اجتناب
از قلم: مہر ہمیش گل
سمیٹ لو اُنہیں اپنے آنگن میں
یہ آزاد پرندے ہیں،
انہیں آزاد رہنے دو۔
یہ خواب ہیں
خوابوں کو پورا ہونے دو،
اُنہیں تعبیر کے شکنجے میں مت جکڑو۔
یہ آنکھیں دغا باز ہیں
جو کبھی خواب بنتی ہیں،
کبھی وفا کی تحریر،
اور کبھی دھوکے کی تصویر
اُنہیں لوگوں کے شور سے دور رہنے دو۔
جہاں لفظ میٹھے ہوں مگر نیتیں کڑوی،
جہاں مسکراہٹیں چہروں پر ہوں، دلوں میں نہیں
ان لوگوں سے دور رہنے دو
اُن سے اجتناب،
اجتناب،
اجتناب
اپنے دل کی سنو،
جو تمہاری روح کو سکون دے،
جو تمہیں ٹوٹنے سے بچا لے۔
جو تمہیں بکھیرے،
اُس سے فاصلہ رکھو،
اُس سے اجتناب کرو۔
یہ خواب تمہارے ہیں،
انہیں قید مت کرو،
انہیں اُڑنے دو
ہوا کے دوش پر،
دعا کے لمس میں،
آزادی کی خوشبو میں۔
یہ آنکھیں جو خواب دیکھتی ہیں،
اُن کی چمک برقرار رہنے دو،
کہ یہی چمک
زندگی کا آخری یقین ہے۔
سکون ہے، بہار ہے۔
کہ جتنا ہوسکے لوگوں سے
اجتناب کرو
اجتناب، اجتناب ، اجتناب۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment