*نام: مہر ہمیش گل*
*شہر: سرگودھا*
*عنوان نمبر: 3 وقت کی سہیلی*
حوادثِ ازمن کا اژدہام اس قدر گھمبیر ہے کہ یہ انسان کو ذرا سی بھی مہلت نہیں دیتا، بس انسان اک مشین کی مانند تسلسل سے اوامر کی ادائی میں چلتا رہتا ہے، لیکن ذہنی دباؤ اور اندرونی گھٹن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر اسے اچھے لمحات اور اچھے اشخاص کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وقت بہتر بنا لیا جائے تو پھر انسان خوش و خرم زندگی کو جیتا ہے، ۔ جب وقت گزر جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا، اسی کا تذکرہ رب العالمین اپنے پاک کلام میں کرتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں حکم نہ ماننے کو سزا دیں گے تو وہ خواہش کریں گے کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے، ہم وقت کی قدر کریں گے اور اچھے کام کریں گے، مگر جو گزر چکا ہے وقت وہ دوبارہ نہیں آ سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں وہ انسان بہت کامیاب ہوتے ہیں جو وقت کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ زندگی کی ہر دوڑ میں کامیابی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ جو وقت کو ضائع کرتے ہیں وہ ہر دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جو انسان اپنی زندگی میں یہ سیکھ لے کہ وقت کیسے گزارنا ہے؟ اس کے لیے نہ صرف زندگی آسان ہو جاتی ہے، بل کہ کامیابی قدم چومتی ہے۔ کوئی بھی انسان ناکام نہیں ہوتا اسے وقت اور حالات کے ساتھ لڑنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ ہر درد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کیا جو لوگ کامیاب ہیں ان کے پاس وقت زیادہ ہے؟ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں ؟ نہیں جو آپ آپ کے پاس وقت ہے ان کے پاس بھی وہی وقت ہے۔ وہ اپنی محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ وقت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ آپ میں بھی وہ انسان موجود ہے، آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وقت کو بھی وقت دینا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کی سہیلی آپ کی اپنی دوست ہوتی ہے۔ جو ہر مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیتی ہے۔ پر جسے ایک جگہ وقت نہیں رک سکتا وقت کی سہیلی آپ کی دوست بھی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ آپ کی زندگی میں ہمیشہ ساتھ رہنے والی سہیلی آپ کا خاندان، آپ کا سسرال، آپ کی بھابیاں ہیں جو آپ کی زندگی کی اصل سہیلیاں ہیں اور ان کے ساتھ ہی آپ نے اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

No comments:
Post a Comment