Saturday, February 24, 2024

احسان الٰہی احسان شاعر اردو ، پنجابی اور انگریزی( انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری )

 





احسان الٰہی احسان

اردو۔ پنجابی اور انگریزی زبان کے شاعر

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991

آج ہم جس ادبی شخصیت سے آپ

 کی ملاقات کرآئیں گے ان کا نام احسان الہی احسان ہے جن کا تعلق تترال نزد چکوال سے ہے۔ آپ اردو، پنجابی اور انگریزی میں شاعری و افسانہ نگاری کرتے ہیں۔ دو اردو شعری مجموعے ”یہ خواب میرے خیال میرے (1999)، سبھی رنگ میرے اپنے“ (2007) اور ایک انگریزی مجموعہ کلام The lost world (1999)شائع ہو چکے ہیں۔  سوال۔ سب سے پہلے آپ اپنی زندگی کے حالات و واقعات کا مختصر سا جائزہ لیتے ہوئے کیا کہیں گے؟

جواب۔  میری پیدائش موضع تتر ال چکوال کی ایک مڈل کلاس فیملی میں 15 مارچ 1941ء کو ہوئی۔با قاعدہ تعلیم میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول چکوال سے حاصل کی اس کے بعد تمام تعلیم پرائیویٹ

حاصل کی۔ ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے کیا۔ میرےوالد محترم حاجی اللہ داد معمار کا کام کرتے تھے۔ میٹرک کرنے کے بعد میری انتہائی خواہش تھی کہ باقاعدہ کالج سٹوڈنٹ کے طور پر تعلیم حاصل کروں لیکن والد صاحب کے مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ تعلیم کو جاری رکھ سکوں۔ 1957میں میٹرک کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جہلم اور راولپنڈی میں ملازمت کی۔1967 میں ایم اے انگلش کیا پھر ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد تعلیمی میدان میں آگیا۔ آر اے کالج پیر پھلا ہی بطور انگلش پروفیسر رہاوہاں کی انتظامیہ سے کسی وجہ سے اختلاف ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا اور پرائیویٹ ٹیچر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ 1976 میں سعودی عرب چلا گیا

اور وہاں دو مرحلوں میں ایک ہی کمپنی میں بطور ایڈمینسٹریٹر دس سال مقیم رہا۔

واپسی پر میں نے دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کیں اور آج میری اپنی اکیڈمی اقراء قائد اکیڈمی کے نام سے قائم ہے جہاں ایف اے، بی اے اور ایم اے کی کو چنگ کے ساتھ ساتھ پی وی پی۔سی

ایس اور سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری کراتا ہوں۔

سوال۔ سعودی عرب کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی بات؟

 جواب۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران بزم فانوس کا میں سرگرم کارکن رہا ہوں اور اس کے تقریباً تمام مشاعروں میں شرکت کرتا رہا اس تنظیم میں برصغیر پاک و ہند کے شعراشرکت فرماتے تھے۔ نسیم سحر صاحب سے میری ملاقات انہی مشاعروں میں ہوتی رہی۔ سعودی عرب میں یا کسی بھی مڈل ایسٹ میں اپنے لوگوں سے ملنے کا اپنی زبان کو سننے اور مشاعروں میں سامعین کی شرکت بڑےذوق وشوق سے ہوتی ہے کیونکہ دوسرے ملکوں میں جا کر پاکستانیوں کو اپنے وطن کے لوگوں اور زبان کا بے پناہ شوق پایا جاتا ہے اور ایسی تقریبات میں شامل ہونے کے لئے لوگوں میں ایک بہت پاکیزہ قسم کی بھوک پائی جاتی ہے بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا اس کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ تو مالی ضرورتیں ہیں جو ہمارے سماج میں باقی تمام چیزوں پر حاوی ہیں۔

سوال۔  چکوال کے اندراد بی میدان میں آپ کی کیا خدمات ہیں؟

جواب۔ ادبی میدان میں ایوانِ ادب چکوال کا صدر ہوں یہ تنظیم میں نےاور باقروسیم نے 1994ء میں قائم کی جو آج تک چل رہی ہے جو کہ ادبی میدان میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ ایوان ادب کے عہدے داران میں عابد جعفری چیئر مین، ناسک اعجاز اور اسلم ایوب نائب صدر، قاضی با قر وسیم سیکرٹری جنرل، ناطق جعفری جوائنٹ سیکرٹری فقیر عباس تاجر ایڈیشنل جوائنٹ سیکرٹری نعیم شاہد چیف آرگنائزر اور نور علی شکوری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ لیگل ایڈوائزر ہیں۔

اس تنظیم کے ایک سو ممبران ہیں جن میں پچیس نمایاں شاعرہیں۔ تنظیم کا ایک شعبہ خواتین ونگ بھی ہے جس کی صدر شمیم جاوید اور سیکرٹری جنرل عظمیٰ صرف ہیں عصمت نورین جعفری ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور فرزانہ یاسمین سیمیں جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔ ایوانِ ادب اب تک سولہ کتابیں شائع کر چکی ہے۔ میری تخلیقات میں دو کتابیں اردو شاعری کی خواب میرے خیال میرے بھی رنگ میرے اپنے اور ایک کتاب انگلش شاعری The lost world شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جناب یحییٰ خان کی تمام کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا جس کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔

سوال۔  آپ اردو، پنجابی اور انگریزی تینوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں کیا یہ بتانا پسند کریں گےکہ آپ نے لکھنے کا آغاز کب اور کن حالات میں کیا؟

جواب۔ میں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز1959میں کیا۔ چکوال میں ادبی تحریک کی ابتدا کرنے کا سہرا چکوال کی دو تنظیموں بزم ثقافت اور اردو مجلس چکوال کے سر ہے۔ میں اردو مجلس چکوال کا ایک کارکن اور مجلس عاملہ کا ممبر رہا ہوں سب سے پہلے میری غزلیات اردو مجلس کی کتاب جو کہ1964 میں شائع ہوئی جس کا نام سبزہ بیگانہ ہے میں شائع ہوئیں۔

سوال۔ آپ اردو، پنجابی اور انگریزی شاعری میں سے کس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور کیوں؟ جواب۔ اصل میں جو بنیادی چیز ہے وہ جذبات اور جذبات کی صحیح طرح سے ترتیب اور تنظیم ہوتی

ہے مجھے ان تینوں زبانوں میں شاعری کرنے میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔

سوال۔ کیا آپ آج کل کی شاعرات کی شاعری سے مطمئن ہیں؟

جواب۔ آج کل شاعری فنی لحاظ سے تو شاید اتنی مکمل نہیں ہے لیکن جذبہ اور جذبات ہوں تو فنی اکتساب سفر کے ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے اس لحاظ سے شاعرات کی قدر کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی

کرنا ضروری ہے اور ان کا جذ بہ اور جذبات حوصلہ افزا ہیں۔

سوال۔ آپ کے خیال میں ادب پہلے سے بہتر تخلیق ہو رہا ہے یا کم تر؟ جواب۔ میرے خیال میں موجودہ ادب پہلے سے بہتر تخلیق ہورہا کیونکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں بڑا فرق آگیا ہے اور یہ فرق موجودہ شاعری میں بھر پور طور پر منعکس کیا جارہا ہے۔

سوال۔ آپ کے خاندان میں آپ سے پہلے بھی کوئی لکھتا تھا یا اب کوئی لکھتا ہے تو اس کا ذکر اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو ہو جائے؟

 جواب۔ پہلے تو کوئی نمایاں نام نہیں تھا البتہ اب میرے خاندان میں نئے نام شامل ہیں جن میں میرا بیٹا سائل محمود سائل افسانہ لکھتا ہے اور اس کی بیوی عظمی صدف جو کہ میری بہو ہے شاعری کرتی ہے اس کے علاوہ نور علی شکوری اور شکیل احمد شکیل شامل ہیں۔

 سوال۔ نئے لکھنے والوں میں آپ کسی کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور کیوں؟

جواب۔ میں شاعروں کے بجائے اشعار کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں کیونکہ بنیادی حیثیت شعر کی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی کا ایک ہی شعر کیوں نہ ہو۔ نئے لکھنے والوں میں قابل جعفری، اسلم ایوب، ناطق

جعفری اور حسین اختر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

سوال۔ آپ کا اپنا پسندیدہ کلام؟

جواب۔ دو شعر پیش خدمت ہیں۔ 

تمام عمر کا حاصل ہوا یہی احسان ہمیں جہاں میں کسی اور طرح جینا تھا


جو بات کرنے کی خاطر ہم عمر بھر ترسے

وہ بات پھر بھی ادھوری ہی رہ گئی اپنی

سوال۔ آپ کافی عرصہ ہو گیا ہے ادب سے وابستہ ہیں کیا وجہ ہے کہ آج کل ادیب اور شاعر کی اس

طرح قدر کیوں نہیں کی جاتی جیسے پہلے کی جاتی تھی؟

جواب۔ اس بارے میں سب سے بڑا ہا تھ بک پبلشرز کا ہے جو اپنی پسند کی شاعری کو شائع کرنے

کو اہمیت دیتے ہیں، دوسرا کتابوں کی اشاعت میں بہت زیادہ روپے کی ضرورت ہے، تیسرے پاکستان کے ہر صوبے کی طرح ادب میں اجارہ داریاں قائم ہیں جن کی وجہ سے اصل شعرا کو آگے آنے میں بہت دشواری آتی ہے حکومتی کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جس میں تخلیق کاروں کی تخلیقات کو سامنے لانے کا کوئی بندوبست ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے لوگ حوصلہ شکنی کا شکار ہیں جو نام نہا د ادارے اس کام کے لئے مختص کئے گئے ہیں ان میں بھی دو نمبر کے لوگ آگئے ہیں جن کی اجارہ داریاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ الیکٹرانک میڈیا بھی شہروں اور مخصوص لوگوں تک محدود ہے۔ اصل شاعری مضافات شہر میں ہوتی ہے جس کی طرف کوئی رخ بھی نہیں کرتا۔ یہ اجارہ داریاں بھی زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں قائم کی گئی اجارہ داریوں کی طرح ہیں اور ان اجارہ داریوں کو ختم کرنے کے لئے ہمیں صیح معنوں میں پورے سماجی ڈھانچہ میں تبدیلی کی ضرورت ہےجس کی ابتدا ابتدائی تعلیم اور سکولوں کی تعلیم سے کی جاسکتی ہے۔

سوال۔ انٹرویو کے آخر میں آپ کا پیغام کیا ہے؟

جواب۔  میرا پیغام تمام تخلیق کاروں کے لئے چاہے وہ شاعری سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی بھی فن سے وابستہ ہیں یہ ہے کہ تقدیر پر بھروسہ رکھیں اور اپنے جس بھی مشن کو جاری کیا ہوئے ہیں اس کو پوری لگن کے ساتھ جاری رکھیں۔

Friday, February 23, 2024

سعدیہ ہما شیخ ( شاعرہ / ادیبہ ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 





سعدیہ ہما شیخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 شاعرہ اور ادیبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991


معروف شاعرہ اور ادیبہ سعدیہ ہما  شیخ 26 جنوری1989ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد واپڈا سے آر او ریٹائرڈ ہیں اور غلہ منڈی میں آڑھت کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ والدہ ہاوس وائف ہیں۔ ایم سی گرلز ہائی سکول سے میٹرک ڈگری کالج سے بی ایس سی قائد اعظم لا کالج سے لا سرگودھا یونیورسٹی سے ایم اے  پولیٹیکل سائنس ایم اے پاک سٹڈیز اور النور انٹرنیشنل سے ڈپلومہ ان اسلامک ایجوکیشن کیا۔

سعدیہ ہما شیخ کا شمار سرگودھا کی معروف شخصیات میں کیا جاتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں وکالت شاعری اور معروف لکھاری ہونے کے علاوہ مختلف رفاعی وفلائی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں۔سعدیہ عمر شیخ سے ایک تفصیلی گفتگو ہوئی جو نظر قارئین ہے۔  

سوال۔ آپ نے  لکھنے کا آغاز کب اور کیوں کیا؟ 

جواب۔ لکھنے کا آغاز سکول دور سے ہی ہو گیا جب اپنی تقریریں لکھنا شروع کیں ادیب پیدائشی طور پر ذہین یوتا یے آپ کے اندر ایک بے چینی ہوتی ہے اردگرد کے حالات آپ کو لب کھولنے پر مجبور کرتے ہیں اسی طرح معاشرتی نا انصافی اور ظلم ہوتا دیکھ کر میں نے آواز بلند کی اور لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔

سوال۔ آپ کی نثری تخلیقات؟ 

جواب۔ میں نے نثر میں افسانہ ناول کالم اور سفرنامہ لکھا یے میرے کالم اور افسانے رومانوی نہیں معاشرتی اور اصلاحی ہیں اسی طرح کالم میں بھی مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ہوتا ہے۔

سوال۔ آپ کی اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ؟

جواب۔ؔمیری اب تک 8 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ وصل میں تشنگی۔ اقوال ہما۔ بال ہما۔ وادی کالام کا فسوں( افسانہ )۔خوابوں کے رنگ (ناول)۔تعزیر وحد( مختصر کہانیاں) ۔مشرک پیا( مجموعہ کلام) ۔ سیرت ہر امت کے وکیل۔

سوال۔ آپ شاعری میں نظم کی بجائے غزل کی طرف زیادہ مائل نظر آتی ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟

جواب۔ غزل مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہ مکمل جزبات کی تشریح کر دیتی ہے اور اس میں ایک موسیقیت ایک ردھم ہوتا ہےمگر اب جدید نظم غزل سے آگے اس لیے جا رہی ہے کیونکہ نظم اوزان سے عاری ہوتی ہے اور غزل سے آسان ہے۔

سوال۔ شاعری میں باقاعدہ اصلاح آپ نے کس سے لی؟

جواب۔ اصلاح میں نے امجد اسلام امجد سے لی بہت گریٹ تھے وہ میری پہلی کتاب پر اپنی بھرہور رایے دی۔

سوال۔ افسانہ۔ ناول ۔کہانی اور ڈرامہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟

جواب۔ مجھے افسانہ پسند یے کیونکہ یہ مختصر ہوتا ہے اب لمبے طویل ناولوں کی فرصت کسی کے پاس نہیں اور ڈرامہ زیادہ اٹریکٹ کرتا ایک بہترین تفریح۔

سوال۔ شاعری کے لیے کیا علم عروض سیکھنا ضروری ہے ؟

جواب۔ عروض کے بغیر تو شاعری ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم جیسے سر کے بغیر سنگیت  جسے عروض کا نہیں پتہ اسے میں شاعر مانتی ہی نہیں۔ 

سوال۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی تنقید ۔زبان۔ اسلوب اور افکار گہرے ہیں۔ آپ کے ان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں ان کے بارے میں کیا کہیں گی؟ 

جواب۔  ڈاکٹر وزیر آغا سرگودھا کا بہت بڑا ادبی حوالہ ہیں اور مجے یہ فخر ہے کہ میری پہلی کتاب کا فلیپ آغا جی نے لکھا ان دنوں وہ بیمار تھے اور لاہور میں مقیم تھے ان کا خلاء جو ہے اسے کوئی  پورا نہیں کر سکتا مجھے ان کی شفقت ملی یہ میرا مان ہے میرے شعری مجموعے وصل میں تشنگی پر انہوں نے فلیپ لکھا۔

سوال۔آپ کی ہم عصر شاعرات؟ 

جواب۔ ہم عصر شاعرات سے میں یہ کہوں گی کہ دوسرے کو کاپی کرنے سرقہ کرنے اور نقل محض سے نکل کر اپنی پہچان بنائیں تا کہ  آپ کا کلام بولے۔

سوال۔ معروف شاعرہ ثمینہ گل کے ساتھ تعلق کا اظہار کس طرح کریں گی ؟

جواب۔ ثمینہ گل بہت اچھی شاعرہ اور نفیس خاتون ہیں اس کے ساتھ ساتھ استاد بھی ہیں اکثر مشاعروں میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔

سوال۔ آپ اپنی اقوال زریں کی  کتاب سے چند اقوال زریں قارئین کے لئے شامل کرنا چائیں گی؟  

جواب۔ اقوال ہما کو لوگوں نے بہت پسند کیا اس پسندیدگی کے لیے مشکور ہوں۔محبت چاند کی طرح گھٹتی بڑھتی  نہیں کہ وفا دیکھ کر زیادہ اور بے وفائ دیکھ کر کم ہو جایے یہ تو ایک میٹھا زہر ہے جو آپ کی رگوں میں سرائیت کر جاتا ہے۔ابلیس نےآدم کو سجدے سے انکار کر کے سب سے پہلے میری مرضی کا نعرہ لگایا اور جنت سے نکل کر زندہ درگور ہو گیا۔

رات کے تیسرے پہر شر اور خیر دونوں قوتیں زور پر ہوتی ہیں یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ رحمان کو چنتا ہے یا شیطان کو۔

سوال۔ شعبہ وکالت آپ نے کیوں اختیار کیا؟ 

جواب۔ شعبہ وکالت میری گھٹی میں یے میرے نانا چاچو اور بھائ سب وکیل ہیں خواتین کی بدتر حالت دیکھ کر میں نے سائنس چھوڑ کر وکالت کرنے کا فیصلہ کیاادیب پیدائشی ہوتا یے اور شعبہ آپ منتخب کرتے ہیں  نا انصافی اور عورت کی آواز بننے کے لیے یہ شعبہ منتخب کیا سپیشلی جیل کی خواتین کے لئے جو سب سے مظلوم ہیں جن کی کوی داد رسی نہیں کرتا۔میں جیل ریفارمر کمیٹی کی چئیر ہرسن بھی ہوں۔

سوال۔ گھر کے کاموں کے لیے کس طرح وقت نکالتی ہیں ؟

جواب۔ گھر میری پہلی زمہ داری ہے اپنے بچوں کی ڈرائیور اور کک بھی ہوں۔

سوال۔ آپ کی زندگی کے قابل فخر لمحات ؟

جواب۔ زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جنہیں انسان ہمیشہ یاد رکھتا ہے ایسے کچھ لمحات میری زندگی میں بھی آئے جنہیں میں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ جب میں نے گولڈ میڈل لیا۔ جب میں نے وکالت کی ڈگری لی اور جب میں نے سرگودھا بار کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیتا۔

سوال۔ ہمارے قارئین کے لئے کلام؟ 

جواب۔ تازہ کلام پیش خدمت ہے جس کا عنوان ہے عورت :

کبھی سوچو تو رشتوں کی ہے پوری کہکشاں عورت

بہن،بیوی کہیں بیٹی کہیں دیکھو ہے ماں عورت


یہ ہر اک روپ میں پیاری یہ ہر اک رنگ میں اعلیٰ

کہیں نازک کلی سی ہے کہیں کوہِ گراں عورت


عدالت ہو کہ مکتب ہو شفاخانہ یا دفتر ہو

ہمیں آسانیاں بانٹے جہاں دیکھو وہاں عورت


کبھی گھر میں یہ ماں ہے تو کبھی جج ہے عدالت میں

سدا انصاف کرتی ہے بنے منصف جہاں عورت


ہمیشہ احترامِ باہمی ہے فلسفہ اس کا

غلط فہمی میں مت رہنا کہ ہو گی ناتواں عورت


کہیں پھولوں سے نازک ہے کہیں تصویر ہمت کی


کبھی جھرنا خوشی کا تو کبھی عزمِ جواں عورت


ہما تصویر چاہت کی وفا کا استعارہ ہے 

تو استبداد کے آگے ہے جرآت کا نشاں عورت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری بات کا ہوگا اثر آہستہ آہستہ 

نکل جائے گا تیرے دل سے ڈر آہستہ آہستہ 


ملک پر جو ستارے کہکشاں  بن کے چمکتے ہیں 

انہی کے خون سے ہوگی سحر آہستہ آہستہ 


ذرا سی بات پر یک دم نگاہیں پھیر لیں تم نے 

کیا کرتے ہیں اپنوں سے مفر آہستہ آہستہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کانوں میں پڑنے والی پہلی آواز ( یاسین یاس )

 





کانوں میں پڑنے والی پہلی آواز 

تحریر : یاسین یاس 

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کانوں میں گونجنے

 والی سب سے پہلی آواز اس کی ماں کی ہوتی ہے حتی کہ اذان بھی اس کے کانوں میں اس کے بعد دی جاتی ہے اس لیے بچہ کان میں پڑنے والی پہلی آواز کو کبھی نہیں بھول سکتا یہی وجہ ہے انسان جتنا مرضی لکھ پڑھ لے چاہے جتنی زبانوں پر مرضی عبور حاصل کر لے اس کی ماں کی بولی ان سب پر ہمیشہ حاوی رہتی ہے ہر سال کی طرح اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا شہر شہر گاؤں گاؤں لوگوں نے  اپنی ماں بولی کے حوالے سے جلسے جلوس سیمینار اکٹھ مشاعرے ڈھول ڈھمکا اور اپنا کلچر نمایاں کیا پنجابی زبان ایک بڑی زبان ہے جس کے پروگرام بھی زیادہ ہوئے اور نمایاں رہے خوشی کی بات ہے 

ماں بولی پنجابی کے لیے بہت ساری ادبی تنظیمیں  اپنی مدد آپ کے تحت مختلف قصبوں شہروں اور ملکوں میں کام کر رہی ہیں آج میں جس ادبی تنظیم کا ذکر کرنے جا رہا ہوں اس کا نام ہے بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل جس کو عابد تمیمی کے شاگرد اپنے اپنے انداز میں چلا رہے ہیں کوئی کسی شہر میں تو کوئی کسی شہر میں مجھے بھی بزم عابد تمیمی چنیوٹ کے پلیٹ فارم نے موقع فراہم کیا اور میں چنیوٹ کے دوستوں سے ملا ان کو سنا ان سے بہت کچھ سیکھا بھی عابد تمیمی صاحب کے شاگرد قابل رشک ہیں جو اپنے استاد کا لگائے ہوئے پودے کا پھل بھی کھا رہے ہیں اور اسے سنبھالے ہوئے بھی ہیں اور نئے آنے والے دوستوں کی راہنمائی بھی کر رہے ہیں اللہ کریم ان کو استقامت دے ۔آمین  آج میں عابد تمیمی کے جس شاگرد جس نوجوان کا ذکر کرنے جارہا ہوں وہ خوبصورت دل رکھنے والا جواں حوصلہ بہترین انسان یاروں کا یار بزم عابد تمیمی کا چمکتا ہوا ستارہ کاشف پنجابی ہے جس نے عابد تمیمی کا شاگرد ہونے کا حق ادا کر دیا وہ ہر روز گرمی ہو یا سردی گھر میں ہو یا گاڑی میں حتی کہ وہ سفر میں بھی ہو تو سانجھا ویہڑا پنجاب دا پروگرام کر رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے استاد سے جڑی ادبی تنظیم بزم عابد تمیمی کا پروگرام ہے میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں بھائی وہ پاکستان میں ہو یا کینیڈا میں بزم عابد تمیمی کو نہیں بھولتا وہ روزانہ فیس بک پر لائیو آکر بزم عابد تمیمی کے پلیٹ فارم سے سانجھا ویہڑا پنجاب دا پروگرام کرتا ہے اور محبتیں بانٹتا ہے اور محبتیں سمیٹتا ہے کاشف پنجابی نے ثابت کیا ہے کہ محبتوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی دیس نہیں ہوتا کوئی ذات پات نہیں ہوتی محبت بس محبت ہوتی ہے وہ اپنی ماں بولی سے جڑے ہوئے ہر اس بندے سے کنیکٹ کرتا ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے ماں بولی کی خدمت کر رہا ہے بزم عابد تمیمی مشاعرے بھی کرواتی ہے سیمینار بھی کرواتی ہے ماں بولی کی کتابوں کی تقریب رونمائی بھی کرواتی ہے نئے آنے والے دوستوں کی اصلاح بھی کرتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے اپنے ساتھ پورا سال جڑے رہنے والے دوستوں کو اعزازی سرٹیفکیٹ دیتی ہےسال 2023 میں  بزم عابد تمیمی اور سانجھا ویہڑہ پنجاب کی طرف سے پنجابی زبان دے مان تران ارشاد سندھو ، زاہد جرپالوی، آصف علی علوی۔ کلبیر سنگھ حسرت ، یاسین یاس ،ستندر جی  کور ، آصفہ مریم ، کملیش سندھو،  فلک شیر نوید،اعظم رانجھا ، مومن ہاشمی، زین جٹ ،صادق 

فدا قادری، امجد عارفی،کاشف تنویر ، مزمل زائر ۔ 

 کو اعزازی سرٹیفکیٹ دیے گئے 

بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل کے سیوک کاشف تنویر کی گورمکھی میں کتاب " سوچ دے اکھر "  کی  

تقریب رونمائی چڑھدے پنجاب 24 فروری کو  پھگواڑا شہر انڈیا 

میں ہو رہی جس کا اہتمام پنجابی ورثہ کی جانب سے کیا گیا ہے پنجابی ادب کا بڑا نام سکھی باٹھ کینیڈا سے شرکت کریں گے میں پنجابی ماں بولی کے سیوک کاشف پنجابی کو ان کی کتاب سوچ دے اکھر کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں میری دعا ہے کہ پنجابی کا یہ خوبصورت پھول اسی طرح ہنستا مسکراتا رہے اور پوری دنیا اس کی خوشبو سے مہکتی رہے 


Wednesday, February 14, 2024

سانجھا ویہڑا پنجاب دا تے بزم عابد تمیمی ( کاشف پنجابی )

 





بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل دا سانجھا ویہڑا پنجاب دا


پنجابی ادب دی سیوا اتے ماں بولی دے پرچار لئی بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل 3 سال توں سوہنے ڈھنگ نال نبھا رہی اے۔

گورمکھی ہووے یا شاہ مکھی لہندا ہووے یا چڑھدا پوری دنیا وچ کتاباں تے مشاعرے آں دے نال نال پنجابی رہتل، وسیب نوں جیوندا رکھن لئی میلے تے پنجابی رسماں رواجاں دے پروگرام کروا کے بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل نے کینڈا توں پنجاب تک دیس، ودیشاں وچ اپنی ماں بولی دی سیوا کر کے سوہنی  پہچان تے نام کمایا اے۔ 

اجوکے ویلے نوں مکھ رکھیئے تاں سوشل میڈیا تے ہر دن لائیو پروگرام سانجھا ویڑھاپنجاب دا سجایا جاندا اے جہدے وچ دنیا بھر دے پنجابی اک دوجے نال وچار وٹاندرا دے نال نال اک دوجے نال اپنیاں لکھتاں تے سوچاں بڑی محبت نال سانجھیاں کردے نیں۔سانجھا ویڑھا پنجاب دا لائیو پروگرام دنیا دے بہت سارے دیساں وچ ویکھیا جا رہئیا اے جہدے نال ودیشاں وچ وسن آلی ساڈی نویں پنیری ، بچے پنجابی سکھدے نیں اتے لکھاری پنجابی ادب،شاعری عروض دے نال نال ہر دن دیاں خبراں وی اک دوجے نال سانجھیاں کردے نیں۔ 

بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل نال جڑے ہوئے لوکاں پورا سال نال جڑ کے محبت پیار سانجھا کرن تے ہر سال ہر ممبر نوں سرٹیفکیٹ۔ مان سمان پتر دتا جاندا اے 2024 دے پیار دے پتر بہت سارے دوستاں نوں دتے گئے نیں تاکہ سارے متر، بہن بھرا اپنی رہتل دیس پنجاب نال جڑے رہن تے پنجابی ادب دی سیوا کردے رہن۔ 

جنہاں دے وچ ۔۔۔

ارشاد سندھو۔ زاہد جرپالوی، آصف علی علوی۔ کلبیر سنگھ حسرت ، یاسین یاس۔ ستندر جیت کور ۔آصفہ مریم۔ کملیش سندھو،  فلک شیر نوید،اعظم رانجھا ۔ مومن ہاشمی، زین جٹ۔صادق فدا قادری۔ امجد عارفی۔کاشف تنویر ۔مزمل زائر ۔ ہور بہت سارے لوگ شامل نین۔

بزم عابد تمیمی انٹرنیشنل دے سیوک کاشف تنویر ہوراں دی گورمکھی وچ کتاب " سوچ دے اکھر "  دی گھنڈ چکائی کرن لئی چڑھدے پنجاب 24 تریخ نوں  پھگواڑا شہر انڈیا وچ پنجابی ورثہ ولوں  پنجابی ادب دا بہت وڈا نام سکھی باٹھ جی کینڈا توں آ رہے نیں۔

Wednesday, February 7, 2024

شب معراج کے نوافل اور روزے ( حسنہ نور )

 





*شب معراج کے نوافل اور روزے*


ستّائیسویں رَجَبُ الْمُرَجَّب کی عظمتوں کے کیا کہنے ! اس رات کواللہ عزوجل نے اپنے پیارے محبوب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج شریف کی دولت عطا فرمائی اور پیارے آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت اور دوزخ کو ملا حظہ فرمایا اور چشمان مبارک سے اللہ عزوجل کا دیدار کیا۔لہذا اس رات کوخوب عبادت میں گزارنا چاہنے


حضرت ِسیِّدُناسلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائےغُیُوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذِیشان ہے:’’رجَب میں ایک دن اور رات ہے جو اُس دن روزہ رکھے اور رات کو قِیام (عبادت )کرے تو گویا اُس نے سو سال کے روزے رکھے ، سو برس کی شب بیداری کی اور یہ رَجَب کی ستائیس(ست۔تا۔ئیس) تاریخ ہے۔‘‘(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۳ص۳۷۴حدیث ۳۸۱۱)


*ایک نیکی سو سال کی نیکیوں کے برابر*

رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شَب ہے ۔جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ اورکوئی سی ایک سُورت اور ہر دو رکعت پراَلتَّحِیّاتُ پڑھے اور بارہ پوری ہونے پر سلام پھیرے ، اس کے بعد100بار یہ پڑھے: سُبْحٰانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَر ، اِستِغفار100 بار، دُرُود شریف 100 بار پڑھے اوراپنی دنیاوآخِرت سے جس چیز کی چاہے دُعا مانگے اور صبح کوروزہ رکھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی سب دُعائیں قَبو ل فرمائے سوائے اُس دُعا کے جوگناہ کے لئے ہو۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۷۴حدیث۳۸۱۲)


چھ رکعات نفل دو سلام سے ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد7 بار سورہ اخلاص پڑھیں۔ چھ رکعات مکمل ہونے کے بعد50 بار دُرُود شریف پڑھے - انشااللہ تعالیٰ جو بھی حاجت ہو قبول ہوگی


دو رکعات نفل پڑھے ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد27 بار سورہ 

اخلاص پڑھیں اَلتَّحِیّاتُ کے بعد27 بار درود شریف پڑھیں پِھر سلام پھیرے اس کا ہدیہ حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کریں


دو رکعات نفل پڑھے پہلی رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد1 بار سورہ علم نشرح اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد1 بار سورہ قریش پڑھے - انشااللہ تعالیٰ یہ نماز پڑھنے سے اولیا کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب ملےگا


دس رکعات نفل پانچ سلام سے ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد ۳ بار سورہ کافروں اور۳ بار سورہ اخلاص پڑھیں دس رکعات پوری ہونے پر 1بار کلمہ توحید یعنی چوتھا کلمہ پڑھیں


شب میں اپنی قضا نمازیں پڑھے ، غسل کرے غسل یا وضو کے بعد ٢ رکعت نفل تہایتول وضو پڑھے ، عطر لگاے، سرما پہنے ، اپنی گناہوں سے توبہ کرے استغفار پڑھے ، دررود شریف ، قرآن شریف پڑھے ، سورہ یاسین پڑھے ،دوا مانگے ، صدقہ - خیرات کرے ، بے ہودہ اور خرافاتی باتوں سے بچے


رجب کے نفلی روزے


60 مھینوں کا ثواب

حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : ستّائیسویں رجب کا جو کوئی روزہ رکھے، اللہ تَعَالٰی اُس کیلئے ساٹھ مہینے کے روزوں کا ثواب لکھے۔ (فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب ، لِلخَلّال ص۱۰)


سوسال کے روزے کا ثواب

ستّائیسویں رجب کا جو کوئی روزہ رکھے تو گویا اُس نے سو سال کے روزے رکھے


*جنّتی محل*

تابِعی بُزُرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابوقِلابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :رجب کے روزہ داروں کیلئے جنت میں ایک مَحَل ہے۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۸حدیث۳۸۰۲)


ایک جنّتی نہر کا نام رجب ہے

حضرت ِسَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رضی اللہ تعالٰی عنہ سےروایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جنت میں ایک نَہر ہے جسے ’’رجب‘‘ کہا جا تا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ عَزَّوَجَل اسے اس نَہر سے سیرَ اب کر ے گا۔‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۷حدیث۳۸۰۰)


*ایک روزے کی فضیلت*

مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل کرتے ہیں کہ سلطانِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:ماہِ رجَبَ حُرمَت والے مہینوں میں سے ہے اور چھٹے آسمان کے دروازے پر اِس مہینے کے دن لکھے ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص رجَبَ میں ایک روزہ رکھے اور اُسے پرہیزگاری سے پورا کرے تو وہ دروازہ اور وہ(روزے والا)دن اس بندے کیلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مغفِرت طلب کریں گے اور عرض کریں گے:یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اِ س بندے کو بخش دے اور اگر وہ شخص بغیر پرہیزگا ر ی کے روزہ گزارتا ہے تو پھر وہ دروازہ اور دن اُس کی بخشِش کی درخواست نہیں کریں گے اور اُس شخص سے کہتے ہیں :’’اے بندے !تیرے نفس نے تجھے دھوکا دیا۔‘‘ 

(مَاثَبَتَ بِالسُّنۃ ص۲۳۴،فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب ، لِلخَلّال ص۳،۴)بخاری، کتاب الدعوات، باب أفضل الاستغفار، حدیث نمبر:5831)

................ *شب معراج کیسے گزاریں؟* ...................

..... شب معراج کی عبادت اور ستائیسویں تاریخ کے روزہ کی فضیلت


سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رجب میں ایک ایسادن اور ایک ایسی رات ہیکہ جس نے اس دن روزہ رکھا اور اس رات قیام کیا گویا اس نے سو 100 سال روزہ رکھا اور سو100 سال شب بیداری کی اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے-(فضائل الاوقات للبیہقی،باب فی فضل شہر رجب،حدیث نمبر11-کنز العمال ، فضائل الازمنۃ،حدیث نمبر:35169۔ماثبت بالسنۃ ،ص :70۔الغنیۃ لطالبی طریق الحق ج1 ص182,183۔ شعب الإیمان للبیہقی،باب الصیام، تخصیص شہر رجب بالذکر،حدیث نمبر:3650۔ جامع الأحادیث للسیوطی، حرف الفاء ، حدیث نمبر: 14813۔ الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الفاء ، حدیث نمبر: 172۔کنز العمال، فضائل الأزمنۃ والشہور، حدیث نمبر: 35169۔ تفسیر در منثور،زیر آیت سورۂ توبہ :36)


....... *شب معراج میں بارہ رکعات نفل نمازکی خصوصی 

چونکہ معراج میں صلوٰۃ التسبیح بھی پڑھی جاتی ہے اسی لئے یہاں صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت اور اس کا طریقہ بیان کیا جاتاہے ۔صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ یہ ہے کہ صلوٰۃ التسبیح کی نیت سے چاررکعت اس طرح اداکریںکہ تکبیر تحریمہ اور ثناء کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے: سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَر پھر تعوذ،تسمیہ،سورہ فاتحہ اور ضمِ سورہ کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے‘ پھر رکوع کرلے اور سبحان ربی العظیم کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے‘ رکوع سے سراٹھاکر تسمیع وتحمید کے بعد قومہ میں دس بار تسبیح پڑھے‘ پھر پہلے سجدے میں سبحان ربی الاعلی کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان کے جلسہ میں دس مرتبہ تسبیح پڑھے‘ اور دوسرے سجدہ میں بھی سبحان ربی الاعلی کے بعددس مرتبہ تسبیح پڑھے‘ اور دوسرے سجدے سے کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھے۔ 


........... *شبِ معراج میں حسب ذیل ماثور دعائیں پڑھیں:*


اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔


ترجمہ :ائے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والاہے، اور معافی کوپسند کرتاہے‘ پس مجھے معاف فرمادے۔(جامع ترمذی،ابواب الدعوات،باب ای الدعاء


ترجمہ: اے اللہ! میرے دینی امور کو درست فرمادے جو میرے معاملہ کی حفاظت کا ذریعہ ہیں اور میری دنیا درست فرمادے جس میں میری معیشت ہے ‘میری آخرت درست فرمادے جہاں مجھے لوٹنا ہے‘ میری زندگی کو میرے لئے ہر بھلائی میں زیادتی کا ذریعہ بنا ‘اور میری موت کو میرے لئے ہر مصیبت سے راحت کا سبب بنا۔ (صحیح مسلم،کتاب 


اللہ رب العزت تمام امت مسلمہ کو اس رات کے فیوض و برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور بغیر حساب کتاب جنت عطا فرمائے۔

آمیـن یارب العالمیـن 🌸🍃


*آپ معراج پر بھی نہ بھولے ہمیں*

*ان کی ایسی محبت پہ لاکھوں سلام*


*آمین ثمہ آمین۔*


🍃💚🍃💛🍃💜🍃💙🍃🤎🍃🤎

Tuesday, February 6, 2024

چھوٹے ( یاسین یاس )

 





چھوٹے 


تحریر : یاسین یاس 


چھوٹےایک لفظ ہی نہیں ہے

 بلکہ اس  میں زمانے بھر کے دکھ ، تکلیفیں اور محرومیاں سمٹی ہوئی ہیں ان چھوٹوں کو آپ کسی چائے والے کھوکھے، روڈز پر بنے ٹرک ہوٹل , ورکشاپس پنکچر والوں ، جوتے اور کپڑے کی دکانوں ، ٹیکسٹائل ملوں , پوش علاقے کے گھروں میں , برتن دھوتے ، پنکچر لگاتے ، لوگوں کو چائے پانی دیتے ہوئے , اپنے استادوں میں چابی پانہ اور ہتھوڑی دیتے ہوئے کہیں تپڑی پوچا کرتے ہوئے تو کہیں بسوں میں ٹھنڈے پانی کی آواز لگاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں یہ وہ کردار ہے جسے ہماری توجہ کی اشد ضرورت ہے ہم میں سے اکثر جب کبھی باہر ہوٹل یا چائے کی دکان میں جاتے ہیں کسی دکان یا مالز پر جاتے ہیں تو ان کو دیکھ کر کیوں ہمیں اپنے بچے یاد نہیں آتے کیوں ہم بلاوجہ ان کی چھوٹی سی غلطی پر انہیں ڈانٹ دیتے ہیں یہ زمانے کے ستائے ہوئے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے غریب گھرانوں کے غیور چشم و چراغ ہیں جو چھوٹی سی عمر میں بھی اپنے بوڑھے والدین کو بہن بھائیوں کا سہارا بنے ہوئے اور اس عمر میں بھی ان کی ترجیح محنت مزدوری ہے ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ان سے پیار کرنا چاہیے اور جہاں کہیں بھی ایسے کسی کردار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہوئی محسوس کریں ان کو اپنا بچہ سمجھ کر ان کی وکالت کرنی چاہیے ان کا خیال رکھنا چاہیے ان سے پیار کرنا چاہیے کچھ بھی نہ کرسکتے ہوں تو ان کو پیار سے مخاطب کرنا چاہیے کوئی بھی ماں باپ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بچہ ایسا کام کرے تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اعلی تعلیم حاصل کرے اور بڑا ہوکر انجینئر ، ڈاکٹر اور پائلٹ بنے لیکن یہ حالات و مجبوری انسان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں اس لیے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ان کے زخموں پر مرہم رکھیں نہیں رکھ سکتے تو کم ازکم ان کو ستانے والوں میں شمار نہ ہوں یہ چھوٹے ہمارا مستقبل ہیں کل کو ان چھوٹوں نے بڑا ہونا ہے اگر ہم ان سے اچھا سلوک کریں گے تو کل کو جب ان کے پاس چھوٹے آئیں گے تو یہ بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے یہی کل کو اچھے مکینک ہوں گے یہی کل کے اچھے ہوٹل مالک ہوں گے یہی کل کے ٹرانسپورٹ ہونگے یہی کل کے دکان دار ہوں گے ان میں سے کچھ لوگ محنت کے بل بوتے پر سیٹھ و سرمایہ دار ہون گے اگر آج ہم ان سے اچھا برتاؤ کریں گے تو ہمارے بچے یا ان کے بچے ان چھوٹوں سے کام کرواتے ہوئے ان کے ہاں کھانا کھاتے ہوئے ان کے ہاں سے خریداری کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے اس لیے ان چھوٹوں کو عزت و احترام دیا کریں ان سے پیار کیا کریں اس طرح ہم ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینے میں کارامد ثابت ہوں گے

" واہ " کی واہ واہ ( رپورٹ اسلوب انٹرنیشنل )

 




محبتوں سے " واہ " کی واہ واہ 


04 فروری 2024 بروز اتوار دن ایک بجے رائل گارڈن دینا ناتھ میں خوبصورت لب و لہجہ کے نوجوان شاعر حافظ صادق فدا کے پہلے پنجابی شعری مجموعہ " واہ " کی تقریبِ پذیرائی و مشاعرہ کا  انعقاد کیا گیا۔ جس کی میزبانی بابا لطیف ، ظفر پہلوان ، صابر و دیگر نے کی۔


جس کی صدارت ساہیوال سے تعلق رکھنے والے اُردو و پنجابی زبان کے معروف استاد شاعر سید فدا بخاری صاحب نے فرمائی۔


مہمانانِ خصوصی:

 جناب عامر رفیق عامر (ڈسکہ سیالکوٹ)

جناب عمران سحر (موڑ کھنڈا)


 نقابت کے فراٸض اردو و پنجابی زبان کے نوجوان شاعر جناب اکمل حنیف نےخوبصورتی سے سر انجام دیئے۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتیہ کلام سے کیا گیا۔


پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا پہلے حصہ میں شعری مجموعہ" واہ " اور صاحبِ کتاب حافظ صادق فدا کی شخصیت پر جناب صاحبِ صدر سید فدا بخاری، اکمل حنیف، ولی محمد عظمی، یاسین یاس، عامر رفیق عامر، عمران سحر اور نذیر نذر نے خوبصورت گفتگو فرمائی۔


صاحبِ کتاب حافظ صادق فدا نے تمام منتظمین بالخصوص بابا لطیف، آنے والے شعراء کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اپنا کلام سنا کر حاضرینِ محفل سے خوب داد وصول کی۔


دوسرا حصے میں مشاعرہ منعقد ہوا جس میں جن احباب نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں

سید فدا بخاری ، حافظ صادق فدا ، عامر رفیق عامر ، عمران سحر، اشتیاق اثر ، ولی محمد عظمی ، یاسین یاس ، رائے ظہیر ایڈووکیٹ ، سلیم نجمی ، ملک ارشاد ، ذین جٹ ، متر سید مہدی بخاری ، فرید عشق زادہ ، نذیر نذر ، مزمل زائر ، صابر پیا ، محمد اعجاز اور بطور ناظم مشاعرہ اکمل حنیف نے سب سے پہلے اپنا کلام سنایا۔

تقریب میں شعراء کرام کے ساتھ ساتھ باذوق سامعین کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔


صاحبِ صدر اور باقی دوستوں نے جناب حافظ صادق فدا کو ان کے شعری مجموعہ " واہ " کی اشاعت پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔


بابا لطیف اور ظفر پہلوان کو خوبصورت پروگرام کے انعقاد پر اور حافظ صادق فدا کو شعری مجموعہ واہ کی پذیرائی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد 


رپورٹ:

ادبی تنظیم "اسلوب انٹرنیشنل"