Friday, November 14, 2025

بابا نڈر حسین جانی ( انتخاب : احمد اقبال بزمی )

 










من دھرتی نوں سجدہ کردے

کعبہ رکھ دھیان تے ویلا جاندا ای

دھار صدق تے جھاکاں لاہ دے

اپنا اصل پچھان تے ویلا جاندا ای


پانی باجھ سمندر نائیں

لیکھاں باجھ سکندر نائیں

دھرتی باجھ قلندر نائیں

لیک پتھر تے جان تے ویلا جاندا ای


اپنا ورثہ کُنجیں جیکر

ویلے توں نا گُنجھیں جیکر

عرشوں آ بہیں پُہنجے جیکر

تیری وکھری شان تے ویلا جاندا ای


پُوتھی عشق پَھرول او جانی

کجھ تے مونہوں بول او جانی

کیہ نہیں تیرے کول او جانی

جوگ، پنتھ، قرآن تے ویلا جاندا ای


(بابا نڈر حسین جانی)

غزل ( ہرپال سنگھ منیس )











 ਗ਼ਰੀਬੀ ਕਰ ਕੇ ਜਰਨਾ ਪੈਂਦਾ

ਢਿੱਡ ਦੀ ਖ਼ਾਤਰ ਮਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਗ਼ਰੀਬ ਨੂੰ ਕੋਈ ਦਰ 'ਤੇ ਖੜ੍ਹਨ ਨਾ ਦੇਵੇ

ਜ਼ਿੱਲਤ ਦੇ ਜ਼ਹਿਰ ਨੂੰ ਘੁੱਟ-ਘੁੱਟ ਭਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਗ਼ਰੀਬ ਕੋਲ ਸੁਪਨਿਆਂ ਲਈ ਵਿਹਲ ਨਹੀਂ

ਹੱਡ ਤੋੜਵਾਂ ਕੰਮ ਦਿਨ-ਰਾਤ ਕਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਮੇਰੇ ਪਿੱਛੋਂ ਪਰਿਵਾਰ ਦਾ ਕੀ ਬਣੇਗਾ ?

ਗ਼ਰੀਬ ਨੂੰ ਮੌਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ ਮੌਤ ਤੋਂ ਡਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਕਿਰਤ ਦੀ ਲੁੱਟ ਦਾ ਹਿਸਾਬ ਕਿਤਾਬ ਨਾ ਕੋਈ

ਗ਼ਰੀਬ ਨੂੰ ਮੌਤ ਤੋਂ ਪਹਿਲਾਂ ਮਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਜ਼ਿੰਦਗੀ ਦਾ ਦੀਵਾ ਬੁੱਝ ਨਾ ਜਾਵੇ ਕਿਧਰੇ 

ਲਹੂ ਪਸੀਨੇ ਦਾ ਤੇਲ ਭਰਨਾ ਪੈਂਦਾ


ਬਹਾਰ ਦੀ ਰੁੱਤ ਵੀ ਆਵੇਗੀ ਕਦੇ

ਇਸੇ ਆਸ 'ਤੇ ਰੋਜ਼ ਗ਼ਰੀਬੀ ਨਾਲ ਲੜਨਾ ਪੈਂਦਾ

ਹਰਪਾਲ ਦੀ ਕਲਮ ਤੋਂ.....


غریبی کرکے جرنا پیندا

ڈِھڈ دی خاطر مرنا پیندا


غریب نوں کوئی در تے کھلّن نہ دیوے

ذلت دے زہر نوں گھٹ گھٹ بھرنا پیندا


غریب کول سپنیاں لئی ویلہ نہیں

ہڈّ توڑواں کم دن رات کرنا پیندا


میرے پِچھوں پریوار دا کیہ بنے گا؟

غریب نوں موتوں پہلاں موت توں ڈرنا پیندا


کِرت دی لُٹ دا حساب کتاب نہ کوئی

غریب نوں موت توں پہلاں مرنا پیندا


زندگی دا دیوا بُجھ نہ جاوے کدھرے

لہو پسینے دا تیل بھرنا پیندا


بہار دی رُت وی آوے گی کدے

اِسے آس تے روز غریبی نال لڑنا پیندا


— ہرپال دی کلم توں

(ہرپال سنگھ منیس (انڈیا

Thursday, November 13, 2025

نظم ( اجتناب ) مہر ہمیش گل

 










اجتناب


از قلم: مہر ہمیش گل


سمیٹ لو اُنہیں اپنے آنگن میں 

یہ آزاد پرندے ہیں،

انہیں آزاد رہنے دو۔

یہ خواب ہیں 

خوابوں کو پورا ہونے دو،

اُنہیں تعبیر کے شکنجے میں مت جکڑو۔

یہ آنکھیں دغا باز ہیں

جو کبھی خواب بنتی ہیں،

کبھی وفا کی تحریر،

اور کبھی دھوکے کی تصویر 

اُنہیں لوگوں کے شور سے دور رہنے دو۔

جہاں لفظ میٹھے ہوں مگر نیتیں کڑوی،

جہاں مسکراہٹیں چہروں پر ہوں، دلوں میں نہیں 

ان لوگوں سے دور رہنے دو

اُن سے اجتناب،

اجتناب،

اجتناب

اپنے دل کی سنو،

جو تمہاری روح کو سکون دے،

جو تمہیں ٹوٹنے سے بچا لے۔

جو تمہیں بکھیرے،

اُس سے فاصلہ رکھو،

اُس سے اجتناب کرو۔

یہ خواب تمہارے ہیں،

انہیں قید مت کرو،

انہیں اُڑنے دو 

ہوا کے دوش پر،

دعا کے لمس میں،

آزادی کی خوشبو میں۔

یہ آنکھیں جو خواب دیکھتی ہیں،

اُن کی چمک برقرار رہنے دو،

کہ یہی چمک

زندگی کا آخری یقین ہے۔

سکون ہے، بہار ہے۔

کہ جتنا ہوسکے لوگوں سے

اجتناب کرو

اجتناب، اجتناب ، اجتناب۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, November 11, 2025

رب العالمین سے محبت کے کرشمے ( تحریر : مہر ہمیش گل )

 











اللّٰہ رب العالمین سے محبت کے کرشمے

مہر ہمیش گل


جب  انسان کو اللہ رب العالمین سے محبت ہو جاتی ہے تو انسان خود بخود نماز کا انتظار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو انتظار کرنے میں بھی روحانی سکون ملتا ہے۔ ہر محبت عنايت نہیں ہوتی لیکن جب انسان اللّٰہ رب العالمین سے محبت کرتا ہے تو اس انسان کی محبت عنايت بن جاتی ہے اس انسان کی دنیا جنت بن جاتی ہے۔      محبت اگر یقین کے ساتھ کی جائے تو زندگی میں عنایت ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو بات اس کی زندگی میں نا ممکن ہو جاتی ہے وہ عنايت بن کر اس  کے سامنے آ جاتی ہے۔ جب انسان دنیا کی ہر چیز سے تھک جاتا ہے۔ انسان جب  دنیا کی ہر چیز سے، انسانوں سے محبت کرتے ہوئے، انسانوں کے تلخ رویوں سے تھک جاتا ہے تو  بدلے میں نفرت  کے علاوہ کچھ نہیں ملتا انسان کی فطرت ہے کہ وہ انسانوں سے بہت سی اُمیدیں لگا لیتا ہے اور پھر انسانوں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ جب  وہ انسان ہر دروازے سے ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ انسان کو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے اس کو اپنی زندگی ایک دلدل میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ جب اس کی زندگی میں روشنی کا نام و نشان نہیں ہوتا ہر طرف ذلت ہی ذلت ہوتی ہے ناکامیاں اس کا مقدر بنی ہوتی ہیں اور ایک  سوالی بن کر اللّٰہ رب العالمین کے دروازے پر آتا ہے تو جو مانگتا وہ ضرور ملتا ہے۔ جب اللّٰہ رب العالمین کا نام  اس کی زبان پر آتا ہے عنایت کے دروازے اس وقت ہی انسان پر کھل جاتے ہیں۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللّٰہ رب العالمین کا نام رکھے تو ہزاروں مُشکلیں اس کے سامنے سر جھکائیں گی۔ جب انسان کو اللّٰہ رب العالمین سے محبت ہوتی ہے تو انسان خود بخود نیک کام کرنا شروع ہو جاتا ہے اس کا جگہ جگہ سے نیک لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اسے نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ تو پھر جب وہ رب کے پاس آتا ہے۔ بے بس ہو کر انسانوں سے مجبور ہو کر تو پھر انسان انسانوں سے چھپ چھپ کر عبادت کرنا شروع ہو جاتا ہے۔ نمازیں قضاء نہیں کرتا پھر انسان کو انسانوں کی خود غرضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اللّٰہ رب العالمین اس کے ساتھ ہیں اسے پھر دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی اس کی محبت عشق کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس کو  اللّٰہ رب العالمین کی عبادت میں سکون آنا شروع ہو جاتا ہے  اور سکون کا سانس اسے تہجد میں ملتا ہے۔ جب وہ اندھیری راتوں میں اٹھ کر نہ گرمی دیکھتا ہے نہ سردی دیکھتا ہے، دنیا سے چپ کر وضو کرتا ہے۔ دنیا سے چھپ کر تہجد کی نمازیں پڑھتا ہے اس کو  پھر دنیا کی رونقوں سے فرق نہیں پڑتا وہ پھر ہر حال میں رب کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جاتا ہے۔ پھر اسے دکھ، دکھ،  نہیں لگتا اس کی زبان پر شکر الحمدللہ کی تسبیح کا ورد ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے اللّٰہ رب العالمین  کے بہت قریب ہو چکا ہوتا ہے۔ تہجد کی نمازوں کے لیے اسے اللّٰہ رب العالمین چنتا ہے اور پھر جب وہ ہاتھ اٹھا کر اللّٰہ سے دعا مانگتا ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العالمین وہ دعا پوری نہ کرے اور اللّٰہ رب العالمین عنايت نہ کریں قدم قدم پر ایک نئی عنايت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کو  زندگی حسین لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہر چیز میں ایک نیا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی زندگی میں روشنی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور جو اندھیرے اس کی زندگی میں تھے جن  اندھیروں  کو دیکھ کر وہ انسان ڈر جاتا تھا۔ آج اس کو ان اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا۔ آج وہ انسان بہانے تلاش کرتا ہے کہ کئی آندھیرا ہو اور وہ اپنے اللّٰہ رب العالمین  کے قریب ہو سکے اور اپنی عبادت میں مشغول ہو سکے۔

Monday, November 10, 2025

رشماں ادبی فورم کنگن پور ولوں بیاد تجمل کلیم مشاعرہ












 رِشماں ادبی فورم کنگن پور ولّوں استاد تجمل کلیمؔ ہوراں

 دی یاد وچ تاریخی مشاعرہ


رِشماں ادبی فورم کنگن پور دی چھتر چھاویں استاد تجمل کلیمؔ ہوراں دی یاد وچ اک شاندار تے تاریخی مشاعرہ منعقد کیتا گیا، جس وچ کنگن پور تے آل دوالے  دیاں ادبی،  سماجی تے  سیاسی شخصیات نے بھرپور شرکت کیتی۔


ادب دوست شخصیتاں خان ولی خان، مرزا علی ارباب، چوہدری فیصل رضا خاں، مرزا اشہب غیاث تے حافظ روح الامین ایڈووکیٹ ہوراں نے خصوصی شرکت کیتی تے پروگرام نوں چار چن لائے۔


پروگرام دا آغاز تلاوتِ قرآن پاک نال ہویا، جیہدا شرف حافظ اعیان احمد ضیاء نے حاصل کیتا۔

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرن دی سعادت محمد رفیع وٹو سلطانی نے حاصل کیتی۔


نظامت دے فرائض چھانگا مانگا توں تعلق رکھن والے نوجوان میاں یُسین درانی نے نہایت خوبصورتی نال سرانجام دِتے۔

محفل دی صدارت استاد  تجمل کلیمؔ ہوراں  دے شاگردِ خاص علی شاکر ہوراں کیتی تے صاحبِ شام شاعر پروفیسر ڈاکٹر عباد نبیل شاد سن۔


مشاعرے وچ شریک شاعراں وچ

اویس صدیق، اسلم شاد، اشفاق کامل، حیدر نقوی، نبیل نابر، منیر حسین حیدری، زین جٹ، عامر صدیقی، منت فاطمہ، یٰسین بھٹی، وزیر علی راجہ، اشرف عابد، تابش علی، نصر خیالی، مزمل زائر، نذیر احمد نذر، صدا عابدی، رائے ظہیر، اسلم شوق، نبیل نجم، پروفیسر علی بابر، وحید رضا، اسلم ملنگ، انور فِکر، یٰسین یاس، ایمن چاغی، عصمت اللہ سیکھو، صادق فدا، عمران سحر، تنویر عباس حیدری، علی جوشا، اعزاز عین، رانا سعید اختر، ارشاد سندھو، شاہزیب نوید، اشتیاق اثر، صابر علی صابر، سید فدا بخاری، پروفیسر ڈاکٹر عباد نبیل شاد تے علی شاکر۔


شعراء کرام نے اپنی اپنی شاعری پیش کر کے استاد تجمل کلیمؔ ہوران نوں خراجِ عقیدت پیش کیتا۔ حاضرینِ محفل نے دل کھول کے داد دِتی تے شعراء  کرام دی بھرپور حوصلہ افزائی کیتی۔


میزباناں وچ 

وحید رضا، پروفیسر علی بابر، وزیر علی راجہ، نبیل نابر، حیدر نقوی، اسلم شاد، منیر حسین حیدری، زین جٹ، سید ندیم اقبال بخاری، عامر رضا سواتی، محمد اشرف اسد (پرنسپل ثریا میموریل ہائی سکول کنگن پور)، اشفاق کامل، شرافت علی سونی تے پروفیسر عدنان اسلم شامل سن۔ 

محفل مشاعرہ وچ رلت کرن والے تمام شعراء نے استاد تجمل کلیمؔ ہوراں دیاں پنجابی ادبی خدمات نوں خراجِ تحسین پیش کیتا تے اوہناں دی یاد نوں زنده رکھن دا پختہ عزم کیتا۔


رپورٹ: نبیل نابر

جنرل سیکرٹری، رِشماں ادبی فورم کنگن پور

کھڈیاں ( قصور ) میں مشاعرہ

 











کل عوامی اتحاد پارٹی ۔۔۔صدر محترم جناب عبدالغفار

 رندھاوا لاھور ولوں کھڈیاں قصور وچ اک بہت ھی شاندار تے کامیاب مشاعرہ ھوا  


مشاعرہ کا أغاز تلاوت قرآن پاک ماسٹر محمد اشرف نے کی 

جبکہ نعت محمد عمر دلشاد کے حصے میں  آئی 

نقابت کو بڑی خوبصورت سے نذیر احمد نذر نے سنبھالا 

جس کی صدارت محترم جناب ملک اصغر علی صابر پیال کھڈیاں قصور نے کی جب کہ صاحب شام۔معروف شاعر جناب سید مزمل  زائر نقوی پھولنگر کے نام۔ھوئی مہمان عزاز راے ونڈ کے معروف شاعرجناب سحر فاروقی کے نام تھی مہمان خصوصی میں نذیر نذر پھولنگر سید مزمل زائر نقوی پھولنگر بابا شریف ساجد راۓ ونڈ ۔محمد طفیل فاروقی  رایونڈ۔محمد عامر صدیقی پھولنگر ۔۔سحر فاروقی رایونڈ۔۔ماسٹر عبدلشکور ساقی کھڈیاں ۔عبدالغفار رندھاوا لاھور جو کہ میزبان بھی تھے محفل مشاعرہ کے آصف علی جٹ سراےمغل ۔منظم شاہ پتو کی مبین أتش ٹوبہ ٹیک سنگھ۔نعمان صدیقی پھولنگر ۔ سب نے بہت اچھا کلام سنایا اور ایک دوسرے کو دل کھول کر دا دی آخر میں مشاعرے کے میزان محترم جناب عبدالغفار رندھاوا کے شخصیت پر ملک اصغر علی صابر اور جناب عوامی اتحاد پارٹی کے نمایندہ محترم جناب عمر ساقی نے بات کی اور کہا کہ عبدالغفار رندھاوا صاحب ادب کی خدمت میں رات دن ایک کیے ھوے ھیں اللہ پاک ان کو اور ادب کی سیوا کرنے کی ھمت دے اور 

تحریر نذیر احمد نذر پھولنگر قصور

پنجابی غزل ( یاسین یاس )

 

غزل 

حد نئیں ہوگی جبراں دی 

سونہہ  نئیں لگدی قبراں دی 

نیندر سفنا کر چھڈی 

ویہہ نئیں پج گئی خبراں دی 

دھرتی کمبی جاندی اے 

نیت ویکھ کے ابراں دی 

اوہنوں آکھو مڑ جاوے 

حد نہ ویکھے صبراں دی 

زیراں ہوش سمبھالی تے 

یاس کھنامی زبراں دی 

یاسین یاس