Friday, November 28, 2025

غزل ( شاعر : گردیال روشن ) گرمکھی لیپی انتر : امرجیت سنگھ جیت

 











ਪੰਜਾਬੀ ਗ਼ਜ਼ਲ ਦੇ ਮਾਣਮੱਤੇ ਹਸਤਾਖ਼ਰ, ਪ੍ਰੋੜ੍ਹ ਤੇ ਉਸਤਾਦ ਗ਼ਜ਼ਲਗੋ ਜਨਾਬ ਗੁਰਦਿਆਲ ਰੋਸ਼ਨ ਹੁਰਾਂ ਦੀ ਇਕ ਗ਼ਜ਼ਲ: 


ਰਾਹਾਂ  'ਚ  ਵਿਛਿਆ  ਖ਼ੂਨ  ਤੇ  ਗ਼ਮਜ਼ਦ ਕਹਾਣੀਆਂ।

ਭੁੱਲੇ    ਨਾ   ਕਾਲ਼ਾ   ਦੌਰ   ਤੇ   ਸਾਂਝਾਂ   ਪੁਰਾਣੀਆਂ।

راہاں 'چ وچھیا خون تے غمزد کہانیاں۔

بُھلّے نہ کالا دَور تے سانجھاں  پُرانیاں۔ 


ਏਹੀ    ਮੇਰੇ    ਪੰਜਾਬ    ਨੂੰ      ਦਿੱਤਾ     ਆਜ਼ਾਦੀਏ,

ਤਵਿਆਂ 'ਤੇ  ਜਲ਼ੀਆਂ  ਰੋਟੀਆਂ, ਗੁਮਸੁਮ  ਮਧਾਣੀਆਂ।

ایہی  میرے   پنجاب  نوں   دِتا   آزادیئے،

تویاں 'تے جلیاں روٹیاں، گُمسُم مدھانیاں۔ 


ਵੱਢੇ    ਗਏ ,   ਲੁੱਟੇ    ਗਏ,   ਰਾਹਾਂ   'ਚ    ਕਾਫ਼ਿਲੇ,

ਸੂਹੇ   ਮੜ੍ਹਾਸੇ   ਬੰਨ੍ਹ   ਲਏ,  ਨਦੀਆਂ  ਦੇ   ਪਾਣੀਆਂ।

وڈّھے  گئے،   لُٹّے  گئے،    راہاں  'چ  قافِلے،

سوہے مڑھاسے بنھ لئے، ندیاں دے پانیاں۔ 


ਪੁੱਛੋ ਨਾ, ਜਲ਼ਿਆ ਹੋਰ ਕੀ,  ਨਫ਼ਰਤ  ਦੀ  ਅੱਗ  ਵਿਚ,

ਦਿੱਤੀ    ਅਹੂਤੀ    ਜਾਨ    ਦੀ,   ਲੱਖਾਂ    ਪ੍ਰਾਣੀਆਂ।

پُچھو نہ، جلیا ہور کی، نفرت دی اگّ وِچ،

دِتی  اہوتی  جان  دی،   لکّھاں   پرانیاں۔ 


ਉਹਨਾਂ  ਨੇ  ਖੂਹਾਂ   ਖ਼ਾਤਿਆਂ  ਵਿਚ  ਘਰ  ਬਣਾ  ਲਏ,

ਅਜ਼ਮਤ  ਬਚਾ ਸਕੀਆਂ ਨਾ ਜੋ, ਧੀਆਂ ਧਿਆਣੀਆਂ।

اُہناں نے  کُھوہاں  خاتیاں  وِچ گھر  بنا لئے،

عظمت بچا سکیاں نہ جو، دھیاں دھیانیاں۔ 


ਹਾਏ ਦਿਲਾ, ਲਾਸ਼ਾਂ ਨੂੰ  ਕੱਫ਼ਣ  ਵੀ  ਨਾ  ਮਿਲ  ਸਕੇ,

ਜਦ ਰਾਜਿਆਂ ਦੇ ਨਾਲ ਮਰ ਗਈਆਂ ਸੀ  ਰਾਣੀਆਂ।

ہائے دِلا، لاشاں نوں کفن وی نہ مِل سکے،

جد راجیاں دے نال مر گئیاں سی رانیاں۔ 


ਭੁੱਖੇ,   ਪਿਆਸੇ   ਰਹਿਣ   ਪਿੱਛੋਂ    ਬੋਟ    ਮਰ   ਗਏ,

ਛੱਤਾਂ 'ਚ ਹੋਈਆਂ ਕਤਲ ਜਦ ਚਿੜੀਆਂ ਨਿਤਾਣੀਆਂ।

بُھکّھے،   پیاسے رہن پِچھوں بوٹ مر گئے،

چھتاں 'چ ہوئیاں قتل جد چِڑیاں نتانیاں۔ 


ਦੋ    ਹਿੱਸਿਆਂ    ਵਿਚ    ਵੰਡਿਆ    ਪੰਜਾਬ,   ਕੂਕਦੈ,

ਸਾਂਈਆਂ,  ਲਿਆ  ਦੇ  ਮੋੜ  ਕੇ,  ਯਾਦਾਂ ਸੁਹਾਣੀਆਂ।

دو حِصّیاں  وِچ  ونڈیا  پنجاب،   کوکدے،

سائیاں،  لیا دے موڑ کے،  یاداں سُہانیاں۔ 


ਬਿਹਤਰ   ਹੈ,  ਬੀਤੇ   ਵਕਤ   ਦੇ  ਖੰਡਰ  ਫਰੋਲ  ਨਾ,

ਤੈਥੋਂ   ਕਥਾਵਾਂ  ਸਾਡੀਆਂ,  ਸੁਣੀਆਂ  ਨਾ   ਜਾਣੀਆਂ।

بہتر ہے،  بیتے  وقت دے  کھنڈر  پھرول نہ،

تیتھوں کتھاواں ساڈیاں،  سُنیاں نہ جانیاں۔ 


ਦਿੱਲੀ   ਤਾਂ   ਵੱਡੀ   ਭੈਣ   ਹੈ,  ਵਿਛੜੇ   ਲਾਹੌਰ   ਦੀ,

ਫਿਰ ਕਿਉਂ ਦਿਲਾਂ ਵਿਚ ਨਫ਼ਰਤਾਂ ਖ਼ਸਮਾਂ ਨੂੰ ਖਾਣੀਆਂ।

دِلّی  تاں  وڈّی  بھین  ہے،   وِچھڑے  لاہور  دی،

فِر کیوں دِلاں وِچ نفرتاں خصماں نوں کھانیاں۔ 


ਬਰਬਾਦੀਆਂ   ਵਿਚ   ਵਟਣਗੇ   ਮੀਲਾਂ  ਦੇ   ਫ਼ਾਸਲੇ,

ਇਸ ਵਕਤ  ਵੀ  ਜੇ  ਸੁਲਝੀਆਂ  ਸਾਥੋਂ  ਨਾ ਤਾਣੀਆਂ।

بربادیاں    وِچ    وٹنگے    میلاں   دے   فاصلے،

اِس وقت وی جے سُلجھیاں ساتھوں نہ تانیاں۔ 


ਉਹ  ਕੌਣ   ਸੀ,  ਜੋ   ਸਾਡਿਆਂ  ਖੂਹਾਂ  ਨੂੰ  ਲੈ  ਗਿਆ,

ਕਿੱਥੇ   ਅਸਾਡੇ    ਬੋਹਲ਼   ਨੇ , ਕਿੱਥੇ   ਨੇ   ਢਾਣੀਆਂ।

اوہ کَون سی،  جو ساڈیاں کُھوہاں نوں لَے گیا،

کِتھے  اساڈے  بوہل نے ،  کِتھے   نے   ڈھانیاں۔ 


ਜੋ   ਪਰਚਮਾਂ   ਦੇ    ਹੇਠ    ਹਨ    ਦਿਸਦੇ   ਚਬੂਤਰੇ,

ਇਹਨਾਂ   ਦੇ  ਹੇਠਾਂ  ਦਫ਼ਨ ਹਨ  ਚੀਕਾਂ ਨਿਆਣੀਆਂ।

جو پرچماں دے ہیٹھ ہن دِسدے چبوترے،

اُہناں دے ہیٹھاں دفن  ہن  چیکاں  نیانیاں۔ 


'ਰੌਸ਼ਨ'   ਮਨਾਵਾਂ  ਜਸ਼ਨ   ਮੈਂ,   ਸੰਭਵ   ਨਹੀਂ   ਅਜੇ,

ਰੋ   ਲੈਣ   ਦੇ   ਅੱਜ  ਰੱਜ   ਕੇ,  ਮੈਨੂੰ   ਤੂੰ  ਹਾਣੀਆਂ।

'روشن'   مناواں جشن میں،  سنبھو نہیں اجے،

رو لین  دے اجّ  رجّ  کے ،  مینوں   توں  ہانیاں۔



    ਸ਼ਾਇਰ : ਗੁਰਦਿਆਲ ਰੌਸ਼ਨ    

شاعر:گُردیال روشن

ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਲਿਪੀਅੰਤਰ: ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ              

شاہ مُکھی لپیآنتر:امرجیت سنگھ جیت         

Thursday, November 27, 2025

بے دردی ( سمر پال کؤر بٹھنڈا ) گرمکھی لیپی انتر : سلیم آفتاب سلیم

 ‎    










 (بےدردی)

‎دل توں اینج وساریا اُس نیں

‎مڑ نا مینوں وچاریا اس نیں

‎لگدا ذہن چوں کڈ دتا اے

‎فر نا مینوں چتاریا اُس نیں

‎بے دردی نوں درد نہیں ہویا

‎روح کولوں دُرکاریا اُس نیں

‎بےفکرے نیں فکر نا کیتا

‎ایسا سی پھٹکاریا اُس نیں

‎سینے دے وچ چوب جیہی پاؤندا

‎خورے کی اتاریا اس نیں

‎نین پیاسے دید اوہدی دے

‎ساویں بیٹھ نکاریا اُس نیں

‎عادت توں مجبور سی بھورا

‎مرجایا نہیں سویکاریا اُس نیں

‎لیکھک سمر پال کؤر بٹِھنڈا‎

پردھان بیانِ حرف ساہتک منچ پنجاب ریج

‎شاہ مُکھی انوادک اشتیاق انصاری

‎ਬੇਦਰਦੀ

‎ਦਿਲ ਤੋਂ ਇੰਝ ਵਿਸਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਮੁੜ ਨਾ ਮੈਨੂੰ ਵਿਚਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਲਗਦਾ ਜਿਹਨ ਚੋਂ ਕੱਢ ਦਿੱਤਾ ਏ ,

‎ਫਿਰ ਨਾ ਮੈਨੂੰ ਚਿਤਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਬੇਦਰਦੀ ਨੂੰ ਦਰਦ ਨਹੀਂ ਹੋਇਆ,

‎ਰੂਹ ਕੋਲੋਂ ਦੁਰਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਬੇਫ਼ਿਕਰੇ ਨੇ ਫ਼ਿਕਰ ਨਾ ਕਰਕੇ ।

‎ਐਸਾ ਸੀ ਫਿਟਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ,

‎ਸੀਨੇ ਦੇ ਵਿੱਚ ਚੋਭ ਜਿਹੀ ਪਾਉਂਦਾ ,

‎ਖ਼ੌਰੇ ਕੀ ਉਤਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਨੈਣ ਪਿਆਸੇ ਦੀਦ ਓਹਦੀ ਦੇ,

‎ਸਾਹਵੇਂ ਬੈਠ ਨਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਆਦਤ ਤੋਂ ਮਜਬੂਰ ਸੀ ਭੌਰਾ,

‎ਮੁਰਝਾਇਆ ਨਹੀਂ ਸਵੀਕਾਰਿਆ ਉਸਨੇ।

‎ਲੇਖਿਕਾ: ਸਿਮਰਪਾਲ ਕੌਰ ਬਠਿੰਡਾ 

‎ਪ੍ਰਧਾਨ: ਬਿਆਨ-ਏ-ਹਰਫ਼ ਸਾਹਿਤਕ ਮੰਚ ਪੰਜਾਬ (ਰਜਿ.)

Wednesday, November 26, 2025

عرقیات ( ان کے فوائد اور بنانے کا طریقہ )

 











عرقیات
  عرق دواؤں کے صاف و مقطر پانی کو کہتے ہیں جسے ادویہ کو قرع انبیق کے ذریعے جوش دینے کے بعد بخارات کی صورت میں اُڑا کر مقطر کر کے حاصل کر لیا گیا ہو۔
اصطلاحی طور پر عرق اُس صاف سیّال کو کہتے ہیں جو عمل تعریق کے ذریعہ بصورت تقطیر بھاپ کو منجمد کر لینے سے حاصل ہوتا ہے۔ عرقیات اپنی قوت و تاثیر کے لحاظ سے دیگر اشکال ادویہ کے مقابلہ میں زیادہ قوی التاثیر اور سریع النفوذ ہوتے ہیں ، کیونکہ اِس میں دواء کا جوہر اصلی یا جوہر فعال زیادہ مقدار میں موجود ہو
ایسراں توں کدے نئیں سئیں ہسیا - بوہتا نقصان تے نئیں ہو گیا ( اشتیاق حسین اثر دی دل موہ لین والی پنجابی شاعری )

عملِ تعریق میں عرق بنانے کے لیے دواء اور پانی کا تناسب

ادویہ کا عرق حاصل کرنے کے سلسلہ میں دواء اور پانی کے تناسب کی کافی اہمیت ہے۔ قرابادینوں میں اِس سلسلہ میں مختلف ہدایات دی گئی ہیں۔
(1) 60 گرام دواء سے اگر دو۲ لیٹر عرق حاصل کیا جائے تو وہ ضعیف الاثر ہوگا۔
(2) 150 گرام دواء میں اگر ایک لیٹر عرق حاصل کیا جائے تو یہ بہتر ہوگا۔
(3) 250 گرام دواء 4 لیٹر پانی میں شامل کر کے ۲ لیٹر عرق تیار کریں تو یہ سب سے اچھا ہوگا۔

اگر عرق حاصل کی جانے والی ادویہ میں دودھ بھی ہو تو اُس کودمِ صبح عرق نکالتے وقت شامل کریں یا اُس کا ماء الجبن تیار کر کے پھر شامل کریں۔
اگر عرق کے نسخہ میں مشک، عنبر اور زعفران جیسی خوشبو دار ادویہ شامل کرنی ہوں تو اُن کو پوٹلی میں باندھ کر ٹونٹی کے نیچے اِس طرح لٹکا دیں کہ عرق اِس پوٹلی پر قطرہ قطرہ ٹپکتا رہے اور پھر قابلہ میں مجتمع ہو جائے۔
اگر عرقیات کے نسخہ میں لکڑیاں ، بیج اور جڑیں شامل ہوں تو اُن کو نیم کوب کر کے عرق کشید کئے جانے والے برتن میں ڈالا جائے۔
عملِ تعریق کے مکمل ہونے کی علامت یہ ہے کہ آخر میں عرق بہت کم اور دیر سے آتا ہے اور پانی کے کھولنے کی آواز بھی کم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات عرق کی بُو بھی بدل جاتی ہے۔ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ دیگ کا پانی ختم ہو چکا ہے۔ دیگ میں چند کوڑیاں ڈال دی جاتی ہیں چنانچہ پانی کم ہو جانے کے بعد کوڑیاں بجنے لگتی ہیں جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پانی ختم ہو گیا۔

عرقیات کی افادیت
عرق مقدار، معیار، اور طبی اصولوں کے مطابق کشید کیا گیا ہو، تو بفضلہ انجیکشن سے پہلے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے.
معدہ کو عرق ہضم کرنے کے لیے محنت نہیں کرنا پڑتی بلکہ جلد ہی جسم کا حصہ بن کر شفا یابی سے ہمکنار کرتا ہے.
اگر عرقیات کو دیگر ادویات کے ساتھ بطور بدرقہ استعمال کیا جائے تو ادویات کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
شفا یابی کی مدت کم ہو جاتی ہے.

                 (عرق قلبی)
عرق گلاب سہ آتشہ
عرق سونف سہ آتشہ
برابر وزن مکس کر لیں
مقدار خوراک... 60 سے 90 ملی لیٹر تک دن میں دو سے تین بار
جواہر مہرہ کے ساتھ
یا دیگر ادویات معالج کی تجویز کردہ کے ساتھ.
فوائد... کولیسٹرول کو کنٹرول کر کے ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کو ٹھیک کر تا ہے. دل کی بند شریانوں کو 15 دن سے 3 ماہ کے عرصے میں کھول دیتا ہے. بائ پاس آپریش جیسی مہنگی سرجری سے بچاتا ہے
ساری زندگی دل کی ادویات کھانے سے بچاتا ہے.
معدہ کے افعال کو بہتر کر کے صحت کے اجڑے ہوئے گلشن کو نئ بہار دیتا ہے.
مابعد اثرات سے پاک ہے

عرق سونف
ایک کلو سونف سے 10 لیٹر عرق کشید شدہ معدہ کے اکثر امراض میں انتہائی مفید نتائج دیتا ہے
اکیلا عرق سونف ہی بعض مرتبہ بھاری بھر کم ادویات سے بازی لے جاتا ہے.
بدہضمی، متلی قے وغیرہ میں جوارش انارین کے ہمراہ
بار بار پاخانہ آنا اور قوام پتلا ہو جوارش انارین کے ساتھ
معدہ خرابی کی وجہ سے ریاح، پیشاب کی زیادتی، تبخیر، بھوک نہ لگنا، منہ کی بدبو، بواسیر بادی وغیرہ میں جوارش جالینوس کے ہمراہ
      
عرق گاؤزبان
ایک کلو گاؤزبان سے 10 لیٹر عرق کشید شدہ
خفقان، دماغی کمزوری، نظر کی کمزوری، سر درد، اور جگر کے امراض وغیرہ میں بھی بہترین نتائج کا حامل ہے.
دماغی امراض میں خمیرہ گاؤزبان
آنکھوں سے پانی وغیرہ کے آنے میں اطریفل کشنیز وغیرہ کے ہمراہ
بال گرنے کیلئے خمیرہ بادام وغیرہ مرگی کی ادویات کے ساتھ
جگر کی ادویات کے ساتھ وغیرہ
مقدار خوراک... 30 ملی لیٹر سے 60 ملی لیٹر دن میں 2 بار

عرق اجوائن
ایک کلو اجوائن سے 13 لیٹر کشید شدہ عرق
معدہ کی کمزوری، ملیریا بخار. درد شکم، گنٹھیا، جیسے امراض میں بہترین اثرات کا حامل ہے ان بیماریوں کی ادویات کے ساتھ استعمال کرانے سے نتائج اچھے ہو جاتے ہیں.
مقدار خوراک... 10 ملی لیٹر سے 30 ملی لیٹر آدھا کپ پانی ڈال کر استعمال کریں ۔

عرق کاسنی
ایک کلو تخم کاسنی سے 10 کلو کشید شدہ عرق
حرارت جگر، ورم جگر، ہیپاٹائٹس، ورم معدہ، وغیرہ جیسے امراض میں ایک نعمت ہے. حرارت جگر میں جوارش انارین،
انار کے رس، ورم معدہ میں ھلدی، سونف، ملٹھی کے مرکب کے ساتھ. خواتین کے ورم رحم میں عرق کاسنی، عرق مکو برابر مکس کر کے دیگر ادویات کے ساتھ.

عرق مکوہ
ایک کلو مکوہ سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق، ورم معدہ، ورم جگر، ورم رحم، استسقاء، جیسے امراض میں مستعمل ہے.
جوڑ درد میں جب ورم ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو دیگر ادویات کے ساتھ عرق مکو کا استعمال چند دن میں بفضلہ شفا یابی سے ہمکنار کرتا ہے  ورم رحم کیلئے تو زبردست نتائج کا حامل ہے
ورم رحم کی وجہ سے اگر حمل نہ ہو تو عرق مکوہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے

عرق پودینہ
ایک کلو جنگلی پودینہ سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق
متلی، قے، درد شکم، پیٹ میں گیس، پیٹ کے کیڑے، بدہضمی، پیٹ کا بڑھنا، پیشاب کا رک کر آنا، جیسے امراض کے لیے لاجواب ہے. امراض بالا کی ادویات کے ساتھ عرق پودینہ کا استعمال حیران کن نتائج دیتا ہے
بعض امراض میں خود معالج نتائج دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے
نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے چہرے کے دانوں کیلئے بہترین رزلٹ دیتا ہے

عرق چہار
سونف، پودینہ، اجوائن، پھول گلاب ایک ایک پاؤ۔ چاروں برابر وزن ایک کلو سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق
عرق چہار کو اپنی سمجھ کے مطابق جتنا وسیع استعمال کریں گے. اس کے شفائی اثرات آپ پر کھلتے جائیں گے
پیٹ کے اکثر امراض، جوڑ درد،گنٹھیا، نقرس، پرانے بخار، جیسے امراض کیلئے شفا بخش اثرات سے بھرپور ہے.
مریض کے حالات کے مطابق معالج استعمال کا مشورہ دے سکتا ہے
عرق چہار، عرق مکوہ، عرق کاسنی، برابر وزن مکس کر کے چائے کا ایک کپ دن میں تین سے پانچ بار تک
گنٹھیا جیسے امراض کا شافی علاج ہے جب ہم عرق بناتے تھے اس وقت ایک معالج ہم سے عرق لیتے تھے وہ گنٹھیا کے مریضوں کو پانی پینے سے روک کر یہی عرق استعمال کراتے تھے اور 95 فیصد کامیاب ہوتے تھے
              
عرق گل منڈی
ایک کلو پھول گل منڈی سے 10 لیٹر کشید شدہ
فوائد. مصفی خون ہے. جہاں بہت ساری ادویات ناکام ہو جاتی ہیں. وہاں عرق گل منڈی اکیلا ہی شفا یابی میں کردار ادا کرتا ہے. اور اگر عرق گل منڈی میں شربت عناب شامل کر کے استعمال کرایا جائے تو پھر مصفی خون کے حوالے سے چشمہ شفاء پھوٹ پڑتا ہے.
ضعف بصر، آنکھوں کا ہمیشہ خراب ہوتے رہنا کیلئے تو ایک معالج کیلئے اس سے بہتر کوئی دوا نہیں
خمیرہ گاؤ زبان، خمیرہ بادام وغیرہ کے ساتھ استعمال کرایا جائے تو آنکھوں کے بہت سارے مسائل حل کرنے میں کامیابی ملتی ہے
مقدار خوراک... 30 ملی لیٹر سے 50 ملی لیٹر دن میں 2 سے 3 بار امراض کو مدنظر رکھتے ہوئے

عرق مرکب
اجزاء... گلو. مکو. اجوائن. کاسنی. ہلیلہ. بلیلہ آملہ. ریوند چینی. سونف
تمام اجزاء برابر وزن 100- 100 گرام
ٹوٹل وزن 900 گرام سے 10 لیٹر کشید شدہ عرق
فوائد... جگر کی اکثر امراض میں جادو کا اثر رکھتا ہے.
ورم جگر، جگر کابڑہنا، یرقان کی تمام اقسام خاص طور پر یرقان اسود( ہیپاٹائٹس بی اور سی)میں کامیاب علاج ہے.
ورم جگر کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام اورام خاص طور پر ہاتھ، پاؤں، اور چہرے کے ورم کیلئے فائدہ مند ہے
کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ طب میـں ہیپاٹائٹس کا کامیاب علاج نہیں یا وہ معالجین جو خود بھی مایوس ہیں کہ ہیپاٹائٹس کا کامیاب علاج کیسے کریں. ان کو ذمہ داری سے بتانا چاہتا ہوں.

آپ میرے بتائے  ہوئے طریقے کے مطابق ہیپاٹائٹس کا علاج کریں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ان شا ء اللہ 95 فیصد سے
زیادہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی

1.... دواء الکبد
نسخہ... ریوند خطائ 50 گرام ، قلمی شورہ اصلی 10 گرام. نوشادر ٹھیکری 10 گرام. مرچ سیاہ 10 گرام. بالچھڑ اصل 10 گرام. تیز پات 10 گرام سب کو ہاون دستہ میں کوٹ کر چھان کر (گرینڈر سے نہیں) دوا تیار کریں
مقدار خوراک... 500 ملی گرام سے 1000 ملی گرام تک (آدھا گرام سے ایک گرام) دن میں دو بار ، عرق مرکب 30 سے 50 ملی لیٹر

شربت دینار 25 ملی لیٹر
سادہ پانی 50 ملی لیٹر مکس کر کے دواءالکبد کھانے سے 30 منٹ پہلے استعمال کرائیں
کھانے کے 30 منٹ بعد خالص ھلدی کا فل ساۂز ایک ایک کیپسول سرکہ انگوری خالص ایک چمچ آدھا گلاس پانی سے صبح و شام۔

اگر جگر سکڑ رہا ہو تو پھر دھمانسہ کا 500 ملی گرام کا ایک ایک کیپسول بھی کھانا کھانے کے 30 منٹ بعد استعمال کرائیں
اس سادہ سے طریقہ سے آپ ہیپاٹائٹس کے کامیاب معالج بن سکتے ہیں۔
علامات کے مطابق معالج ادویات میں کمی بیشی کر سکتا ہے
مختصر اور سادہ سی ادویات آپ کو مایوس نہیں کریں گی.
ان شا ء اللہ۔ بس تمام معالج دوستوں سے دعا کی درخواست

عرق مقوی طاقت کے لیے
فوائد... اعضائے رئیسہ اور اعصابی طاقت کیلئے بہترین ٹانک ہے. شوگر سے ہونے والی کمزوریوں کیلئے بہترین مرکب ہے. خون کی کمی کو پورا کرتا ہے. عمر رسیدہ (قابل احترام) بزرگوں کے لیے لا جواب ہے
معالج اجزاء کو دیکھ کر مختلف علامات میں استعمال کرا سکتا ہے ۔
اجزاء... لونگ 30 گرام... دارچینی 30 گرام... جائفل 30 گرام... چوب چینی 50 گرام... الائچی خورد 20 گرام... الائچی کلاں 30 گرام... صندل سفید 20 گرام... تیز پات 20 گرام... بالچھڑ 20 گرام برگ ریحان تازہ 200 گرام... ابریشم (باریک کاٹا ہوا) 200 گرام... نرم چھلکا (پوست) کیکر 200 گرام... نرم چھلکا (پوست) 200 گرام، گوشت کبوتر (جنگلی ہو تو زیادہ اچھا ہے) آدھا کلو
گوشت گردن بکرا دیسی قیمہ ایک کلو
زعفران 5 گرام
گوشت اور زعفران کے علاوہ سب ادویات کو 15 لیٹر اچھے پانی میں 12 گھنٹے کے لئے بھگو دیں
پھر گوشت ڈال کر زعفران کو ٹونٹی کے منہ پر باندھ کر 10 لیٹر عرق کشید کریں
کشید شدہ عرق میں 3 لیٹر عرق گلاب سہ آتشہ مکس کر لیں
مقدار خوراک... 15 ملی لیٹر سے 30 ملی لیٹر تک دن میں 2 بار
دودھ. وغیرہ میں ڈال کر

عرق امرت
اجزاء... گلو تازہ، چرائتہ، شاہترہ، نیم کی اندرونی چھال، پوست بندق ہندی (ریٹھے کا چھلکا) سب برابر وزن. دو دو سو گرام
12 لیٹر کشید شدہ عرق
فوائد... سردرد دائمی، بدہضمی، دردِ شکم، اپھارہ، درد گردہ، آتشک، کنٹھ مالا، بھگندر، ناسور، داد، چنبل، کھجلی، برص، بخار، گھی دودھ کا ہضم نہ ہونا. وغیرہ امراض میں مریض کی حالت کو دیکھ کر 5 ملی لیٹر سے 15 ملی لیٹر تک تازہ پانی مناسب. مقدار میں شامل کر کے استعمال کرائیں
ضعف دماغ، کمزوری بدن، کمی خون، مرگی، بواسیر بادی، افیون، بھنگ، ہیروئین، شراب کی عادت چھڑانے کے لیے.
20 سے 25 ملی لیٹر دن میں 2 بار
مکھن اور بالائی کا ساتھ مناسب مقدار میں استعمال کرائیں
بواسیر، خونی دست، ضعف جگر یرقان، ورم طحال، دل کی تیز دھڑکن، پیٹ کے کیڑے وغیرہ کے لئے 20 سے 25 ملی لیٹر دن میں 2 سے 3 بار
گائے کا دھی اور لسی مناسب مقدار میں ساتھ استعمال کرائیں
باؤ گولہ، وجع المفاصل، درد پسلی وغیرہ میں 20 ملی لیٹر گرم پانی شا مل کر کے استعمال کرائیں
بلغمی کھانسی، بلغمی دمہ کیلئے 20 سے 30 ملی لیٹر عرق مناسب مقدار میں سادہ پانی اور ایک چمچ شہد شامل کر کے استعمال کرائیں
سوزاک، قرحہ، سل، خون کی قے وغیرہ میں 20 سے 25 ملی لیٹر استعمال کرائیں
بکری کا دودھ دستیاب ہو تو اس میں مناسب مقدار سادہ پانی شامل کر کے استعمال کرائیں
آنکھوں کی بہت سی امراض، پانی جانا، دھند، جالا، پھولا، ککرے، کھجلی، سرخی، گندہ پن وغیرہ میں بھی اچھے فوائد حاصل ہوتے ہیں.
نوٹ.... عرق امرت کا نسخہ کنزالمجربات جلد 3 صفحہ 796
(مصنف استادالحکماء حکیم محمد عبداللہ رحمت اللہ علیہ) امرت لتا گولیوں کا نسخہ ہے. جس کو ہم نے بشکل عرق تیار کر کے وسیع فوائد سمیٹے. اگر معالج گولیوں اور عرق کو ایک ساتھ استعمال کرائیں تو فوائد کثیر حاصل ہوتے ہیں.
ایک ہی نسخہ کے بہت زیادہ فوائد کو دیکھ کر مبالغہ نہ سمجھا جائے
بلکہ تجربہ کر کے اکا برین حکمت کی محنت اور کوشش کی داد دی جائے اور ان کیلئے دعا کی جائے
اس عرق کو بنا لینے کے بعد آپ کو بہت ساری ادویات کیلئے ایک ہی بدرقہ دستیاب ہو جائے گا.
✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، جو اظہار کیا گیا ہے تشخیص و تجویز علاج معالج کا بدل نہیں، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔

Tuesday, November 25, 2025

پنجابی غزل : رمز کنائے دی موت تے زوال دا بھلیکھا ( تحریر : عمران سحر )















 پنجابی غزل: رمز کنائے دی موت تے زوال دا بھلیکھا

​شاعری دا اصل سروُپ ہر حال وچ سِدھی سٹیٹمنٹ، نعرے بازی یا سادہ بیان توں مُکت ہوندا اے۔ اِیہہ سچائی کِسے وی زبان دے اُستاد شاعر لئی حتمی حیثیت رکھدی اے۔ شاعری دا ناں تے رمز، کنائے تے استعارے نال جُڑیا ہویا اے۔ اِیہہ نویاں ترکیباں دی ایجاد، خیال دی کوملتا، تے لفظاں دی چُپ وچ لکے معنیاں دا ناں اے۔

​پر افسوس کہ جدید پنجابی غزل اپنی اِیہہ فطری سَمت چھڈّ کے ہور پاسے ٹُر پئی اے۔ اِیہو کارن اے کہ ہر پاسے ایہہ آواز سُنن نوں مِلدی اے کہ پنجابی غزل زوال دا شکار اے۔ مسئلہ غزل دی صنف وچ نہیں، مسئلہ اس نوں لکھن تے پڑھن والے دے ذوق دی تبدیلی وچ اے۔

​غزل وچوں مَکھن دا مُک جانا

​جدوں اسیں پنجابی غزل دی اِیہہ نُقص والی حالت ویکھدے آں، تے مُکھ طور تے ہیٹھ لکھیاں تبدیلیاں نظر آؤندیاں نیں:

​1. خیال دی پدھر: سِدھا سِدھا بیان

​کلاسک غزل عشق دی رمزیت، رُوحانی تجربے دی گہرائی، یا حیات دے فلسفیانہ مُعاملاں نوں لُکا کے بیان کردی سی۔ جِتھے پرانے شاعر 'ہجر' دی کیفیت نوں 'اُداس پیلیاں دے پُچھن ہار پکھیرو' دے استعارے وچ بیان کردے سن، اُتھے اج دے شاعر اوہو گل بنا کِسے جمالیاتی پردے دے، سِدھی سِدھی کہہ دیندے نیں۔ سِدھی گل سُخن  ہو سکدی اے، شاعری نہیں۔

2. فنی کَمتری: نویاں ترکیباں دا فقدان

​شاعری دی جان نویاں ترکیباں وچ ہوندی اے۔ میر، غالب یا وارث شاہ ورگے شاعر لفظاں نوں نِت نویں روپ بخشدے سن۔ 'دُکھاں دی داس'، 'یاداں دے دیوے'، 'پیڑ دا سجدہ' ورگیاں انوکھیاں ترکیباں ہُن گھٹ ای نظر آؤندیاں نیں۔ اج دے شاعر نوں عام تے رَٹیاں رٹائیاں ترکیباں ورتن وچ آسانی لگدی اے، جیہڑی غزل دی رَوح تے تازگی نوں ختم کر دیندی اے۔

​3. نعرے بازی تے جذبات دا غلبہ

​جِتھے کِتے غزل سماجی یا سیاسی شعور دی گل کردی اے، اُتھے وی اوہ رمز دی تھاں سِدھا نعرہ بن جاندی اے۔ جذبات دی شدت نوں فکر دی گہرائی نال متوازن کرن دی تھاں، صرف اُچی آواز وچ  گلاں کیتیاں جاندیاں نیں۔ ایہو جہے بیان وقتی تاثر تے داد تے لے لیندے نیں، پر فنی پدھر تے غزل نوں کمزور کر دیندے نیں۔

​زوال نہیں، ذوق دی تبدیلی اے

​پنجابی غزل دے 'زوال' دا الزام صرف شاعراں تے لانا ناصحیح ہووے گا۔ اِیہہ دراصل ساریاں ساہت نال جُڑیاں طاقتاں دی سانجھی غلطی اے۔

​فوری مشہوری دی طلب: سوشل میڈیا تے مشاعریاں دے بدل دے ماحول نے شاعر نوں مجبور کیتا اے کہ اوہ اوہو کُجھ لکھے جیہڑا فوری داد لے سکے۔ گہری رمز والی شاعری نوں سمجھن وچ وَقت لگدا اے، جیہڑا اج دے دور وچ کِسے کول نہیں۔

​ناقد دا فَرْض: پنجابی دے نقاد نے کَمتَر سُخن تے گُفتگُو کرنا تے اُس نوں ردّ کرنا گھٹ کر دِتا اے۔ جدوں ہر کَمزور شاعری دی تعریف ہووے گی، تے معیار دی پہچان ختم ہو جاوے گی۔

اِیہہ جاننا ضروری اے کہ پنجابی غزل مری نہیں، بلکہ ایہدا سچا روپ اوہناں گُمنام شاعراں یا ادبی حِلقیاں وچ زندہ اے جیہڑے مشہوری دی دوڑ توں دُور، صرف سچے سُخن دی پَرکھ رکھدے نیں۔ جے اسیں رمز، کنائے، تے کوملتا نوں مُڑ توں غزل دی کُنجی سمجھ لئیے، تے ایہہ زوال دا بھلیکھا آپے ٹُٹ جاوے گا۔

​غزل دے اصلی معیار نوں بحال کرن لئی، ادبی حِلقیاں وچ نویں 'صوفیانہ' تے 'فکری' رجحانات دی حوصلہ افزائی کرنا ضروری اے۔


عمران سحر


Sunday, November 23, 2025

وقت کی سہیلی ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا













 *نام: مہر ہمیش گل*

*شہر: سرگودھا*


*عنوان نمبر: 3 وقت کی سہیلی*




حوادثِ ازمن کا اژدہام اس قدر گھمبیر ہے کہ یہ انسان کو ذرا سی بھی مہلت نہیں دیتا، بس انسان اک مشین کی مانند تسلسل سے اوامر کی ادائی میں چلتا رہتا ہے، لیکن ذہنی دباؤ اور اندرونی گھٹن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر اسے اچھے لمحات اور اچھے اشخاص کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وقت بہتر بنا لیا جائے تو پھر انسان خوش و خرم زندگی کو جیتا ہے، ۔  جب وقت گزر جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا، اسی کا تذکرہ رب العالمین اپنے پاک کلام میں کرتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں حکم نہ ماننے کو سزا دیں گے تو وہ خواہش کریں گے کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے، ہم وقت کی قدر کریں گے اور اچھے کام کریں گے، مگر جو گزر چکا ہے وقت وہ دوبارہ نہیں آ سکتا۔


                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


زندگی میں وہ انسان بہت کامیاب ہوتے ہیں جو وقت کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ زندگی کی ہر دوڑ  میں کامیابی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ جو وقت کو ضائع کرتے ہیں وہ ہر دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جو انسان اپنی زندگی میں یہ سیکھ لے کہ وقت کیسے گزارنا ہے؟ اس کے لیے نہ صرف زندگی آسان ہو جاتی ہے، بل کہ کامیابی قدم چومتی ہے۔ کوئی بھی انسان  ناکام نہیں ہوتا اسے وقت اور حالات کے ساتھ  لڑنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ ہر درد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔  کیا جو لوگ کامیاب ہیں ان کے پاس وقت زیادہ ہے؟ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں ؟ نہیں جو آپ آپ کے پاس وقت ہے ان کے پاس بھی وہی وقت ہے۔ وہ اپنی  محنت پر  یقین رکھتے ہیں۔ وہ وقت پر  بھروسہ  کرتے ہیں۔ آپ میں بھی وہ انسان موجود ہے، آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وقت کو بھی وقت دینا ہوگا۔


                            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وقت کی سہیلی آپ کی اپنی دوست ہوتی ہے۔ جو ہر مشکل وقت میں آپ کا  ساتھ دیتی  ہے۔ پر جسے ایک جگہ وقت نہیں رک سکتا وقت کی سہیلی آپ کی دوست بھی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ آپ کی زندگی میں ہمیشہ ساتھ رہنے والی سہیلی آپ کا خاندان، آپ کا سسرال، آپ کی بھابیاں ہیں جو آپ کی زندگی کی اصل سہیلیاں ہیں اور ان کے ساتھ ہی آپ نے اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

خشک میوہ جات ، دارچینی اور سرسوں کا ساگ کینسر میں بھی مفید

 خشک میوہ جات ، دار چینی اور سرسوں کا ساگ کینسر میں بھی مفید 


محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان  کے ایک کالم سے اقتباس : بین الاقوامی کینسر کے علاج کی دوائیں بنانے والے کبھی یہ نہیں بتاتے کہ کینسر محض وٹامن B-17کی کمی کا نام ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے ٹانک بنانا ممنوع ہیں جو B-17فراہم کرتے ہوں۔ اللہ پاک نے بادام میں B-17کی اچھی مقدار رکھی ہے۔ اگر آپ روزانہ بادام کے 7,6دانے کھالیں تو B-17کی کمی کی بیماری نہیں ہوتی ہے۔ بادام کھائیے اور کینسر سے محفوظ رہئے۔(2)چقندر، گاجر، سیب اور ایک لیموں کا عرق اگر صبح شام آپ استعمال کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو کینسر سے نجات دلاتا ہے اور محفوظ بھی رکھتا ہے۔(3)کریلے کے تین چار چھلے کاٹیں، کپ میں ڈال کر گرم پانی اس پر ڈالیں، چند منٹ رہنے دیں اور پھر یہ پانی دو تین مرتبہ پی لیں، ان شاء اللہ کینسر کے سیل ختم ہو جائیں گے۔(4)ناریل (کھوپرا) کے چند باریک ٹکڑے کاٹیں اور اس پر گرم پانی ڈال دیں۔ کچھ وقت کے بعد پانی سفید ہو جائے گا، اس کے پینے سے کینسر کے سیل ختم ہوجاتے ہیں۔(5)ایک لیموں لے کر اس کا عرق نکالیں۔ اس میں نیم گرم پانی ڈالیں، اگر شوگر کی بیماری نہیں ہے تو اس میں شہد ملا کر تین مرتبہ دن میں استعمال کریں۔ ان شاء اللہ آرام ملے گا۔(6)سرسوں کا ساگ کھانے سے کینسر کا خطرہ نہیں رہتا۔(7)تحقیق کے مطابق مختلف اقسام کے کینسر سے بچنے کیلئے درج ذیل اشیا کا استعمال بھی مفید پایا گیا ہے۔ بروکلی، گاجر، پھلیاں لوبیا، بیریز، دارچینی، خشک میوہ جات یعنی بادام، مغز، اخروٹ کی گری وغیرہ، روغن زیتون، ہلدی، سٹرس فروٹ، اَلسی کے بیج، ٹماٹر وغیرہ۔

Friday, November 21, 2025

پنجابی غزل ( شاعرہ کلوندر کنول ) شاہ مکھی لیپی انتر : امرجیت سنگھ جیت

 













ਪੰਜਾਬੀ ਸਾਹਿਤ ਦੀ ਨਾਮਵਰ ਸ਼ਾਇਰਾ ਕੁਲਵਿੰਦਰ ਕੰਵਲ ਹੁਰਾਂ ਦੀ ਇਕ ਗ਼ਜ਼ਲ: 


ਜ਼ਰਾ ਵੀ ਫ਼ਰਕ ਨਈਂ ਹੁੰਦਾ, ਮੁਹੱਬਤ ਤੇ ਇਬਾਦਤ ਵਿਚ। 

ਬੜਾ ਨਜ਼ਦੀਕ  ਦਾ ਰਿਸ਼ਤਾ ਹੈ, ਨੇਕੀ ਤੇ ਸ਼ਰਾਫਤ ਵਿਚ।

ذرا وی فرق نئیں ہندا، محبت تے عبادت وِچ۔

بڑا  نزدیک دا رِشتہ ہے، نیکی تے شرافت وِچ۔ 


ਤੇਰੀ  ਮੁਸਕਾਨ  ਕੀਤੇ  ਨੇ,  ਬੜੇ   ਚੰਗੇ   ਭਲੇ, ਪਾਗਲ, 

ਬਥੇਰੇ  ਲੋਕ  ਨੇ  ਉਲਝੇ,  ਨਿਗਾਹਾਂ ਦੀ ਇਬਾਰਤ ਵਿਚ। 

تیری مُسکان کیتے نے،  بڑے چنگے بھلے، پاگل،

بتھیرے لوک نے اُلجھے،  نگاہاں دی عبارت وِچ۔ 


ਐ ਨੀਂਦਰ ! ਆ ਵੀ ਜਾ ਛੇਤੀ, ਕਿਸੇ ਖ਼ਾਬਾਂ 'ਚ ਹੈ ਆਉਣਾ,

ਅਜੇ ਦਿਲ ਨੂੰ ਵਿਛਾਉਣਾ ਹੈ, ਅਸਾਂ ਉਸ ਦੇ ਸਵਾਗਤ ਵਿਚ। 

اَے نیندر  آ وی جا چھیتی، کِسے خواباں 'چ ہے آؤنا،

اجے دِل نوں وچھاؤنا ہے، اساں اُس دے سواگت وِچ۔ 


ਮਿਟਾ ਦੇ ਤੂੰ, ਖੁਦੀ  ਅਪਣੀ, ਮੁਹੱਬਤ ਵਿਚ  ਫਨਾਹ ਹੋ ਜਾ,

ਤੂੰ ਜ਼ਜ਼ਬਾ  ਵੇਖ  ਕਿੰਨਾ ਹੈ, ਜਿਉਂਦੇ ਜੀਅ  ਸ਼ਹਾਦਤ ਵਿਚ। 

مِٹا دے توں،  خودی  اپنی،  محبت  وِچ فنا ہو جا،

توں جذبہ ویکھ کِنّا ہے، جیوندے جی شہادت وِچ۔ 


ਤਜ਼ਰਬਾ ਮੇਚ  ਨ੍ਹੀਂ  ਆਉਂਦਾ, ਕਿਸੇ  ਦਾ  ਹੋਰ  ਨੂੰ  ਯਾਰੋ,

ਬੜਾ  ਕੁਝ  ਬੇਵਜ੍ਹਾ  ਹੁੰਦੈ, ਅਖਾਣਾਂ  ਤੇ  ਕਹਾਵਤ   ਵਿਚ।

تجربہ میچ  نہیں آؤندا ، کِسے دا ہور نوں یارو،

بڑا کُجھ بے وجہ ہندَے، اکھاناں تے کہاوت وِچ۔ 


ਸਿਖਾਉਂਦੇ  ਜਾਚ  ਜੀਵਨ ਦੀ, ਖਿੜੇ ਫੁੱਲ ਥੋਹਰ ਦੇ  ਉੱਤੇ, 

ਸਦਾ  ਹੀ ਮੁਸਕਰਾਉਂਦੇ ਨੇ ਉਹ ਨੋਕਾਂ ਦੀ ਹਿਫਾਜ਼ਤ ਵਿੱਚ।

سکھاؤندے جاچ جیون دی، کھڑے پُھلّ تھوہر دے اتے،

سدا  ہی  مُسکراؤندے  نے اوہ  نوکاں دی حِفاظت وِچّ۔ 


ਕਦੇ  ਬੱਚਾ  ਜਿਹਾ  ਬਣ ਕੇ,  ਖਿਲਾਰੀਂ  ਝੱਲ, ਖੁਸ਼  ਹੋਵੀਂ 

ਰਵੀਂ  ਨਾ ਉਲਝਿਆ ਐਵੇਂ ਹੀ, ਝੂਠੀ ਜਈ ਨਫ਼ਾਸਤ ਵਿਚ।

کدے  بچّا  جِہا بن کے،  کھلاریں  جھلّ، خوش ہوویں

رویں نہ اُلجھیا ایویں ہی، جھوٹھی جئی نفاست وِچ 


ਨ ਬਣ ਨਾਦਾਂ, ਸੰਭਲ ਐ ਦਿਲ, ਉਨੂੰ ਦਿਲ ਦੇਣ ਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ, 

ਯਕੀਂ ਉਸ ਦਾ ਹਮੇਸ਼ਾ ਹੀ ਰਿਹਾ, ਦਿਲ  ਦੀ  ਤਿਜ਼ਾਰਤ ਵਿਚ। 

نہ بن ناداں، سنبھل اَے دل،  اوہنوں دِل دین توں پہلاں،

یقیں   اُس  دا  ہمیشہ  ہی رہا ،   دِل  دی  تجارت   وِچ۔ 


ਕਿਸੇ  ਦੀ  ਅੱਖ  ਦਾ  ਤਾਰਾ  ਨ  ਬਣਦਾ ਹੁਸਨ  ਐਵੇਂ  ਹੀ,

ਬੜਾ  ਕੁਝ  ਹੋਰ  ਹੁੰਦਾ  ਹੈ, ਅਦਾਵਾਂ ਦੀ  ਨਜ਼ਾਕਤ  ਵਿਚ।

کِسے دی اکھّ دا تارہ نہ بندا حُسن ایویں ہی،

بڑا  کُجھ ہور  ہندا  ہے، اداواں دی نزاکت وِچ۔ 


'ਕੰਵਲ' ਪਾ  ਕੇ  ਕੁਠਾਲੀ  ਜਿਸ ਤਰਾਂ ਸੋਨਾ ਤਪਾੳਂਦੇ  ਹਾਂ,

ਮੁਹੱਬਤ  ਦੀ  ਡੂੰਘਾਈ  ਪਰਖ  ਹੁੰਦੀ  ਹੈ  ਮੁਸੀਬਤ  ਵਿੱਚ।

'کنول' پا کے کٹھالی جِس طرح سونا تپاندے ہاں،

محبت دی ڈونگھائی پرکھ ہندی ہے مُصیبت وِچّ۔ 


ਕੁਲਵਿੰਦਰ 'ਕੰਵਲ' 

کُلوِندر 'کنول'

ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਲਿਪੀਅੰਤਰ:ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ 

شاہ مُکھی لپیآنتر:امرجیت سنگھ جیت