Sunday, November 23, 2025

وقت کی سہیلی ( مہر ہمیش گل ) سرگودھا













 *نام: مہر ہمیش گل*

*شہر: سرگودھا*


*عنوان نمبر: 3 وقت کی سہیلی*




حوادثِ ازمن کا اژدہام اس قدر گھمبیر ہے کہ یہ انسان کو ذرا سی بھی مہلت نہیں دیتا، بس انسان اک مشین کی مانند تسلسل سے اوامر کی ادائی میں چلتا رہتا ہے، لیکن ذہنی دباؤ اور اندرونی گھٹن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر اسے اچھے لمحات اور اچھے اشخاص کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وقت بہتر بنا لیا جائے تو پھر انسان خوش و خرم زندگی کو جیتا ہے، ۔  جب وقت گزر جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا، اسی کا تذکرہ رب العالمین اپنے پاک کلام میں کرتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں حکم نہ ماننے کو سزا دیں گے تو وہ خواہش کریں گے کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے، ہم وقت کی قدر کریں گے اور اچھے کام کریں گے، مگر جو گزر چکا ہے وقت وہ دوبارہ نہیں آ سکتا۔


                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


زندگی میں وہ انسان بہت کامیاب ہوتے ہیں جو وقت کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ زندگی کی ہر دوڑ  میں کامیابی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ جو وقت کو ضائع کرتے ہیں وہ ہر دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جو انسان اپنی زندگی میں یہ سیکھ لے کہ وقت کیسے گزارنا ہے؟ اس کے لیے نہ صرف زندگی آسان ہو جاتی ہے، بل کہ کامیابی قدم چومتی ہے۔ کوئی بھی انسان  ناکام نہیں ہوتا اسے وقت اور حالات کے ساتھ  لڑنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ ہر درد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔  کیا جو لوگ کامیاب ہیں ان کے پاس وقت زیادہ ہے؟ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں ؟ نہیں جو آپ آپ کے پاس وقت ہے ان کے پاس بھی وہی وقت ہے۔ وہ اپنی  محنت پر  یقین رکھتے ہیں۔ وہ وقت پر  بھروسہ  کرتے ہیں۔ آپ میں بھی وہ انسان موجود ہے، آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وقت کو بھی وقت دینا ہوگا۔


                            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وقت کی سہیلی آپ کی اپنی دوست ہوتی ہے۔ جو ہر مشکل وقت میں آپ کا  ساتھ دیتی  ہے۔ پر جسے ایک جگہ وقت نہیں رک سکتا وقت کی سہیلی آپ کی دوست بھی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ آپ کی زندگی میں ہمیشہ ساتھ رہنے والی سہیلی آپ کا خاندان، آپ کا سسرال، آپ کی بھابیاں ہیں جو آپ کی زندگی کی اصل سہیلیاں ہیں اور ان کے ساتھ ہی آپ نے اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

خشک میوہ جات ، دارچینی اور سرسوں کا ساگ کینسر میں بھی مفید

 خشک میوہ جات ، دار چینی اور سرسوں کا ساگ کینسر میں بھی مفید 


محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان  کے ایک کالم سے اقتباس : بین الاقوامی کینسر کے علاج کی دوائیں بنانے والے کبھی یہ نہیں بتاتے کہ کینسر محض وٹامن B-17کی کمی کا نام ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے ٹانک بنانا ممنوع ہیں جو B-17فراہم کرتے ہوں۔ اللہ پاک نے بادام میں B-17کی اچھی مقدار رکھی ہے۔ اگر آپ روزانہ بادام کے 7,6دانے کھالیں تو B-17کی کمی کی بیماری نہیں ہوتی ہے۔ بادام کھائیے اور کینسر سے محفوظ رہئے۔(2)چقندر، گاجر، سیب اور ایک لیموں کا عرق اگر صبح شام آپ استعمال کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو کینسر سے نجات دلاتا ہے اور محفوظ بھی رکھتا ہے۔(3)کریلے کے تین چار چھلے کاٹیں، کپ میں ڈال کر گرم پانی اس پر ڈالیں، چند منٹ رہنے دیں اور پھر یہ پانی دو تین مرتبہ پی لیں، ان شاء اللہ کینسر کے سیل ختم ہو جائیں گے۔(4)ناریل (کھوپرا) کے چند باریک ٹکڑے کاٹیں اور اس پر گرم پانی ڈال دیں۔ کچھ وقت کے بعد پانی سفید ہو جائے گا، اس کے پینے سے کینسر کے سیل ختم ہوجاتے ہیں۔(5)ایک لیموں لے کر اس کا عرق نکالیں۔ اس میں نیم گرم پانی ڈالیں، اگر شوگر کی بیماری نہیں ہے تو اس میں شہد ملا کر تین مرتبہ دن میں استعمال کریں۔ ان شاء اللہ آرام ملے گا۔(6)سرسوں کا ساگ کھانے سے کینسر کا خطرہ نہیں رہتا۔(7)تحقیق کے مطابق مختلف اقسام کے کینسر سے بچنے کیلئے درج ذیل اشیا کا استعمال بھی مفید پایا گیا ہے۔ بروکلی، گاجر، پھلیاں لوبیا، بیریز، دارچینی، خشک میوہ جات یعنی بادام، مغز، اخروٹ کی گری وغیرہ، روغن زیتون، ہلدی، سٹرس فروٹ، اَلسی کے بیج، ٹماٹر وغیرہ۔

Friday, November 21, 2025

پنجابی غزل ( شاعرہ کلوندر کنول ) شاہ مکھی لیپی انتر : امرجیت سنگھ جیت

 













ਪੰਜਾਬੀ ਸਾਹਿਤ ਦੀ ਨਾਮਵਰ ਸ਼ਾਇਰਾ ਕੁਲਵਿੰਦਰ ਕੰਵਲ ਹੁਰਾਂ ਦੀ ਇਕ ਗ਼ਜ਼ਲ: 


ਜ਼ਰਾ ਵੀ ਫ਼ਰਕ ਨਈਂ ਹੁੰਦਾ, ਮੁਹੱਬਤ ਤੇ ਇਬਾਦਤ ਵਿਚ। 

ਬੜਾ ਨਜ਼ਦੀਕ  ਦਾ ਰਿਸ਼ਤਾ ਹੈ, ਨੇਕੀ ਤੇ ਸ਼ਰਾਫਤ ਵਿਚ।

ذرا وی فرق نئیں ہندا، محبت تے عبادت وِچ۔

بڑا  نزدیک دا رِشتہ ہے، نیکی تے شرافت وِچ۔ 


ਤੇਰੀ  ਮੁਸਕਾਨ  ਕੀਤੇ  ਨੇ,  ਬੜੇ   ਚੰਗੇ   ਭਲੇ, ਪਾਗਲ, 

ਬਥੇਰੇ  ਲੋਕ  ਨੇ  ਉਲਝੇ,  ਨਿਗਾਹਾਂ ਦੀ ਇਬਾਰਤ ਵਿਚ। 

تیری مُسکان کیتے نے،  بڑے چنگے بھلے، پاگل،

بتھیرے لوک نے اُلجھے،  نگاہاں دی عبارت وِچ۔ 


ਐ ਨੀਂਦਰ ! ਆ ਵੀ ਜਾ ਛੇਤੀ, ਕਿਸੇ ਖ਼ਾਬਾਂ 'ਚ ਹੈ ਆਉਣਾ,

ਅਜੇ ਦਿਲ ਨੂੰ ਵਿਛਾਉਣਾ ਹੈ, ਅਸਾਂ ਉਸ ਦੇ ਸਵਾਗਤ ਵਿਚ। 

اَے نیندر  آ وی جا چھیتی، کِسے خواباں 'چ ہے آؤنا،

اجے دِل نوں وچھاؤنا ہے، اساں اُس دے سواگت وِچ۔ 


ਮਿਟਾ ਦੇ ਤੂੰ, ਖੁਦੀ  ਅਪਣੀ, ਮੁਹੱਬਤ ਵਿਚ  ਫਨਾਹ ਹੋ ਜਾ,

ਤੂੰ ਜ਼ਜ਼ਬਾ  ਵੇਖ  ਕਿੰਨਾ ਹੈ, ਜਿਉਂਦੇ ਜੀਅ  ਸ਼ਹਾਦਤ ਵਿਚ। 

مِٹا دے توں،  خودی  اپنی،  محبت  وِچ فنا ہو جا،

توں جذبہ ویکھ کِنّا ہے، جیوندے جی شہادت وِچ۔ 


ਤਜ਼ਰਬਾ ਮੇਚ  ਨ੍ਹੀਂ  ਆਉਂਦਾ, ਕਿਸੇ  ਦਾ  ਹੋਰ  ਨੂੰ  ਯਾਰੋ,

ਬੜਾ  ਕੁਝ  ਬੇਵਜ੍ਹਾ  ਹੁੰਦੈ, ਅਖਾਣਾਂ  ਤੇ  ਕਹਾਵਤ   ਵਿਚ।

تجربہ میچ  نہیں آؤندا ، کِسے دا ہور نوں یارو،

بڑا کُجھ بے وجہ ہندَے، اکھاناں تے کہاوت وِچ۔ 


ਸਿਖਾਉਂਦੇ  ਜਾਚ  ਜੀਵਨ ਦੀ, ਖਿੜੇ ਫੁੱਲ ਥੋਹਰ ਦੇ  ਉੱਤੇ, 

ਸਦਾ  ਹੀ ਮੁਸਕਰਾਉਂਦੇ ਨੇ ਉਹ ਨੋਕਾਂ ਦੀ ਹਿਫਾਜ਼ਤ ਵਿੱਚ।

سکھاؤندے جاچ جیون دی، کھڑے پُھلّ تھوہر دے اتے،

سدا  ہی  مُسکراؤندے  نے اوہ  نوکاں دی حِفاظت وِچّ۔ 


ਕਦੇ  ਬੱਚਾ  ਜਿਹਾ  ਬਣ ਕੇ,  ਖਿਲਾਰੀਂ  ਝੱਲ, ਖੁਸ਼  ਹੋਵੀਂ 

ਰਵੀਂ  ਨਾ ਉਲਝਿਆ ਐਵੇਂ ਹੀ, ਝੂਠੀ ਜਈ ਨਫ਼ਾਸਤ ਵਿਚ।

کدے  بچّا  جِہا بن کے،  کھلاریں  جھلّ، خوش ہوویں

رویں نہ اُلجھیا ایویں ہی، جھوٹھی جئی نفاست وِچ 


ਨ ਬਣ ਨਾਦਾਂ, ਸੰਭਲ ਐ ਦਿਲ, ਉਨੂੰ ਦਿਲ ਦੇਣ ਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ, 

ਯਕੀਂ ਉਸ ਦਾ ਹਮੇਸ਼ਾ ਹੀ ਰਿਹਾ, ਦਿਲ  ਦੀ  ਤਿਜ਼ਾਰਤ ਵਿਚ। 

نہ بن ناداں، سنبھل اَے دل،  اوہنوں دِل دین توں پہلاں،

یقیں   اُس  دا  ہمیشہ  ہی رہا ،   دِل  دی  تجارت   وِچ۔ 


ਕਿਸੇ  ਦੀ  ਅੱਖ  ਦਾ  ਤਾਰਾ  ਨ  ਬਣਦਾ ਹੁਸਨ  ਐਵੇਂ  ਹੀ,

ਬੜਾ  ਕੁਝ  ਹੋਰ  ਹੁੰਦਾ  ਹੈ, ਅਦਾਵਾਂ ਦੀ  ਨਜ਼ਾਕਤ  ਵਿਚ।

کِسے دی اکھّ دا تارہ نہ بندا حُسن ایویں ہی،

بڑا  کُجھ ہور  ہندا  ہے، اداواں دی نزاکت وِچ۔ 


'ਕੰਵਲ' ਪਾ  ਕੇ  ਕੁਠਾਲੀ  ਜਿਸ ਤਰਾਂ ਸੋਨਾ ਤਪਾੳਂਦੇ  ਹਾਂ,

ਮੁਹੱਬਤ  ਦੀ  ਡੂੰਘਾਈ  ਪਰਖ  ਹੁੰਦੀ  ਹੈ  ਮੁਸੀਬਤ  ਵਿੱਚ।

'کنول' پا کے کٹھالی جِس طرح سونا تپاندے ہاں،

محبت دی ڈونگھائی پرکھ ہندی ہے مُصیبت وِچّ۔ 


ਕੁਲਵਿੰਦਰ 'ਕੰਵਲ' 

کُلوِندر 'کنول'

ਸ਼ਾਹਮੁਖੀ ਲਿਪੀਅੰਤਰ:ਅਮਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਜੀਤ 

شاہ مُکھی لپیآنتر:امرجیت سنگھ جیت

Thursday, November 20, 2025

نظم ( اج آکھاں شہر لاہور نوں )ڈاکٹر بلویر بے نظیر

 











نظم


اج آکھاں شہر لاہور نوں



شہر لاہور سانوں تاں توں ساڈی دلّی وانگر لگدا اے

کجھ وکھرا نظریں نہیں آوندا سانوں اپنا اپنا لگدا اے

تیری بادشاہی مسجد تے قلع ایہ وی نے ساڈے کول ایتھے

تیرا اُچّا منارِ پاکستان کھڑی کُتب منار اڈول ایتھے

تیرے دلّی دروازے دے اندر تنگ گلیاں نے شہر لاہور دیاں

میرے لاہوری دروازے دے اندر تنگ گلیاں نے دلّی شہر دیاں

تیرے باہر دلّی دروازے دے چونا منڈی تک لنڈانازار پئیا

میرے لال قلع دے چڑھدے ولّے لنبا اُتنا ہی چور بازار پئیا

نہیں بُھلدا موٹر وے دا سفر جو کیتا سی شہر قصور دے ول

دلّی وچ آکے دیکھ زرا توں جانا نہیں اپنے شہر دے ول

چلو من لیا بدل لاہور گیا پر حالے وی بوہتا اوہو ای ہے

دلّی نے کپڑے بدل لئے پر دل دریا تاں اوہی ہے

ساڈی ماں بولی ساڈے نین نقش کِنّا کُجھ ساڈا سانجھا ہے

ساڈے پیر فقیر نبی سانجھے ساڈا اگّا پچھّا سانجھا ہے

دلّی باجھ تہاڈا نہی سرنا کیوں وٹّاں پائی پھردے ہو

ساڈے دل دے وچ لاہور وسّے سانوں بھی بھائی سرنا نہی

آ کریے عرض سرکاراں نوں تُسیں کرو سیاست جی بھر کے

سانوں تے اکٹھے بیٹھن دیو اسیں کریے گلاں جی بھر کے


شاعر 

ڈاکٹر بلویر بے نظیر

چڑھدا پنجاب انڈیا 


شاہ مُکھی لِپّی انتر

سلیم آفتاب سلیم قصوری

ਅੱਜ ਆਖਾਂ ਸ਼ਹਿਰ ਲਾਹੌਰ ਨੂੰ    

             ================            ਐ ਸ਼ਹਿਰ ਲਾਹੌਰ ਸਾਨੂੰ ਤਾਂ ਤੂੰ , ਸਾਡੀ ਦਿੱਲੀ ਵਰਗਾ ਲੱਗਦਾ ਏ | 

ਕੁੱਝ ਵੱਖਰਾ ਨਜ਼ਰੀਂ  ਨਹੀਂ ਆਉਂਦਾ , ਸਾਨੂੰ ਆਪਣਾ - ਆਪਣਾ ਲੱਗਦਾ ਏ |

 ਤੇਰੀ ਬਾਦਸ਼ਾਹੀ ਮਸਜਿਦ ਤੇ ਕਿਲ੍ਹਾ , ਇਹ ਵੀ ਨੇ ਸਾਡੇ ਕੋਲ ਇੱਥੇ |

 ਤੇਰਾ ਉੱਚਾ ਮਨਾਰੇ  - ਪਾਕਿਸਤਾਨ , ਖੜ੍ਹੀ ਕੁਤਬ ਮੀਨਾਰ ਅਡੋਲ ਇੱਥੇ |

 ਤੇਰੇ ਦਿੱਲੀ ਦਰਵਾਜ਼ੇ ਦੇ ਅੰਦਰ , ਤੰਗ ਗਲੀਆਂ ਨੇ ਸ਼ਹਿਰ ਲਾਹੌਰ ਦੀਆਂ |

 ਮੇਰੇ ਲਾਹੌਰੀ ਦਰਵਾਜ਼ੇ ਦੇ ਅੰਦਰ , ਤੰਗ ਗਲੀਆਂ ਨੇ ਦਿੱਲੀ ਸ਼ਹਿਰ ਦੀਆਂ |

 ਤੇਰੇ ਬਾਹਰ ਦਿੱਲੀ ਦਰਵਾਜ਼ੇ ਦੇ , ਚੂਨਾ - ਮੰਡੀ ਤੱਕ ਲੰਡਾ - ਬਾਜ਼ਾਰ ਪਿਆ |

 ਮੇਰੇ ਲਾਲ ਕਿਲ੍ਹੇ ਦੇ ਚੜ੍ਹਦੇ ਵੱਲ , ਲੰਬਾ ਉਤਨਾ ਹੀ ਚੋਰ - ਬਾਜ਼ਾਰ ਪਿਆ |

 ਨਹੀਂ ਭੁੱਲਦਾ ਮੋਟਰ - ਵੇ ਦਾ ਸਫ਼ਰ , ਜੋ ਕੀਤਾ ਸੀ ਸ਼ਹਿਰ ਕਸੂਰ ਦੇ ਵੱਲ |

 ਦਿੱਲੀ ਵਿੱਚ ਆ ਕੇ ਦੇਖ ਜ਼ਰਾ, ਤੂੰ ਜਾਣਾ ਨੀਂ ਆਪਣੇ ਸ਼ਹਿਰ ਦੇ ਵੱਲ |

ਚਲੋ ਮੰਨ ਲਿਆ ਬਦਲ ਲਾਹੌਰ ਗਿਆ, ਪਰ ਹਾਲੇ ਵੀ ਬਹੁਤਾ ਉਹੀ ਹੈ |

 ਦਿੱਲੀ ਨੇ ਕੱਪੜੇ ਬਦਲ ਲਏ , ਪਰ ਦਿਲ - ਦਰਿਆ ਤਾਂ ਉਹੀ ਹੈ |

 ਸਾਡੀ ਮਾਂ ਬੋਲੀ , ਸਾਡੇ ਨੈਨ - ਨਕਸ਼ ਕਿੰਨਾ ਕੁੱਝ ਸਾਡਾ ਸਾਂਝਾ ਹੈ |

 ਸਾਡੇ ਪੀਰ , ਫਕੀਰ , ਨਬੀ ਸਾਂਝੇ , ਸਾਡਾ ਅੱਗਾ - ਪਿੱਛਾ ਸਾਂਝਾ ਹੈ |

 ਦਿੱਲੀ ਬਿਨਾਂ ਤੁਹਾਡਾ ਨਹੀਂ ਸਰਨਾ, ਕਿਉਂ ਵੱਟਾਂ ਪਾਈ ਬੈਠੇ ਹੋ ?

 ਸਾਡੇ ਦਿਲ ਦੇ ਵਿੱਚ ਲਾਹੌਰ ਵਸੇ , ਸਾਨੂੰ ਭੀ ਭਾਈ ਸਰਨਾ ਨਹੀਂ |

 ਆ ਕਰੀਏ ਅਰਜ਼ ਸਰਕਾਰਾਂ ਨੂੰ , ਤੁਸੀਂ ਕਰੋ ਸਿਆਸਤ ਜੀ ਭਰ ਕੇ |

 ਸਾਨੂੰ ਤਾਂ ਇਕੱਠੇ ਬੈਠਣ ਦਿਓ , ਅਸੀਂ ਕਰੀਏ ਗੱਲਾਂ ਜੀ ਭਰ ਕੇ |

                              ਡਾ. ਬਲਵੀਰ ਬੇ - ਨਜ਼ੀਰ


Monday, November 17, 2025

مزدوروں پر مسلط سرکاری بابو ( تحریر : یاسین یاس )









 


مزدوروں پر مسلط سرکاری بابو 


تحریر  :  یاسین یاس 


پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اگر نہیں جانتے تو ان مزدوروں کے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے سرکاری بابو نہیں جانتے جن کے منہ کو حرام لگا ہوا ہے جو بنا رشوت لیے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے رشوت لینے کے ایسے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ایسے لگتا ہے جیسے ان کو گورنمنٹ تنخواہ ہی نہیں دیتی بس جب کوئی کیس آتا ہے تو ان بے چاروں کے گھر چولہا جلتا ہے فائل جمع کروانے کی فیس کیس آگے بڑھانے کی فیس اور کیس منظور کروانے کی فیس چیک وصول کرنے کی فیس اور وہ بھی ایڈوانس میں اگر کہیں کہ بھائی اس میں کوئی غلطی نہیں ہے کیس بالکل کلئیر ہے آپ نے صرف فارورڈ کرنا ہے تو صاحب فرماتے ہیں جی ہمارے پاس ہزاروں کیس پڑے ہیں آپ بھی رکھ دیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کیس جمع ہو کر جلد آپ کو چیک مل جائے تو پھر آپ کو ویسا ہی کرنا پڑے گا جیسا ہم کہتے ہیں رشوت نہ دینے والوں کے کیس کئی کئی ماہ مکمل ہی نہیں ہوتے  کبھی کوئی آبجیکشن کبھی کوئی آبجیکشن ایک آبجیکشن ختم کرو دوسری تیار مطلب ہر موقع پر رشوت ہی دینا ہوگی غریب مزدور اپنی خون پسینے کی کمائی سے ہر ماہ گورنمنٹ ادارے کو کٹوتی کرواتا ہے اور کئی کئی سال کرواتا ہے صرف اس لیے کہ چلو جب بیٹی کی شادی ہوگی تو اسے جہیز فنڈ ملے گا اس سے بیٹی کے ہاتھ پیلے کر سکوں گا اب مزدور بے چارہ تو پیسے مسلسل جمع کروا رہا ہے اور اسی آس پہ جمع کروارہا ہے لیکن جب مزدور کی کچھ فائدہ لینے کی باری آتی ہے تو یہ دفتروں میں بیٹھی ہوئی گرجھیں اس کو نوچنا شروع کر دیتی ہیں ضلع قصور کی ہی بات کریں تو وہاں کئی کئی سال سے ایسے کیس پینڈنگ پڑے ہیں جو رشوت نہ دے سکے یا فائل کو آگے بڑھانے کی رشوت نہ دے سکے یا سائن کروانے کی رشوت نہ دے سکے جب بھی پوچھو  نیا بہانہ منتظر ہوتا ہے اور سب سے بڑا بہانہ فنڈ ہی نہیں ہیں سوچنے والی بات ہے اگر فنڈ نہیں ہیں یا نہیں تھے تو دوہزار اکیس بائیس والے کیس کیسے کلئیر ہوئے اور دوہزار انیس بیس والے کیوں پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں مطلب صاف ظاہر ہے جن لوگوں نے منہ مانگی رشوت دی ان کا کام ہو گیا اور جو بے چارے نہ دے سکے ان کے کیس ابھی تک پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں اور جن جن لوگوں سے انہوں نے پیسے ادھار لے کر اس فنڈ کے آس میں اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کیے ہیں ان سے ذلیل ہورہے ہیں کیونکہ اتنی تو ان کی تنخواہ ہی نہیں ہے کہ اس تنخواہ سے وہ قرض کی رقم چکا سکیں لیکن ان بابؤوں کو اس سے کیا وہ تو رشوت کے پیسوں سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں کوئی لاکھوں میں تو کوئی کروڑوں میں کھیل رہا ہے کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کیا سرکاری محکموں میں بھی آڈٹ ہوتا ہے (حالانکہ میں جانتا ہوں کہ ہوتا ہے ) اگر ہوتا ہے تو وہ یہ سب نہیں دیکھتے ہوں گے یا وہ بھی بہتی گنگا ہاتھ دھوتے ہوں گے میری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ خدارا ان مزدوروں کے حال پر رحم کیجئےاور سالوں سے پینڈنگ پڑے کیس کلئیر کروائیےاور ادارہ کو چیک کرنے کا کوئی جدید نظام وضع کریں شادی تو شادی یہ بے ضمیر تو مزدور کو کفن دفن کے ملنے والوں پیسوں سے بھی نذرانہ وصول کرتے ہیں یہ سب باتیں میں بطور کالم نگار ہی نہیں کررہا میں خود ایک مل مزدور ہوں یہ سب میں بھگت چکا ہوں اور ابھی تک بھگت رہا ہوں اس ادارے میں بہت ساری ایسی خرابیاں ہیں جنہیں فوری درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزدور کی فلاح کے لیے بنایا گیا ادارہ صحیح معنوں میں مزدوروں کی فلاح کے لیے کام کر سکے

Saturday, November 15, 2025

جگ دھمے پنجابی شاعر ارشاد سندھو جی دی اک غزل

 









چُن دا چانن  سورج دا لشکارا نئیں سی چھڈنا

ہتھ پیندا تے لوکاں نے اک تارا  نئیں سی چھڈنا


تیرے قصے وچ ایک کڑما کن پڑوا کے رُلیا

میں لکھدا تے رانجھے تخت ہزارہ نئیں سی چھڈنا


جنے چھڈ کے مینوں میرے جوگا نہیں چھڈیا

سوچ رہیاواں اوہدے لئی، پنڈ سارا نئیں سی چھڈنا


پہلی پیشی جِند چھڑوا کے پکی توبہ کر لئی

ہو جاندا تے مینوں عشق، دوبارہ نئیں سی چھڈنا


دل دریائی لا سکدی دریاواں دے وچ تاری

جے چھلاں تے شک سی فیر کنارہ نئیں سی چھڈنا


شکر ہے اوہنے گل نہیں کیتی نہیں تے رب دی قسمے

ویلے اوہدی ونگ لئی کوئی سنیارہ نئیں سی چھڈنا

 

کھِلرے ہوئے ساں جے توں سندھو کنجنا نئیں سی سانوں

کھلرے کم دا کرکے ڈھیر کھلارا نئیں سی چھڈنا


چن دا چانن سورج دا لشکارا نئیں سی چھڈنا

ہتھ پیندا تے لوکاں نے اک تارا  نئیں سی چھڈنا


(ارشاد سندھو)

Friday, November 14, 2025

نظم / کویتہ( ہرپال سنگھ مانس )

 










کَویتہ "سفر"


اپنے عشق چ سفر لکھیا اے

ایہ کوئی پیراں دا سفر نئیں اے

ایہ عمراں دا سفر اے

ایہ جنماں دا سفر اے


چلدی رہیں

تُر دی رہیں

اک دن کسے بِنّدو تے ضرور ملّاں گے


کھڑوت ماری اے

کھڑیا پانی وی بدبو کردا اے


ایہ اک من توں دوجے من دا سفر اے

ویکھیں زیادہ دیر نہ لاوی

میرے من دے ورقّے نوں پڑھّن لئی

جاں ورقہ موڑ کے چھڈ نہ دیویں

تے فیر کتّے بھُل نہ جاویں


میرے سارے راہ تیرے ولّ آؤندے نیں

ایہ دھرتی گول اے

جے تُوں میرے اُلٹ دِشا ولّ وی تُریا

تاں وی میرے کول ای آویں گا


اپنے عشق چ سفر لکھیا اے

راہاں چ کنڈے نیں، طوفان نیں

جھکڑ نیں، مارُتھل نیں

ایرخا اے، انکار اے

تلخّیاں نیں، آگ اے

جگّ اے، دریا نیں

پہاڑ نیں، پت جھڑ نیں


ویکھیں ہار نہ منّی، لڑاں گے

اک دوجے دا ہتھ فڑھ

اپنے راہاں تے بہارا ں لیاواں گے


اپنے عشق چ سفر لکھیا اے…

ہرپال دی قلم توں…


"ਕਵਿਤਾ " ਸਫ਼ਰ "

ਆਪਣੇ ਇਸ਼ਕ 'ਚ ਸਫ਼ਰ ਲਿਖਿਆ ਏ

ਇਹ ਕੋਈ ਪੈਰਾਂ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਨਹੀਂ ਏ

ਇਹ ਉਮਰਾਂ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਏ

ਇਹ ਜਨਮਾਂ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਏ

ਚਲਦਾ ਰਹੀਂ

ਤੁਰਦਾ ਰਹੀਂ

ਇੱਕ ਦਿਨ ਕਿਸੇ ਬਿੰਦੂ 'ਤੇ ਜ਼ਰੂਰ ਮਿਲਾਂਗੇ

ਖੜੋਤ ਮਾੜੀ ਏ

ਖੜਿਆ ਪਾਣੀ ਵੀ ਬਦਬੂ ਮਾਰਦਾ

ਇਹ ਇੱਕ ਮਨ ਤੋਂ ਦੂਜੇ ਮਨ ਦਾ ਸਫ਼ਰ ਏ

ਵੇਖੀ ਜ਼ਿਆਦਾ ਦੇਰ ਨਾ ਲਾਵੀ

ਮੇਰੇ ਮਨ ਦੇ ਵਰਕੇ ਨੂੰ ਪੜ੍ਹਨ ਲਈ

ਜਾਂ ਵਰਕਾ ਮੋੜ ਕੇ ਛੱਡ ਨਾ ਦੇਵੀਂ

ਤੇ ਫੇਰ ਕਿਤੇ ਭੁੱਲ ਨਾ ਜਾਵੀਂ

ਮੇਰੇ ਸਾਰੇ ਰਾਹ ਤੇਰੇ ਵੱਲ ਆਉਂਦੇ ਨੇ

ਇਹ ਧਰਤੀ ਗੋਲ ਹੈ

ਜੇ ਤੂੰ ਮੇਰੇ ਉਲਟ ਦਿਸ਼ਾ ਵੱਲ ਵੀ ਤੁਰ‌ਿਆ

ਤਾਂ ਵੀ ਮੇਰੇ ਵੱਲ ਹੀ ਆਵੇਂਗਾ

ਆਪਣੇ ਇਸ਼ਕ 'ਚ ਸਫ਼ਰ ਲਿਖਿਆ ਏ

ਰਾਹਾਂ 'ਚ ਕੰਡੇ ਨੇ, ਤੁਫ਼ਾਨ ਨੇ

ਝੱਖੜ ਨੇ, ਮਾਰੂਥਲ ਨੇ

ਈਰਖਾ ਏ, ਹੰਕਾਰ ਏ

ਤਲਖ਼ੀਆਂ ਨੇ, ਅੱਗ ਏ, 

ਜੱਗ ਏ, ਦਰਿਆ ਨੇ

ਪਹਾੜ ਨੇ, ਪਤਝੜ ਨੇ

ਵੇਖੀ ਹਾਰ ਨਾ ਮੰਨੀ, ਲੜਾਂਗੇ

ਇੱਕ ਦੂਜੇ ਦਾ ਹੱਥ ਫੜ੍ਹ

ਆਪਣੇ ਰਾਹਾਂ ਤੇ ਬਹਾਰਾਂ ਲਿਆਵਾਂਗੇ

ਆਪਣੇ ਇਸ਼ਕ 'ਚ ਸਫ਼ਰ ਲਿਖਿਆ ਏ.....

ਹਰਪਾਲ ਦੀ ਕਲਮ ਤੋਂ....