Thursday, November 6, 2025

آخری ٹرین ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا








 *عنوان : آخری ٹرین*


*مہر ہمیش گل* 


پلیٹ فارم پر ہوا چل رہی تھی اور ساتھ ساتھ بارش بھی، وہ روز کی طرح آج بھی کتابوں والی دوکان میں بٹھ کر کتاب پڑھ رہا تھا۔ اور کتاب کے آخری صفحے میں رکھے خط کو پڑہ رہا تھا۔جس کی کچھ سطر یہ تھی۔ میرا انتظار کیجئے گا۔ میں آپ کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ آپ جب میرے ساتھ ہوتے ہیں تو مجھے دُنیا حسین لگتی ہے۔ آپ کے ساتھ ہونے سے مجھے کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مجھے آپ سے نہیں آپ کی روح سے محبت ہے۔ آپ جب پاس ہوں، میرے ساتھ ہوں، مجھے زمانے کا کوئی درد کمزور نہیں کر سکتا۔ آپ بہت قیمتی ہیں میرے لیے۔ میں وآپس ضرور آؤ گی میرا سفر آخری ٹرین پر ختم ہو گا۔ اور آخری ٹرین میں ملوں گی۔ احتشام شاہ کی آنکھیں آنسو سے بھر گئی اور اپنے آپ سے سوال کرنے لگا کہ اتنے سال گزر گئے انتظار میں کیا مہروش شاہ کو میں ایک بار بھی یاد نہیں آیا؟ کیا مہروش شاہ صرف مجھ سے انتظار ہی کروانا چاہتی تھی۔ روز کی طرح احتشام شاہ انتظار کرنے کے بعد وآپس چلے جاتے اور کتابوں سے دل کو بہلا لیتے۔ احتشام شاہ اج جب ٹرین کا انتظار کر رہا تھا، تو آنکھ لگ گئی اور نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ کان کے قریب آہستہ آہستہ مہروش شاہ احتشام شاہ کو پکار رہی تھی، احتشام اٹھیں آپ کی مہروش شاہ اں گئی ہے۔احتشام شاہ اچانک سے اٹھ کر بیٹھ گیا، اور دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ احتشام شاہ کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ صرف ایک خواب تھا۔ جسے احتشام شاہ نے اب تک ایک حقیقت سمجھا، احتشام شاہ نے واپس پلٹ جانا ہی مناسب سمجھا۔ اور زندگی میں آگے بڑھ جانا۔

No comments:

Post a Comment