Sunday, November 9, 2025

اساس محبت ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا












 اساسِ محبت 

مہر ہمیش گُل۔


کراچی کی ایک مصروف سڑک کے کنارے، جہاں زندگی ہر لمحہ دوڑتی نظر آتی ہے، ایک خوبصورت کتابوں کی دکان تھی۔ اس دکان میں ایک طرف تازہ چھپی ہوئی کتابوں کی خوشبو تھی اور دوسری طرف کچھ پرانی، پیلی پڑتی کتابیں جو اپنی کہانی سنانے کے لیے بے قرار تھیں۔ ثنا، جو ادب اور شاعری کی دیوانی تھی، اکثر یہاں آیا کرتی تھی۔

ایک دن، وہ دکان کے ایک کونے میں کھڑی غالب کے اشعار پڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک آواز سنائی دی۔ 

"یہ شعر بہت خوبصورت ہے مگر میر کے کلام میں جو گہرائی ہے، وہ غالب میں کم نظر آتی ہے۔" ثنا نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ 

ایک دراز قد، گہری آنکھوں والا نوجوان، ہاتھ میں کتاب لیے مسکرا رہا تھا۔

"آپ میر کے چاہنے والے لگتے ہیں؟" ثنا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

"جی، اور آپ غالب کی دیوانی معلوم ہوتی ہیں،" اس نے جواب دیا۔

"جی ہاں، میں غالب کو پڑھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں مگر میر بھی میرے دل کے قریب ہیں۔" ثنا نے کہا۔

یوں کتابوں کی محبت نے ثنا اور حیدر کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ وہ اکثر اسی دکان میں ملاقات کرنے لگے۔ کبھی کسی کتاب پر بحث کرتے، کبھی کسی نظم پر بات چیت کرتے اور کبھی خاموشی میں ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کرتے۔

کچھ مہینے گزر گئے اور ان کی ملاقاتیں معمول بن گئیں۔ حیدر ایک لکھاری تھا اور ثنا ایک معلمہ۔ دونوں ادب کے سمندر میں ڈوبے رہتے مگر اب ایک دوسرے کے بغیر دن ادھورا محسوس ہونے لگا تھا۔

ایک دن، بارش کی بوندیں زمین کو بوسہ دے رہی تھیں اور کراچی کی سڑکیں جل تھل ہو چکی تھیں۔ حیدر اور ثنا ایک کیفے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ حیدر نے جیب سے ایک پرچہ نکالا اور ثنا کے سامنے رکھ دیا۔

"یہ کیا ہے؟" ثنا نے حیرانی سے پوچھا۔

"بس ایک نظم لکھی تھی، تمہارے لیے۔" حیدر نے دھیرے سے کہا۔

ثنا نے پرچہ کھولا اور پڑھنے لگی۔

"تمہاری ہنسی میں ہے ساز کی لے

تمہاری آنکھوں میں خوابوں کے دیپ

تمہاری باتوں میں لفظوں کے گلاب

تم ہو تو زندگی کا مفہوم مکمل ہے۔"

ثنا کے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی مگر آنکھوں میں نمی بھی جھلکنے لگی۔ یہ پہلی بار تھا جب کسی نے اس کے لیے یوں الفاظ کا جادو جگایا تھا۔

"یہ بہت خوبصورت ہے۔" وہ آہستہ سے بولی۔

"اور؟" حیدر نے پوچھا۔

"اور شاید۔۔۔ مجھے بھی تم سے محبت ہو گئی ہے۔" اس نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

حیدر نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ثنا کا ہاتھ تھام لیا۔ بارش کی بوندیں ان کی خوشی میں شامل ہونے لگیں مگر محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ ثنا کے والدین نے جب سنا کہ وہ حیدر سے محبت کرتی ہے تو وہ ناراض ہو گئے۔ ان کا ماننا تھا کہ حیدر کا پیشہ مستحکم نہیں۔ وہ ایک عام لکھاری ہے جبکہ وہ اپنی بیٹی کے لیے کسی امیر زادے کا خواب دیکھ رہے تھے۔

ثنا کے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا۔ ایک طرف اس کی محبت تھی اور دوسری طرف اس کے والدین۔ 

"محبت امتحان بھی لیتی ہے، اگر ہماری محبت سچی ہے، تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔"حیدر نے اسے تسلی دی۔

حیدر نے اپنے قلم کی طاقت کو آزمایا۔ اس نے ایک کتاب لکھی، جو بے حد مقبول ہوئی۔ اس کی تحریریں ہر طرف چرچے میں آ گئیں اور وہ مشہور ہو گیا۔ اس کی کامیابی نے ثنا کے والدین کے خیالات بدل دیے۔ انہوں نے دیکھا کہ حیدر نہ صرف ثنا سے محبت کرتا ہے بلکہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

آخرکار، ایک دن آیا جب ثنا کے والدین نے اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔ وہ دن کسی جشن سے کم نہیں تھا۔ کتابوں کی وہی دکان، جہاں ان کی کہانی شروع ہوئی تھی، اب ان کے نکاح کی گواہ بنی۔

حیدر نے نکاح کے بعد ثنا سے کہا، "محبت بھی ایک کہانی ہوتی ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنی کہانی تمہارے ساتھ لکھی۔"

"اور یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔"ثنا نے مسکرا کر کہا۔

یوں ثنا اور حیدر کی محبت کی کہانی ہمیشہ کے لیے کتابوں کے صفحات پر امر ہو گئی۔

No comments:

Post a Comment