Sunday, February 25, 2024

کرمانی ویلفئیر فاؤنڈیشن موڑ کھنڈا تقریب رونمائی کتب و مشاعرہ ( یاسین یاس )

 





کرمانی ویلفٸیر فاونڈیشن موڑکھنڈا کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ اور تقریب رونماٸی کتاب۔

کرمانی ویلفٸیر فاونڈیشن موڑکھنڈا کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ اور تقریب رونماٸی کتاب دی سپرٹ سکول موڑکھنڈا میں منعقد ہوٸی۔

تقریب کی صدارت معروف ماہر تعلیم و ادبی شخصیت جناب سید اظہر حسین شاہ بخاری نے کی۔

تقریب کے مہمان خصوصی سماجی و ادبی شخصیت جناب عابد حسین گل تھے۔

تقریب میں علاقہ کے نامور پنجابی شاعر جناب راٸے محمد خاں ناصر نے خصوصی شرکت کی اور اپنے منفرد انداز میں حاضرین کے دلوں کو جیت لیا۔

تقریب میں علاقہ کے دو نوجوان شاعروں عمران سحر کی کتاب چپ تے میں اور رنگ الہی رنگ کی کتاب دل دا ویہڑا کی تقریب رونماٸی بھی ہوٸی۔اس موقع پر نامور پنجابی شعرا جناب حافظ صادق فدا صاحب لاہور اور جناب یاسین یاس صاحب پھول نگر نے اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد سمیٹی. اس موقع پر مقامی شاعرہ روبینہ اکبر نے مشہور شعرا جناب راٸے محمد خاں ناصر اور عمران سحر کا کلام پیش کیا۔

۔مقامی شعرا راشد محمود اعلی بچیکی۔ثمر عباس زر ساٸیں۔جمیل احمد وسیر۔حاجی رحمت اللہ سندھو  جناب محبوب الہی عبد الروف روفی نے اپنے کلام سے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔

تقریب کی نقابت علاقہ کی ہر دل عزیز شخصیت اور پنجابی زبان کے شاعر جناب اشفاق احمد صابری نے انجام دیے اور محفل کو جاندار بنایا۔

تقریب میں خصوصی طور پر ایس ایچ او تھانہ مانگٹانوالہ جناب شہباز ڈوگر نے شرکت کی اور انتظامیہ تقریب کی اس کاوش کو سراہا۔

تقریب میں پرنسپل گورنمنٹ ہاٸیر سیکنڈری سکول جناب تنویر عباس اعوان۔سابقہ پرنسپل جناب شہباز الہی قادری۔اےای او جناب جاوید اقبال۔ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہاٸی سکول ہفت مدر جناب ملک ممتاز صاحب۔

چٸرمین پراٸیویٹ سکول ایسوسی ایشن جناب مہر احمد علی پڈھیار پرنسپل کنٹری کالج بچیکی جناب رانا ثنا ٕ الرحمان۔ڈاریکٹر دارارقم جناب طارق شہزاد۔ڈاریکٹر الاٸیڈ سکول جناب سلیم ارشد۔ڈاریکٹرز دی سپرٹ سکول مہر مزمل پڈھیار۔ڈاریکٹرز دی ایجوکیٹر جناب ہارون عارف۔جناب فیاض صاحب۔ڈاریکٹر النور سکول جناب اشفاق صاحب۔

سماجی شخصیات جناب خواجہ مسعود اویسی صاحب۔صدیق مغل صاحب۔شیخ شکیل احمد سیفی۔ڈاکٹر دلشاد احمد حضوری۔ڈاکٹر نثار احمد۔طاہر قادری۔راٸے مہندی کھرل۔شیخ احسن نور۔شیخ کاشف منا۔شیخ شانی۔

چٸیرمین پریس کلب جناب مہر طاہر غوث پڈھیار۔صدر پریس کلب جناب چوہدری غلام رسول نواز صاحب۔جاوید قادری۔صدر میڈیا اتحاد جناب مہر عبد الغفور صاحب۔چیف ایڈیٹر پندار نیوز جناب راٸے اشرف شاہین۔بانی صارم نشریات جناب حماد صارم۔امانت علی سیف۔مدثر نواز کھوکر۔شیخ نبیل احمد۔صدر یوتھ کلب جناب طارق صاحب۔

کرمانی فاونڈیشن کے ممبران جناب طارق بھٹی واٸس چٸیرمین۔جناب عبید اللہ صاحب سینٸیر ناٸب صدر۔جناب اعظم اجمل ناٸب صدر۔جناب حافظ کاشف جنرل سیکرٹری۔جناب مزمل نور فنانس سیکرٹری۔معاون فنانس جناب قیصر اقبال منا۔امانت علی سیف پریس سیکرٹری۔جناب مہر خلیل الرحمان انفارمیشن سیکرٹری۔جناب امجد مغل سوشل میڈیا۔جناب یاسر بھٹی انچارج سوشل میڈیا۔جناب ملک نوید اختر ۔جناب شعیب ظفر پڈھیار۔جناب اظہر ڈار صاحب ۔ جناب عبدالروف روفی ۔جناب رنگ الہی رنگ صاحب ممبران ایگزیکٹیو کونسل نے شرکت کی۔اس کے علاوہ

تقریب میں سیاسی۔سماجی۔کاروباری ۔صحافتی اداروں کے نماٸیندوں اور 

۔تعلیمی میدان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

صدر کرمانی ویلفٸیر فاونڈیشن جناب وقار علی گھگ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوٸے نوجوان شعرا کی کتابوں کو سراہا اور کہا کہ ماں بولی زبان پر ہمیں فخر کرنا چاٸیے انہوں نے مزید کہا کہ ہر بڑی تہزیب و ادب کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے اور ہماری ماں بولی تقریبا 5000 سال پرانی اور دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جانے والی زبان ہے۔

مہمان خصوصی عابد حسین گل نے کہا کہ عمران سحر جیسے پھول کی خوشبو ان کو لاہور محسوس ہوٸی تو ان کی کلام کو کتابی شکل میں سانجھ پریت آرگناٸزیشن کے تعاون سے پبلش کروایا۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقہ کے ماضی کے شعرا کے کلام کو اکٹھا کر کے کتابی شکل دی جاٸے گی۔انہوں نے نوجوان شعرا کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

تقریب رات گے تک جاری ہے۔

تقریب کے شرکإ نے تقریب کے منتظمین کو کامیاب تقریب کروانے پر مبارکباد پیش کی۔

آخر میں چٸیرمین کرمانی ویلفٸیر فاونڈیشن ملک ساجد نے تمام مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آٸندہ بھی ایسی تقریبات کرواٸی جاٸیں گی۔

اس سلسلے میں سید اظہر حسین شاہ بخاری نے عید کے بعد دی ایجوکیٹر سکول میں اردو مشاعرے کا اعلان کیا جس میں علی زرعون اور سید علی شاہ رخ بخاری تشریف لاٸیں گے۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر سیف اللہ ندیم نے دعا کرواٸی۔

محبتوں کا سفر ( عابد محمود عابد ۔ڈسکہ )

 







محبتوں کا سفر

تحریر۔ عابد محمود عابد ۔ ڈسکہ 

(رپورٹ سالانہ اجلاس بزم امروز 2024)

مجھے یاد ہے کہ امروز کے زمانے میں میری ایک تحریر بچوں کی دنیا امروز میں شائع ہوئی ، جس کا نام ۔۔۔ اجلاسی بیماری تھا۔۔۔ وہ تحریر تو اب میرے پاس محفوظ نہیں ، بہرحال اسکا لب لباب میرے ذہن میں ہے کہ یہ امروز کے تقریباً سب لکھاریوں کو اجلاسی بیماری کیوں لاحق ہوگئی ہے اور سب ہر وقت  اجلاس اجلاس کیوں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ اب جب برسوں بعد سوشل میڈیا کے ذریعے امروز کے لکھاریوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوا اور بزم امروز کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل پایا اور پھر 2020 میں اسکا پہلا اجاس لاہور میں منعقد ہوا تو اس وقت میں ابھی گروپ کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے اس میں شرکت نہ کر سکا اور پھر دوسرا اجلاس 2022 میں منعقد ہوا تو میں بوجہ بیماری اس میں شرکت نہ کرسکا لیکن جب 2023 میں میں نے پہلی دفعہ بزم امروز کے اجلاس میں شرکت کی تو اسکے بعد تو جیسے میں اپنی سب بیماریاں بھول گیا اور صرف ایک بیماری میں مبتلا ہوگیا ، جس کا نام  اجلاسی بیماری  تھا، بس پھر پورا سال  انتظار رہا کہ وہ لمحہ آئے کہ دوبارہ اجلاس منعقد ہواور پھر اپنے دوستوں سے ملنے کا موقع ملے ، آخر وہ لمحہ آن پہچا اور 4 فروری بروز اتوار کو انڈیگو ہوٹل لاہور میں اجلاس کا اعلان ہوگیا ، 3 فروری کی رات کو میں پوری تیاری کر کے سویا تو بار بار جاگ آرہی تھی ٹائم دیکھتا تھا کہ جلدی سے صبح ہو اور میں محبتوں کے اس سفر پر روانہ ہوجاوں اور پھر صبح ہوئی اور تیاری کرنے کے ساتھ ہلکا سا ناشتہ کرکے جلدی سے ڈائیوو کے ٹرمینل پر جا پہنچا اور 9 بجے والی بس میں بیٹھ گیا جس نے 10.45 پر لاہور پہنچا دیا اور ہھر جب 11.15 پر  انڈیگو ہوٹل میں پہنچا تو ایسا لگا کہ میں بہت پہلے آگیا ہوں ، لیکن پھر اندر داخل ہوتے ہی ظفر اللہ ضیا صاحب پر نظر پڑی اور دل کو حوصلہ ہوا ، وہ بھی شاید اکیلے بیٹھ کر بور ہورہے تھے ، مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بہت پرتپاک انداز میں ملے ، پھر ہماری گپ شپ شروع ہوگئی ، تھوڑی دیر بعد مسعود سیفی صاحب بھی آگئے ، پھر کچھ دیر گذری تو آپی روبینہ ناز روبی بھی آگئیں ،پھر اسد بخاری بھائی  آئے تو اسکے بعد تو جیسے لگاتار دوستوں کی آمد شروع ہوگئی اور آہستہ آہستہ سب دوست اکٹھے ہونے لگے ، جہاں اس مرتبہ اس بات سے تھوڑی پریشانی تھی کہ تقریب کے میزبان رانا گلزار احمد نہیں آسکے تھے تو وہاں ایک خوشگوار سرپرائز بھی ملا کہ آپی ثمرینہ جمال ثمر جلدی آگئیں اور انہوں نے اپنے مزاج کے عین مطابق پوری تقریب میں رونق لگائے رکھی ، 1 بجے کھانے کا دور شروع ہوا تو سب دوست کھانا بھی کھا رہے تھے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے گپ شپ بھی چلتی رہی ، میں تو کھانے کے اس دور میں میاں چنوں کے سجاد بھائی کے ساتھ ہی رہا تاکہ مجھے بھی انہی کے انداز میں کھانے کے ساتھ انصاف کرنے کا پورا موقع مل سکے ، 3 بجے تک کھانے کا دور چلا اور اسکے بعد بیسمنٹ میں باقاعدہ طور پر اجلاس کی کاروائی کا آغاز ہوا ، فیصل آباد کے راشد قمر بھائی نے   اجلاس کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی، تلاوت مسعود سیفی صاحب نے کی اور نعت پڑھنے کی سعادت الحمدللہ مجھے نصیب ہوئی ، دیپالپور کے اختر جاوید بھائی حسب روایت اپنی فلیکسوں کے ساتھ موجود تھے ، ان کے ساتھ اس مرتبہ سیلم ایاز اور سید موج دریا بھائی بھی موجود تھے ، ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی ، ایک اور پہلی ملاقات اپنے ایک پرانے لکھاری دوست عمر فاروق ناز آف گوجرانوالہ سے ہوئی جو تقریب میں بہت دیر سے پہنچے اور پیار  سے ملے ، ثمرینہ جمال ثمر آپی نے حسب وعدہ کلاک کے گفٹ پیش کیے جو مجھے بھی ملا ،تقریب میں موجود انکی بہن موجودہ دور کی نامور لکھاری آئینہ مثال کا نام بھی کلاک پر موجود تھا جو کہ گفٹ وصول کرنے والوں کے لیے یقینی طور پر فخر کی بات تھی ،  فاروق ندیم کی اے ٹی الفا کی جانب سے موبائل اسیسریز کے گفٹ سب کو بدست جناب فضل احمد فانی پیش کے گئے ، فانی بھی حسب روایت تقریب کے روح رواں تھے اور  سب کو اپنی محبتوں اور مسکراہٹوں سے نواز رہے تھے ، آپی ثمرینہ کی جانب سے یش کی گئیں ، رانا گلزار احمد اور فانی بھائی کی تصاویر بہت شاندار تھی، ہمیشہ کی طرح سجاد بھائی کی خوشی کی برفی سب کی خوشیوں کا محور تھی ، اسی طرح خوشی کی برفی کے ساتھ ساتھ خوشیاں بانٹتے اور محبتیں بکھیرتے یہ تقریب اپنے اختتام پر پہنچی اور سب شرکائے تقریب اس دعا کے ساتھ اپنے گھروں کو چل دیے کہ محبتوں کا یہ سفر یوں ہی رواں دواں رہے ، آمین

نوجوان شاعرہ حسین ناز ( انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری )

 




حسین ناز ۔۔نوجوان شاعرہ

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991

سرخیاں


میرے دادا محمد ادریس انور میرٹھی خود بڑے شاعر تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری اور طب مجھے وراثت میں ملی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ 

جب ہم مذہب کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مذہب ہمیں ادب سکھاتا ہے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حسین ناز اردو شاعرات کے حلقے میں نوارد ہے لیکن اس کے کلام میں جان ہے اور اسے اپنے آپ پر اعتماد ہے۔حسین ناز کے کلام میں نغمگی اور شعریت پائی جاتی ہے اس نے اپنے احساسات اور جذبات کو اشعار کا روپ دیا ہے ان کے کلام میں لطافت اور پاکیزگی کا احساس ہوتا ہے غزل میں سادہ اسلوب اختیار کرتی ہیں۔ حسین نال نے زندگی کے تجربات و مشاہدات کو بڑے عمدہ اور دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کی شاعری انسانی کیفیات کی مظہر ہے ۔وہ جو سوچتی ہے اس کا اظہار کر گزرتی ہے ۔ 

سوال۔ آپ کا اصل نام کیا ہے اور آپ دنیا ادب میں کس نام سے معروف ہیں؟ 

جواب۔۔۔۔میں سمجھتی ہوں بہت اچھا سوال کیا آپ نے۔۔۔کیونکہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بس ہر کوئی ہمیں  اپنی مرضی اور پسندیدگی کی بناء پر اپنے پسندیدہ ناموں سے پکار لے تو کئی ناموں سے شہرت  ملتی بھی ہے۔۔

جیسے میرا ایک شعر بھی ہے کہ،

  کیسے کیسے نام دئیے ہیں رشتوں نے

خوشبو ملکہ اور شہزادی عورت ہے۔۔

یوں تو میرا اصل نام،  ”ناز فاطمہ“ ہے۔۔نک نیم شاداب“ پھر شادی کے بعد ”ناز عارف “ جو ہمارے ہاں فرسودہ نظام رائج ہے۔۔میں سمجھتی ہوں ضروری نہیں ہوتا کہ شادی کے بعد شوہر کا نام لگایا جائے اور ہمارے ہاں اسلام میں بھی یہ ضروری نہیں۔

اور شوہر نے جو نام دیا ہے سو اب ”حسین ناز“  ہی پہچان بن گٸی ہے۔۔۔

سوال۔ آپ کی پیدائش کا دن مہینہ اور سال؟ 

جواب.... آپ نے ایک ہی سانس میں تین سوال کر ڈالے۔

میری پیدائش14 نومبر کی  ہے اور یہ لوگ 100 %  Scorpion ہوتے ہیں ۔۔میرے ایک شعر کا  مصرعہ قارٸین کے لیے

”مضبوط مرا عزم ہے فولاد ارادے“

اور ۔۔،

کہہ دو کہ وہ ترک کے تعلق کا نہ سوچے

میں اس کی انگوٹھی میں نگینے سی جڑی ہوں۔۔

اور ایک قطعہ۔۔

”لڑنا پڑے گا اب ہمیں ظالم سماج سے 

بیزار ہو گئے ان رسم و رواج سے

 

 حق بات کے حصول کو میداں میں آئیے

 ملتا نہیں ہے کچھ یوں فقط احتجاج سے“

سوال۔ اپنے ادبی سفر کے آغاز کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب۔۔۔یوں تو ادبی سفر، مطلب لکھنے لکھانے کا سلسلہ میٹرک سے ہی شروع ہو گیا تھا کیونکہ ہماری دھدیال اور ننھیال میں سبھی لکھنے پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں۔۔

ہمارے دادا، ” محمد ادریس انور میرٹھی“ خود بڑے شاعر تھے۔۔

دادا کی اک غزل یاد آرہی ہے جب وہ انڈیا سے اپنے والد کے ساتھ پاکستان آ گئے تھے اور  ہمارے والد صاحب  ان کے ساتھ تھے جو کہ صرف ڈھائی سال کے تھے  تو بیگم سے دوری پر انہوں نے خط میں جو غزل لکھی وہ ہمارے ہاتھ لگی۔۔!_

”جب بھی جس وقت بھی سامنے آؤ گے 

رنگ اڑ جائے گا اور گھبراؤ گے

 دل میں پاؤ گے انجان سی اک خلش 

خود بھی تڑپو گے ہم کو بھی تڑپاؤ گے 

دور پردے میں چھپ کر جو بیٹھے ہو تم

 تم نے سوچا ہے نظروں سے بچ جاؤ گے

تم کو فرصت نہیں ہم کو اجلت نہیں 

ہم بھی دیکھیں کہ کب تک نہیں آؤ گے 

زندگی عشق نے حسن کو بخش دی 

جان انور یہ تم نہ سمجھ پاؤ گے۔۔“

ہم اکثر و بیشتر اس طرح کے باتیں سنتے ہیں کہ،

”کون لکھتا ہے شوہر اور بیوی کے لیے“۔۔

میں سمجھتی ہوں کہ محبت کے جذبات ظاہر ہے ماں سے شروع ہوکر پھر ماں سے لے  کر  پھر کٸی رشتوں میں بٹ جاتے ہیں۔۔

سوال۔ ادبی دنیا سے آپ کو کس نے متعارف کروایا؟

جواب۔۔۔  یوں تو ادبی دنیا سے رشتوں نے ہی متعارف کروایا اور جب آرٹس کونسل میں اک پروگرام میں مشاورتی سلسلے کے حوالے سے شہانہ جاوید نے اپنے والد کی کتاب کے لیے مدعو کیا  تو وہاں پر لوگوں نے کہا کہ آپ اچھا لکھتی ہو اچھا کہتی ہو تو پڑھ بھی ڈالو۔۔ یوں پہلی بار گٸی تھی مشاعرہ سننے۔۔۔

 اور ادبی دوستوں کے اسرار پر کلام سنا بھی ڈالا۔۔۔اور یہ غزل بہت پسند کی گٸی بلکہ یوں کہا جائے کہ  باعث شہرت بنی ۔۔ 

اپنے قارئین کی بصارتوں کی نذر کرنا چاہوں گی۔۔

”کوئی مجرم ہے یہاں کوئی سہولت کار ہے

 ایک ٹولہ ہے جو ہم سے برسر پیکار ہے

 پڑ گیا تخریب کاری کا یہاں جب سے رواج 

خون میں لتھڑا ہوا ہر روز کا اخبار ہے 

ہو گئی ماحول میں آلودگی بھی اس قدر 

سانس لینا بھی ہمارے واسطے دشوار ہے

دل ہمارا توڑ کر جو چل دیا ہے لمحہ بھر

اس سے اب امید کوئی رکھنا بھی بیکار ہے

کس طرح انصاف ہوگا ایسی حالت میں کہ اب۔!!

پاسبان عدل بھی ہر اک جانبدار ہے

اجلے کپڑوں سے ہی ہوتی ہے یہاں تکریم ناز۔۔۔ 

دنیا والوں کے لیے تو اک یہی معیار ہے“

اور جب اس کی غزل کا شارٹ کلپ  جو کہ ہمارے بہت اچھے ادب دوست شاعر، ”ارشد عرشی“ کی بدولت خبروں اور گروپس وغیرہ کی زینت بنا اور ساتھ ہی شاہانہ جاوید جن کے والد خود استاتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔۔ ان ادب دوستو ں کے  اسرار پر کٸی بہترین اساتذہ کی صدارت  میں پڑھا۔۔ جن میں چیدہ چیدہ نام۔آفتاب مضطر، سعید الظفر، دلاور علی آزر اور کٸی بہترین شاعر شامل  ہیں۔

 پھر اچانک سے پروفیسر مقصود جعفری کی کال آئی میرے پاس اور انہوں نے بہت ہی داد و تحسین سے نوازا۔۔جو میرے لیے ایک بہت بڑی خوشی کا لمحہ تھا۔

سوال۔ ہربل ڈاکٹر اور شاعری دونوں کیسے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ؟

جواب۔ کبھی بھی وقت ملتا نہیں نکالنا پڑتا ہے۔۔جناب شاعری تو وقت کے ساتھ ساتھ جگر کا خون مانگتی ہے۔ آسان کام نہیں۔۔

اور کبھی کبھی تو ابر بن کر آپ کے آنگن میں برس جاتی ہے  تو کبھی روح کی تشننگی کے لیے برسات کے منتظر ہی  رہتے ہیں کہ شاید کوٸی لفظ قطرہ بن کر پیاس بجھاۓ۔

رہا ہربل کا تو جناب اس کے لیۓ خدمت خلق کا جذبہ اولین  حیثیت رکھتا ہے۔۔ دراصل شاعری اور  طب مجھے وراثت میں ملی۔۔ تو بس خون میں جو جراثہم ہوتے ہیں وہ مرتے نہیں۔کہیں نہ کہیں منظر پر آ  ہی جاتے ہیں۔ اب ہربل باقاٸدہ نئے نام کے ساتھ متعارف کروارہی ہوں ۔۔۔پہلے  ”الشفاء ہوم میڈ ہربل پروڈکٹ“ کے نام سے آن لائن کررہی تھی جو اب 

 “BlissNaz  Naturals ”

سے  شروع کیا ہے۔۔۔ سو یہ میرے خون میں رچا بسا ہے تو دعا کریں بہ خیر و خوبی انجام دے سکوں۔۔۔سوال۔ آپ کے گھر والے آپ کے ادبی کارناموں کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں ؟

جواب۔۔الحمد لله.۔۔ !! نہ صرف ہمارا گھرانہ  بلکہ میرے سسرال والے بھی ادب کا ذوق  رکھتے ہیں اور میری ساس اللہ انھیں جنت  میں اعلی مقام عطا کرے  ہمیشہ میری دلجوٸی کیا کرتی تھی۔۔اور جب کوئی انٹرویو آتا تو پورا گھر جمع ہو کر دیکھتا تھا۔۔  مگر یہ ساری خوشیاں  ان ہی کے دم سے تھیں ۔۔۔مختصر یہ ہے کہ میرے بچے بھی  لکھنے اور گانے کا شوق رکھتے ہیں۔۔

سوال۔ آپ کی کوئی کتاب شائع ہوئی ہے ؟

جواب۔۔۔کتاب شائع کرنے کی خاص جلدی نہیں۔۔کئی سالوں سے کوشش میں ہوں مگر۔۔۔،!! زندگی کی کتاب  کے کٸی اوراق سمیٹنے کی جستجو میں ہوں۔۔۔

 چند اشعار  زیر لب آ گئے۔۔

رشتوں کی تقسیم میں بکھری بکھری ناز 

پوری دنیا میں بس آدھی عورت ہے۔۔

ہر قربانی ہنستے ہنستے دے جائے

نفسا نفسی میں دل زادی عورت ہے۔۔

اس کی رحمت سب پر کھل کر برسے گی 

اب دربار میں اک فریادی عورت ہے۔

سوال۔ آپ کو اپنی کون سی غزل زیادہ پسند ہے ؟

جواب۔کلام تو سب ہی اچھا لگتا ہے یہ تو یوں ہی ہوا کہ اپ کو اپنے سارے بچے عزیز ہوتے ہیں کس کا انتخاب کیا جاۓ

چند اشعار بتاتی ہوں 

آدمیت کا بھی اک معیار ہونا چاہیے 

ایک دوجے سے سبھی کو پیار ہونا چاہیے

صبح صادق کی اذاں سے آ رہی ہے یہ صدا 

خواب غفلت سے ہمیں بیدار ہونا چاہیے

ہر جگہ سے آ  رہی ہے اب تو نفرت کی خبر 

اب محبت کا بھی ایک اخبار ہونا چاہیے

 تخلیق میں شعور کو اولین حیثیت حاصل ہے۔۔ کسی بھی چیز کے شعور کےبغیر تو اپ کوئی کام کر ہی نہیں سکتے۔۔

چند اشعار۔۔


صبح کرتے ہیں شام کرتے ہیں

ذکر ترا مدام کرتے ہیں

باوضو تجھ کو سوچتے ہیں

 ہم سوچ کا احترام کرتے ہیں 

 جتنی سانسیں بچی ہیں سینے میں 

وہ سبھی تیرے نام کرتے ہیں

ناز قسمت ہے خوب بھنوروں  کی

 گل کے رخ پر قیام کرتے ہیں۔۔

سوال۔ ادب میں مقبولیت کا مسئلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے اس وقت اپنے آپ کو کس مقام پر محسوس کرتی ہیں ؟

جواب۔ ابھی میں ناچیز خود کو کس مقام پہ محسوس کروں میں نہیں سمجھتی ابھی بہت کچھ  سیکھنے کی ضرورت ہے۔۔ ابھی  کئی مرحلوں سے گزرنا پڑے گا۔

خواتین کا عالمی دن  قریب ہے  دو شعر قارٸین  کی بصارتوں  کی نذزر کرنا چاہوں گی۔


عورت ہُوں تواریخ کے اوراق ہیں شاہد

میں دوست بھی گہری ہوں تَو دشمن بھی بڑی ہوں


اے مرد۔!  تجھے چاہئیے تسلیم کرے تُو

میں ماں ہوں، تری فہم و فراست سے بڑی ہوں۔ ۔

سوال۔ کیا ادب اور مذہب میں کوئی تعلق ہو سکتا ہے ؟

جواب۔۔جب ہم مذہب کی بات کرتے ہیں تو  ہمارا مذہب ہمیں ادب سکھاتا ہے۔ادب  نہیں تو ہر چیز محور سے ہٹ جائے گی، بٹ جائے گی، چکنا چور ہو جائے گی ہر فرد معاشرے کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے ۔ جاوید عاطف صاحب نے کیا خوب کہا تھا کہ


گلے کے سانپوں سے لڑنے والو اِن آستینوں کا کیا کرو گے

جو یار سینے میں بُغض رکھتے ہوں اُن کمینوں کا کیا کرو گے


تمہاری آنکھوں کو زرد بیلوں کی آبیاری سے کیا ملے گا 

نکال پھینکو حنوط لمحوں کو اِن دفینوں کا کیا کرو گے 


نظر کے عدسے میں ایک مُشتِ غبار کب  تک دکھائی دے گا

خلا سے خالی نگاہ لوٹی تو دور بینوں کا کیا کرو گے 


ہزار ماتھوں پہ لَو بناؤ , ہزار سجدے نشان ڈالیں 

جو دل کے دامن پہ داغ ٹھہرے تو اِن جبینوں کا کیا کرو گے


حیا کا, پردے کا درس دیتے شریف زادوں سے پوچھنا تم 

کہ ساری باتیں بجا ہیں لیکن تماش بینوں کا کیا کرو گے

سوال۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کے کلام میں نغمگی اور شعریت پائی جاتی ہے؟

جواب۔ آپ نے بہت خوبصورت بات کہی یوں تو ہر کلام میں نغمگی نہیں پاٸی جاتی۔۔  بلاشبہ کلام میں اگر روانی اور  تسلسل نہیں تو وہ ہر ایک کے دل میں گھر نہیں کرتا۔۔ 

 جس طرح رب کاٸنات نے نہ صرف قران پاک بلکہ   دنیا کی ہر چیز میں ایک تسلسل، روانی اور نغمگی رکھی ہے اسی طرح اس ذات کا کرم ہے کہ اس نے   خوبصورت  عقل و فہم  سے دل  و دماغ کو آراستہ کیا ہے۔۔

اک غزل۔۔۔


رابطہ گر بحال ہو جائے

 تم جو آؤ کمال ہو جائے

 

 تجھ پہ پڑ جائے ایک بار کبھی وہ نظر بھی سوال ہو جائے


مرے اندر ہے وجد کی حالت

 اے فقیروں دھمال ہو جائے


زندگی سے تجھے نکال جو دوں تیرا جینا محال ہو جائے

سوال۔ پاکستان کی جدید ترین شاعرات کے نام ؟

جواب۔ پاکستان میں کئی ایک شاعرات ہیں جو بہت اچھا کلام  کہہ رہی ہیں بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔۔


ایسا نہ ہو کہ وہ کہتے ہیں نا کہ ناموں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

ساری ہی خواتین بہت اچھا کلام کہہ رہی ہیں نغمگی بھی ہے شائستگی کے ساتھ بھی ہے نسوانیت بھرے لہجے بھی ہیں سب ہی کا بہت زبردست کلام ہے


”پروفیسر رضیہ سبحان“ کا ایک خوبصورت شعر جو شاید ہر عورت کی اواز ہے۔۔۔

میں نے جس گھر کو سجایا تھا بڑی چاہت سے

 آج دیکھا تو وہاں میری ہی تصویر نہ تھی

سوال۔کوئی خوبصورت کام جو منظر عام پر آنے کے باوجود ارباب علم و فن کی نظر میں دیر سے آیا ہو اور پھر آپ کو کھل کر داد ملی ہو؟  

جواب۔ ویسے تو میں اپنے پروردگار کی شکر گزار ہوں کہ میرا پہلا کلام ہی منظر پر ایا اور شہرت و کامیابی ملی

اورنہ صرف پروفیسر مقصود جعفری نے بہت ہی دادو تحسین سے نواز۔۔ بلکہ انٹرویوز وغیرہ اور اس کا ایک سلسلہ جاری و ساری ہو گیا مگر میرے خیال میں ابھی میرا کوئی کام بھی منظر پر آیا نہیں ہے جو میں منظر پہ لانا چاہتی ہوں یا میرے پاس ہے ان شاءاللہ آئے گا بہت جلد۔

سوال۔ آپ کی ذات کی کون سی ایسی کمزوری ہے جسے آپ دور کرنا چاہتی ہیں؟

جواب۔۔۔میں سمجھتی ہوں کہ بس جس کام کے پیچھے لگ جاؤں تو وہ چھوڑ نہیں سکتی۔

سوال۔ کیا آپ خود کو کامیاب سمجھتی ہیں؟

جواب۔ کامیاب تو کوئی بھی نہیں ہوتا کوئی نہ کوئی خامی کوئی نہ کوئی ادھورا پن رہ جاتا ہے رب کی  ذات  کے علاوہ کوئی بھی ذات مکمل نہیں۔۔۔

اج بھی کام محبت کے بہت نازک ہیں

دل کا انداز وہی خانہ خرابوں والا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باغ میں پھول ڈھونڈنے ہیں تو

میری خوشبو تلاش کر لینا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, February 24, 2024

احسان الٰہی احسان شاعر اردو ، پنجابی اور انگریزی( انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری )

 





احسان الٰہی احسان

اردو۔ پنجابی اور انگریزی زبان کے شاعر

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991

آج ہم جس ادبی شخصیت سے آپ

 کی ملاقات کرآئیں گے ان کا نام احسان الہی احسان ہے جن کا تعلق تترال نزد چکوال سے ہے۔ آپ اردو، پنجابی اور انگریزی میں شاعری و افسانہ نگاری کرتے ہیں۔ دو اردو شعری مجموعے ”یہ خواب میرے خیال میرے (1999)، سبھی رنگ میرے اپنے“ (2007) اور ایک انگریزی مجموعہ کلام The lost world (1999)شائع ہو چکے ہیں۔  سوال۔ سب سے پہلے آپ اپنی زندگی کے حالات و واقعات کا مختصر سا جائزہ لیتے ہوئے کیا کہیں گے؟

جواب۔  میری پیدائش موضع تتر ال چکوال کی ایک مڈل کلاس فیملی میں 15 مارچ 1941ء کو ہوئی۔با قاعدہ تعلیم میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول چکوال سے حاصل کی اس کے بعد تمام تعلیم پرائیویٹ

حاصل کی۔ ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے کیا۔ میرےوالد محترم حاجی اللہ داد معمار کا کام کرتے تھے۔ میٹرک کرنے کے بعد میری انتہائی خواہش تھی کہ باقاعدہ کالج سٹوڈنٹ کے طور پر تعلیم حاصل کروں لیکن والد صاحب کے مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ تعلیم کو جاری رکھ سکوں۔ 1957میں میٹرک کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جہلم اور راولپنڈی میں ملازمت کی۔1967 میں ایم اے انگلش کیا پھر ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد تعلیمی میدان میں آگیا۔ آر اے کالج پیر پھلا ہی بطور انگلش پروفیسر رہاوہاں کی انتظامیہ سے کسی وجہ سے اختلاف ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا اور پرائیویٹ ٹیچر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ 1976 میں سعودی عرب چلا گیا

اور وہاں دو مرحلوں میں ایک ہی کمپنی میں بطور ایڈمینسٹریٹر دس سال مقیم رہا۔

واپسی پر میں نے دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کیں اور آج میری اپنی اکیڈمی اقراء قائد اکیڈمی کے نام سے قائم ہے جہاں ایف اے، بی اے اور ایم اے کی کو چنگ کے ساتھ ساتھ پی وی پی۔سی

ایس اور سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری کراتا ہوں۔

سوال۔ سعودی عرب کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی بات؟

 جواب۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران بزم فانوس کا میں سرگرم کارکن رہا ہوں اور اس کے تقریباً تمام مشاعروں میں شرکت کرتا رہا اس تنظیم میں برصغیر پاک و ہند کے شعراشرکت فرماتے تھے۔ نسیم سحر صاحب سے میری ملاقات انہی مشاعروں میں ہوتی رہی۔ سعودی عرب میں یا کسی بھی مڈل ایسٹ میں اپنے لوگوں سے ملنے کا اپنی زبان کو سننے اور مشاعروں میں سامعین کی شرکت بڑےذوق وشوق سے ہوتی ہے کیونکہ دوسرے ملکوں میں جا کر پاکستانیوں کو اپنے وطن کے لوگوں اور زبان کا بے پناہ شوق پایا جاتا ہے اور ایسی تقریبات میں شامل ہونے کے لئے لوگوں میں ایک بہت پاکیزہ قسم کی بھوک پائی جاتی ہے بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا اس کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ تو مالی ضرورتیں ہیں جو ہمارے سماج میں باقی تمام چیزوں پر حاوی ہیں۔

سوال۔  چکوال کے اندراد بی میدان میں آپ کی کیا خدمات ہیں؟

جواب۔ ادبی میدان میں ایوانِ ادب چکوال کا صدر ہوں یہ تنظیم میں نےاور باقروسیم نے 1994ء میں قائم کی جو آج تک چل رہی ہے جو کہ ادبی میدان میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ ایوان ادب کے عہدے داران میں عابد جعفری چیئر مین، ناسک اعجاز اور اسلم ایوب نائب صدر، قاضی با قر وسیم سیکرٹری جنرل، ناطق جعفری جوائنٹ سیکرٹری فقیر عباس تاجر ایڈیشنل جوائنٹ سیکرٹری نعیم شاہد چیف آرگنائزر اور نور علی شکوری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ لیگل ایڈوائزر ہیں۔

اس تنظیم کے ایک سو ممبران ہیں جن میں پچیس نمایاں شاعرہیں۔ تنظیم کا ایک شعبہ خواتین ونگ بھی ہے جس کی صدر شمیم جاوید اور سیکرٹری جنرل عظمیٰ صرف ہیں عصمت نورین جعفری ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور فرزانہ یاسمین سیمیں جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔ ایوانِ ادب اب تک سولہ کتابیں شائع کر چکی ہے۔ میری تخلیقات میں دو کتابیں اردو شاعری کی خواب میرے خیال میرے بھی رنگ میرے اپنے اور ایک کتاب انگلش شاعری The lost world شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جناب یحییٰ خان کی تمام کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا جس کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔

سوال۔  آپ اردو، پنجابی اور انگریزی تینوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں کیا یہ بتانا پسند کریں گےکہ آپ نے لکھنے کا آغاز کب اور کن حالات میں کیا؟

جواب۔ میں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز1959میں کیا۔ چکوال میں ادبی تحریک کی ابتدا کرنے کا سہرا چکوال کی دو تنظیموں بزم ثقافت اور اردو مجلس چکوال کے سر ہے۔ میں اردو مجلس چکوال کا ایک کارکن اور مجلس عاملہ کا ممبر رہا ہوں سب سے پہلے میری غزلیات اردو مجلس کی کتاب جو کہ1964 میں شائع ہوئی جس کا نام سبزہ بیگانہ ہے میں شائع ہوئیں۔

سوال۔ آپ اردو، پنجابی اور انگریزی شاعری میں سے کس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور کیوں؟ جواب۔ اصل میں جو بنیادی چیز ہے وہ جذبات اور جذبات کی صحیح طرح سے ترتیب اور تنظیم ہوتی

ہے مجھے ان تینوں زبانوں میں شاعری کرنے میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔

سوال۔ کیا آپ آج کل کی شاعرات کی شاعری سے مطمئن ہیں؟

جواب۔ آج کل شاعری فنی لحاظ سے تو شاید اتنی مکمل نہیں ہے لیکن جذبہ اور جذبات ہوں تو فنی اکتساب سفر کے ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے اس لحاظ سے شاعرات کی قدر کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی

کرنا ضروری ہے اور ان کا جذ بہ اور جذبات حوصلہ افزا ہیں۔

سوال۔ آپ کے خیال میں ادب پہلے سے بہتر تخلیق ہو رہا ہے یا کم تر؟ جواب۔ میرے خیال میں موجودہ ادب پہلے سے بہتر تخلیق ہورہا کیونکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں بڑا فرق آگیا ہے اور یہ فرق موجودہ شاعری میں بھر پور طور پر منعکس کیا جارہا ہے۔

سوال۔ آپ کے خاندان میں آپ سے پہلے بھی کوئی لکھتا تھا یا اب کوئی لکھتا ہے تو اس کا ذکر اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو ہو جائے؟

 جواب۔ پہلے تو کوئی نمایاں نام نہیں تھا البتہ اب میرے خاندان میں نئے نام شامل ہیں جن میں میرا بیٹا سائل محمود سائل افسانہ لکھتا ہے اور اس کی بیوی عظمی صدف جو کہ میری بہو ہے شاعری کرتی ہے اس کے علاوہ نور علی شکوری اور شکیل احمد شکیل شامل ہیں۔

 سوال۔ نئے لکھنے والوں میں آپ کسی کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور کیوں؟

جواب۔ میں شاعروں کے بجائے اشعار کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں کیونکہ بنیادی حیثیت شعر کی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی کا ایک ہی شعر کیوں نہ ہو۔ نئے لکھنے والوں میں قابل جعفری، اسلم ایوب، ناطق

جعفری اور حسین اختر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

سوال۔ آپ کا اپنا پسندیدہ کلام؟

جواب۔ دو شعر پیش خدمت ہیں۔ 

تمام عمر کا حاصل ہوا یہی احسان ہمیں جہاں میں کسی اور طرح جینا تھا


جو بات کرنے کی خاطر ہم عمر بھر ترسے

وہ بات پھر بھی ادھوری ہی رہ گئی اپنی

سوال۔ آپ کافی عرصہ ہو گیا ہے ادب سے وابستہ ہیں کیا وجہ ہے کہ آج کل ادیب اور شاعر کی اس

طرح قدر کیوں نہیں کی جاتی جیسے پہلے کی جاتی تھی؟

جواب۔ اس بارے میں سب سے بڑا ہا تھ بک پبلشرز کا ہے جو اپنی پسند کی شاعری کو شائع کرنے

کو اہمیت دیتے ہیں، دوسرا کتابوں کی اشاعت میں بہت زیادہ روپے کی ضرورت ہے، تیسرے پاکستان کے ہر صوبے کی طرح ادب میں اجارہ داریاں قائم ہیں جن کی وجہ سے اصل شعرا کو آگے آنے میں بہت دشواری آتی ہے حکومتی کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جس میں تخلیق کاروں کی تخلیقات کو سامنے لانے کا کوئی بندوبست ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے لوگ حوصلہ شکنی کا شکار ہیں جو نام نہا د ادارے اس کام کے لئے مختص کئے گئے ہیں ان میں بھی دو نمبر کے لوگ آگئے ہیں جن کی اجارہ داریاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ الیکٹرانک میڈیا بھی شہروں اور مخصوص لوگوں تک محدود ہے۔ اصل شاعری مضافات شہر میں ہوتی ہے جس کی طرف کوئی رخ بھی نہیں کرتا۔ یہ اجارہ داریاں بھی زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں قائم کی گئی اجارہ داریوں کی طرح ہیں اور ان اجارہ داریوں کو ختم کرنے کے لئے ہمیں صیح معنوں میں پورے سماجی ڈھانچہ میں تبدیلی کی ضرورت ہےجس کی ابتدا ابتدائی تعلیم اور سکولوں کی تعلیم سے کی جاسکتی ہے۔

سوال۔ انٹرویو کے آخر میں آپ کا پیغام کیا ہے؟

جواب۔  میرا پیغام تمام تخلیق کاروں کے لئے چاہے وہ شاعری سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی بھی فن سے وابستہ ہیں یہ ہے کہ تقدیر پر بھروسہ رکھیں اور اپنے جس بھی مشن کو جاری کیا ہوئے ہیں اس کو پوری لگن کے ساتھ جاری رکھیں۔

Friday, February 23, 2024

سعدیہ ہما شیخ ( شاعرہ / ادیبہ ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 





سعدیہ ہما شیخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 شاعرہ اور ادیبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991


معروف شاعرہ اور ادیبہ سعدیہ ہما  شیخ 26 جنوری1989ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد واپڈا سے آر او ریٹائرڈ ہیں اور غلہ منڈی میں آڑھت کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ والدہ ہاوس وائف ہیں۔ ایم سی گرلز ہائی سکول سے میٹرک ڈگری کالج سے بی ایس سی قائد اعظم لا کالج سے لا سرگودھا یونیورسٹی سے ایم اے  پولیٹیکل سائنس ایم اے پاک سٹڈیز اور النور انٹرنیشنل سے ڈپلومہ ان اسلامک ایجوکیشن کیا۔

سعدیہ ہما شیخ کا شمار سرگودھا کی معروف شخصیات میں کیا جاتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں وکالت شاعری اور معروف لکھاری ہونے کے علاوہ مختلف رفاعی وفلائی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں۔سعدیہ عمر شیخ سے ایک تفصیلی گفتگو ہوئی جو نظر قارئین ہے۔  

سوال۔ آپ نے  لکھنے کا آغاز کب اور کیوں کیا؟ 

جواب۔ لکھنے کا آغاز سکول دور سے ہی ہو گیا جب اپنی تقریریں لکھنا شروع کیں ادیب پیدائشی طور پر ذہین یوتا یے آپ کے اندر ایک بے چینی ہوتی ہے اردگرد کے حالات آپ کو لب کھولنے پر مجبور کرتے ہیں اسی طرح معاشرتی نا انصافی اور ظلم ہوتا دیکھ کر میں نے آواز بلند کی اور لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔

سوال۔ آپ کی نثری تخلیقات؟ 

جواب۔ میں نے نثر میں افسانہ ناول کالم اور سفرنامہ لکھا یے میرے کالم اور افسانے رومانوی نہیں معاشرتی اور اصلاحی ہیں اسی طرح کالم میں بھی مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ہوتا ہے۔

سوال۔ آپ کی اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ؟

جواب۔ؔمیری اب تک 8 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ وصل میں تشنگی۔ اقوال ہما۔ بال ہما۔ وادی کالام کا فسوں( افسانہ )۔خوابوں کے رنگ (ناول)۔تعزیر وحد( مختصر کہانیاں) ۔مشرک پیا( مجموعہ کلام) ۔ سیرت ہر امت کے وکیل۔

سوال۔ آپ شاعری میں نظم کی بجائے غزل کی طرف زیادہ مائل نظر آتی ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟

جواب۔ غزل مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہ مکمل جزبات کی تشریح کر دیتی ہے اور اس میں ایک موسیقیت ایک ردھم ہوتا ہےمگر اب جدید نظم غزل سے آگے اس لیے جا رہی ہے کیونکہ نظم اوزان سے عاری ہوتی ہے اور غزل سے آسان ہے۔

سوال۔ شاعری میں باقاعدہ اصلاح آپ نے کس سے لی؟

جواب۔ اصلاح میں نے امجد اسلام امجد سے لی بہت گریٹ تھے وہ میری پہلی کتاب پر اپنی بھرہور رایے دی۔

سوال۔ افسانہ۔ ناول ۔کہانی اور ڈرامہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟

جواب۔ مجھے افسانہ پسند یے کیونکہ یہ مختصر ہوتا ہے اب لمبے طویل ناولوں کی فرصت کسی کے پاس نہیں اور ڈرامہ زیادہ اٹریکٹ کرتا ایک بہترین تفریح۔

سوال۔ شاعری کے لیے کیا علم عروض سیکھنا ضروری ہے ؟

جواب۔ عروض کے بغیر تو شاعری ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم جیسے سر کے بغیر سنگیت  جسے عروض کا نہیں پتہ اسے میں شاعر مانتی ہی نہیں۔ 

سوال۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی تنقید ۔زبان۔ اسلوب اور افکار گہرے ہیں۔ آپ کے ان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں ان کے بارے میں کیا کہیں گی؟ 

جواب۔  ڈاکٹر وزیر آغا سرگودھا کا بہت بڑا ادبی حوالہ ہیں اور مجے یہ فخر ہے کہ میری پہلی کتاب کا فلیپ آغا جی نے لکھا ان دنوں وہ بیمار تھے اور لاہور میں مقیم تھے ان کا خلاء جو ہے اسے کوئی  پورا نہیں کر سکتا مجھے ان کی شفقت ملی یہ میرا مان ہے میرے شعری مجموعے وصل میں تشنگی پر انہوں نے فلیپ لکھا۔

سوال۔آپ کی ہم عصر شاعرات؟ 

جواب۔ ہم عصر شاعرات سے میں یہ کہوں گی کہ دوسرے کو کاپی کرنے سرقہ کرنے اور نقل محض سے نکل کر اپنی پہچان بنائیں تا کہ  آپ کا کلام بولے۔

سوال۔ معروف شاعرہ ثمینہ گل کے ساتھ تعلق کا اظہار کس طرح کریں گی ؟

جواب۔ ثمینہ گل بہت اچھی شاعرہ اور نفیس خاتون ہیں اس کے ساتھ ساتھ استاد بھی ہیں اکثر مشاعروں میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔

سوال۔ آپ اپنی اقوال زریں کی  کتاب سے چند اقوال زریں قارئین کے لئے شامل کرنا چائیں گی؟  

جواب۔ اقوال ہما کو لوگوں نے بہت پسند کیا اس پسندیدگی کے لیے مشکور ہوں۔محبت چاند کی طرح گھٹتی بڑھتی  نہیں کہ وفا دیکھ کر زیادہ اور بے وفائ دیکھ کر کم ہو جایے یہ تو ایک میٹھا زہر ہے جو آپ کی رگوں میں سرائیت کر جاتا ہے۔ابلیس نےآدم کو سجدے سے انکار کر کے سب سے پہلے میری مرضی کا نعرہ لگایا اور جنت سے نکل کر زندہ درگور ہو گیا۔

رات کے تیسرے پہر شر اور خیر دونوں قوتیں زور پر ہوتی ہیں یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ رحمان کو چنتا ہے یا شیطان کو۔

سوال۔ شعبہ وکالت آپ نے کیوں اختیار کیا؟ 

جواب۔ شعبہ وکالت میری گھٹی میں یے میرے نانا چاچو اور بھائ سب وکیل ہیں خواتین کی بدتر حالت دیکھ کر میں نے سائنس چھوڑ کر وکالت کرنے کا فیصلہ کیاادیب پیدائشی ہوتا یے اور شعبہ آپ منتخب کرتے ہیں  نا انصافی اور عورت کی آواز بننے کے لیے یہ شعبہ منتخب کیا سپیشلی جیل کی خواتین کے لئے جو سب سے مظلوم ہیں جن کی کوی داد رسی نہیں کرتا۔میں جیل ریفارمر کمیٹی کی چئیر ہرسن بھی ہوں۔

سوال۔ گھر کے کاموں کے لیے کس طرح وقت نکالتی ہیں ؟

جواب۔ گھر میری پہلی زمہ داری ہے اپنے بچوں کی ڈرائیور اور کک بھی ہوں۔

سوال۔ آپ کی زندگی کے قابل فخر لمحات ؟

جواب۔ زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جنہیں انسان ہمیشہ یاد رکھتا ہے ایسے کچھ لمحات میری زندگی میں بھی آئے جنہیں میں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ جب میں نے گولڈ میڈل لیا۔ جب میں نے وکالت کی ڈگری لی اور جب میں نے سرگودھا بار کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیتا۔

سوال۔ ہمارے قارئین کے لئے کلام؟ 

جواب۔ تازہ کلام پیش خدمت ہے جس کا عنوان ہے عورت :

کبھی سوچو تو رشتوں کی ہے پوری کہکشاں عورت

بہن،بیوی کہیں بیٹی کہیں دیکھو ہے ماں عورت


یہ ہر اک روپ میں پیاری یہ ہر اک رنگ میں اعلیٰ

کہیں نازک کلی سی ہے کہیں کوہِ گراں عورت


عدالت ہو کہ مکتب ہو شفاخانہ یا دفتر ہو

ہمیں آسانیاں بانٹے جہاں دیکھو وہاں عورت


کبھی گھر میں یہ ماں ہے تو کبھی جج ہے عدالت میں

سدا انصاف کرتی ہے بنے منصف جہاں عورت


ہمیشہ احترامِ باہمی ہے فلسفہ اس کا

غلط فہمی میں مت رہنا کہ ہو گی ناتواں عورت


کہیں پھولوں سے نازک ہے کہیں تصویر ہمت کی


کبھی جھرنا خوشی کا تو کبھی عزمِ جواں عورت


ہما تصویر چاہت کی وفا کا استعارہ ہے 

تو استبداد کے آگے ہے جرآت کا نشاں عورت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری بات کا ہوگا اثر آہستہ آہستہ 

نکل جائے گا تیرے دل سے ڈر آہستہ آہستہ 


ملک پر جو ستارے کہکشاں  بن کے چمکتے ہیں 

انہی کے خون سے ہوگی سحر آہستہ آہستہ 


ذرا سی بات پر یک دم نگاہیں پھیر لیں تم نے 

کیا کرتے ہیں اپنوں سے مفر آہستہ آہستہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کانوں میں پڑنے والی پہلی آواز ( یاسین یاس )

 





کانوں میں پڑنے والی پہلی آواز 

تحریر : یاسین یاس 

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کانوں میں گونجنے

 والی سب سے پہلی آواز اس کی ماں کی ہوتی ہے حتی کہ اذان بھی اس کے کانوں میں اس کے بعد دی جاتی ہے اس لیے بچہ کان میں پڑنے والی پہلی آواز کو کبھی نہیں بھول سکتا یہی وجہ ہے انسان جتنا مرضی لکھ پڑھ لے چاہے جتنی زبانوں پر مرضی عبور حاصل کر لے اس کی ماں کی بولی ان سب پر ہمیشہ حاوی رہتی ہے ہر سال کی طرح اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا شہر شہر گاؤں گاؤں لوگوں نے  اپنی ماں بولی کے حوالے سے جلسے جلوس سیمینار اکٹھ مشاعرے ڈھول ڈھمکا اور اپنا کلچر نمایاں کیا پنجابی زبان ایک بڑی زبان ہے جس کے پروگرام بھی زیادہ ہوئے اور نمایاں رہے خوشی کی بات ہے 

ماں بولی پنجابی کے لیے بہت ساری ادبی تنظیمیں  اپنی مدد آپ کے تحت مختلف قصبوں شہروں اور ملکوں میں کام کر رہی ہیں آج میں جس ادبی تنظیم کا ذکر کرنے جا رہا ہوں اس کا نام ہے بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل جس کو عابد تمیمی کے شاگرد اپنے اپنے انداز میں چلا رہے ہیں کوئی کسی شہر میں تو کوئی کسی شہر میں مجھے بھی بزم عابد تمیمی چنیوٹ کے پلیٹ فارم نے موقع فراہم کیا اور میں چنیوٹ کے دوستوں سے ملا ان کو سنا ان سے بہت کچھ سیکھا بھی عابد تمیمی صاحب کے شاگرد قابل رشک ہیں جو اپنے استاد کا لگائے ہوئے پودے کا پھل بھی کھا رہے ہیں اور اسے سنبھالے ہوئے بھی ہیں اور نئے آنے والے دوستوں کی راہنمائی بھی کر رہے ہیں اللہ کریم ان کو استقامت دے ۔آمین  آج میں عابد تمیمی کے جس شاگرد جس نوجوان کا ذکر کرنے جارہا ہوں وہ خوبصورت دل رکھنے والا جواں حوصلہ بہترین انسان یاروں کا یار بزم عابد تمیمی کا چمکتا ہوا ستارہ کاشف پنجابی ہے جس نے عابد تمیمی کا شاگرد ہونے کا حق ادا کر دیا وہ ہر روز گرمی ہو یا سردی گھر میں ہو یا گاڑی میں حتی کہ وہ سفر میں بھی ہو تو سانجھا ویہڑا پنجاب دا پروگرام کر رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے استاد سے جڑی ادبی تنظیم بزم عابد تمیمی کا پروگرام ہے میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں بھائی وہ پاکستان میں ہو یا کینیڈا میں بزم عابد تمیمی کو نہیں بھولتا وہ روزانہ فیس بک پر لائیو آکر بزم عابد تمیمی کے پلیٹ فارم سے سانجھا ویہڑا پنجاب دا پروگرام کرتا ہے اور محبتیں بانٹتا ہے اور محبتیں سمیٹتا ہے کاشف پنجابی نے ثابت کیا ہے کہ محبتوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی دیس نہیں ہوتا کوئی ذات پات نہیں ہوتی محبت بس محبت ہوتی ہے وہ اپنی ماں بولی سے جڑے ہوئے ہر اس بندے سے کنیکٹ کرتا ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے ماں بولی کی خدمت کر رہا ہے بزم عابد تمیمی مشاعرے بھی کرواتی ہے سیمینار بھی کرواتی ہے ماں بولی کی کتابوں کی تقریب رونمائی بھی کرواتی ہے نئے آنے والے دوستوں کی اصلاح بھی کرتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے اپنے ساتھ پورا سال جڑے رہنے والے دوستوں کو اعزازی سرٹیفکیٹ دیتی ہےسال 2023 میں  بزم عابد تمیمی اور سانجھا ویہڑہ پنجاب کی طرف سے پنجابی زبان دے مان تران ارشاد سندھو ، زاہد جرپالوی، آصف علی علوی۔ کلبیر سنگھ حسرت ، یاسین یاس ،ستندر جی  کور ، آصفہ مریم ، کملیش سندھو،  فلک شیر نوید،اعظم رانجھا ، مومن ہاشمی، زین جٹ ،صادق 

فدا قادری، امجد عارفی،کاشف تنویر ، مزمل زائر ۔ 

 کو اعزازی سرٹیفکیٹ دیے گئے 

بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل کے سیوک کاشف تنویر کی گورمکھی میں کتاب " سوچ دے اکھر "  کی  

تقریب رونمائی چڑھدے پنجاب 24 فروری کو  پھگواڑا شہر انڈیا 

میں ہو رہی جس کا اہتمام پنجابی ورثہ کی جانب سے کیا گیا ہے پنجابی ادب کا بڑا نام سکھی باٹھ کینیڈا سے شرکت کریں گے میں پنجابی ماں بولی کے سیوک کاشف پنجابی کو ان کی کتاب سوچ دے اکھر کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں میری دعا ہے کہ پنجابی کا یہ خوبصورت پھول اسی طرح ہنستا مسکراتا رہے اور پوری دنیا اس کی خوشبو سے مہکتی رہے 


Wednesday, February 14, 2024

سانجھا ویہڑا پنجاب دا تے بزم عابد تمیمی ( کاشف پنجابی )

 





بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل دا سانجھا ویہڑا پنجاب دا


پنجابی ادب دی سیوا اتے ماں بولی دے پرچار لئی بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل 3 سال توں سوہنے ڈھنگ نال نبھا رہی اے۔

گورمکھی ہووے یا شاہ مکھی لہندا ہووے یا چڑھدا پوری دنیا وچ کتاباں تے مشاعرے آں دے نال نال پنجابی رہتل، وسیب نوں جیوندا رکھن لئی میلے تے پنجابی رسماں رواجاں دے پروگرام کروا کے بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل نے کینڈا توں پنجاب تک دیس، ودیشاں وچ اپنی ماں بولی دی سیوا کر کے سوہنی  پہچان تے نام کمایا اے۔ 

اجوکے ویلے نوں مکھ رکھیئے تاں سوشل میڈیا تے ہر دن لائیو پروگرام سانجھا ویڑھاپنجاب دا سجایا جاندا اے جہدے وچ دنیا بھر دے پنجابی اک دوجے نال وچار وٹاندرا دے نال نال اک دوجے نال اپنیاں لکھتاں تے سوچاں بڑی محبت نال سانجھیاں کردے نیں۔سانجھا ویڑھا پنجاب دا لائیو پروگرام دنیا دے بہت سارے دیساں وچ ویکھیا جا رہئیا اے جہدے نال ودیشاں وچ وسن آلی ساڈی نویں پنیری ، بچے پنجابی سکھدے نیں اتے لکھاری پنجابی ادب،شاعری عروض دے نال نال ہر دن دیاں خبراں وی اک دوجے نال سانجھیاں کردے نیں۔ 

بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل نال جڑے ہوئے لوکاں پورا سال نال جڑ کے محبت پیار سانجھا کرن تے ہر سال ہر ممبر نوں سرٹیفکیٹ۔ مان سمان پتر دتا جاندا اے 2024 دے پیار دے پتر بہت سارے دوستاں نوں دتے گئے نیں تاکہ سارے متر، بہن بھرا اپنی رہتل دیس پنجاب نال جڑے رہن تے پنجابی ادب دی سیوا کردے رہن۔ 

جنہاں دے وچ ۔۔۔

ارشاد سندھو۔ زاہد جرپالوی، آصف علی علوی۔ کلبیر سنگھ حسرت ، یاسین یاس۔ ستندر جیت کور ۔آصفہ مریم۔ کملیش سندھو،  فلک شیر نوید،اعظم رانجھا ۔ مومن ہاشمی، زین جٹ۔صادق فدا قادری۔ امجد عارفی۔کاشف تنویر ۔مزمل زائر ۔ ہور بہت سارے لوگ شامل نین۔

بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل دے سیوک کاشف تنویر ہوراں دی گورمکھی وچ کتاب " سوچ دے اکھر "  دی گھنڈ چکائی کرن لئی چڑھدے پنجاب 24 تریخ نوں  پھگواڑا شہر انڈیا وچ پنجابی ورثہ ولوں  پنجابی ادب دا بہت وڈا نام سکھی باٹھ جی کینڈا توں آ رہے نیں۔