مزدوروں پر مسلط سرکاری بابو
تحریر : یاسین یاس
پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اگر نہیں جانتے تو ان مزدوروں کے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے سرکاری بابو نہیں جانتے جن کے منہ کو حرام لگا ہوا ہے جو بنا رشوت لیے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے رشوت لینے کے ایسے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ایسے لگتا ہے جیسے ان کو گورنمنٹ تنخواہ ہی نہیں دیتی بس جب کوئی کیس آتا ہے تو ان بے چاروں کے گھر چولہا جلتا ہے فائل جمع کروانے کی فیس کیس آگے بڑھانے کی فیس اور کیس منظور کروانے کی فیس چیک وصول کرنے کی فیس اور وہ بھی ایڈوانس میں اگر کہیں کہ بھائی اس میں کوئی غلطی نہیں ہے کیس بالکل کلئیر ہے آپ نے صرف فارورڈ کرنا ہے تو صاحب فرماتے ہیں جی ہمارے پاس ہزاروں کیس پڑے ہیں آپ بھی رکھ دیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کیس جمع ہو کر جلد آپ کو چیک مل جائے تو پھر آپ کو ویسا ہی کرنا پڑے گا جیسا ہم کہتے ہیں رشوت نہ دینے والوں کے کیس کئی کئی ماہ مکمل ہی نہیں ہوتے کبھی کوئی آبجیکشن کبھی کوئی آبجیکشن ایک آبجیکشن ختم کرو دوسری تیار مطلب ہر موقع پر رشوت ہی دینا ہوگی غریب مزدور اپنی خون پسینے کی کمائی سے ہر ماہ گورنمنٹ ادارے کو کٹوتی کرواتا ہے اور کئی کئی سال کرواتا ہے صرف اس لیے کہ چلو جب بیٹی کی شادی ہوگی تو اسے جہیز فنڈ ملے گا اس سے بیٹی کے ہاتھ پیلے کر سکوں گا اب مزدور بے چارہ تو پیسے مسلسل جمع کروا رہا ہے اور اسی آس پہ جمع کروارہا ہے لیکن جب مزدور کی کچھ فائدہ لینے کی باری آتی ہے تو یہ دفتروں میں بیٹھی ہوئی گرجھیں اس کو نوچنا شروع کر دیتی ہیں ضلع قصور کی ہی بات کریں تو وہاں کئی کئی سال سے ایسے کیس پینڈنگ پڑے ہیں جو رشوت نہ دے سکے یا فائل کو آگے بڑھانے کی رشوت نہ دے سکے یا سائن کروانے کی رشوت نہ دے سکے جب بھی پوچھو نیا بہانہ منتظر ہوتا ہے اور سب سے بڑا بہانہ فنڈ ہی نہیں ہیں سوچنے والی بات ہے اگر فنڈ نہیں ہیں یا نہیں تھے تو دوہزار اکیس بائیس والے کیس کیسے کلئیر ہوئے اور دوہزار انیس بیس والے کیوں پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں مطلب صاف ظاہر ہے جن لوگوں نے منہ مانگی رشوت دی ان کا کام ہو گیا اور جو بے چارے نہ دے سکے ان کے کیس ابھی تک پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں اور جن جن لوگوں سے انہوں نے پیسے ادھار لے کر اس فنڈ کے آس میں اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کیے ہیں ان سے ذلیل ہورہے ہیں کیونکہ اتنی تو ان کی تنخواہ ہی نہیں ہے کہ اس تنخواہ سے وہ قرض کی رقم چکا سکیں لیکن ان بابؤوں کو اس سے کیا وہ تو رشوت کے پیسوں سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں کوئی لاکھوں میں تو کوئی کروڑوں میں کھیل رہا ہے کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کیا سرکاری محکموں میں بھی آڈٹ ہوتا ہے (حالانکہ میں جانتا ہوں کہ ہوتا ہے ) اگر ہوتا ہے تو وہ یہ سب نہیں دیکھتے ہوں گے یا وہ بھی بہتی گنگا ہاتھ دھوتے ہوں گے میری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ خدارا ان مزدوروں کے حال پر رحم کیجئےاور سالوں سے پینڈنگ پڑے کیس کلئیر کروائیےاور ادارہ کو چیک کرنے کا کوئی جدید نظام وضع کریں شادی تو شادی یہ بے ضمیر تو مزدور کو کفن دفن کے ملنے والوں پیسوں سے بھی نذرانہ وصول کرتے ہیں یہ سب باتیں میں بطور کالم نگار ہی نہیں کررہا میں خود ایک مل مزدور ہوں یہ سب میں بھگت چکا ہوں اور ابھی تک بھگت رہا ہوں اس ادارے میں بہت ساری ایسی خرابیاں ہیں جنہیں فوری درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزدور کی فلاح کے لیے بنایا گیا ادارہ صحیح معنوں میں مزدوروں کی فلاح کے لیے کام کر سکے

No comments:
Post a Comment