Tuesday, November 11, 2025

رب العالمین سے محبت کے کرشمے ( تحریر : مہر ہمیش گل )

 











اللّٰہ رب العالمین سے محبت کے کرشمے

مہر ہمیش گل


جب  انسان کو اللہ رب العالمین سے محبت ہو جاتی ہے تو انسان خود بخود نماز کا انتظار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو انتظار کرنے میں بھی روحانی سکون ملتا ہے۔ ہر محبت عنايت نہیں ہوتی لیکن جب انسان اللّٰہ رب العالمین سے محبت کرتا ہے تو اس انسان کی محبت عنايت بن جاتی ہے اس انسان کی دنیا جنت بن جاتی ہے۔      محبت اگر یقین کے ساتھ کی جائے تو زندگی میں عنایت ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو بات اس کی زندگی میں نا ممکن ہو جاتی ہے وہ عنايت بن کر اس  کے سامنے آ جاتی ہے۔ جب انسان دنیا کی ہر چیز سے تھک جاتا ہے۔ انسان جب  دنیا کی ہر چیز سے، انسانوں سے محبت کرتے ہوئے، انسانوں کے تلخ رویوں سے تھک جاتا ہے تو  بدلے میں نفرت  کے علاوہ کچھ نہیں ملتا انسان کی فطرت ہے کہ وہ انسانوں سے بہت سی اُمیدیں لگا لیتا ہے اور پھر انسانوں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ جب  وہ انسان ہر دروازے سے ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ انسان کو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے اس کو اپنی زندگی ایک دلدل میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ جب اس کی زندگی میں روشنی کا نام و نشان نہیں ہوتا ہر طرف ذلت ہی ذلت ہوتی ہے ناکامیاں اس کا مقدر بنی ہوتی ہیں اور ایک  سوالی بن کر اللّٰہ رب العالمین کے دروازے پر آتا ہے تو جو مانگتا وہ ضرور ملتا ہے۔ جب اللّٰہ رب العالمین کا نام  اس کی زبان پر آتا ہے عنایت کے دروازے اس وقت ہی انسان پر کھل جاتے ہیں۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللّٰہ رب العالمین کا نام رکھے تو ہزاروں مُشکلیں اس کے سامنے سر جھکائیں گی۔ جب انسان کو اللّٰہ رب العالمین سے محبت ہوتی ہے تو انسان خود بخود نیک کام کرنا شروع ہو جاتا ہے اس کا جگہ جگہ سے نیک لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اسے نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ تو پھر جب وہ رب کے پاس آتا ہے۔ بے بس ہو کر انسانوں سے مجبور ہو کر تو پھر انسان انسانوں سے چھپ چھپ کر عبادت کرنا شروع ہو جاتا ہے۔ نمازیں قضاء نہیں کرتا پھر انسان کو انسانوں کی خود غرضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اللّٰہ رب العالمین اس کے ساتھ ہیں اسے پھر دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی اس کی محبت عشق کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس کو  اللّٰہ رب العالمین کی عبادت میں سکون آنا شروع ہو جاتا ہے  اور سکون کا سانس اسے تہجد میں ملتا ہے۔ جب وہ اندھیری راتوں میں اٹھ کر نہ گرمی دیکھتا ہے نہ سردی دیکھتا ہے، دنیا سے چپ کر وضو کرتا ہے۔ دنیا سے چھپ کر تہجد کی نمازیں پڑھتا ہے اس کو  پھر دنیا کی رونقوں سے فرق نہیں پڑتا وہ پھر ہر حال میں رب کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جاتا ہے۔ پھر اسے دکھ، دکھ،  نہیں لگتا اس کی زبان پر شکر الحمدللہ کی تسبیح کا ورد ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے اللّٰہ رب العالمین  کے بہت قریب ہو چکا ہوتا ہے۔ تہجد کی نمازوں کے لیے اسے اللّٰہ رب العالمین چنتا ہے اور پھر جب وہ ہاتھ اٹھا کر اللّٰہ سے دعا مانگتا ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العالمین وہ دعا پوری نہ کرے اور اللّٰہ رب العالمین عنايت نہ کریں قدم قدم پر ایک نئی عنايت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کو  زندگی حسین لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہر چیز میں ایک نیا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی زندگی میں روشنی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور جو اندھیرے اس کی زندگی میں تھے جن  اندھیروں  کو دیکھ کر وہ انسان ڈر جاتا تھا۔ آج اس کو ان اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا۔ آج وہ انسان بہانے تلاش کرتا ہے کہ کئی آندھیرا ہو اور وہ اپنے اللّٰہ رب العالمین  کے قریب ہو سکے اور اپنی عبادت میں مشغول ہو سکے۔

No comments:

Post a Comment