غزل
کون سورج کی طرح سامنے آیا ہوا ہے
جو مرے قد کے برابر مرا سایہ ہوا ہے
پھر کوئی بوجھ بھی لگتا نہیں بھاری اس کو
جس نے بیٹے کے جنازے کو اُٹھایا ہوا ہے
لوٹ آئیں گے کسی روز تمہیں ساتھ لیے
کچھ دعاؤں کے پرندوں کو اڑایا ہوا ہے
تم مرے دوست ہو تم تو کسی سُر میں گاؤ
ورنہ بے ڈھب مجھے دنیا نے بھی گایا ہوا ہے
ایسے خیرات کی تصویر بنانے والے
کوئی کاسے میں انا ڈال کے لایا ہوا ہے
باز آتی ہی نہ تھیں خواب ترے دیکھنے سے
میں نے آنکھوں کو اسی ضد میں جگایا ہوا ہے
یہ بھی کہتے ہو تمہیں پیار سے دیکھے اکمل
اور دشمن کو بھی پہلو میں بٹھایا ہوا ہے
اکمل حنیف ، لاہور پاکستان
شعری مجموعہ: ردِعمل
کلام : 09

No comments:
Post a Comment