਸਾਥੋਂ  ਨਾ ਤਾਣੀਆਂ।

بربادیاں    وِچ    وٹنگے    میلاں   دے   فاصلے،

اِس وقت وی جے سُلجھیاں ساتھوں نہ تانیاں۔ 


ਉਹ  ਕੌਣ   ਸੀ,  ਜੋ   ਸਾਡਿਆਂ  ਖੂਹਾਂ  ਨੂੰ  ਲੈ  ਗਿਆ,

ਕਿੱਥੇ   ਅਸਾਡੇ    ਬੋਹਲ਼   ਨੇ , ਕਿੱਥੇ   ਨੇ   ਢਾਣੀਆਂ।

اوہ کَون سی،  جو ساڈیاں کُھوہاں نوں لَے گیا،

کِتھے  اساڈے  بوہل نے ،  کِتھے   نے   ڈھانیاں۔ 


ਜੋ   ਪਰਚਮਾਂ   ਦੇ    ਹੇਠ    ਹਨ    ਦਿਸਦੇ   ਚਬੂਤਰੇ,

ਇਹਨਾਂ   ਦੇ  ਹੇਠਾਂ  ਦਫ਼ਨ ਹਨ  ਚੀਕਾਂ ਨਿਆਣੀਆਂ।

جو پرچماں دے ہیٹھ ہن دِسدے چبوترے،

اُہناں دے ہیٹھاں دفن  ہن  چیکاں  نیانیاں۔ 


'ਰੌਸ਼ਨ'   ਮਨਾਵਾਂ  ਜਸ਼ਨ   ਮੈਂ,   ਸੰਭਵ   ਨਹੀਂ   ਅਜੇ,

ਰੋ   ਲੈਣ   ਦੇ   ਅੱਜ  ਰੱਜ   ਕੇ,  ਮੈਨੂੰ   ਤੂੰ  ਹਾਣੀਆਂ।

'روشن'   مناواں جشن میں،  سنبھو نہیں اجے،

رو لین  دے اجّ  رجّ  کے ،  مینوں   توں  ہانیاں۔



    ਸ਼ਾਇਰ : ਗੁਰਦਿਆਲ ਰੌਸ਼ਨ    

شاعر:گُردیال روشن

ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਲਿਪੀਅੰਤਰ: ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ              

شاہ مُکھی لپیآنتر:امرجیت سنگھ جیت         

Thursday, November 27, 2025

بے دردی ( سمر پال کؤر بٹھنڈا ) گرمکھی لیپی انتر : سلیم آفتاب سلیم

 ‎    










 (بےدردی)

‎دل توں اینج وساریا اُس نیں

‎مڑ نا مینوں وچاریا اس نیں

‎لگدا ذہن چوں کڈ دتا اے

‎فر نا مینوں چتاریا اُس نیں

‎بے دردی نوں درد نہیں ہویا

‎روح کولوں دُرکاریا اُس نیں

‎بےفکرے نیں فکر نا کیتا

‎ایسا سی پھٹکاریا اُس نیں

‎سینے دے وچ چوب جیہی پاؤندا

‎خورے کی اتاریا اس نیں

‎نین پیاسے دید اوہدی دے

‎ساویں بیٹھ نکاریا اُس نیں

‎عادت توں مجبور سی بھورا

‎مرجایا نہیں سویکاریا اُس نیں

‎لیکھک سمر پال کؤر بٹِھنڈا‎

پردھان بیانِ حرف ساہتک منچ پنجاب ریج

‎شاہ مُکھی انوادک اشتیاق انصاری

‎ਬੇਦਰਦੀ

‎ਦਿਲ ਤੋਂ ਇੰਝ ਵਿਸਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਮੁੜ ਨਾ ਮੈਨੂੰ ਵਿਚਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਲਗਦਾ ਜਿਹਨ ਚੋਂ ਕੱਢ ਦਿੱਤਾ ਏ ,

‎ਫਿਰ ਨਾ ਮੈਨੂੰ ਚਿਤਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਬੇਦਰਦੀ ਨੂੰ ਦਰਦ ਨਹੀਂ ਹੋਇਆ,

‎ਰੂਹ ਕੋਲੋਂ ਦੁਰਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਬੇਫ਼ਿਕਰੇ ਨੇ ਫ਼ਿਕਰ ਨਾ ਕਰਕੇ ।

‎ਐਸਾ ਸੀ ਫਿਟਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ,

‎ਸੀਨੇ ਦੇ ਵਿੱਚ ਚੋਭ ਜਿਹੀ ਪਾਉਂਦਾ ,

‎ਖ਼ੌਰੇ ਕੀ ਉਤਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਨੈਣ ਪਿਆਸੇ ਦੀਦ ਓਹਦੀ ਦੇ,

‎ਸਾਹਵੇਂ ਬੈਠ ਨਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਆਦਤ ਤੋਂ ਮਜਬੂਰ ਸੀ ਭੌਰਾ,

‎ਮੁਰਝਾਇਆ ਨਹੀਂ ਸਵੀਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਲੇਖਿਕਾ: ਸਿਮਰਪਾਲ ਕੌਰ ਬਠਿੰਡਾ 

‎ਪ੍ਰਧਾਨ: ਬਿਆਨ-ਏ-ਹਰਫ਼ ਸਾਹਿਤਕ ਮੰਚ ਪੰਜਾਬ (ਰਜਿ.)

Wednesday, November 26, 2025

عرقیات ( ان کے فوائد اور بنانے کا طریقہ )

 











عرقیات
  عرق دواؤں کے صاف و مقطر پانی کو کہتے ہیں جسے ادویہ کو قرع انبیق کے ذریعے جوش دینے کے بعد بخارات کی صورت میں اُڑا کر مقطر کر کے حاصل کر لیا گیا ہو۔
اصطلاحی طور پر عرق اُس صاف سیّال کو کہتے ہیں جو عمل تعریق کے ذریعہ بصورت تقطیر بھاپ کو منجمد کر لینے سے حاصل ہوتا ہے۔ عرقیات اپنی قوت و تاثیر کے لحاظ سے دیگر اشکال ادویہ کے مقابلہ میں زیادہ قوی التاثیر اور سریع النفوذ ہوتے ہیں ، کیونکہ اِس میں دواء کا جوہر اصلی یا جوہر فعال زیادہ مقدار میں موجود ہو
ایسراں توں کدے نئیں سئیں ہسیا - بوہتا نقصان تے نئیں ہو گیا ( اشتیاق حسین اثر دی دل موہ لین والی پنجابی شاعری )

عملِ تعریق میں عرق بنانے کے لیے دواء اور پانی کا تناسب

ادویہ کا عرق حاصل کرنے کے سلسلہ میں دواء اور پانی کے تناسب کی کافی اہمیت ہے۔ قرابادینوں میں اِس سلسلہ میں مختلف ہدایات دی گئی ہیں۔
(1) 60 گرام دواء سے اگر دو۲ لیٹر عرق حاصل کیا جائے تو وہ ضعیف الاثر ہوگا۔
(2) 150 گرام دواء میں اگر ایک لیٹر عرق حاصل کیا جائے تو یہ بہتر ہوگا۔
(3) 250 گرام دواء 4 لیٹر پانی میں شامل کر کے ۲ لیٹر عرق تیار کریں تو یہ سب سے اچھا ہوگا۔

اگر عرق حاصل کی جانے والی ادویہ میں دودھ بھی ہو تو اُس کودمِ صبح عرق نکالتے وقت شامل کریں یا اُس کا ماء الجبن تیار کر کے پھر شامل کریں۔
اگر عرق کے نسخہ میں مشک، عنبر اور زعفران جیسی خوشبو دار ادویہ شامل کرنی ہوں تو اُن کو پوٹلی میں باندھ کر ٹونٹی کے نیچے اِس طرح لٹکا دیں کہ عرق اِس پوٹلی پر قطرہ قطرہ ٹپکتا رہے اور پھر قابلہ میں مجتمع ہو جائے۔
اگر عرقیات کے نسخہ میں لکڑیاں ، بیج اور جڑیں شامل ہوں تو اُن کو نیم کوب کر کے عرق کشید کئے جانے والے برتن میں ڈالا جائے۔
عملِ تعریق کے مکمل ہونے کی علامت یہ ہے کہ آخر میں عرق بہت کم اور دیر سے آتا ہے اور پانی کے کھولنے کی آواز بھی کم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات عرق کی بُو بھی بدل جاتی ہے۔ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ دیگ کا پانی ختم ہو چکا ہے۔ دیگ میں چند کوڑیاں ڈال دی جاتی ہیں چنانچہ پانی کم ہو جانے کے بعد کوڑیاں بجنے لگتی ہیں جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پانی ختم ہو گیا۔

عرقیات کی افادیت
عرق مقدار، معیار، اور طبی اصولوں کے مطابق کشید کیا گیا ہو، تو بفضلہ انجیکشن سے پہلے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے.
معدہ کو عرق ہضم کرنے کے لیے محنت نہیں کرنا پڑتی بلکہ جلد ہی جسم کا حصہ بن کر شفا یابی سے ہمکنار کرتا ہے.
اگر عرقیات کو دیگر ادویات کے ساتھ بطور بدرقہ استعمال کیا جائے تو ادویات کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
شفا یابی کی مدت کم ہو جاتی ہے.

                 (عرق قلبی)
عرق گلاب سہ آتشہ
عرق سونف سہ آتشہ
برابر وزن مکس کر لیں
مقدار خوراک... 60 سے 90 ملی لیٹر تک دن میں دو سے تین بار
جواہر مہرہ کے ساتھ
یا دیگر ادویات معالج کی تجویز کردہ کے ساتھ.
فوائد... کولیسٹرول کو کنٹرول کر کے ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کو ٹھیک کر تا ہے. دل کی بند شریانوں کو 15 دن سے 3 ماہ کے عرصے میں کھول دیتا ہے. بائ پاس آپریش جیسی مہنگی سرجری سے بچاتا ہے
ساری زندگی دل کی ادویات کھانے سے بچاتا ہے.
معدہ کے افعال کو بہتر کر کے صحت کے اجڑے ہوئے گلشن کو نئ بہار دیتا ہے.
مابعد اثرات سے پاک ہے

عرق سونف
ایک کلو سونف سے 10 لیٹر عرق کشید شدہ معدہ کے اکثر امراض میں انتہائی مفید نتائج دیتا ہے
اکیلا عرق سونف ہی بعض مرتبہ بھاری بھر کم ادویات سے بازی لے جاتا ہے.
بدہضمی، متلی قے وغیرہ میں جوارش انارین کے ہمراہ
بار بار پاخانہ آنا اور قوام پتلا ہو جوارش انارین کے ساتھ
معدہ خرابی کی وجہ سے ریاح، پیشاب کی زیادتی، تبخیر، بھوک نہ لگنا، منہ کی بدبو، بواسیر بادی وغیرہ میں جوارش جالینوس کے ہمراہ
      
عرق گاؤزبان
ایک کلو گاؤزبان سے 10 لیٹر عرق کشید شدہ
خفقان، دماغی کمزوری، نظر کی کمزوری، سر درد، اور جگر کے امراض وغیرہ میں بھی بہترین نتائج کا حامل ہے.
دماغی امراض میں خمیرہ گاؤزبان
آنکھوں سے پانی وغیرہ کے آنے میں اطریفل کشنیز وغیرہ کے ہمراہ
بال گرنے کیلئے خمیرہ بادام وغیرہ مرگی کی ادویات کے ساتھ
جگر کی ادویات کے ساتھ وغیرہ
مقدار خوراک... 30 ملی لیٹر سے 60 ملی لیٹر دن میں 2 بار

عرق اجوائن
ایک کلو اجوائن سے 13 لیٹر کشید شدہ عرق
معدہ کی کمزوری، ملیریا بخار. درد شکم، گنٹھیا، جیسے امراض میں بہترین اثرات کا حامل ہے ان بیماریوں کی ادویات کے ساتھ استعمال کرانے سے نتائج اچھے ہو جاتے ہیں.
مقدار خوراک... 10 ملی لیٹر سے 30 ملی لیٹر آدھا کپ پانی ڈال کر استعمال کریں ۔

عرق کاسنی
ایک کلو تخم کاسنی سے 10 کلو کشید شدہ عرق
حرارت جگر، ورم جگر، ہیپاٹائٹس، ورم معدہ، وغیرہ جیسے امراض میں ایک نعمت ہے. حرارت جگر میں جوارش انارین،
انار کے رس، ورم معدہ میں ھلدی، سونف، ملٹھی کے مرکب کے ساتھ. خواتین کے ورم رحم میں عرق کاسنی، عرق مکو برابر مکس کر کے دیگر ادویات کے ساتھ.

عرق مکوہ
ایک کلو مکوہ سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق، ورم معدہ، ورم جگر، ورم رحم، استسقاء، جیسے امراض میں مستعمل ہے.
جوڑ درد میں جب ورم ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو دیگر ادویات کے ساتھ عرق مکو کا استعمال چند دن میں بفضلہ شفا یابی سے ہمکنار کرتا ہے  ورم رحم کیلئے تو زبردست نتائج کا حامل ہے
ورم رحم کی وجہ سے اگر حمل نہ ہو تو عرق مکوہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے

عرق پودینہ
ایک کلو جنگلی پودینہ سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق
متلی، قے، درد شکم، پیٹ میں گیس، پیٹ کے کیڑے، بدہضمی، پیٹ کا بڑھنا، پیشاب کا رک کر آنا، جیسے امراض کے لیے لاجواب ہے. امراض بالا کی ادویات کے ساتھ عرق پودینہ کا استعمال حیران کن نتائج دیتا ہے
بعض امراض میں خود معالج نتائج دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے
نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے چہرے کے دانوں کیلئے بہترین رزلٹ دیتا ہے

عرق چہار
سونف، پودینہ، اجوائن، پھول گلاب ایک ایک پاؤ۔ چاروں برابر وزن ایک کلو سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق
عرق چہار کو اپنی سمجھ کے مطابق جتنا وسیع استعمال کریں گے. اس کے شفائی اثرات آپ پر کھلتے جائیں گے
پیٹ کے اکثر امراض، جوڑ درد،گنٹھیا، نقرس، پرانے بخار، جیسے امراض کیلئے شفا بخش اثرات سے بھرپور ہے.
مریض کے حالات کے مطابق معالج استعمال کا مشورہ دے سکتا ہے
عرق چہار، عرق مکوہ، عرق کاسنی، برابر وزن مکس کر کے چائے کا ایک کپ دن میں تین سے پانچ بار تک
گنٹھیا جیسے امراض کا شافی علاج ہے جب ہم عرق بناتے تھے اس وقت ایک معالج ہم سے عرق لیتے تھے وہ گنٹھیا کے مریضوں کو پانی پینے سے روک کر یہی عرق استعمال کراتے تھے اور 95 فیصد کامیاب ہوتے تھے
              
عرق گل منڈی
ایک کلو پھول گل منڈی سے 10 لیٹر کشید شدہ
فوائد. مصفی خون ہے. جہاں بہت ساری ادویات ناکام ہو جاتی ہیں. وہاں عرق گل منڈی اکیلا ہی شفا یابی میں کردار ادا کرتا ہے. اور اگر عرق گل منڈی میں شربت عناب شامل کر کے استعمال کرایا جائے تو پھر مصفی خون کے حوالے سے چشمہ شفاء پھوٹ پڑتا ہے.
ضعف بصر، آنکھوں کا ہمیشہ خراب ہوتے رہنا کیلئے تو ایک معالج کیلئے اس سے بہتر کوئی دوا نہیں
خمیرہ گاؤ زبان، خمیرہ بادام وغیرہ کے ساتھ استعمال کرایا جائے تو آنکھوں کے بہت سارے مسائل حل کرنے میں کامیابی ملتی ہے
مقدار خوراک... 30 ملی لیٹر سے 50 ملی لیٹر دن میں 2 سے 3 بار امراض کو مدنظر رکھتے ہوئے

عرق مرکب
اجزاء... گلو. مکو. اجوائن. کاسنی. ہلیلہ. بلیلہ آملہ. ریوند چینی. سونف
تمام اجزاء برابر وزن 100- 100 گرام
ٹوٹل وزن 900 گرام سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق
فوائد... جگر کی اکثر امراض میں جادو کا اثر رکھتا ہے.
ورم جگر، جگر کابڑہنا، یرقان کی تمام اقسام خاص طور پر یرقان اسود( ہیپاٹائٹس بی اور سی)میں کامیاب علاج ہے.
ورم جگر کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام اورام خاص طور پر ہاتھ، پاؤں، اور چہرے کے ورم کیلئے فائدہ مند ہے
کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ طب میـں ہیپاٹائٹس کا کامیاب علاج نہیں یا وہ معالجین جو خود بھی مایوس ہیں کہ ہیپاٹائٹس کا کامیاب علاج کیسے کریں. ان کو ذمہ داری سے بتانا چاہتا ہوں.

آپ میرے بتائے  ہوئے طریقے کے مطابق ہیپاٹائٹس کا علاج کریں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ان شا ء اللہ 95 فیصد سے
زیادہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی

1.... دواء الکبد
نسخہ... ریوند خطائ 50 گرام ، قلمی شورہ اصلی 10 گرام. نوشادر ٹھیکری 10 گرام. مرچ سیاہ 10 گرام. بالچھڑ اصل 10 گرام. تیز پات 10 گرام سب کو ہاون دستہ میں کوٹ کر چھان کر (گرینڈر سے نہیں) دوا تیار کریں
مقدار خوراک... 500 ملی گرام سے 1000 ملی گرام تک (آدھا گرام سے ایک گرام) دن میں دو بار ، عرق مرکب 30 سے 50 ملی لیٹر

شربت دینار 25 ملی لیٹر
سادہ پانی 50 ملی لیٹر مکس کر کے دواءالکبد کھانے سے 30 منٹ پہلے استعمال کرائیں
کھانے کے 30 منٹ بعد خالص ھلدی کا فل ساۂز ایک ایک کیپسول سرکہ انگوری خالص ایک چمچ آدھا گلاس پانی سے صبح و شام۔

اگر جگر سکڑ رہا ہو تو پھر دھمانسہ کا 500 ملی گرام کا ایک ایک کیپسول بھی کھانا کھانے کے 30 منٹ بعد استعمال کرائیں
اس سادہ سے طریقہ سے آپ ہیپاٹائٹس کے کامیاب معالج بن سکتے ہیں۔
علامات کے مطابق معالج ادویات میں کمی بیشی کر سکتا ہے
مختصر اور سادہ سی ادویات آپ کو مایوس نہیں کریں گی.
ان شا ء اللہ۔ بس تمام معالج دوستوں سے دعا کی درخواست

عرق مقوی طاقت کے لیے
فوائد... اعضائے رئیسہ اور اعصابی طاقت کیلئے بہترین ٹانک ہے. شوگر سے ہونے والی کمزوریوں کیلئے بہترین مرکب ہے. خون کی کمی کو پورا کرتا ہے. عمر رسیدہ (قابل احترام) بزرگوں کے لیے لا جواب ہے
معالج اجزاء کو دیکھ کر مختلف علامات میں استعمال کرا سکتا ہے ۔
اجزاء... لونگ 30 گرام... دارچینی 30 گرام... جائفل 30 گرام... چوب چینی 50 گرام... الائچی خورد 20 گرام... الائچی کلاں 30 گرام... صندل سفید 20 گرام... تیز پات 20 گرام... بالچھڑ 20 گرام برگ ریحان تازہ 200 گرام... ابریشم (باریک کاٹا ہوا) 200 گرام... نرم چھلکا (پوست) کیکر 200 گرام... نرم چھلکا (پوست) 200 گرام، گوشت کبوتر (جنگلی ہو تو زیادہ اچھا ہے) آدھا کلو
گوشت گردن بکرا دیسی قیمہ ایک کلو
زعفران 5 گرام
گوشت اور زعفران کے علاوہ سب ادویات کو 15 لیٹر اچھے پانی میں 12 گھنٹے کے لئے بھگو دیں
پھر گوشت ڈال کر زعفران کو ٹونٹی کے منہ پر باندھ کر 10 لیٹر عرق کشید کریں
کشید شدہ عرق میں 3 لیٹر عرق گلاب سہ آتشہ مکس کر لیں
مقدار خوراک... 15 ملی لیٹر سے 30 ملی لیٹر تک دن میں 2 بار
دودھ. وغیرہ میں ڈال کر

عرق امرت
اجزاء... گلو تازہ، چرائتہ، شاہترہ، نیم کی اندرونی چھال، پوست بندق ہندی (ریٹھے کا چھلکا) سب برابر وزن. دو دو سو گرام
12 لیٹر کشید شدہ عرق
فوائد... سردرد دائمی، بدہضمی، دردِ شکم، اپھارہ، درد گردہ، آتشک، کنٹھ مالا، بھگندر، ناسور، داد، چنبل، کھجلی، برص، بخار، گھی دودھ کا ہضم نہ ہونا. وغیرہ امراض میں مریض کی حالت کو دیکھ کر 5 ملی لیٹر سے 15 ملی لیٹر تک تازہ پانی مناسب. مقدار میں شامل کر کے استعمال کرائیں
ضعف دماغ، کمزوری بدن، کمی خون، مرگی، بواسیر بادی، افیون، بھنگ، ہیروئین، شراب کی عادت چھڑانے کے لیے.
20 سے 25 ملی لیٹر دن میں 2 بار
مکھن اور بالائی کا ساتھ مناسب مقدار میں استعمال کرائیں
بواسیر، خونی دست، ضعف جگر یرقان، ورم طحال، دل کی تیز دھڑکن، پیٹ کے کیڑے وغیرہ کے لئے 20 سے 25 ملی لیٹر دن میں 2 سے 3 بار
گائے کا دھی اور لسی مناسب مقدار میں ساتھ استعمال کرائیں
باؤ گولہ، وجع المفاصل، درد پسلی وغیرہ میں 20 ملی لیٹر گرم پانی شا مل کر کے استعمال کرائیں
بلغمی کھانسی، بلغمی دمہ کیلئے 20 سے 30 ملی لیٹر عرق مناسب مقدار میں سادہ پانی اور ایک چمچ شہد شامل کر کے استعمال کرائیں
سوزاک، قرحہ، سل، خون کی قے وغیرہ میں 20 سے 25 ملی لیٹر استعمال کرائیں
بکری کا دودھ دستیاب ہو تو اس میں مناسب مقدار سادہ پانی شامل کر کے استعمال کرائیں
آنکھوں کی بہت سی امراض، پانی جانا، دھند، جالا، پھولا، ککرے، کھجلی، سرخی، گندہ پن وغیرہ میں بھی اچھے فوائد حاصل ہوتے ہیں.
نوٹ.... عرق امرت کا نسخہ کنزالمجربات جلد 3 صفحہ 796
(مصنف استادالحکماء حکیم محمد عبداللہ رحمت اللہ علیہ) امرت لتا گولیوں کا نسخہ ہے. جس کو ہم نے بشکل عرق تیار کر کے وسیع فوائد سمیٹے. اگر معالج گولیوں اور عرق کو ایک ساتھ استعمال کرائیں تو فوائد کثیر حاصل ہوتے ہیں.
ایک ہی نسخہ کے بہت زیادہ فوائد کو دیکھ کر مبالغہ نہ سمجھا جائے
بلکہ تجربہ کر کے اکا برین حکمت کی محنت اور کوشش کی داد دی جائے اور ان کیلئے دعا کی جائے
اس عرق کو بنا لینے کے بعد آپ کو بہت ساری ادویات کیلئے ایک ہی بدرقہ دستیاب ہو جائے گا.
✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، جو اظہار کیا گیا ہے تشخیص و تجویز علاج معالج کا بدل نہیں، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔

Tuesday, November 25, 2025

پنجابی غزل : رمز کنائے دی موت تے زوال دا بھلیکھا ( تحریر : عمران سحر )















 پنجابی غزل: رمز کنائے دی موت تے زوال دا بھلیکھا

​شاعری دا اصل سروُپ ہر حال وچ سِدھی سٹیٹمنٹ، نعرے بازی یا سادہ بیان توں مُکت ہوندا اے۔ اِیہہ سچائی کِسے وی زبان دے اُستاد شاعر لئی حتمی حیثیت رکھدی اے۔ شاعری دا ناں تے رمز، کنائے تے استعارے نال جُڑیا ہویا اے۔ اِیہہ نویاں ترکیباں دی ایجاد، خیال دی کوملتا، تے لفظاں دی چُپ وچ لکے معنیاں دا ناں اے۔

​پر افسوس کہ جدید پنجابی غزل اپنی اِیہہ فطری سَمت چھڈّ کے ہور پاسے ٹُر پئی اے۔ اِیہو کارن اے کہ ہر پاسے ایہہ آواز سُنن نوں مِلدی اے کہ پنجابی غزل زوال دا شکار اے۔ مسئلہ غزل دی صنف وچ نہیں، مسئلہ اس نوں لکھن تے پڑھن والے دے ذوق دی تبدیلی وچ اے۔

​غزل وچوں مَکھن دا مُک جانا

​جدوں اسیں پنجابی غزل دی اِیہہ نُقص والی حالت ویکھدے آں، تے مُکھ طور تے ہیٹھ لکھیاں تبدیلیاں نظر آؤندیاں نیں:

​1. خیال دی پدھر: سِدھا سِدھا بیان

​کلاسک غزل عشق دی رمزیت، رُوحانی تجربے دی گہرائی، یا حیات دے فلسفیانہ مُعاملاں نوں لُکا کے بیان کردی سی۔ جِتھے پرانے شاعر 'ہجر' دی کیفیت نوں 'اُداس پیلیاں دے پُچھن ہار پکھیرو' دے استعارے وچ بیان کردے سن، اُتھے اج دے شاعر اوہو گل بنا کِسے جمالیاتی پردے دے، سِدھی سِدھی کہہ دیندے نیں۔ سِدھی گل سُخن  ہو سکدی اے، شاعری نہیں۔

2. فنی کَمتری: نویاں ترکیباں دا فقدان

​شاعری دی جان نویاں ترکیباں وچ ہوندی اے۔ میر، غالب یا وارث شاہ ورگے شاعر لفظاں نوں نِت نویں روپ بخشدے سن۔ 'دُکھاں دی داس'، 'یاداں دے دیوے'، 'پیڑ دا سجدہ' ورگیاں انوکھیاں ترکیباں ہُن گھٹ ای نظر آؤندیاں نیں۔ اج دے شاعر نوں عام تے رَٹیاں رٹائیاں ترکیباں ورتن وچ آسانی لگدی اے، جیہڑی غزل دی رَوح تے تازگی نوں ختم کر دیندی اے۔

​3. نعرے بازی تے جذبات دا غلبہ

​جِتھے کِتے غزل سماجی یا سیاسی شعور دی گل کردی اے، اُتھے وی اوہ رمز دی تھاں سِدھا نعرہ بن جاندی اے۔ جذبات دی شدت نوں فکر دی گہرائی نال متوازن کرن دی تھاں، صرف اُچی آواز وچ  گلاں کیتیاں جاندیاں نیں۔ ایہو جہے بیان وقتی تاثر تے داد تے لے لیندے نیں، پر فنی پدھر تے غزل نوں کمزور کر دیندے نیں۔

​زوال نہیں، ذوق دی تبدیلی اے

​پنجابی غزل دے 'زوال' دا الزام صرف شاعراں تے لانا ناصحیح ہووے گا۔ اِیہہ دراصل ساریاں ساہت نال جُڑیاں طاقتاں دی سانجھی غلطی اے۔

​فوری مشہوری دی طلب: سوشل میڈیا تے مشاعریاں دے بدل دے ماحول نے شاعر نوں مجبور کیتا اے کہ اوہ اوہو کُجھ لکھے جیہڑا فوری داد لے سکے۔ گہری رمز والی شاعری نوں سمجھن وچ وَقت لگدا اے، جیہڑا اج دے دور وچ کِسے کول نہیں۔

​ناقد دا فَرْض: پنجابی دے نقاد نے کَمتَر سُخن تے گُفتگُو کرنا تے اُس نوں ردّ کرنا گھٹ کر دِتا اے۔ جدوں ہر کَمزور شاعری دی تعریف ہووے گی، تے معیار دی پہچان ختم ہو جاوے گی۔

اِیہہ جاننا ضروری اے کہ پنجابی غزل مری نہیں، بلکہ ایہدا سچا روپ اوہناں گُمنام شاعراں یا ادبی حِلقیاں وچ زندہ اے جیہڑے مشہوری دی دوڑ توں دُور، صرف سچے سُخن دی پَرکھ رکھدے نیں۔ جے اسیں رمز، کنائے، تے کوملتا نوں مُڑ توں غزل دی کُنجی سمجھ لئیے، تے ایہہ زوال دا بھلیکھا آپے ٹُٹ جاوے گا۔

​غزل دے اصلی معیار نوں بحال کرن لئی، ادبی حِلقیاں وچ نویں 'صوفیانہ' تے 'فکری' رجحانات دی حوصلہ افزائی کرنا ضروری اے۔


عمران سحر


Sunday, November 23, 2025

وقت کی سہیلی ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا













 *نام: مہر ہمیش گل*

*شہر: سرگودھا*


*عنوان نمبر: 3 وقت کی سہیلی*




حوادثِ ازمن کا اژدہام اس قدر گھمبیر ہے کہ یہ انسان کو ذرا سی بھی مہلت نہیں دیتا، بس انسان اک مشین کی مانند تسلسل سے اوامر کی ادائی میں چلتا رہتا ہے، لیکن ذہنی دباؤ اور اندرونی گھٹن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر اسے اچھے لمحات اور اچھے اشخاص کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وقت بہتر بنا لیا جائے تو پھر انسان خوش و خرم زندگی کو جیتا ہے، ۔  جب وقت گزر جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا، اسی کا تذکرہ رب العالمین اپنے پاک کلام میں کرتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں حکم نہ ماننے کو سزا دیں گے تو وہ خواہش کریں گے کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے، ہم وقت کی قدر کریں گے اور اچھے کام کریں گے، مگر جو گزر چکا ہے وقت وہ دوبارہ نہیں آ سکتا۔


                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


زندگی میں وہ انسان بہت کامیاب ہوتے ہیں جو وقت کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ زندگی کی ہر دوڑ  میں کامیابی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ جو وقت کو ضائع کرتے ہیں وہ ہر دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جو انسان اپنی زندگی میں یہ سیکھ لے کہ وقت کیسے گزارنا ہے؟ اس کے لیے نہ صرف زندگی آسان ہو جاتی ہے، بل کہ کامیابی قدم چومتی ہے۔ کوئی بھی انسان  ناکام نہیں ہوتا اسے وقت اور حالات کے ساتھ  لڑنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ ہر درد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔  کیا جو لوگ کامیاب ہیں ان کے پاس وقت زیادہ ہے؟ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں ؟ نہیں جو آپ آپ کے پاس وقت ہے ان کے پاس بھی وہی وقت ہے۔ وہ اپنی  محنت پر  یقین رکھتے ہیں۔ وہ وقت پر  بھروسہ  کرتے ہیں۔ آپ میں بھی وہ انسان موجود ہے، آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وقت کو بھی وقت دینا ہوگا۔


                            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وقت کی سہیلی آپ کی اپنی دوست ہوتی ہے۔ جو ہر مشکل وقت میں آپ کا  ساتھ دیتی  ہے۔ پر جسے ایک جگہ وقت نہیں رک سکتا وقت کی سہیلی آپ کی دوست بھی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ آپ کی زندگی میں ہمیشہ ساتھ رہنے والی سہیلی آپ کا خاندان، آپ کا سسرال، آپ کی بھابیاں ہیں جو آپ کی زندگی کی اصل سہیلیاں ہیں اور ان کے ساتھ ہی آپ نے اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

خشک میوہ جات ، دارچینی اور سرسوں کا ساگ کینسر میں بھی مفید

 خشک میوہ جات ، دار چینی اور سرسوں کا ساگ کینسر میں بھی مفید 


محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان  کے ایک کالم سے اقتباس : بین الاقوامی کینسر کے علاج کی دوائیں بنانے والے کبھی یہ نہیں بتاتے کہ کینسر محض وٹامن B-17کی کمی کا نام ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے ٹانک بنانا ممنوع ہیں جو B-17فراہم کرتے ہوں۔ اللہ پاک نے بادام میں B-17کی اچھی مقدار رکھی ہے۔ اگر آپ روزانہ بادام کے 7,6دانے کھالیں تو B-17کی کمی کی بیماری نہیں ہوتی ہے۔ بادام کھائیے اور کینسر سے محفوظ رہئے۔(2)چقندر، گاجر، سیب اور ایک لیموں کا عرق اگر صبح شام آپ استعمال کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو کینسر سے نجات دلاتا ہے اور محفوظ بھی رکھتا ہے۔(3)کریلے کے تین چار چھلے کاٹیں، کپ میں ڈال کر گرم پانی اس پر ڈالیں، چند منٹ رہنے دیں اور پھر یہ پانی دو تین مرتبہ پی لیں، ان شاء اللہ کینسر کے سیل ختم ہو جائیں گے۔(4)ناریل (کھوپرا) کے چند باریک ٹکڑے کاٹیں اور اس پر گرم پانی ڈال دیں۔ کچھ وقت کے بعد پانی سفید ہو جائے گا، اس کے پینے سے کینسر کے سیل ختم ہوجاتے ہیں۔(5)ایک لیموں لے کر اس کا عرق نکالیں۔ اس میں نیم گرم پانی ڈالیں، اگر شوگر کی بیماری نہیں ہے تو اس میں شہد ملا کر تین مرتبہ دن میں استعمال کریں۔ ان شاء اللہ آرام ملے گا۔(6)سرسوں کا ساگ کھانے سے کینسر کا خطرہ نہیں رہتا۔(7)تحقیق کے مطابق مختلف اقسام کے کینسر سے بچنے کیلئے درج ذیل اشیا کا استعمال بھی مفید پایا گیا ہے۔ بروکلی، گاجر، پھلیاں لوبیا، بیریز، دارچینی، خشک میوہ جات یعنی بادام، مغز، اخروٹ کی گری وغیرہ، روغن زیتون، ہلدی، سٹرس فروٹ، اَلسی کے بیج، ٹماٹر وغیرہ۔

Friday, November 21, 2025

پنجابی غزل ( شاعرہ کلوندر کنول ) شاہ مکھی لیپی انتر : امرجیت سنگھ جیت

 













ਪੰਜਾਬੀ ਸਾਹਿਤ ਦੀ ਨਾਮਵਰ ਸ਼ਾਇਰਾ ਕੁਲਵਿੰਦਰ ਕੰਵਲ ਹੁਰਾਂ ਦੀ ਇਕ ਗ਼ਜ਼ਲ: 


ਜ਼ਰਾ ਵੀ ਫ਼ਰਕ ਨਈਂ ਹੁੰਦਾ, ਮੁਹੱਬਤ ਤੇ ਇਬਾਦਤ ਵਿਚ। 

ਬੜਾ ਨਜ਼ਦੀਕ  ਦਾ ਰਿਸ਼ਤਾ ਹੈ, ਨੇਕੀ ਤੇ ਸ਼ਰਾਫਤ ਵਿਚ।

ذرا وی فرق نئیں ہندا، محبت تے عبادت وِچ۔

بڑا  نزدیک دا رِشتہ ہے، نیکی تے شرافت وِچ۔ 


ਤੇਰੀ  ਮੁਸਕਾਨ  ਕੀਤੇ  ਨੇ,  ਬੜੇ   ਚੰਗੇ   ਭਲੇ, ਪਾਗਲ, 

ਬਥੇਰੇ  ਲੋਕ  ਨੇ  ਉਲਝੇ,  ਨਿਗਾਹਾਂ ਦੀ ਇਬਾਰਤ ਵਿਚ। 

تیری مُسکان کیتے نے،  بڑے چنگے بھلے، پاگل،

بتھیرے لوک نے اُلجھے،  نگاہاں دی عبارت وِچ۔ 


ਐ ਨੀਂਦਰ ! ਆ ਵੀ ਜਾ ਛੇਤੀ, ਕਿਸੇ ਖ਼ਾਬਾਂ 'ਚ ਹੈ ਆਉਣਾ,

ਅਜੇ ਦਿਲ ਨੂੰ ਵਿਛਾਉਣਾ ਹੈ, ਅਸਾਂ ਉਸ ਦੇ ਸਵਾਗਤ ਵਿਚ। 

اَے نیندر  آ وی جا چھیتی، کِسے خواباں 'چ ہے آؤنا،

اجے دِل نوں وچھاؤنا ہے، اساں اُس دے سواگت وِچ۔ 


ਮਿਟਾ ਦੇ ਤੂੰ, ਖੁਦੀ  ਅਪਣੀ, ਮੁਹੱਬਤ ਵਿਚ  ਫਨਾਹ ਹੋ ਜਾ,

ਤੂੰ ਜ਼ਜ਼ਬਾ  ਵੇਖ  ਕਿੰਨਾ ਹੈ, ਜਿਉਂਦੇ ਜੀਅ  ਸ਼ਹਾਦਤ ਵਿਚ। 

مِٹا دے توں،  خودی  اپنی،  محبت  وِچ فنا ہو جا،

توں جذبہ ویکھ کِنّا ہے، جیوندے جی شہادت وِچ۔ 


ਤਜ਼ਰਬਾ ਮੇਚ  ਨ੍ਹੀਂ  ਆਉਂਦਾ, ਕਿਸੇ  ਦਾ  ਹੋਰ  ਨੂੰ  ਯਾਰੋ,

ਬੜਾ  ਕੁਝ  ਬੇਵਜ੍ਹਾ  ਹੁੰਦੈ, ਅਖਾਣਾਂ  ਤੇ  ਕਹਾਵਤ   ਵਿਚ।

تجربہ میچ  نہیں آؤندا ، کِسے دا ہور نوں یارو،

بڑا کُجھ بے وجہ ہندَے، اکھاناں تے کہاوت وِچ۔ 


ਸਿਖਾਉਂਦੇ  ਜਾਚ  ਜੀਵਨ ਦੀ, ਖਿੜੇ ਫੁੱਲ ਥੋਹਰ ਦੇ  ਉੱਤੇ, 

ਸਦਾ  ਹੀ ਮੁਸਕਰਾਉਂਦੇ ਨੇ ਉਹ ਨੋਕਾਂ ਦੀ ਹਿਫਾਜ਼ਤ ਵਿੱਚ।

سکھاؤندے جاچ جیون دی، کھڑے پُھلّ تھوہر دے اتے،

سدا  ہی  مُسکراؤندے  نے اوہ  نوکاں دی حِفاظت وِچّ۔ 


ਕਦੇ  ਬੱਚਾ  ਜਿਹਾ  ਬਣ ਕੇ,  ਖਿਲਾਰੀਂ  ਝੱਲ, ਖੁਸ਼  ਹੋਵੀਂ 

ਰਵੀਂ  ਨਾ ਉਲਝਿਆ ਐਵੇਂ ਹੀ, ਝੂਠੀ ਜਈ ਨਫ਼ਾਸਤ ਵਿਚ।

کدے  بچّا  جِہا بن کے،  کھلاریں  جھلّ، خوش ہوویں

رویں نہ اُلجھیا ایویں ہی، جھوٹھی جئی نفاست وِچ 


ਨ ਬਣ ਨਾਦਾਂ, ਸੰਭਲ ਐ ਦਿਲ, ਉਨੂੰ ਦਿਲ ਦੇਣ ਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ, 

ਯਕੀਂ ਉਸ ਦਾ ਹਮੇਸ਼ਾ ਹੀ ਰਿਹਾ, ਦਿਲ  ਦੀ  ਤਿਜ਼ਾਰਤ ਵਿਚ। 

نہ بن ناداں، سنبھل اَے دل،  اوہنوں دِل دین توں پہلاں،

یقیں   اُس  دا  ہمیشہ  ہی رہا ،   دِل  دی  تجارت   وِچ۔ 


ਕਿਸੇ  ਦੀ  ਅੱਖ  ਦਾ  ਤਾਰਾ  ਨ  ਬਣਦਾ ਹੁਸਨ  ਐਵੇਂ  ਹੀ,

ਬੜਾ  ਕੁਝ  ਹੋਰ  ਹੁੰਦਾ  ਹੈ, ਅਦਾਵਾਂ ਦੀ  ਨਜ਼ਾਕਤ  ਵਿਚ।

کِسے دی اکھّ دا تارہ نہ بندا حُسن ایویں ہی،

بڑا  کُجھ ہور  ہندا  ہے، اداواں دی نزاکت وِچ۔ 


'ਕੰਵਲ' ਪਾ  ਕੇ  ਕੁਠਾਲੀ  ਜਿਸ ਤਰਾਂ ਸੋਨਾ ਤਪਾੳਂਦੇ  ਹਾਂ,

ਮੁਹੱਬਤ  ਦੀ  ਡੂੰਘਾਈ  ਪਰਖ  ਹੁੰਦੀ  ਹੈ  ਮੁਸੀਬਤ  ਵਿੱਚ।

'کنول' پا کے کٹھالی جِس طرح سونا تپاندے ہاں،

محبت دی ڈونگھائی پرکھ ہندی ہے مُصیبت وِچّ۔ 


ਕੁਲਵਿੰਦਰ 'ਕੰਵਲ' 

کُلوِندر 'کنول'

ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਲਿਪੀਅੰਤਰ:ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ 

شاہ مُکھی لپیآنتر:امرجیت سنگھ جیت

Thursday, November 20, 2025

نظم ( اج آکھاں شہر لاہور نوں )ڈاکٹر بلویر بے نظیر

 











نظم


اج آکھاں شہر لاہور نوں



شہر لاہور سانوں تاں توں ساڈی دلّی وانگر لگدا اے

کجھ وکھرا نظریں نہیں آوندا سانوں اپنا اپنا لگدا اے

تیری بادشاہی مسجد تے قلع ایہ وی نے ساڈے کول ایتھے

تیرا اُچّا منارِ پاکستان کھڑی کُتب منار اڈول ایتھے

تیرے دلّی دروازے دے اندر تنگ گلیاں نے شہر لاہور دیاں

میرے لاہوری دروازے دے اندر تنگ گلیاں نے دلّی شہر دیاں

تیرے باہر دلّی دروازے دے چونا منڈی تک لنڈانازار پئیا

میرے لال قلع دے چڑھدے ولّے لنبا اُتنا ہی چور بازار پئیا

نہیں بُھلدا موٹر وے دا سفر جو کیتا سی شہر قصور دے ول

دلّی وچ آکے دیکھ زرا توں جانا نہیں اپنے شہر دے ول

چلو من لیا بدل لاہور گیا پر حالے وی بوہتا اوہو ای ہے

دلّی نے کپڑے بدل لئے پر دل دریا تاں اوہی ہے

ساڈی ماں بولی ساڈے نین نقش کِنّا کُجھ ساڈا سانجھا ہے

ساڈے پیر فقیر نبی سانجھے ساڈا اگّا پچھّا سانجھا ہے

دلّی باجھ تہاڈا نہی سرنا کیوں وٹّاں پائی پھردے ہو

ساڈے دل دے وچ لاہور وسّے سانوں بھی بھائی سرنا نہی

آ کریے عرض سرکاراں نوں تُسیں کرو سیاست جی بھر کے

سانوں تے اکٹھے بیٹھن دیو اسیں کریے گلاں جی بھر کے


شاعر 

ڈاکٹر بلویر بے نظیر

چڑھدا پنجاب انڈیا 


شاہ مُکھی لِپّی انتر

سلیم آفتاب سلیم قصوری

ਅੱਜ ਆਖਾਂ ਸ਼ਹਿਰ ਲਾਹੌਰ ਨੂੰ    

             ================            ਐ ਸ਼ਹਿਰ ਲਾਹੌਰ ਸਾਨੂੰ ਤਾਂ ਤੂੰ , ਸਾਡੀ ਦਿੱਲੀ ਵਰਗਾ ਲੱਗਦਾ ਏ | 

ਕੁੱਝ ਵੱਖਰਾ ਨਜ਼ਰੀਂ  ਨਹੀਂ ਆਉਂਦਾ , ਸਾਨੂੰ ਆਪਣਾ - ਆਪਣਾ ਲੱਗਦਾ ਏ |

 ਤੇਰੀ ਬਾਦਸ਼ਾਹੀ ਮਸਜਿਦ ਤੇ ਕਿਲ੍ਹਾ , ਇਹ ਵੀ ਨੇ ਸਾਡੇ ਕੋਲ ਇੱਥੇ |

 ਤੇਰਾ ਉੱਚਾ ਮਨਾਰੇ  - ਪਾਕਿਸਤਾਨ , ਖੜ੍ਹੀ ਕੁਤਬ ਮੀਨਾਰ ਅਡੋਲ ਇੱਥੇ |

 ਤੇਰੇ ਦਿੱਲੀ ਦਰਵਾਜ਼ੇ ਦੇ ਅੰਦਰ , ਤੰਗ ਗਲੀਆਂ ਨੇ ਸ਼ਹਿਰ ਲਾਹੌਰ ਦੀਆਂ |

 ਮੇਰੇ ਲਾਹੌਰੀ ਦਰਵਾਜ਼ੇ ਦੇ ਅੰਦਰ , ਤੰਗ ਗਲੀਆਂ ਨੇ ਦਿੱਲੀ ਸ਼ਹਿਰ ਦੀਆਂ |

 ਤੇਰੇ ਬਾਹਰ ਦਿੱਲੀ ਦਰਵਾਜ਼ੇ ਦੇ , ਚੂਨਾ - ਮੰਡੀ ਤੱਕ ਲੰਡਾ - ਬਾਜ਼ਾਰ ਪਿਆ |

 ਮੇਰੇ ਲਾਲ ਕਿਲ੍ਹੇ ਦੇ ਚੜ੍ਹਦੇ ਵੱਲ , ਲੰਬਾ ਉਤਨਾ ਹੀ ਚੋਰ - ਬਾਜ਼ਾਰ ਪਿਆ |

 ਨਹੀਂ ਭੁੱਲਦਾ ਮੋਟਰ - ਵੇ ਦਾ ਸਫ਼ਰ , ਜੋ ਕੀਤਾ ਸੀ ਸ਼ਹਿਰ ਕਸੂਰ ਦੇ ਵੱਲ |

 ਦਿੱਲੀ ਵਿੱਚ ਆ ਕੇ ਦੇਖ ਜ਼ਰਾ, ਤੂੰ ਜਾਣਾ ਨੀਂ ਆਪਣੇ ਸ਼ਹਿਰ ਦੇ ਵੱਲ |

ਚਲੋ ਮੰਨ ਲਿਆ ਬਦਲ ਲਾਹੌਰ ਗਿਆ, ਪਰ ਹਾਲੇ ਵੀ ਬਹੁਤਾ ਉਹੀ ਹੈ |

 ਦਿੱਲੀ ਨੇ ਕੱਪੜੇ ਬਦਲ ਲਏ , ਪਰ ਦਿਲ - ਦਰਿਆ ਤਾਂ ਉਹੀ ਹੈ |

 ਸਾਡੀ ਮਾਂ ਬੋਲੀ , ਸਾਡੇ ਨੈਨ - ਨਕਸ਼ ਕਿੰਨਾ ਕੁੱਝ ਸਾਡਾ ਸਾਂਝਾ ਹੈ |

 ਸਾਡੇ ਪੀਰ , ਫਕੀਰ , ਨਬੀ ਸਾਂਝੇ , ਸਾਡਾ ਅੱਗਾ - ਪਿੱਛਾ ਸਾਂਝਾ ਹੈ |

 ਦਿੱਲੀ ਬਿਨਾਂ ਤੁਹਾਡਾ ਨਹੀਂ ਸਰਨਾ, ਕਿਉਂ ਵੱਟਾਂ ਪਾਈ ਬੈਠੇ ਹੋ ?

 ਸਾਡੇ ਦਿਲ ਦੇ ਵਿੱਚ ਲਾਹੌਰ ਵਸੇ , ਸਾਨੂੰ ਭੀ ਭਾਈ ਸਰਨਾ ਨਹੀਂ |

 ਆ ਕਰੀਏ ਅਰਜ਼ ਸਰਕਾਰਾਂ ਨੂੰ , ਤੁਸੀਂ ਕਰੋ ਸਿਆਸਤ ਜੀ ਭਰ ਕੇ |

 ਸਾਨੂੰ ਤਾਂ ਇਕੱਠੇ ਬੈਠਣ ਦਿਓ , ਅਸੀਂ ਕਰੀਏ ਗੱਲਾਂ ਜੀ ਭਰ ਕੇ |

                              ਡਾ. ਬਲਵੀਰ ਬੇ - ਨਜ਼ੀਰ


Monday, November 17, 2025

مزدوروں پر مسلط سرکاری بابو ( تحریر : یاسین یاس )









 


مزدوروں پر مسلط سرکاری بابو 


تحریر  :  یاسین یاس 


پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اگر نہیں جانتے تو ان مزدوروں کے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے سرکاری بابو نہیں جانتے جن کے منہ کو حرام لگا ہوا ہے جو بنا رشوت لیے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے رشوت لینے کے ایسے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ایسے لگتا ہے جیسے ان کو گورنمنٹ تنخواہ ہی نہیں دیتی بس جب کوئی کیس آتا ہے تو ان بے چاروں کے گھر چولہا جلتا ہے فائل جمع کروانے کی فیس کیس آگے بڑھانے کی فیس اور کیس منظور کروانے کی فیس چیک وصول کرنے کی فیس اور وہ بھی ایڈوانس میں اگر کہیں کہ بھائی اس میں کوئی غلطی نہیں ہے کیس بالکل کلئیر ہے آپ نے صرف فارورڈ کرنا ہے تو صاحب فرماتے ہیں جی ہمارے پاس ہزاروں کیس پڑے ہیں آپ بھی رکھ دیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کیس جمع ہو کر جلد آپ کو چیک مل جائے تو پھر آپ کو ویسا ہی کرنا پڑے گا جیسا ہم کہتے ہیں رشوت نہ دینے والوں کے کیس کئی کئی ماہ مکمل ہی نہیں ہوتے  کبھی کوئی آبجیکشن کبھی کوئی آبجیکشن ایک آبجیکشن ختم کرو دوسری تیار مطلب ہر موقع پر رشوت ہی دینا ہوگی غریب مزدور اپنی خون پسینے کی کمائی سے ہر ماہ گورنمنٹ ادارے کو کٹوتی کرواتا ہے اور کئی کئی سال کرواتا ہے صرف اس لیے کہ چلو جب بیٹی کی شادی ہوگی تو اسے جہیز فنڈ ملے گا اس سے بیٹی کے ہاتھ پیلے کر سکوں گا اب مزدور بے چارہ تو پیسے مسلسل جمع کروا رہا ہے اور اسی آس پہ جمع کروارہا ہے لیکن جب مزدور کی کچھ فائدہ لینے کی باری آتی ہے تو یہ دفتروں میں بیٹھی ہوئی گرجھیں اس کو نوچنا شروع کر دیتی ہیں ضلع قصور کی ہی بات کریں تو وہاں کئی کئی سال سے ایسے کیس پینڈنگ پڑے ہیں جو رشوت نہ دے سکے یا فائل کو آگے بڑھانے کی رشوت نہ دے سکے یا سائن کروانے کی رشوت نہ دے سکے جب بھی پوچھو  نیا بہانہ منتظر ہوتا ہے اور سب سے بڑا بہانہ فنڈ ہی نہیں ہیں سوچنے والی بات ہے اگر فنڈ نہیں ہیں یا نہیں تھے تو دوہزار اکیس بائیس والے کیس کیسے کلئیر ہوئے اور دوہزار انیس بیس والے کیوں پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں مطلب صاف ظاہر ہے جن لوگوں نے منہ مانگی رشوت دی ان کا کام ہو گیا اور جو بے چارے نہ دے سکے ان کے کیس ابھی تک پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں اور جن جن لوگوں سے انہوں نے پیسے ادھار لے کر اس فنڈ کے آس میں اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کیے ہیں ان سے ذلیل ہورہے ہیں کیونکہ اتنی تو ان کی تنخواہ ہی نہیں ہے کہ اس تنخواہ سے وہ قرض کی رقم چکا سکیں لیکن ان بابؤوں کو اس سے کیا وہ تو رشوت کے پیسوں سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں کوئی لاکھوں میں تو کوئی کروڑوں میں کھیل رہا ہے کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کیا سرکاری محکموں میں بھی آڈٹ ہوتا ہے (حالانکہ میں جانتا ہوں کہ ہوتا ہے ) اگر ہوتا ہے تو وہ یہ سب نہیں دیکھتے ہوں گے یا وہ بھی بہتی گنگا ہاتھ دھوتے ہوں گے میری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ خدارا ان مزدوروں کے حال پر رحم کیجئےاور سالوں سے پینڈنگ پڑے کیس کلئیر کروائیےاور ادارہ کو چیک کرنے کا کوئی جدید نظام وضع کریں شادی تو شادی یہ بے ضمیر تو مزدور کو کفن دفن کے ملنے والوں پیسوں سے بھی نذرانہ وصول کرتے ہیں یہ سب باتیں میں بطور کالم نگار ہی نہیں کررہا میں خود ایک مل مزدور ہوں یہ سب میں بھگت چکا ہوں اور ابھی تک بھگت رہا ہوں اس ادارے میں بہت ساری ایسی خرابیاں ہیں جنہیں فوری درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزدور کی فلاح کے لیے بنایا گیا ادارہ صحیح معنوں میں مزدوروں کی فلاح کے لیے کام کر سکے

Saturday, November 15, 2025

جگ دھمے پنجابی شاعر ارشاد سندھو جی دی اک غزل

 









چُن دا چانن  سورج دا لشکارا نئیں سی چھڈنا

ہتھ پیندا تے لوکاں نے اک تارا  نئیں سی چھڈنا


تیرے قصے وچ ایک کڑما کن پڑوا کے رُلیا

میں لکھدا تے رانجھے تخت ہزارہ نئیں سی چھڈنا


جنے چھڈ کے مینوں میرے جوگا نہیں چھڈیا

سوچ رہیاواں اوہدے لئی، پنڈ سارا نئیں سی چھڈنا


پہلی پیشی جِند چھڑوا کے پکی توبہ کر لئی

ہو جاندا تے مینوں عشق، دوبارہ نئیں سی چھڈنا


دل دریائی لا سکدی دریاواں دے وچ تاری

جے چھلاں تے شک سی فیر کنارہ نئیں سی چھڈنا


شکر ہے اوہنے گل نہیں کیتی نہیں تے رب دی قسمے

ویلے اوہدی ونگ لئی کوئی سنیارہ نئیں سی چھڈنا

 

کھِلرے ہوئے ساں جے توں سندھو کنجنا نئیں سی سانوں

کھلرے کم دا کرکے ڈھیر کھلارا نئیں سی چھڈنا


چن دا چانن سورج دا لشکارا نئیں سی چھڈنا

ہتھ پیندا تے لوکاں نے اک تارا  نئیں سی چھڈنا


(ارشاد سندھو)

Friday, November 14, 2025

نظم / کویتہ( ہرپال سنگھ مانس )

 










کَویتہ "سفر"


اپنے عشق چ سفر لکھیا اے

ایہ کوئی پیراں دا سفر نئیں اے

ایہ عمراں دا سفر اے

ایہ جنماں دا سفر اے


چلدی رہیں

تُر دی رہیں

اک دن کسے بِنّدو تے ضرور ملّاں گے


کھڑوت ماری اے

کھڑیا پانی وی بدبو کردا اے


ایہ اک من توں دوجے من دا سفر اے

ویکھیں زیادہ دیر نہ لاوی

میرے من دے ورقّے نوں پڑھّن لئی

جاں ورقہ موڑ کے چھڈ نہ دیویں

تے فیر کتّے بھُل نہ جاویں


میرے سارے راہ تیرے ولّ آؤندے نیں

ایہ دھرتی گول اے

جے تُوں میرے اُلٹ دِشا ولّ وی تُریا

تاں وی میرے کول ای آویں گا


اپنے عشق چ سفر لکھیا اے

راہاں چ کنڈے نیں، طوفان نیں

جھکڑ نیں، مارُتھل نیں

ایرخا اے، انکار اے

تلخّیاں نیں، آگ اے

جگّ اے، دریا نیں

پہاڑ نیں، پت جھڑ نیں


ویکھیں ہار نہ منّی، لڑاں گے

اک دوجے دا ہتھ فڑھ

اپنے راہاں تے بہارا ں لیاواں گے


اپنے عشق چ سفر لکھیا اے…

ہرپال دی قلم توں…


"ਕਵਿਤਾ " ਸਫ਼ਰ "

ਆਪਣੇ ਇਸ਼ਕ 'ਚ ਸਫ਼ਰ ਲਿਖਿਆ ਏ

ਇਹ ਕੋਈ ਪੈਰਾਂ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਨਹੀਂ ਏ

ਇਹ ਉਮਰਾਂ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਏ

ਇਹ ਜਨਮਾਂ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਏ

ਚਲਦਾ ਰਹੀਂ

ਤੁਰਦਾ ਰਹੀਂ

ਇੱਕ ਦਿਨ ਕਿਸੇ ਬਿੰਦੂ 'ਤੇ ਜ਼ਰੂਰ ਮਿਲਾਂਗੇ

ਖੜੋਤ ਮਾੜੀ ਏ

ਖੜਿਆ ਪਾਣੀ ਵੀ ਬਦਬੂ ਮਾਰਦਾ

ਇਹ ਇੱਕ ਮਨ ਤੋਂ ਦੂਜੇ ਮਨ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਏ

ਵੇਖੀ ਜ਼ਿਆਦਾ ਦੇਰ ਨਾ ਲਾਵੀ

ਮੇਰੇ ਮਨ ਦੇ ਵਰਕੇ ਨੂੰ ਪੜ੍ਹਨ ਲਈ

ਜਾਂ ਵਰਕਾ ਮੋੜ ਕੇ ਛੱਡ ਨਾ ਦੇਵੀਂ

ਤੇ ਫੇਰ ਕਿਤੇ ਭੁੱਲ ਨਾ ਜਾਵੀਂ

ਮੇਰੇ ਸਾਰੇ ਰਾਹ ਤੇਰੇ ਵੱਲ ਆਉਂਦੇ ਨੇ

ਇਹ ਧਰਤੀ ਗੋਲ ਹੈ

ਜੇ ਤੂੰ ਮੇਰੇ ਉਲਟ ਦਿਸ਼ਾ ਵੱਲ ਵੀ ਤੁਰ‌ਿਆ

ਤਾਂ ਵੀ ਮੇਰੇ ਵੱਲ ਹੀ ਆਵੇਂਗਾ

ਆਪਣੇ ਇਸ਼ਕ 'ਚ ਸਫ਼ਰ ਲਿਖਿਆ ਏ

ਰਾਹਾਂ 'ਚ ਕੰਡੇ ਨੇ, ਤੁਫ਼ਾਨ ਨੇ

ਝੱਖੜ ਨੇ, ਮਾਰੂਥਲ ਨੇ

ਈਰਖਾ ਏ, ਹੰਕਾਰ ਏ

ਤਲਖ਼ੀਆਂ ਨੇ, ਅੱਗ ਏ, 

ਜੱਗ ਏ, ਦਰਿਆ ਨੇ

ਪਹਾੜ ਨੇ, ਪਤਝੜ ਨੇ

ਵੇਖੀ ਹਾਰ ਨਾ ਮੰਨੀ, ਲੜਾਂਗੇ

ਇੱਕ ਦੂਜੇ ਦਾ ਹੱਥ ਫੜ੍ਹ

ਆਪਣੇ ਰਾਹਾਂ ਤੇ ਬਹਾਰਾਂ ਲਿਆਵਾਂਗੇ

ਆਪਣੇ ਇਸ਼ਕ 'ਚ ਸਫ਼ਰ ਲਿਖਿਆ ਏ.....

ਹਰਪਾਲ ਦੀ ਕਲਮ ਤੋਂ....

بابا نڈر حسین جانی ( انتخاب : احمد اقبال بزمی )

 










من دھرتی نوں سجدہ کردے

کعبہ رکھ دھیان تے ویلا جاندا ای

دھار صدق تے جھاکاں لاہ دے

اپنا اصل پچھان تے ویلا جاندا ای


پانی باجھ سمندر نائیں

لیکھاں باجھ سکندر نائیں

دھرتی باجھ قلندر نائیں

لیک پتھر تے جان تے ویلا جاندا ای


اپنا ورثہ کُنجیں جیکر

ویلے توں نا گُنجھیں جیکر

عرشوں آ بہیں پُہنجے جیکر

تیری وکھری شان تے ویلا جاندا ای


پُوتھی عشق پَھرول او جانی

کجھ تے مونہوں بول او جانی

کیہ نہیں تیرے کول او جانی

جوگ، پنتھ، قرآن تے ویلا جاندا ای


(بابا نڈر حسین جانی)

غزل ( ہرپال سنگھ منیس )











 ਗ਼ਰੀਬੀ ਕਰ ਕੇ ਜਰਨਾ ਪੈਂਦਾ

ਢਿੱਡ ਦੀ ਖ਼ਾਤਰ ਮਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਗ਼ਰੀਬ ਨੂੰ ਕੋਈ ਦਰ 'ਤੇ ਖੜ੍ਹਨ ਨਾ ਦੇਵੇ

ਜ਼ਿੱਲਤ ਦੇ ਜ਼ਹਿਰ ਨੂੰ ਘੁੱਟ-ਘੁੱਟ ਭਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਗ਼ਰੀਬ ਕੋਲ ਸੁਪਨਿਆਂ ਲਈ ਵਿਹਲ ਨਹੀਂ

ਹੱਡ ਤੋੜਵਾਂ ਕੰਮ ਦਿਨ-ਰਾਤ ਕਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਮੇਰੇ ਪਿੱਛੋਂ ਪਰਿਵਾਰ ਦਾ ਕੀ ਬਣੇਗਾ ?

ਗ਼ਰੀਬ ਨੂੰ ਮੌਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ ਮੌਤ ਤੋਂ ਡਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਕਿਰਤ ਦੀ ਲੁੱਟ ਦਾ ਹਿਸਾਬ ਕਿਤਾਬ ਨਾ ਕੋਈ

ਗ਼ਰੀਬ ਨੂੰ ਮੌਤ ਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ ਮਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਜ਼ਿੰਦਗੀ ਦਾ ਦੀਵਾ ਬੁੱਝ ਨਾ ਜਾਵੇ ਕਿਧਰੇ 

ਲਹੂ ਪਸੀਨੇ ਦਾ ਤੇਲ ਭਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਬਹਾਰ ਦੀ ਰੁੱਤ ਵੀ ਆਵੇਗੀ ਕਦੇ

ਇਸੇ ਆਸ 'ਤੇ ਰੋਜ਼ ਗ਼ਰੀਬੀ ਨਾਲ ਲੜਨਾ ਪੈਂਦਾ

ਹਰਪਾਲ ਦੀ ਕਲਮ ਤੋਂ.....


غریبی کرکے جرنا پیندا

ڈِھڈ دی خاطر مرنا پیندا


غریب نوں کوئی در تے کھلّن نہ دیوے

ذلت دے زہر نوں گھٹ گھٹ بھرنا پیندا


غریب کول سپنیاں لئی ویلہ نہیں

ہڈّ توڑواں کم دن رات کرنا پیندا


میرے پِچھوں پریوار دا کیہ بنے گا؟

غریب نوں موتوں پہلاں موت توں ڈرنا پیندا


کِرت دی لُٹ دا حساب کتاب نہ کوئی

غریب نوں موت توں پہلاں مرنا پیندا


زندگی دا دیوا بُجھ نہ جاوے کدھرے

لہو پسینے دا تیل بھرنا پیندا


بہار دی رُت وی آوے گی کدے

اِسے آس تے روز غریبی نال لڑنا پیندا


— ہرپال دی کلم توں

(ہرپال سنگھ منیس (انڈیا

Thursday, November 13, 2025

نظم ( اجتناب ) مہر ہمیش گل

 










اجتناب


از قلم: مہر ہمیش گل


سمیٹ لو اُنہیں اپنے آنگن میں 

یہ آزاد پرندے ہیں،

انہیں آزاد رہنے دو۔

یہ خواب ہیں 

خوابوں کو پورا ہونے دو،

اُنہیں تعبیر کے شکنجے میں مت جکڑو۔

یہ آنکھیں دغا باز ہیں

جو کبھی خواب بنتی ہیں،

کبھی وفا کی تحریر،

اور کبھی دھوکے کی تصویر 

اُنہیں لوگوں کے شور سے دور رہنے دو۔

جہاں لفظ میٹھے ہوں مگر نیتیں کڑوی،

جہاں مسکراہٹیں چہروں پر ہوں، دلوں میں نہیں 

ان لوگوں سے دور رہنے دو

اُن سے اجتناب،

اجتناب،

اجتناب

اپنے دل کی سنو،

جو تمہاری روح کو سکون دے،

جو تمہیں ٹوٹنے سے بچا لے۔

جو تمہیں بکھیرے،

اُس سے فاصلہ رکھو،

اُس سے اجتناب کرو۔

یہ خواب تمہارے ہیں،

انہیں قید مت کرو،

انہیں اُڑنے دو 

ہوا کے دوش پر،

دعا کے لمس میں،

آزادی کی خوشبو میں۔

یہ آنکھیں جو خواب دیکھتی ہیں،

اُن کی چمک برقرار رہنے دو،

کہ یہی چمک

زندگی کا آخری یقین ہے۔

سکون ہے، بہار ہے۔

کہ جتنا ہوسکے لوگوں سے

اجتناب کرو

اجتناب، اجتناب ، اجتناب۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, November 11, 2025

رب العالمین سے محبت کے کرشمے ( تحریر : مہر ہمیش گل )

 











اللّٰہ رب العالمین سے محبت کے کرشمے

مہر ہمیش گل


جب  انسان کو اللہ رب العالمین سے محبت ہو جاتی ہے تو انسان خود بخود نماز کا انتظار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو انتظار کرنے میں بھی روحانی سکون ملتا ہے۔ ہر محبت عنايت نہیں ہوتی لیکن جب انسان اللّٰہ رب العالمین سے محبت کرتا ہے تو اس انسان کی محبت عنايت بن جاتی ہے اس انسان کی دنیا جنت بن جاتی ہے۔      محبت اگر یقین کے ساتھ کی جائے تو زندگی میں عنایت ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو بات اس کی زندگی میں نا ممکن ہو جاتی ہے وہ عنايت بن کر اس  کے سامنے آ جاتی ہے۔ جب انسان دنیا کی ہر چیز سے تھک جاتا ہے۔ انسان جب  دنیا کی ہر چیز سے، انسانوں سے محبت کرتے ہوئے، انسانوں کے تلخ رویوں سے تھک جاتا ہے تو  بدلے میں نفرت  کے علاوہ کچھ نہیں ملتا انسان کی فطرت ہے کہ وہ انسانوں سے بہت سی اُمیدیں لگا لیتا ہے اور پھر انسانوں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ جب  وہ انسان ہر دروازے سے ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ انسان کو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے اس کو اپنی زندگی ایک دلدل میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ جب اس کی زندگی میں روشنی کا نام و نشان نہیں ہوتا ہر طرف ذلت ہی ذلت ہوتی ہے ناکامیاں اس کا مقدر بنی ہوتی ہیں اور ایک  سوالی بن کر اللّٰہ رب العالمین کے دروازے پر آتا ہے تو جو مانگتا وہ ضرور ملتا ہے۔ جب اللّٰہ رب العالمین کا نام  اس کی زبان پر آتا ہے عنایت کے دروازے اس وقت ہی انسان پر کھل جاتے ہیں۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللّٰہ رب العالمین کا نام رکھے تو ہزاروں مُشکلیں اس کے سامنے سر جھکائیں گی۔ جب انسان کو اللّٰہ رب العالمین سے محبت ہوتی ہے تو انسان خود بخود نیک کام کرنا شروع ہو جاتا ہے اس کا جگہ جگہ سے نیک لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اسے نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ تو پھر جب وہ رب کے پاس آتا ہے۔ بے بس ہو کر انسانوں سے مجبور ہو کر تو پھر انسان انسانوں سے چھپ چھپ کر عبادت کرنا شروع ہو جاتا ہے۔ نمازیں قضاء نہیں کرتا پھر انسان کو انسانوں کی خود غرضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اللّٰہ رب العالمین اس کے ساتھ ہیں اسے پھر دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی اس کی محبت عشق کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس کو  اللّٰہ رب العالمین کی عبادت میں سکون آنا شروع ہو جاتا ہے  اور سکون کا سانس اسے تہجد میں ملتا ہے۔ جب وہ اندھیری راتوں میں اٹھ کر نہ گرمی دیکھتا ہے نہ سردی دیکھتا ہے، دنیا سے چپ کر وضو کرتا ہے۔ دنیا سے چھپ کر تہجد کی نمازیں پڑھتا ہے اس کو  پھر دنیا کی رونقوں سے فرق نہیں پڑتا وہ پھر ہر حال میں رب کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جاتا ہے۔ پھر اسے دکھ، دکھ،  نہیں لگتا اس کی زبان پر شکر الحمدللہ کی تسبیح کا ورد ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے اللّٰہ رب العالمین  کے بہت قریب ہو چکا ہوتا ہے۔ تہجد کی نمازوں کے لیے اسے اللّٰہ رب العالمین چنتا ہے اور پھر جب وہ ہاتھ اٹھا کر اللّٰہ سے دعا مانگتا ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العالمین وہ دعا پوری نہ کرے اور اللّٰہ رب العالمین عنايت نہ کریں قدم قدم پر ایک نئی عنايت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کو  زندگی حسین لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہر چیز میں ایک نیا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی زندگی میں روشنی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور جو اندھیرے اس کی زندگی میں تھے جن  اندھیروں  کو دیکھ کر وہ انسان ڈر جاتا تھا۔ آج اس کو ان اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا۔ آج وہ انسان بہانے تلاش کرتا ہے کہ کئی آندھیرا ہو اور وہ اپنے اللّٰہ رب العالمین  کے قریب ہو سکے اور اپنی عبادت میں مشغول ہو سکے۔

Monday, November 10, 2025

رشماں ادبی فورم کنگن پور ولوں بیاد تجمل کلیم مشاعرہ












 رِشماں ادبی فورم کنگن پور ولّوں استاد تجمل کلیمؔ ہوراں

 دی یاد وچ تاریخی مشاعرہ


رِشماں ادبی فورم کنگن پور دی چھتر چھاویں استاد تجمل کلیمؔ ہوراں دی یاد وچ اک شاندار تے تاریخی مشاعرہ منعقد کیتا گیا، جس وچ کنگن پور تے آل دوالے  دیاں ادبی،  سماجی تے  سیاسی شخصیات نے بھرپور شرکت کیتی۔


ادب دوست شخصیتاں خان ولی خان، مرزا علی ارباب، چوہدری فیصل رضا خاں، مرزا اشہب غیاث تے حافظ روح الامین ایڈووکیٹ ہوراں نے خصوصی شرکت کیتی تے پروگرام نوں چار چن لائے۔


پروگرام دا آغاز تلاوتِ قرآن پاک نال ہویا، جیہدا شرف حافظ اعیان احمد ضیاء نے حاصل کیتا۔

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرن دی سعادت محمد رفیع وٹو سلطانی نے حاصل کیتی۔


نظامت دے فرائض چھانگا مانگا توں تعلق رکھن والے نوجوان میاں یُسین درانی نے نہایت خوبصورتی نال سرانجام دِتے۔

محفل دی صدارت استاد  تجمل کلیمؔ ہوراں  دے شاگردِ خاص علی شاکر ہوراں کیتی تے صاحبِ شام شاعر پروفیسر ڈاکٹر عباد نبیل شاد سن۔


مشاعرے وچ شریک شاعراں وچ

اویس صدیق، اسلم شاد، اشفاق کامل، حیدر نقوی، نبیل نابر، منیر حسین حیدری، زین جٹ، عامر صدیقی، منت فاطمہ، یٰسین بھٹی، وزیر علی راجہ، اشرف عابد، تابش علی، نصر خیالی، مزمل زائر، نذیر احمد نذر، صدا عابدی، رائے ظہیر، اسلم شوق، نبیل نجم، پروفیسر علی بابر، وحید رضا، اسلم ملنگ، انور فِکر، یٰسین یاس، ایمن چاغی، عصمت اللہ سیکھو، صادق فدا، عمران سحر، تنویر عباس حیدری، علی جوشا، اعزاز عین، رانا سعید اختر، ارشاد سندھو، شاہزیب نوید، اشتیاق اثر، صابر علی صابر، سید فدا بخاری، پروفیسر ڈاکٹر عباد نبیل شاد تے علی شاکر۔


شعراء کرام نے اپنی اپنی شاعری پیش کر کے استاد تجمل کلیمؔ ہوران نوں خراجِ عقیدت پیش کیتا۔ حاضرینِ محفل نے دل کھول کے داد دِتی تے شعراء  کرام دی بھرپور حوصلہ افزائی کیتی۔


میزباناں وچ 

وحید رضا، پروفیسر علی بابر، وزیر علی راجہ، نبیل نابر، حیدر نقوی، اسلم شاد، منیر حسین حیدری، زین جٹ، سید ندیم اقبال بخاری، عامر رضا سواتی، محمد اشرف اسد (پرنسپل ثریا میموریل ہائی سکول کنگن پور)، اشفاق کامل، شرافت علی سونی تے پروفیسر عدنان اسلم شامل سن۔ 

محفل مشاعرہ وچ رلت کرن والے تمام شعراء نے استاد تجمل کلیمؔ ہوراں دیاں پنجابی ادبی خدمات نوں خراجِ تحسین پیش کیتا تے اوہناں دی یاد نوں زنده رکھن دا پختہ عزم کیتا۔


رپورٹ: نبیل نابر

جنرل سیکرٹری، رِشماں ادبی فورم کنگن پور

کھڈیاں ( قصور ) میں مشاعرہ

 











کل عوامی اتحاد پارٹی ۔۔۔صدر محترم جناب عبدالغفار

 رندھاوا لاھور ولوں کھڈیاں قصور وچ اک بہت ھی شاندار تے کامیاب مشاعرہ ھوا  


مشاعرہ کا أغاز تلاوت قرآن پاک ماسٹر محمد اشرف نے کی 

جبکہ نعت محمد عمر دلشاد کے حصے میں  آئی 

نقابت کو بڑی خوبصورت سے نذیر احمد نذر نے سنبھالا 

جس کی صدارت محترم جناب ملک اصغر علی صابر پیال کھڈیاں قصور نے کی جب کہ صاحب شام۔معروف شاعر جناب سید مزمل  زائر نقوی پھولنگر کے نام۔ھوئی مہمان عزاز راے ونڈ کے معروف شاعرجناب سحر فاروقی کے نام تھی مہمان خصوصی میں نذیر نذر پھولنگر سید مزمل زائر نقوی پھولنگر بابا شریف ساجد راۓ ونڈ ۔محمد طفیل فاروقی  رایونڈ۔محمد عامر صدیقی پھولنگر ۔۔سحر فاروقی رایونڈ۔۔ماسٹر عبدلشکور ساقی کھڈیاں ۔عبدالغفار رندھاوا لاھور جو کہ میزبان بھی تھے محفل مشاعرہ کے آصف علی جٹ سراےمغل ۔منظم شاہ پتو کی مبین أتش ٹوبہ ٹیک سنگھ۔نعمان صدیقی پھولنگر ۔ سب نے بہت اچھا کلام سنایا اور ایک دوسرے کو دل کھول کر دا دی آخر میں مشاعرے کے میزان محترم جناب عبدالغفار رندھاوا کے شخصیت پر ملک اصغر علی صابر اور جناب عوامی اتحاد پارٹی کے نمایندہ محترم جناب عمر ساقی نے بات کی اور کہا کہ عبدالغفار رندھاوا صاحب ادب کی خدمت میں رات دن ایک کیے ھوے ھیں اللہ پاک ان کو اور ادب کی سیوا کرنے کی ھمت دے اور 

تحریر نذیر احمد نذر پھولنگر قصور

پنجابی غزل ( یاسین یاس )

 

غزل 

حد نئیں ہوگی جبراں دی 

سونہہ  نئیں لگدی قبراں دی 

نیندر سفنا کر چھڈی 

ویہہ نئیں پج گئی خبراں دی 

دھرتی کمبی جاندی اے 

نیت ویکھ کے ابراں دی 

اوہنوں آکھو مڑ جاوے 

حد نہ ویکھے صبراں دی 

زیراں ہوش سمبھالی تے 

یاس کھنامی زبراں دی 

یاسین یاس 
 


Sunday, November 9, 2025

اساس محبت ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا












 اساسِ محبت 

مہر ہمیش گُل۔


کراچی کی ایک مصروف سڑک کے کنارے، جہاں زندگی ہر لمحہ دوڑتی نظر آتی ہے، ایک خوبصورت کتابوں کی دکان تھی۔ اس دکان میں ایک طرف تازہ چھپی ہوئی کتابوں کی خوشبو تھی اور دوسری طرف کچھ پرانی، پیلی پڑتی کتابیں جو اپنی کہانی سنانے کے لیے بے قرار تھیں۔ ثنا، جو ادب اور شاعری کی دیوانی تھی، اکثر یہاں آیا کرتی تھی۔

ایک دن، وہ دکان کے ایک کونے میں کھڑی غالب کے اشعار پڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک آواز سنائی دی۔ 

"یہ شعر بہت خوبصورت ہے مگر میر کے کلام میں جو گہرائی ہے، وہ غالب میں کم نظر آتی ہے۔" ثنا نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ 

ایک دراز قد، گہری آنکھوں والا نوجوان، ہاتھ میں کتاب لیے مسکرا رہا تھا۔

"آپ میر کے چاہنے والے لگتے ہیں؟" ثنا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

"جی، اور آپ غالب کی دیوانی معلوم ہوتی ہیں،" اس نے جواب دیا۔

"جی ہاں، میں غالب کو پڑھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں مگر میر بھی میرے دل کے قریب ہیں۔" ثنا نے کہا۔

یوں کتابوں کی محبت نے ثنا اور حیدر کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ وہ اکثر اسی دکان میں ملاقات کرنے لگے۔ کبھی کسی کتاب پر بحث کرتے، کبھی کسی نظم پر بات چیت کرتے اور کبھی خاموشی میں ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کرتے۔

کچھ مہینے گزر گئے اور ان کی ملاقاتیں معمول بن گئیں۔ حیدر ایک لکھاری تھا اور ثنا ایک معلمہ۔ دونوں ادب کے سمندر میں ڈوبے رہتے مگر اب ایک دوسرے کے بغیر دن ادھورا محسوس ہونے لگا تھا۔

ایک دن، بارش کی بوندیں زمین کو بوسہ دے رہی تھیں اور کراچی کی سڑکیں جل تھل ہو چکی تھیں۔ حیدر اور ثنا ایک کیفے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ حیدر نے جیب سے ایک پرچہ نکالا اور ثنا کے سامنے رکھ دیا۔

"یہ کیا ہے؟" ثنا نے حیرانی سے پوچھا۔

"بس ایک نظم لکھی تھی، تمہارے لیے۔" حیدر نے دھیرے سے کہا۔

ثنا نے پرچہ کھولا اور پڑھنے لگی۔

"تمہاری ہنسی میں ہے ساز کی لے

تمہاری آنکھوں میں خوابوں کے دیپ

تمہاری باتوں میں لفظوں کے گلاب

تم ہو تو زندگی کا مفہوم مکمل ہے۔"

ثنا کے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی مگر آنکھوں میں نمی بھی جھلکنے لگی۔ یہ پہلی بار تھا جب کسی نے اس کے لیے یوں الفاظ کا جادو جگایا تھا۔

"یہ بہت خوبصورت ہے۔" وہ آہستہ سے بولی۔

"اور؟" حیدر نے پوچھا۔

"اور شاید۔۔۔ مجھے بھی تم سے محبت ہو گئی ہے۔" اس نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

حیدر نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ثنا کا ہاتھ تھام لیا۔ بارش کی بوندیں ان کی خوشی میں شامل ہونے لگیں مگر محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ ثنا کے والدین نے جب سنا کہ وہ حیدر سے محبت کرتی ہے تو وہ ناراض ہو گئے۔ ان کا ماننا تھا کہ حیدر کا پیشہ مستحکم نہیں۔ وہ ایک عام لکھاری ہے جبکہ وہ اپنی بیٹی کے لیے کسی امیر زادے کا خواب دیکھ رہے تھے۔

ثنا کے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا۔ ایک طرف اس کی محبت تھی اور دوسری طرف اس کے والدین۔ 

"محبت امتحان بھی لیتی ہے، اگر ہماری محبت سچی ہے، تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔"حیدر نے اسے تسلی دی۔

حیدر نے اپنے قلم کی طاقت کو آزمایا۔ اس نے ایک کتاب لکھی، جو بے حد مقبول ہوئی۔ اس کی تحریریں ہر طرف چرچے میں آ گئیں اور وہ مشہور ہو گیا۔ اس کی کامیابی نے ثنا کے والدین کے خیالات بدل دیے۔ انہوں نے دیکھا کہ حیدر نہ صرف ثنا سے محبت کرتا ہے بلکہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

آخرکار، ایک دن آیا جب ثنا کے والدین نے اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔ وہ دن کسی جشن سے کم نہیں تھا۔ کتابوں کی وہی دکان، جہاں ان کی کہانی شروع ہوئی تھی، اب ان کے نکاح کی گواہ بنی۔

حیدر نے نکاح کے بعد ثنا سے کہا، "محبت بھی ایک کہانی ہوتی ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنی کہانی تمہارے ساتھ لکھی۔"

"اور یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔"ثنا نے مسکرا کر کہا۔

یوں ثنا اور حیدر کی محبت کی کہانی ہمیشہ کے لیے کتابوں کے صفحات پر امر ہو گئی۔

Saturday, November 8, 2025

امیداں دی مشعل نوں بلدی رکھن والا شاعر امر جیت سنگھ جیت ( تحریر : جگدیش رانا ) شاہ مکھی : سلیم آفتاب سلیم قصوری

 











اُمیداں دی مشعل بلدی رکھن والا شاعر - امرجیت سنگھ جیت



امرجیت سنگھ 'جیت' دی ساری کویتا ڈھیہہ رہے مناں نوں سہارا دینی ہے، نراشا دلاں وچ آس دی لاٹ جگاؤنی ہے۔ ایہ اوہناں لوکاں دے بارے چ گل کردا اے جہڑے دن دیاں لوڑاں لئی جدوجہد کر رئے نیں۔ مجازی محبت توں حقیقی محبت ول سفر کردے ہوئے، روحانی محبت دا اک افسانہ بن جاندا اے۔ امرجیت سنگھ 'جیت' اک بے حد سنویدنشیل کوی اے جہڑا لکھن نوں شوق نہیں سمجھدا سگوں روزمرہ دے منکھی مسئلیاں تے لکھنا اپنا فرض سمجھدا اے تے اوہناں دے حل دا حل وی اپنی شاعری راہیں وکھاندا اے۔ اوہناں دی نظر وچ مزدوراں، مزدوراں، کساناں دا رتبہ غریب سنتاں نالوں بہت زیادہ اے۔ اوہناں نوں ایس گل دا بڑا دُکھ اے کہ صدیاں مگروں وی حکمران جماعت ملک وچ اپنے حقاں دا مطالبہ کرن والے لوکاں تے ڈانگاں ورت رہی اے۔ اوہ اس نوں جھڑکاں دی جھڑکدی اے جویں دیش اجے وی پردیسیاں دا غلام اے۔ اج وی لوکاں نوں دو وار کھانے لئی جدوجہد کرنی پیندی اے، اج وی روز دیاں گھریلو لوڑاں لئی لوکاں دا آوارہ گردی سرکاراں دی نااہلی پاروں اس نوں ناکامی جاپدی اے۔ ملک دے امیر لوکاں دا قدرتی وسائل تے قبضہ، انساناں ولوں انساناں دا استحصال، ملک وچ آرتھک نابرابرتا دی بھیانک شکل اوہنوں ڈنگ ماردی اے۔ معاشی ونڈ دی وجہ توں اک طبقہ صدیاں توں ظلم دا شکار اے تے ایہ سماجی رجحان اوہناں دی شاعری دی بنیاد بناندا اے۔

امرجیت سنگھ جیت دا جنم نومبر 1962 نوں بٹھنڈہ ضلعے دے قصبے رمن منڈی وچّ ہویا۔ امرجیت سنگھ جیت دے پیؤ سردار روپ سنگھ شانت جی پنجابی ساہت سبھا اتے راجندر کالج بٹھنڈہ دے مکھ سپیکر سن۔ اپنے پیؤ نوں کویتا سناؤندیاں دیکھ کے امرجیت وچ وی لکھن دی اچھا پیدا ہو گئی۔ ایہہ کہنا ودھا چڑھا کے گل نہیں ہووے گی کہ جیت نوں لکھت اوہناں دے ورثے وچوں ورثے وچ ملی اے۔ کالج وچ پڑھدے ہوئے اپنے لکھے ہوئے گیتاں نوں سناؤن ویلے دوستاں ولوں جو حوصلہ افزائی ملدی سی، اوہدے حوصلے ودھ جاندے سن۔ اصل وچ امرجیت سنگھ جیت دا ساہتک سفر 2003 توں اس ویلے شروع ہویا جدوں اوہناں نے دمدما صاحب ساہت سبھا تلونڈی صابو دا دورہ شروع کیتا، جتھے اوہناں دی ملاقات ماسٹر شاعر جنک راج جنک نال ہوئی اتے اوہناں دے صلاحَ نال گیتاں دے نال-نال اوہناں نے غزلاں وی لکھنیاں شروع کر دتیاں۔ اج کل پنجابی غزلاں وچ امرجیت سنگھ جیت اک مشہور ناں اے۔ سال 2014 وچ چھپن والے پہلے غزل پراگے 'چناں دا چٹا' توں بعد اسے سال 2023 وچ اوہناں دا دوجا غزل پراگا 'بدلدے ماسماں اندر' وی خاص دھیان حاصل کر رہا ہے۔ امرجیت سنگھ جیت دی کویتا انسان نوں ہاراں توں سبق سکھن اتے ہاراں دی پرواہ کیتے بناں لگاتار جدوجہد کرن دی پریرنا دندی اے۔ ایہ آپسی دشمنی تے مخالفت نو ختم کرن تے پیار بھری سنگت لبھن دے بارے چ گل کردا اے۔ اوہناں دی روایتی تے نویں رنگاں وچ رنگی ہوئی شاعری عام لوکاں دے حقاں تے مفاداں دی راکھی تے معاشی تے سماجی برابری والا معاشرہ بنان دی گل کردی اے۔ اج کل اوہ جاگرتی ساہت سبھا بٹھنڈا دے پردھان ہن۔ محکمہ صحت پنجاب وچ کم کردے ہوئے اوہ کجھ سال ضلع ہشیارپور دے اک قصبے مہلپور، گڑھشنکر دے پہاڑی علاقیاں وچ وی رہِ چکے سن اتے اس طرحاں اوہناں دے شبداں دی چون وچ مالوے اتے دوآبی بولیاں دا پربھاو صاف دکھائی دندا اے۔ ایس ویلے اوہ لہندے پنجاب دے غزل لکھاریاں ولوں شاہ مکھی وچ لکھیاں گئیاں غزلاں نوں گورمکھی وچ ترجمہ کردے نیں تے گورمکھی وچ لکھیاں گئیاں غزلاں نوں شاہ مکھی وچ ترجمہ کردے نیں۔ آؤ! بٹھنڈہ دے رہن والے امرجیت سنگھ جیت دیاں دو غزلاں دا سواد لیندے ہاں۔


1 غزل


جو نابر ہو گئے بندے ستائے شاطراں ہتھوں

اوہناں تصدیق نہیں چاہی کدے وی حاکماں ہتھوں


سلامت لوک تنتر کنج آکھاں ملک اپنے دا؟

ہمیشہ لوک جاندے رہےایتھے سازشاں ہتھوں


لحاظاں پالدے پھردے نیں مطلب واسطے جیہڑے

نِیاں دی آس کی رکھنی ہے اوہناں منصفاں ہتھوں


اجوکی دوڑ آکھاں یاں کہاں کلیوگ دا ہے پہرہ

بڑی جادوگری ہوندی ہے اجکل رہبراں ہتھوں


کری جو کسرتاں جاندے نے اِس ٹاہنی توں اوس ٹاہنی

بچاکے باغ نوں رکھو اجیہے باندراں ہتھوں


2 غزل

سمے دے حاکمو جاگو لوو کجھ سار لوکاں دی

کہانی ہے نِراشا جانک بے روزگار لوکاں دی


جوانی رُل رہی ہے اج نموشی وچ گھری ہوئی

کُراہے ٹُر پوؤ یاں فِر بنو للکار لوکاں دی


بُجھے ہوئے نے چہرے کاستوں محنت کشاں دے اج

سدا ہی درگتی ہوندی ہے کیوں خوددار لوکاں دی


سمجھدی ہِت نہ جیہڑی غماں ساری لوکائی دا

کیویں آکھاں کہ ایہ ہمدرد ہے سرکار لوکاں دی


دِکھاندے گیت لچر ناچ ننگے دوردرشن تے

دِکھاؤ وی اُوسارو سوچ سبھیاچار  لوکاں دی


نہ لنگر مفت منگن نہ رعائتاں محنتی کامے

لڑائی حق دی پر لوڑ ہے ادھیکار لوکاں دی


ہے جِتھے چالبازی دی ہمیشہ بولدی توتی

نہ اوتھے قدر ہوندی ہے کدے دلدار لوکاں دی


جتاوے ہِت بھراواں وانگ جیہڑا چون توں پہلے

اوہ جِتّن بعد لیندے جیت کیوں نہ سار لوکاں دا


لیکھک

جگدیش رانا

چڑھدا پنجاب انڈیا


شاہ مُکھی لِپّی انتر

سلیم آفتاب سلیم قصوری

ਉਮੀਦਾਂ ਦੀ ਮਸ਼ਾਲ ਬਲ਼ਦੀ ਰੱਖਣ ਵਾਲ਼ਾ ਸ਼ਾਇਰ - ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ


ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ 'ਜੀਤ' ਦੀ ਸਮੁੱਚੀ ਸ਼ਾਇਰੀ ਢਹਿੰਦੇ ਮਨਾਂ ਨੂੰ ਢਾਰਸ ਦੇਣ ਵਾਲ਼ੀ ਹੈ,ਨਿਰਾਸ਼ ਹਿਰਦਿਆਂ 'ਚ ਉਮੀਦਾਂ ਦੀ ਸ਼ਮ੍ਹਾਂ ਰੌਸ਼ਨ ਕਰਨ ਵਾਲ਼ੀ ਹੈ।ਨਿੱਤ ਦੀਆਂ  ਲੋੜਾਂ ਲਈ ਦੋ ਚਾਰ ਹੋਣ ਵਾਲ਼ੇ ਮਨੁੱਖਾਂ ਦੀ ਬਾਤ ਪਾਉਣ ਵਾਲ਼ੀ ਹੈ।ਮਜ਼ਾਜੀ ਇਸ਼ਕ ਤੋਂ ਹਕੀਕੀ ਇਸ਼ਕ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਤੈਅ ਕਰਦਿਆਂ ਰੂਹਾਨੀ ਇਸ਼ਕ ਦਾ ਅਫ਼ਸਾਨਾ ਬਣਦੀ ਹੈ।ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ 'ਜੀਤ' ਇਕ ਅਤਿ ਸੰਵੇਦਨਸ਼ੀਲ ਸ਼ਾਇਰ ਹੈ ਜੋ ਲਿਖਣ ਨੂੰ ਸ਼ੌਕੀਆ ਤੌਰ 'ਤੇ ਨਹੀਂ ਲੈਂਦਾ ਸਗੋਂ ਨਿੱਤ ਦੇ ਮਨੁੱਖੀ ਮਸਲਿਆਂ 'ਤੇ ਲਿਖਣਾ ਅਪਣਾ ਕਰਤਵ ਸਮਝਦਾ ਹੈ 'ਤੇ ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੇ ਨਿਵਾਰਨ ਦਾ ਹੱਲ ਵੀ ਆਪਣੀ ਸ਼ਿਅਰਕਾਰੀ ਰਾਹੀਂ ਦਰਸ਼ਾਉਂਦਾ ਹੈ।ਕਿਰਤੀਆਂ, ਕਾਮਿਆਂ,ਕਿਸਾਨਾਂ ਦਾ ਰੁਤਬਾ ਉਸ ਦੀ ਨਜ਼ਰ ਵਿਚ ਵੇਹਲੜ ਸਾਧਾਂ ਨਾਲ਼ੋਂ ਕਿਤੇ ਉੱਪਰ ਹੈ।ਉਸ ਨੂੰ ਇਹ ਡਾਹਢਾ ਦੁੱਖ ਹੈ ਕੇ ਸਦੀਆਂ ਬੀਤਣ ਮਗਰੋਂ ਅੱਜ ਵੀ ਦੇਸ਼ ਵਿਚ ਹੱਕ ਮੰਗਦੇ ਲੋਕਾਂ 'ਤੇ ਹਾਕਿਮ ਧਿਰ ਡਾਂਗਾਂ ਸੋਟੇ ਵਰ੍ਹਾਉਂਦੀ ਹੈ ਜਿਵੇਂ ਦੇਸ਼ ਅੱਜ ਵੀ ਫਿਰੰਗੀਆਂ ਦਾ ਗ਼ੁਲਾਮ ਹੋਵੇ।ਅੱਜ ਵੀ ਦੋ ਵੇਲ਼ੇ ਦੀ ਰੋਟੀ ਖ਼ਾਤਿਰ ਇਨਸਾਨ ਨੂੰ ਜੂਝਣਾ ਪੈਂਦਾ ਹੈ,ਅੱਜ ਵੀ ਰੋਜ਼ਾਨਾ ਦੀਆਂ ਘਰੇਲੂ ਲੋੜਾਂ ਲਈ ਇਨਸਾਨ ਦਾ ਭਟਕਣਾ ਉਸ ਨੂੰ ਸਰਕਾਰਾਂ ਦੀ ਨਲਾਇਕੀ 'ਤੇ ਅਸਫ਼ਲਤਾ ਲਗਦਾ ਹੈ।ਦੇਸ਼ ਦੇ ਧਨਾਢਾਂ ਦਾ ਕੁਦਰਤੀ ਸੋਮਿਆਂ 'ਤੇ ਕਾਬਿਜ਼ ਹੋਣਾ,ਮਨੁੱਖ ਹੱਥੋਂ ਮਨੁੱਖ ਦੀ ਹੋ ਰਹੀ ਲੁੱਟ,ਦੇਸ਼ ਵਿਚ ਆਰਥਿਕ ਅਸਾਵਾਂਪਣ ਦਾ ਵਿਕਰਾਲ ਰੂਪ ਧਾਰਨ ਕਰਨਾ ਉਸ ਨੂੰ ਚੁੱਭਦਾ ਹੈ। ਆਰਥਿਕ ਕਾਣੀ ਵੰਡ ਕਾਰਨ ਇਕ ਵਰਗ ਸਦੀਆਂ ਤੋਂ ਪੀਸਿਆ ਜਾ ਰਿਹਾ ਹੈ ਤੇ ਇਹੀ ਸਮਾਜਿਕ ਵਰਤਾਰਾ ਉਸਦੀ ਸ਼ਾਇਰੀ ਦਾ ਆਧਾਰ ਬਣਦਾ ਹੈ।

ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ ਦਾ ਜਨਮ ਨਵੰਬਰ ਮਹੀਨੇ 1962 ਨੂੰ ਜਿਲ੍ਹਾ ਬਠਿੰਡਾ ਦੇ ਕਸਬਾ ਰਾਮਾਂ ਮੰਡੀ ਵਿਖੇ ਹੋਇਆ।ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ ਦੇ ਪਿਤਾ ਸਰਦਾਰ ਰੂਪ ਸਿੰਘ ਸ਼ਾਂਤ ਜੀ ਪੰਜਾਬੀ ਸਾਹਿਤ ਸਭਾ ਅਤੇ ਰਾਜਿੰਦਰਾ ਕਾਲਜ ਬਠਿੰਡਾ ਦੇ ਵੇਲ਼ੇ ਦੇ ਮੁੱਖ ਬੁਲਾਰੇ ਸਨ।ਆਪਣੇ ਪਿਤਾ ਜੀ ਨੂੰ ਕਵਿਤਾ ਪਾਠ ਕਰਦੇ ਦੇਖ ਕੇ ਅਮਰਜੀਤ ਦੇ ਮਨ ਵਿਚ ਵੀ ਲਿਖਣ ਦੀ ਇੱਛਾ ਉਤਪਤ ਹੋਈ।ਜੀਤ ਨੂੰ ਲੇਖਣੀ ਵਿਰਸੇ ਚੋਂ ਹੀ ਮਿਲ਼ੀ ਕਿਹਾ ਜਾਵੇ ਤਾਂ ਕੋਈ ਅਤਕਥਨੀ ਨਹੀਂ ਹੋਵੇਗੀ।ਕਾਲਜ ਪੜ੍ਹਦੇ ਸਮੇਂ ਆਪਣੇ ਦੋਸਤਾਂ ਨੂੰ ਆਪਣੇ ਲਿਖੇ ਗੀਤ ਸੁਣਾਉਣੇ ਤਾਂ ਉਨ੍ਹਾਂ ਵਲੋਂ ਮਿਲ਼ਦੀ ਹੱਲਾਸ਼ੇਰੀ ਹੌਸਲੇ ਬੁਲੰਦ ਕਰਦੀ।ਅਸਲ ਵਿਚ ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ ਦਾ ਸਾਹਤਿਕ ਸਫ਼ਰ ਸ਼ੁਰੂ ਹੋਇਆ 2003 ਵਿੱਚ ਜਦ ਉਹ ਦਮਦਮਾ ਸਾਹਿਬ ਸਾਹਿਤ ਸਭਾ ਤਲਵੰਡੀ ਸਾਬੋ ਵਿਖੇ ਆਉਣ ਜਾਣ ਲੱਗਾ ਤਾਂ ਉਥੇ ਉਸਤਾਦ ਸ਼ਾਇਰ ਜਨਕ ਰਾਜ ਜਨਕ ਨਾਲ਼ ਮੇਲ਼ ਹੋਇਆ ਤਾਂ ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੇ ਕਹਿਣ ਤੇ ਹੀ ਗੀਤਾਂ ਦੇ ਨਾਲ਼ ਗ਼ਜ਼ਲਕਾਰੀ ਵਿੱਚ ਵੀ ਸ਼ੁਰੂਆਤ ਹੋ ਗਈ।ਅੱਜ ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ ਪੰਜਾਬੀ ਗ਼ਜ਼ਲਕਾਰੀ ਦਾ ਇਕ ਚਰਚਿਤ ਨਾਮ ਹੈ।2014 ਵਿੱਚ ਪਹਿਲਾ ਗ਼ਜ਼ਲ ਸੰਗ੍ਰਹਿ 'ਚਾਨਣ ਦਾ ਛਿੱਟਾ' ਤੋਂ ਬਾਅਦ ਏਸੇ ਵਰ੍ਹੇ 2023 ਵਿੱਚ ਉਸ ਦਾ ਦੂਜਾ ਗ਼ਜ਼ਲ ਸੰਗ੍ਰਹਿ 'ਬਦਲਦੇ ਮੌਸਮਾਂ ਅੰਦਰ' ਵੀ ਖ਼ਾਸੀ ਚਰਚਾ ਬਟੋਰ ਰਿਹਾ ਹੈ।ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ ਦੀ ਸ਼ਾਇਰੀ ਮਨੁੱਖ ਨੂੰ ਹਾਰਾਂ ਦੀ ਪ੍ਰਵਾਹ ਨਾ ਕਰਦਿਆਂ ਹਾਰਾਂ ਤੋਂ ਸਬਕ ਲੈਣ ਅਤੇ ਲਗਾਤਾਰ ਸੰਘਰਸ਼ ਕਰਨ ਲਈ ਪ੍ਰੇਰਿਤ ਕਰਦੀ ਹੈ। ਆਪਸੀ ਵੈਰ ਵਿਰੋਧ ਖ਼ਤਮ ਕਰ ਕੇ ਮੁਹੱਬਤੀ ਸਾਂਝ ਪਾਉਣ ਦੀ ਗੱਲ ਕਰਦੀ ਹੈ।ਪ੍ਰੰਪਰਾਵਾਦੀ ਅਤੇ ਜਦੀਦ ਰੰਗ ਚ ਰੰਗੀ ਉਸ ਦੀ ਸ਼ਾਇਰੀ

ਆਮ ਮਨੁੱਖਾਂ ਦੇ ਹੱਕਾਂ ਹਿੱਤਾਂ ਦੀ ਰਾਖੀ ਦੀ ਬਾਤ ਪਾਉਂਦਿਆਂ ਆਰਥਿਕ ਤੇ ਸਮਾਜਿਕ ਬਰਾਬਰੀ ਵਾਲ਼ਾ ਸਮਾਜ ਸਿਰਜਣ ਦੀ ਗੱਲ ਕਰਦੀ ਹੈ।

ਅੱਜ ਕੱਲ੍ਹ ਜਾਗ੍ਰਿਤੀ ਸਾਹਿਤ ਸਭਾ ਬਠਿੰਡਾ ਦਾ ਉਹ ਪ੍ਰਧਾਨ ਹੈ।ਸਿਹਤ ਵਿਭਾਗ ਪੰਜਾਬ ਵਿੱਚ ਸਰਕਾਰੀ ਨੌਕਰੀ ਕਰਦਿਆਂ ਉਹ ਕੁਝ ਸਾਲ ਹੁਸ਼ਿਆਰਪੁਰ ਜਿਲ੍ਹਾ ਦੇ ਕਸਬਾ ਮਾਹਿਲਪੁਰ,ਗੜ੍ਹਸ਼ੰਕਰ ਦੇ ਪਹਾੜੀ ਖੇਤਰ ਵਿੱਚ ਵੀ ਰਿਹਾ 'ਤੇ ਇਉਂ ਮਲਵਈ ਅਤੇ ਦੁਆਬੀ ਭਾਸ਼ਾ ਦਾ ਉਸ ਦੀ ਸ਼ਬਦ ਚੋਣ ਵਿਚ ਅਸਰ ਸਾਫ਼ ਝਲਕਦਾ ਹੈ।ਮੌਜੂਦਾ ਸਮੇਂ ਉਹ ਲਹਿੰਦੇ ਪੰਜਾਬ ਦੇ ਗ਼ਜ਼ਲਕਾਰਾਂ ਦੀਆਂ ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਵਿਚ ਲਿਖਿਆ ਗ਼ਜ਼ਲਾਂ ਦਾ ਗੁਰਮੁਖੀ ਵਿਚ ਤਰਜ਼ਮਾ ਕਰਦਾ ਹੈ ਅਤੇ ਗੁਰਮੁਖੀ ਵਿਚ ਲਿਖੀਆਂ ਗ਼ਜ਼ਲਾਂ ਦਾ ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਵਿੱਚ ਤਰਜ਼ਮਾ ਕਰਦਾ ਹੈ।

ਆਓ! ਬਠਿੰਡਾ ਦੇ ਵਸਨੀਕ ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ ਦੀਆਂ ਦੋ ਗ਼ਜ਼ਲਾਂ ਦਾ ਸੁਆਦ ਲੈਂਦੇ ਹਾਂ।


ਗ਼ਜ਼ਲ 1


ਜੋ ਨਾਬਰ ਹੋ ਗਏ ਬੰਦੇ ਸਤਾਏ ਸ਼ਾਤਿਰਾਂ ਹੱਥੋਂ।

ਉਨ੍ਹਾਂ ਤਸਦੀਕ ਨਈਂ ਚਾਹੀ ਕਦੇ ਵੀ ਹਾਕਮਾਂ ਹੱਥੋਂ।


ਸਲਾਮਤ ਲੋਕਤੰਤਰ, ਕਿੰਝ ਆਖਾਂ ਮੁਲਕ ਅਪਣੇ ਦਾ ?

ਹਮੇਸ਼ਾਂ ਲੋਕ ਜਾਂਦੇ ਹਾਰ ਏਥੇ ਸਾਜਿਸ਼ਾਂ ਹੱਥੋਂ।


ਲਿਹਾਜਾਂ ਪਾਲ਼ਦੇ ਫਿਰਦੇ ਨੇ ਮਤਲਬ ਵਾਸਤੇ ਜਿਹੜੇ,

ਨਿਆਂ ਦੀ ਆਸ ਕੀ ਰੱਖਣੀ ਹੈ ਉਹਨਾਂ ਮੁਨਸਿਫਾਂ ਹੱਥੋਂ।


ਅਜੋਕੀ ਦੌੜ ਆਖਾਂ ਜਾਂ ਕਹਾਂ ਕਲਯੁਗ ਦਾ ਹੈ ਪਹਿਰਾ,

ਬੜੀ ਜਾਦੂਗਰੀ ਹੁੰਦੀ ਹੈ ਅੱਜਕਲ੍ਹ ਰਹਿਬਰਾਂ ਹੱਥੋਂ।


ਕਰੀ ਜੋ ਕਸਰਤਾਂ ਜਾਂਦੇ ਨੇ ਇਸ ਟਾਹਣੀ ਤੋਂ ਉਸ ਟਾਹਣੀ,

ਬਚਾ ਕੇ ਬਾਗ ਨੂੰ ਰੱਖੋ ਅਜੇਹੇ ਬਾਂਦਰਾਂ ਹੱਥੋਂ 

********************


ਗ਼ਜ਼ਲ 2


ਸਮੇਂ ਦੇ ਹਾਕਮੋਂ ਜਾਗੋ, ਲਵੋ ਕੁਝ ਸਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।

ਕਹਾਣੀ ਹੈ ਨਿਰਾਸ਼ਾ-ਜਨਕ, ਬੇਰੁਜ਼ਗਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।


ਜਵਾਨੀ ਰੁਲ਼ ਰਹੀ ਹੈ ਅੱਜ ਨਮੋਸ਼ੀ ਵਿੱਚ ਘਿਰੀ ਹੋਈ,

ਕੁਰਾਹੇ ਤੁਰ ਪਊ ਜਾਂ ਫਿਰ ਬਣੂ ਲਲਕਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।


ਬੁਝੇ ਹੋਏ ਨੇ ਚਿਹਰੇ ਕਾਸਤੋਂ ਮਿਹਨਤਕਸ਼ਾਂ ਦੇ ਅੱਜ,

ਸਦਾ ਹੀ ਦੁਰਗਤੀ ਹੁੰਦੀ ਹੈ ਕਿਉਂ ਖ਼ੁੱਦਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ ?


ਸਮਝਦੀ ਹਿੱਤ ਨਾ ਜਿਹੜੀ,ਗ਼ਮਾਂ ਮਾਰੀ ਲੋਕਾਈ ਦਾ,

ਕਿਵੇਂ ਆਖਾਂ ਕਿ ਇਹ ਹਮਦਰਦ ਹੈ ਸਰਕਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।


ਦਿਖਾਉਂਦੈ ਗੀਤ ਲੱਚਰ ਨਾਚ ਨੰਗੇ,ਦੂਰਦਰਸ਼ਨ 'ਤੇ,

ਦਿਖਾਓ ਵੀ ਉਸਾਰੂ ਸੋਚ ਸੱਭਿਆਚਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।


ਨਾ ਲੰਗਰ ਮੁਫ਼ਤ ਮੰਗਣ, ਨਾ ਰਿਆਇਤਾਂ ਮਿਹਨਤੀ ਕਾਮੇਂ,

ਲੜਾਈ ਹੱਕ ਦੀ ਪਰ ਲੋੜ ਹੈ ਅਧਿਕਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।


ਹੈ ਜਿੱਥੇ ਚਾਲਬਾਜ਼ਾਂ ਦੀ ਹਮੇਸ਼ਾਂ ਬੋਲਦੀ ਤੂਤੀ,

ਨਾ ਓਥੇ ਕਦਰ ਹੁੰਦੀ ਹੈ ਕਦੇ ਦਿਲਦਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।ਪ


ਜਤਾਵੇ ਹਿੱਤ ਭਰਾਵਾਂ ਵਾਂਗ ਜਿਹੜਾ ਚੋਣ ਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ,

ਉਹ ਜਿੱਤਣ ਬਾਅਦ ਲੈਂਦਾ 'ਜੀਤ' ਕਿਉਂ ਨਾ ਸਾਰ ਲੋਕਾਂ ਦੀ।


'ਜਗਦੀਸ਼ ਰਾਣਾ'

+917986207849


Thursday, November 6, 2025

غزل ( شاعر : امرجیت سنگھ جیت )

 











ਨਿੱਕੇ    ਨਿੱਕੇ   ਵਾਕਾਂ  ਦੇ ਵਿਚ  ਵੱਡੇ   ਚਾਵਾਂ   ਵਰਗੇ

ਡਾਢੇ  ਚੰਗੇ  ਲੱਗਦੇ  ਨੇ  ਇਹ , ਬੋਲ  ਦੁਆਵਾਂ  ਵਰਗੇ

نِکّے  نِکّے  واکاں  دے وِچ  ، وڈے   چاواں  ورگے

ڈاڈھے  چنگے  لگدے  نے ایہ، بول دُعاواں ورگے


ਸਾਰੀ  ਦੁਨੀਆ  ਘੁੰਮ  ਘੁਮਾ  ਕੇ, ਵੇਖ  ਲਈ  ਹੈ ਆਪਾਂ

ਐਪਰ  ਕਿਧਰੇ  ਲੱਭਦੇ  ਹੈ  ਨਾ , ਸਾਕ  ਭਰਾਵਾਂ  ਵਰਗੇ

ساری  دنیا  گھمّ  گھما  کے ، ویکھ  لئی  ہے آپاں

اَیپر  کدھرے لبھدے  ہے نہ ، ساک بھراواں ورگے


ਅੰਨ੍ਹੀ ਦੌੜ  'ਚ  ਬੰਦਾ  ਜਦ  ਵੀ, ਹਫ ਕੇ ਹੈ  ਬਹਿ ਜਾਂਦਾ

ਲੱਭਦੈ   ਫੇਰ   ਗੁਆਚੇ   ਹੋਏ  ,   ਰਿਸ਼ਤੇ  ਛਾਵਾਂ  ਵਰਗੇ

انھی  دَوڑ  'چ  بندہ  جد وی، ہپھ کے ہے بہِ جاندا

لبھدَے  فیر  گواچے  ہوئے ، رِشتے  چھاواں ورگے


ਪੀਜੇ    ਬਰਗਰ    ਵੰਨ   ਸਵੰਨੇ   ਖਾਣੇ   ਹੋਰ   ਬਥੇਰੇ,

ਪ੍ਰਦੇਸ਼ਾਂ  ਵਿਚ  ਕੌਣ  ਖਵਾਉਂਦੈ  ,  ਫੁਲਕੇ  ਮਾਵਾਂ  ਵਰਗੇ

پیجے    برگر    ونّ سونے   کھانے  ہور  بتھیرے،

پردیشاں وچ کون کھواؤندَے، پُھلکے ماواں ورگے


ਭੋਰਾ   ਮਾਸਾ    ਦਾਬੇ   ਥੱਲੇ ,   ਤਾਪ   ਚੜਾ    ਜੋ   ਲੈਂਦੇ 

ਝੱਟ   ਬਦਲਦੇ  ਵੇਖੇ  ਨੇ  ਮੈਂ ,  ਸ਼ਖ਼ਸ   ਹਵਾਵਾਂ   ਵਰਗੇ

بھورا    ماسہ   دابے  تھلّے  ، تاپ  چڑا  جو  لَیندے

جھٹّ بدلدے ویکھے نے میں، شخس ہواواں ورگے


ਪਿਆਰ ਮੁਹੱਬਤ ਹੁੰਦਾ ਹੈ ਬਸ , ਜੀਵਨ  ਲਈ ਖੁਸ਼ਹਾਲੀ 

ਨਿੱਤ   ਦੇ   ਰੋਸੇ  ,  ਝੋਰੇ   ਹੁੰਦੇ  ,  ਘੋਰ  ਸਜ਼ਾਵਾਂ  ਵਰਗੇ

پیار محبت  ہُندا  ہے بس ،  جیون   لئی خوشحالی 

نتّ دے روسے ، جھورے ہُندے ، گھور سزاواں ورگے


ਪਿਆਰ ਦੇ ਰੰਗਾਂ ਦੇ ਵਿਚ ਸਭ ਨੂੰ, ਉਹ ਤਾਂ ਰੰਗ ਨੇ ਦਿੰਦੇ

ਜਿਹੜੇ    ਹੁੰਦੇ    ਸੱਜਣ   ਗ਼ਜ਼ਲਾਂ  ਤੇ   ਕਵਿਤਾਵਾਂ   ਵਰਗੇ

پیار دے رنگاں دے وچ سبھ نوں، اوہ تاں رنگ نے دِندے

جِہڑے    ہُندے   سجن    غزلاں    تے   کوتاواں   ورگے


ਭਟਕਣ  ਅੰਦਰ  'ਜੀਤ'  ਕਦੇ  ਵੀ , ਕੋਈ ਹੱਲ  ਨਾ ਹੁੰਦਾ

ਸਹਿਜ -ਸੁਭਾਅ ਵਿੱਚ  ਬਹਿ  ਕੇ  ਫੁਰਨੇ  ਫੁਰਨ   ਸੁਝਾਵਾਂ  ਵਰਗੇ

بھٹکن  اندر  'جیت' کدے وی ، کوئی  حلّ نہ ہُندا

سہج سبھا  وچ بہِہ کے پھرنے  پھُرن  سجھاواں  ورگے


ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ 

امرجیت سنگھ جیت

آخری ٹرین ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا








 *عنوان : آخری ٹرین*


*مہر ہمیش گل* 


پلیٹ فارم پر ہوا چل رہی تھی اور ساتھ ساتھ بارش بھی، وہ روز کی طرح آج بھی کتابوں والی دوکان میں بٹھ کر کتاب پڑھ رہا تھا۔ اور کتاب کے آخری صفحے میں رکھے خط کو پڑہ رہا تھا۔جس کی کچھ سطر یہ تھی۔ میرا انتظار کیجئے گا۔ میں آپ کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ آپ جب میرے ساتھ ہوتے ہیں تو مجھے دُنیا حسین لگتی ہے۔ آپ کے ساتھ ہونے سے مجھے کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مجھے آپ سے نہیں آپ کی روح سے محبت ہے۔ آپ جب پاس ہوں، میرے ساتھ ہوں، مجھے زمانے کا کوئی درد کمزور نہیں کر سکتا۔ آپ بہت قیمتی ہیں میرے لیے۔ میں وآپس ضرور آؤ گی میرا سفر آخری ٹرین پر ختم ہو گا۔ اور آخری ٹرین میں ملوں گی۔ احتشام شاہ کی آنکھیں آنسو سے بھر گئی اور اپنے آپ سے سوال کرنے لگا کہ اتنے سال گزر گئے انتظار میں کیا مہروش شاہ کو میں ایک بار بھی یاد نہیں آیا؟ کیا مہروش شاہ صرف مجھ سے انتظار ہی کروانا چاہتی تھی۔ روز کی طرح احتشام شاہ انتظار کرنے کے بعد وآپس چلے جاتے اور کتابوں سے دل کو بہلا لیتے۔ احتشام شاہ اج جب ٹرین کا انتظار کر رہا تھا، تو آنکھ لگ گئی اور نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ کان کے قریب آہستہ آہستہ مہروش شاہ احتشام شاہ کو پکار رہی تھی، احتشام اٹھیں آپ کی مہروش شاہ اں گئی ہے۔احتشام شاہ اچانک سے اٹھ کر بیٹھ گیا، اور دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ احتشام شاہ کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ صرف ایک خواب تھا۔ جسے احتشام شاہ نے اب تک ایک حقیقت سمجھا، احتشام شاہ نے واپس پلٹ جانا ہی مناسب سمجھا۔ اور زندگی میں آگے بڑھ جانا۔

نظم ( گھٹ لوک ) شاعر : دلشان

 










شرافت دے پُتلے وچ لُکیا اصلی چہرہ

بہت گھٹ لوک جاندے  ہن

ہتھ جوڑن والے کمزور

غریب لوکاں دا کردار اُچیرا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن

دیوالی دے دیوے توں وانجھا

 غریب دے کوٹھے دا بنیرا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن

کس طراں دا دن لے کے آوے گا ونواں سویرا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن

پرانے سمے دا چِٹّھی والا سُنیہڑا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن

ساہتکاراں دی سوچ دا وِشال گھیرا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن

سدا نہیں رہندا دنیاوی بسیرا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن

دلشان آخیر نوں کی حشر ہوویگا تیرا

بہت گھٹ لوک جاندے ہن


شاعر

دلشان چڑھدا پنجاب انڈیا


شاہ مُکھی لِپّی انتر

سلیم آفتاب سلیم قصوری


ਸ਼ਰਾਫ਼ਤ ਦੇ ਪੁਤਲੇ ਵਿੱਚ ਲੁਕਿਆ ਅਸਲੀ ਚਿਹਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ, 

ਹੱਥ ਜੋੜਨ ਵਾਲੇ ਕਮਜ਼ੋਰ, ਗ਼ਰੀਬ ਲੋਕਾਂ ਦਾ ਕਿਰਦਾਰ ਉਚੇਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ, 

ਦੀਵਾਲੀ ਦੇ ਦੀਵੇ ਤੋਂ ਵਾਂਝਾ ਗ਼ਰੀਬ ਦੇ ਕੋਠੇ ਦਾ ਬਨੇਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ,

ਕਿਸ ਤਰ੍ਹਾਂ ਦਾ ਦਿਨ ਲੈ ਕੇ ਆਵੇਗਾ ਨਵਾਂ ਸਵੇਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ,  

ਪੁਰਾਣੇਂ ਸਮੇਂ ਦਾ ਚਿੱਠੀ ਵਾਲਾ ਸੁਨੇਹੜਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ, 

ਸਾਹਿਤਕਾਰਾਂ ਦੀ ਸੋਚ ਦਾ ਵਿਸ਼ਾਲ ਘੇਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ, 

ਸਦਾ ਨਹੀਂ ਰਹਿੰਦਾ ਦੁਨਿਆਵੀ ਬਸੇਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ, 

'ਦਿਲਸ਼ਾਨ' ਅਖੀਰ ਨੂੰ ਕੀ ਹਸ਼ਰ ਹੋਊਗਾ ਤੇਰਾ, 

ਬਹੁਤ ਘੱਟ ਲੋਕ ਜਾਣਦੇ ਹਨ।


ਦਿਲਸ਼ਾਨ, ਮੋਬਾਈਲ-

Wednesday, November 5, 2025

غزل ( گرمکھی تے شاہ مکھی چ ) نواز ساجد نواز











 پنجابی غزل 


جے توں یار  نبھانی نئیں سی۔

یاری۔ توں فیر  لانی نئیں سی۔


نازک دل۔۔  تے ۔نیناں والی۔

 آری فیر چلانی نئیں سی۔


زلفاں ۔۔۔نال سی  سوہنا مکھڑا۔

مکھ توں زلف ہٹانی نئیں سی۔


جیکر ڈر جے دنیاں دا سی۔

دل دی تار ملانی نئیں سی۔


پیار دے زخماں والی سُتی۔

سجنا پیڑ جگانی نئیں سی۔


نیناں چوں میں جام سی منگیا۔

منگیا۔  میں   تے پانی نئیں سی۔


توں تے مرزے وانگوں ساجد۔

کرنی ختم  ۔کہانی نئیں سی۔


     نواز ساجد نواز 

     حسوکے راوی 

       لیل پور


ਪੰਜਾਬੀ ਗ਼ਜ਼ਲ


ਜੇ ਤੂੰ  ਯਾਰ  ਨਿਭਾਨੀ  ਨਈਂ ਸੀ।

ਯਾਰੀ  ਤੂੰ ਫ਼ਿਰ ਲਾਨੀ  ਨਈਂ ਸੀ।


ਨਾਜ਼ੁਕ ਦਿਲ  ਤੇ  ਨੈਣਾਂ  ਵਾਲੀ,

ਆਰੀ ਫ਼ਿਰ ਚਲਾਣੀ ਨਈਂ ਸੀ।


ਜ਼ੁਲਫ਼ਾਂ ਨਾਲ਼ ਸੀ ਸੋਹਣਾ ਮੁਖੜਾ,

ਮੁੱਖ ਤੋਂ ਜ਼ੁਲਫ਼ ਹਟਾਣੀ ਨਈਂ ਸੀ।


ਜੇਕਰ ਡਰ ਇਹ ਦੁਨੀਆਂ ਦਾ ਸੀ,

ਦਿਲ ਦੀ ਤਾਰ ਮਿਲਾਨੀ ਨਈਂ ਸੀ।


ਪਿਆਰ ਦੇ ਜ਼ਖ਼ਮਾਂ ਵਾਲੀ ਸੁੱਤੀ,

ਸੱਜਣਾ ਪੀੜ ਜਗਾਨੀ ਨਈਂ ਸੀ।


ਨੈਣਾਂ ਚੋਂ ਮੈਂ ਜਾਮ ਸੀ ਮੰਗਿਆ,

ਮੰਗਿਆ ਮੈਂ ਤੇ ਪਾਣੀ ਨਈਂ ਸੀ।


ਤੂੰ  ਤੇ  ਮਿਰਜ਼ੇ  ਵਾਂਗੂੰ  ਸਾਜਿਦ,

ਕਰਨੀ ਖ਼ਤਮ ਕਹਾਣੀ ਨਈਂ ਸੀ।


ਨਵਾਜ਼ ਸਾਜਿਦ ਨਵਾਜ਼

ਹੱਸੂ ਕੇ ਰਾਵੀ 

ਲੀਲਪੁਰ

غزل ( شاعر : وزیر علی راجا ) کنگن پور

 









کچے جانا پار تے نہیں نا 

سوہنی منی ہار تے نہیں نا 


جہندا گھر تے قبضہ ہووے

اوہ فر چوکیدار تے نہیں نا 


سپ دی فطرت وچ اے ڈنگنا

سپ دا کوئی اتبار تے نہیں نا


ساری دنیا مل وی جاوے

تیرے ورگا یار تے نہیں  نا 


توں جے منگیں جان وی حاضر 

میں کرنا انکار تے نہیں نا


وزیر علی راجہ

Tuesday, November 4, 2025

کلام : یاسین یاس

 









ہاسہ ہاسہ اے 

بھاویں ماسہ اے 

دکھ وی سچے نیں 

نیواں پاسہ اے 

ترلہ بلھیاں تے 

ہتھیں کاسہ اے 

اوہدا امتی آں 

ڈھیر دلاسہ اے 

جتھے وسدے او 

پکھی واسہ اے 

دینا کیڑے نوں 

اوہدا خاصہ اے 


یاسین یاس

غزل ( عامر صدیقی ) پھول نگر

 







اوہدے آ


ن دے لارے تے 

ساڈے ساہ کنارے   تے


ھالے وی  اکھ ظالم دی

ڈگے ڈھٹھے ڈھارے تے 


اونوں چھڈن لگا  ایں

پچھے ٹر پےسارے تے


بندا    بندا    لگے   گا

اندروں میں جے مارےتے


عامر دل دیاں ریجھاں نیں

جاواں اس دوارے   تے 


عامر صدیقی پھولنگر

Monday, November 3, 2025

غزل ( شاعر : منظور شاہد ارواڑہ )

 










میں بتھیری ڈکی اکھ

لڑ گئی دھکو دھکی اکھ

۔

اوہدی اکھ سی ہور کسے تے

 جندے تے میں رکھی اکھ

۔

راہ تے آجا سوکھی ہو جائے

راہواں تکدی تھکی اکھ

۔

جسلے سجن ساویں ہووے

جاندی نئیں جھمکی اکھ

۔

تینوں چیتے کر کر رووے

نکلی تیری سکی اکھ 

۔

جنوں اکھ دے وچ وسایا

اوسے ای ناں تکی اکھ

۔

دھڑ تے شاہد سر رہیا ناں

جہنے جہنے چکی اکھ

۔

منظور شاھد اوراڑہ قصور

گیت ( شاعر : سلیم آفتاب سلیم )

 







گیت


تُو سپنا میرا. . . . .  تُو اپنا میرا

تُو میرا رونا . . . .   تُو ہسنا میرا


تُو سپنا میرا . . . .   تُو اپنا میرا


تُو نظموں میں بھی. . تُوغزلوں میں بھی

میں تیرا شاعر. .   تُو  نغمہ  میرا


تُو سپنا میرا . . . .    تُو اپنا میرا


تُو چاہت بھی ہے. . . تُو راحت بھی ہے

تُو میری منزل. . .   تُو رستہ میرا


تُو سپنا میرا. . . .   تُو اپنا  میرا


تُو میرا دلبر. . . .  تُو میرا  افسر

وہ باتیں تیری. . .  تو چرچا میرا


تُو سپنا میرا. . .    تُو اپنا  میرا


میں تیرا جانی. . .  تُو میری رانی

میں تیرا عاشق. . .  تُو سجنا میرا


تُو سپنا میرا. . . .  تو  اپنا  میرا 


شاعر

سلیم آفتاب سلیم قصوری

غزل ( نواز ساجد نواز ) حسوکے

 







پنجابی غزل 


جے توں یار  نبھانی نئیں سی۔

یاری۔ توں فیر  لانی نئیں سی۔


نازک دل۔۔  تے ۔نیناں والی۔

 آری فیر چلانی نئیں سی۔


زلفاں ۔۔۔نال سی  سوہنا مکھڑا۔

مکھ توں زلف ہٹانی نئیں سی۔


جیکر ڈر جے دنیاں دا سی۔

دل دی تار ملانی نئیں سی۔


پیار دے زخماں والی سُتی۔

سجنا پیڑ جگانی نئیں سی۔


نیناں چوں میں جام سی منگیا۔

منگیا۔  میں   تے پانی نئیں سی۔


توں تے مرزے وانگوں ساجد۔

کرنی ختم  ۔کہانی نئیں سی۔


     نواز ساجد نواز 

     حسوکے راوی 

       لیل پور

Sunday, November 2, 2025

پنجابی غزل ( ڈاکٹر عبدالغفار رندھاوا )

 









غزل 


اجڑی پجڑی سدھراں دی تصویر نہ دیکھی جاوے

 کیہ لکھیا تقدیر دے وچ تقدیر نہ دیکھی جاوے

 رانجھے دا حق کھوہ کے کھیڑا خشی مناندا پھر دا 

ڈولی چڑھدیاں چیکاں مار دی ہیر نہ دیکھی جاوے 

کہدے سہاگ دا جوڑا جھکھڑاں کیتا لیراں لیراں 

کیکراں اتے ٹنگی ہوئی لیر نہ دیکھی جاوے 

ہجر وچھوڑا موتوں بھیڑا نین غماں وچ روندے

 درداں ہنجواں آہواں دی جاگیر نہ دیکھی جاوے

 امن امان لئی تر سے لوکی ازلوں  پے نہیں روندے 

ظلماں جبراں والی ہوئی اخیر نہ دیکھی جاوے

 دل کملا مر جانا جھلا عشق توں باز نہ آوے

 روح کرلاوے تڑفے وچ سریر نہ دیکھی جاوے

 کہوے غفار رندھاوا شالا اک مک وسن سارے 

وچ بھرانواں وجی ہوئی لکیر نہ دیکھی جاوے


شاعر : ڈاکٹر عبدالغفار رندھاوا