Tuesday, March 19, 2024

شگفتہ نعیم ہاشمی ( شاعرہ ، کالم نگار ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 






شگفتہ نعیم ہاشمی

 شاعرہ اور کالم نگار

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991


شگفتہ نعیم ہاشمی کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے ہے آپ کے والد سید نعیم ہاشمی (مرحوم) ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے جبکہ بڑے بھائی بھی صحافت سے وابستہ ہیں شاعری کی صلاحیت شگفتہ کو والد صاحب کی طرف سے عطا ہوئی۔

آپ سکول کے زمانے سے ہی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں۔سکول میں بزم شعرا کی سٹیج سیکریٹری رہیں ۔تقریبا 12 سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا۔

کالج کے سال اول سے ہی طرحی مشاعروں میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کیا اس کے علاوہ زمانہ طالب علمی میں آپ کا کلام اخبارات اور رسائل میں چھپتا رہا۔ کچھ کالم بھی لکھے ۔

کالج کے سال اول میں لکھی ہوئی غزل کا ایک شعر: 

یہ رنج دل سے ہمارے کبھی جدا نہ ہوا

کہ پاس رہ کے بھی ہم سے وہ آشنا نہ ہوا 

نہ صرف بہت سے اخبارات میں چھپی بلکہ نوے کی دہائی میں ترنم ناز کی آواز میں ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتی رہی، زمانہ طالب علمی میں ہی منیر نیازی اور شہزاد احمد صاحب کی صدارت میں مشاعرے پڑھنے کا موقع ملا۔۔دوران تعلیم شادی ہو جانے کی وجہ سے پھر یہ سلسلہ سست روی کا شکار ہو گیا مگر اب 2018 ء سے دوبارہ ادبی محافل میں شرکت کر رہی مگر بہت کم۔

تحریک احیائے اردو ادب ( کاروان ادب) کی نہ صرف مستقل رکن ہیں بلکہ خواتین ونگ کی صدر بھی ہیں۔ پہلا 

۔شعری مجموعہ 'حسرتیں'اپریل 2018ء شائع ہو چکا ہے اور دوسرا شعری مجموعہ  ' آبگینے خوابوں کے' تقریباً مکمل ہے ان شاءاللہ 2024ء میں منظر عام پر آ جائے گا۔ جبکہ تیسرے شعری مجموعہ " قرطاس کا دکھ"  کا آغاز کر چکی ہیں۔۔ 

سوال۔ آپ کی تاریخ پیدائش اورجائے پیدائش؟ 

جواب۔17 جولائی ۔لاہور۔

سوال۔ آپ نے شعر کہنے کا آغاز کب کیا؟ 

جواب۔ جہاں تک یادداشت جاتی ہے۔ بچپن سے ہی طبیعت مائل تھی جب اشعار کی موزونیت کا علم نہیں تھا کچھ نہ کچھ ٹوٹا پھوٹا لکھ لیتی تھی۔

سوال۔آپ کی شاعری میں مایوسی اور نا امیدی کے استعارے جا بجا نظر آتے ہیں؟

جواب۔  یہ آپ کا مشاہدہ ہے۔ دراصل شاعر اپنے ارد گرد  کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، اس کے گرد تلخی بھی ہے اور شیرینی بھی۔ تو شیرینی کو تو وہ بھی عام کی انسان کی طرح نگل لیتا ہے جبکہ تلخی کو اشعار کی صورت میں اگل دیتا ہے، میرے نزدیک انسان شاعری کی طرف مائل ہی اس وقت ہوتا ہے جب دکھ سے گزرتا ہے جس طرح ساز اس وقت تک خاموش رہتا ہے جب تک اس پہ چوٹ نہیں لگتی، تو شاعری کے لیے بھی چوٹ لگنا ضروری ہے اب یہ چوٹ ضروری نہیں محبت میں ہو۔

سوال۔ آپ نے کسی شاعر سے اثر نہیں لیا؟

جواب۔ میں نے بہت لوگوں کو نہیں پڑھا دوسروں کو پڑھنے سے میرا اپنا خیال متاثر ہوتا ہے کیونکہ ہر انسان زندگی میں تقریبا ایک سے حالات و واقعات سے گزرتا ہے اور اس دوران ہونے والے تجربات اور مشاہدات کو الفاظ میں ڈھال دیتا ہے سبھی نے تقریبا یاس ہجر وصال، انتظار ، کسی کو پانے کی خوشی، کسی کو کھونے کا غم، پا کے کھونے کی محرومی یا کھو جانے کا ڈر، محبوب کی بے اعتنائی وغیرہ وغیرہ کو شاعری کا موضوع بنایا ہے۔

کچھ لوگ قدرت پر غور کرتے ہیں اس کا حسن بیان کرتے ہیں کچھ اللہ اور اس کے رسول سے عشق کا اظہار کرتے ہیں سب کا اپنا اپنا طریقہ ہے جس کے لیے وہ مختلف الفاظ و تراکیب  کا انتخاب کرتے ہیں ، اب اگر کوئی خیال میرے ذہن میں تشکیل پا رہا ہے  یا میں کسی کیفیت سے گزر رہی ہوں وہ وہی تخیل کسی اور کا میری نظر سے گزر جائے تو میں  کچھ لکھ نہیں پاتی مجھے مناسب بھی نہیں لگتا۔

سوال۔ آپ اپنی شناخت غزل کو بنائں گی یا نظم کو؟

جواب۔میں غزل بھی کہتی ہوں نظم بھی ۔ قطعات بھی بے شمار لکھے ہیں اور اشعار بھی۔ یہ تو سامعین اور قارئین پر منحصر ہے کہ انھیں میری غزلیں پسند آتی ہیں یا نظمیں۔

سوال۔ ۔شعر کہنے کے لیے کن لوازمات کا ہونا ضروری ہوتا ہے؟

جواب۔شعر کہنے کی کوئیrecipe تو ہے نہیں جو لوازمات کی ضرورت ہو۔ ایک کاپی پن کے علاوہ، ایک شعر پیدا کرنے والی سوچ اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک خداداد صلاحیت ہے: ع

"شاعری جزویست از پیغمبری"

شاعر شعر کہنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ ہر شخص خود سے ہمکلام ہوتا ہے شاعر جب خود سے ہمکلام ہوتا ہے تو وہ جود بخود منظوم ہوتا ہے۔ 

سوال۔آپ کا تخیل کیا ہے؟

ج۔میرا تخیل؟ موقع کی مناسبت سے ہی تخیل وجود پاتا ہے۔

سوال۔آپ اپنے آپ کو شاعرہ کیوں نہیں تسلیم کرتی ہیں؟

ج۔میں اپنے آپ کو شاعرہ تسلیم کرتی ہوں مگر زیادہ اہم یہ ہے کہ لوگ مجھے ایک اچھی شاعرہ تسلیم کریں۔ یہاں بہت سے خوش گماں قافیہ آرائی کر کے خود کو شاعر سمجھے پھرتے ہیں میں نہیں چاہتی میں ان میں گنی جاوں۔

سوال۔ کلاسیکی غزل اور جدید غزل میں کیا فرق ہے؟

جواب۔میرے علم کے مطابق کلاسک غزل فنی ، فکری اور لسانی اعتبار سے زیادہ معیاری تھی جبکہ جبکہ جدید غزل contemporary sensibility کے ساتھ آگے بڑھ رہی  ہے۔

سوال۔کیا شاعر کے لیے ماہر علم عروض ہونا ضروری ہے؟

جواب۔اگر آپ یہ کہیں کہ شعر کہنے سے پہلے علم العروض کا سیکھنا ضروری ہے تو اس کی مثال تو ایسی ہی ہو گی کہ جب کوئی بچہ دنیا میں آتا ہے اور بولنا سیکھتا ہے تو آپ اسے پہلے گرامر سکھانا شروع کر دیں کہ پہلے کلمہ مہمل کی پہچان کرے  پھر بولے ایسے تو وہ گونگا ہی رہ جائے گا ، شاعری ایک خداداد صلاحیت ہے اتفاق کی بات یہ ہے کہ نیچرل شاعر جب شعر کہتا ہے بھلے آمد کا ہو یا آورد کا تو وہ اوزان پہ پورا اترتا ہے۔

شاعری کی تاریخ قبل مسیح کی ہے جبکہ بحور کو بصرہ میں رہنے والے عبدالرحمن بن خلیل  نے ایجاد کیا جن کا زمانہ 103 ہجری سے 170 ہجری تک ہے، اس کا مطلب اس دوران جو شاعری ہوئی یعنی قبل مسیح سے سنہ 170 ہجری تک وہ  بحور کی قید سے آزاد تھی یا بحور کی محتاج نہیں تھی، قدیم مذاہب کے لوگ اپنی عبادت گا کے کرتے تھے تو یقینا شعر کی صورت میں کچھ اظہار کرتے ہونگے۔۔۔لیکن  میرا خیال کہ  جو لوگ شعر کہنا چاہیں انھیں چاہئے کہ رفتہ رفتہ بحور کا علم بھی حاصل کریں تو ان کے کلام کا حسن بڑھ جائے گا۔

سوال۔آپ مشاعروں میں شرکت نہیں کرتی!

جواب۔ کرتی ہوں مگر بہت کم۔ مخلوط مشاعروں میں اکثر جگہ ماحول ٹھیک نہیں ہوتا لوگ خواتین کی موجودگی کا احترام نہیں کرتے سگریٹ نوشی بھی کرتے ہیں، جبکہ میں جس گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں وہاں بہنوں  اور بیٹیوں کی موجودگی میں مرد حضرات نہ ایکدوسرے کے ساتھ بیہودہ مذاق کرتے نہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں ۔ بزرگ شعرا زیادہ رومانوی شاعری کرتے ہیں جس سے میری نظر ان کی شخصیت کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتی۔ پھر بعض لوگ بہت ہی بیباک شاعری کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ محفل میں خواتین بھی ہیں۔ یہ سب میرے مزاج اور تربیت سے میل نہیں کھاتا میں uncomfortable  محسوس کرتی ہوں۔

سوال۔تحریک احیاے اردوادب میں کب شمولیت ہوئی؟

جواب۔تقریبا ایک سال ہوگیا۔ ایک بہت  اچھی شاعرہ  ڈاکٹر خالدہ  انور جو کہ میری اچھی دوست ہیں ،ان کے  شعری مجموعے کی تحریک میں تقریب پزیرائی تھی تو ڈاکٹر خالدہ انور نے مجھے وہاں متعارف کروایا وہاں بہت پڑھے لکھے اور سوبر لوگ آتے ہیں  میرے گھر سے نزدیک بھی ہے تو میں ان کی  تحریک کی مستقل رکن بن گئی۔

سوال۔اس تحریک کی سرگرمیوں میں کہا کچھ شامل ہے؟

جواب۔ مشاعرے ہوتے ہیں۔ باقی ربیع الاول میں نعتیہ مشاعرہ اور اگست میں وطن کی محبت اور حب الوطنی کے تناظر میں جبکہ نومبر میں علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں دسمبر میں پھر قائد اعظم کے حوالے سے اسی طرح سارا سال کچھ نہ کچھ موقع بن جاتا ہے۔

سوال۔ اردو زبان کا مستقبل آپ کی نظر میں کیاہے؟

جواب۔ جب تک اردو بولنے اور لکھنے والے موجود ہیں اردو اپنی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر رہے گی، ہاں کچھ سہل کر دی گئی ہے مگر فی زمانہ تقاضہ بھی یہی ہے بجائے اس کے کہ لوگ ایک مشکل زبان سمجھ کے پڑھنا لکھنا چھوڑ دیں تھوڑی سی آسانی کا کوئی ہرج نہیں میری نظر میں باقی یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اردو زبان کے سلیبس پہ نظر رکھیں۔

سوال۔ آپ کے اپنےکہے ہوئے پسندیدہ اشعار اور ان کی وجہ پسند؟

جواب۔شاعر کو اپنا ہر شعر پسند ہوتا پے پھر کچھ اشعار اور غزل پیش کر دیتی ہوں: 

قطعہ 

ہے احتمال جھلس کر تمام ہونے کا 

لگا کے آگ تماشہ نہ کیجیے صاحب

غریقِ نورِ تجلی جواب کیا دیں گے

حسابِ وقتِ کلیمی نہ لیجیے صاحب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزل           

یوں تو کہنے کو مجھے اپنے قریں رکھتا ہے

اک تکلُّف بھی مگر اپنے تئیں رکھتا ہے 


کون اچھا ہو بھلا ایسی مسیحائی سے

درد ہوتا ہے کہیں ہاتھ کہیں رکھتا ہے 


دعوی' کرتا ہے محبت کا مگر دکھ یہ ہے

بزمِ غیراں میں مرا مان نہیں رکھتا ہے 


عقل کہتی ہے کہ وہ شخص پرایا ہے مگر

دل ہے دیوانہ پرائے پہ یقیں رکھتا ہے 


تلخیاں زیست کو بے رنگ کیے رکھتی ہیں

اک ترا رنگ ہے جو اس کو حسیں رکھتا ہے 


وقت کی ریت ٹھہرتی ہی نہیں ہاتھوں میں

دل کو دن رات یہ احساس حزیں رکھتا ہے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی دھند میں لپٹے ہوئے منظر کی طرح

 نہ دکھائی ہی پڑی اور نہ اوجھل ہی ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آزاد نظم

نہ چاند نکلا 

نہ تارے چمکے 

دبیز چادر تھی تیرگی کی

نہ کوئی آہٹ

 نہ کوئی دستک 

نہ نیند آئی

 نہ آپ آئے 

سحر بھی پہلو بدل رہی تھی

 رات لگتا تھا تھک گئی تھی

 جبھی تو اک جا ٹھہر گئی تھی

مفارقت تھی

 طویل شب تھی

 عجب تھا عالم 

نہ کوئی تازہ سخن ہی اترا 

نہ نیند آئی 

نہ آپ ائے  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, March 18, 2024

پنجابی غزل ( منظور شاہد اوراڑہ ) قصور

 






اکھ دے وچ سنبھال کے اتھرو

ہسناں واں میں ٹال کے اتھرو

جسلے ودھ جائے سیک ہجر دا 

کڈھ دی اکھ ابال کے اتھرو

شالا کسے دے پیش ناں پے جان

چھڈدے اکھیاں گال کے اتھرو

غیراں دے نال تکیا سجن

سٹے اکھ اچھال کے اتھرو

شاھد بن گئے ہاسا جگ دا

کھٹیا کیہ وکھال کے اتھرو

منظور شاھد اوراڑہ قصور پنجاب پاکستان

پنجابی غزل ( حسن حسینی ) حافظ آباد

 





غزل

مینو تسّا مار کے توں وی

مر جا غوطہ مار کے توں وی


میرے سدیاں تے نہیں آیا

ویکھ لئے ترلا مار کے توں وی


پک اے رویا ہوسیں اس نوں

عزرائیلا! مار کے توں وی


ساریاں وانگوں بہہ جا پترا!

مونہہ نوں جندرا مار کے توں وی


میں سنیا اے ساہ لینا ایں

عشقا! بندہ مار کے توں وی


ساری زندگی کھاندا آیایں

میرا حصہ مار کے توں وی


بھل نہ پیدا کیتا اے پر

رشتہ، رشتہ مار کے توں وی


حسن ،حسینی بَن سکدا ایں

میں نوں گولہ مار کے تو وی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حسن حسینی

Sunday, March 17, 2024

پنجابی کہانی ( سٹیٹس ) کہانی کار : سلیم آفتاب سلیم قصوری

 



کہانی 

سٹیٹس 

کوٹھی ورگے گھر وچ ہر چیز سلیقے نال جُڑی ہوئی سی۔نویں ڈیزائن دے چائینی فرنیچر دے نال وُڈورک میچنگ طریقے نال کرایا گئیا سی۔تھاں تھاں تے فینسی فانوس گھر دی رونق نوں چار چن لاندے پئے سن۔ گھر دے فرش نوں وی ایرانی قالیناں نال دلہن  وانگ سجایا گئیا سی۔کوٹھی دے گیٹ چ  وڑدیاں سار ای چِٹّی نویں نکور کار پارک کیتی ہوئی سی۔ایس محل ورگی کوٹھی دی مالک سٹھّاں ستّراں سالاں دی مختاراں بیگم سی۔جیہڑی آودے اک پتّر تے دھی دے نال ایتھے پچھلے ویہیاں سالاں توں ریہندی پئی سی۔جدوں اوہندے سر دے سائیں نے اوہلا کیتا تاں اوہنے وگڑے حالات دا مرداں وانگ مقابلہ کیتا تے أودے بچیاں دی پرورش کیتی۔کیوں جے اوہ أپ وی محکمہ تعلیم وچ چنگے عہدے تے لگی سی۔ایس لئی اوہنے أودے بچیاں نوں وی سرکاری نوکری کروا دتی۔تے ہولی ہولی اوہناں دے حالات بہتر توں بہتر ہون لگ پۓ۔ہن اوہناں دے کول لوڑ دی ہر شئے سی جیہڑی کسے وی صاحبِ حثیت بندے کول ہوندی اے۔اوہناں نے چار چھیلڑ أودے أودے ناں دے بنکاں وچ وی رکھواۓ ہوئے سی۔

مختاراں بیگم نوں نوکری توں ریٹائیر ہوئیاں دس سال ہو گئے سی۔اوہ ہن زیادہ وقت گھر وچ ای گزار دی یاں کسے ادبی سماجی اکٹھ جاندی أندی سی۔گھر دے خرچ نوں ہن پُتّر وڈّی دھی کلثوم نے چکیا ہویا سی۔اوہناں دے انگ ساک تاں اجے وی  غربت دی چکّی وچ ای پِسئے ہوئے سن۔جد کہ اوہناں أودے رہن سہن ملن ورتن تے سٹیٹس چوکھا اُچّا رکھیا ہویا سی۔ہن سماجی ادبی محفلاں وچ آنا جانا تے وڈیاں وڈیاں کاراں دیاں  لمیاں  لمیاں  سیراں اوہناں دلے لہو وچ رچ گئیاں سن۔

کلثوم ہُن تیہاں ورہیاں نوں اپڑ رہی سی تے اوہدے سِر دے والاں وچ تھاں تھاں تے چاندی دا قدرتی کم وکھالی دیندا سی۔اوہ  اجے تیکر کنواری بیٹھی سی۔اوہناں دے کِنیاں ای رشتے داراں ترلا ماریابھئی اوہناں دی گل بات ہو جایے پر کوٹھی والیاں دی سوچ تے اسٹیٹس اگے اوہناں دی دال ای نہ گلدی۔اوہ وچارےاوہناں دیاں گلاں سن کے آودیاں عزتاں بچاندے اوتھوں نکلدے تے فیر اودھر دا کدے مونہہ نہ کردے۔جے کوئی اوہناں دے اسٹیٹس دا ساک لبھدا تاں مُنڈے دے رنگ ڈھنگ تے اوہندی تھوڑی تعلیم پاروں جواب دے چھڈدے۔ایسے طراں ای ورھے لنگھدے ر ہے۔ ہُن کلثوم دے والاں وچ چاندی دے نقش و نگار پُھل بُوٹے صاف وکھالی دیندے سن۔جنہوں اوہ امپورٹیڈ ہیر کلران نال چمکاندی ۔چہرے تے جھریاں وی پین لگ پئیاں سن جنہاں نوں ون سونیاں کریماں نال ہر ویلے لکاوندی پر دنیا دی ہر اک شے ہوون دے باوجود اوہ آودے اندر پیدا ہون والے رُکھے پن نوں نہیں لکا سکدی سی۔جیہڑا کہ اوہندیاں اکھاں چوں صاف وکھالی ایندا سی۔

اج وی وچولن اک گھر والیاں نوں اوس کوٹھی چ رشتے لیئی لیائی ہوئی سی۔پروہنیاں لئی چاء پانی دا انتظام کیتا گئیا۔پہلاں عام گلاں ہوئیاں تے فیر رشتے بارے گلاں ہون لگ پئیاں ۔میرا پُتّر تاں زیادہ باہر ای ہوندااے۔سال چھ مہینے بعد کینیڈا توں آندا اے۔مہینہ دو مہینے رہندااے فِر ٹُر جاندا اے۔مُنڈے دی ماں نے اپنے پُتّر دا تعارف کرایا۔مُنڈے دیاں بھیناں کلثوم دے نال دوجے کمرے وچ بیٹھیاں ہوئیاں سن۔مختیاراں بیگم نے وی آودی دھی کلثوم بارے دسیا۔بھئی اوہ پڑھی لِکھی تے سرکاری نوکری کردی اے۔خیر ایس طراں ای کلاں باتاں وچ دو گھینٹے ٹپ گئے۔رشتے دا معاملہ گول مول ای رہیا۔جدوں وچولن اوہناں نوں لے کے باہر جاون لگی تاں مختیار بیگم نے اوس وچولن نوں آکھیا بھئی ایہناں نوں دسیں اساں کُڑی نوں جہیز ودھیرا دینا اے۔مائی وچولن جیہڑی کہ پہلاں وی کئی رشتے لیا لیا کے تھکی ہوئی سی ۔سڑدی بلدی مختیار بیگم نوں بولی بیگم صاحبہ سامان ودھیرا دینا اے تاں کیہ اے کُڑی دی عمر وی تاں ودھیرے سامان وانگر ای ہو رہی اے ناں۔ ایہ لفظ آکھدیاں ہوئیاں اوہ مائی وچولن ذرہ وی نہیں سنگی سی۔

کہانی کار 

سلیم آفتاب سلیم قصوری

Saturday, March 16, 2024

نظم ( معذرت ) شاعر : صغیر احمد صغیر

 





نظم معذرت 

اے مرے پیارے شاعر 

مرے مسئلے کا کوئی حل بتا 

میں نے بچپن سے اب تک لطافت سنی 

اور لطافت پڑھی 

داستانیں رقم اس کی جتنی ہوئیں 

میں نے سب ہی پڑھیں 

یہ بھی دیکھا کہ ہومر کی جنت کہاں کھو گئی

اور وہ رویا نہیں 

میر کے غم کو جانا تو آنکھوں سے اشکوں لڑیاں اترنے لگیں 

میں نے غالب کے ہر اک تخیل پہ برسوں تدبر کیا 

راز کتنے تھے جو منکشف ہو گئے 

اور کئی رہ گئے 

میں نے اقبال و رومی کے نقش ِ قدم 

ناپ کر دم بہ دم 

روح کیا ہے؟ یہ سمجھا 

تو مجھ پر خدا سے تعلق کھلا

روح مٹی میں شامل ہوئی کس طرح 

مجھ کو جتنے بھی اعزاز بخشے گئے 

مجھ پہ کھلتے گئے 

کہکشائیں مری راہ کی دھول لگنے لگیں

......... پھر مجھے ایک دن 

جب تری ماڈ،رن شاعری کی کتابیں ملیں 

کیا بتاؤں، عجب کینوس جو بنا!

ہر غزل اک برہنہ طوائف کی مانند 

گھنگرو پہن کر تھرکنے لگی 

تیرے ہر مصرعے سے چھنا چھن، چھنا چھن، 

دھما دھم، دھما دھم کی آواز آنے لگی 

 تب تری شاعری 

اپنے بچوں سے مجھ کو چھپانا پڑی 

 تو نے جو کچھ لکھا 

سب خدا کے اصولوں سے تھا ماوراء

تو نے جلدی سے مشہور ہونے میں کیا کر دیا!

آخرش ایک دن 

ایک نقّاد کانوں کو چھو کر یہ کہنے لگا:

"شاعری پر بہت ہی کڑا وقت ہے 

..... اک برا وقت ہے" 

 کیا کہوں جینز کے چاک تک تو نے گنوا دیے 

شاعری میں تو بند قبا لے کے آیا

 علاوہ ازیں....

تو نے وہ تک لکھا ہے جو کہنے کے قابل نہیں 

سو، مرے شاعرِ محترم، معذرت

تیری جدت بھری شاعری کی برہنہ کتابیں 

مرے گھر میں رکھنے کے قابل نہیں !

اس لیے معذرت، 

اور بہت معذرت 

(صغیر احمد صغیر).

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( نزیز نذر ) پھول نگر

 





نعت شریف 


مصطفے کو بنا کے خدا نے کہا 

مرحبا  مرحبا  مرحبا  مرحبا 

پھر فرشتوں کا عرشوں پہ نعرہ لگا

یا نبی مصطفےٰ یا حبیبَ خدا

ایسی ولیل زلفوں کی کیا شان ہے

میرے آقا   کی تعریف   قر آن  ہے

پارے پارے میں لکھا ہے میں نے  پڑھا

میرے پیارے نبی   مرتضےٰ مصطفےٰ

نہ زمیں تھی نہ تھا آسماں کا نشاں

رب نے سوچا کہ ہو جاؤں اب میں عیاں

اپنے ہی نور سے نور پیدا کیا

اے خدا شکریہ شکریہ شکریہ 

کلمہ گو ہوں نذر جی مجھے مان ہے

ساری دنیا ہی مجھ پہ مہربان ہے

میرے ماں باپ اور میرے بچے فدا 

رحمت العالمین یا شاہِ کبریا


نزیر نذر پھول نگر 

Friday, March 15, 2024

انابیہ خان ( ناول ،افسانہ و تبصرہ نگار ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 






انابیہ خان

افسانہ نگار۔ناول نگار اور تبصرہ نگار 

انٹرویو:صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991


آج ہم انابیہ خان سے ملاقات کریں گےجو ملتان  کے قریب جام پور ضلع راجن پور میں 10 جون 2000ء میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم بھی وہی سے حاصل کی ہے۔افسانہ نگار۔ناول نگار اور تبصرہ نگار ہیں۔

سوال ۔۔۔ لکھنے کا آغاز کب اور کیسے ہوا تھا ؟

جواب ۔۔۔  میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں بھی کبھی لکھ سکوں گی ۔ میں آج بھی خود کو ایک لکھاری تسلیم نہیں کرتی کیونکہ میں ابھی لکھنے کے مراحل میں ہوں 2021 ءکو میں نے لکھنا شروع کیا تھا تین سال ہو گئے ہیں مجھے لکھتے ہوئے ۔۔۔۔۔

سوال ۔۔ ناول کی نئی کتاب کب آئی ؟

جواب ۔۔۔ 2021 ء کو ایک ماورائی  سچی کہانی لکھی تھی جو قارئین کو بہت پسند آئی تو 2021ء کو ہی کتاب میں شائع کروا دیا تھا جس پر مجھے اَلْحَمْدُلِلّٰه سات ایوارڈ بھی ملے ہیں ان  اداروں کے نام بھی لکھ رہی ہوں جہاں سے مجھے ایوارڈ ملے ہیں  ۔۔۔ اَلْحَمْدُلِلّٰه تین بار گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکی ہوں۔

بھیل ادبی ایوارڈ 

کار خیر انٹرنیشنل

الوکیل ایوارڈ

سردار ادبی ایوارڈ

نقیب ادبی ایوارڈ ۔۔۔۔۔

گوجر ادابی ایوارڈ 

سرفارست  ادابی ایوارڈ ۔۔۔ 

سوال ۔۔ ناول  اور افسانے میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ 

جواب ۔۔۔افسانہ ادب کی نثری صنف ہے۔ لغت کے اعتبار سے افسانہ چھوٹی کہانی کو کہتے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں یہ لوک کہانی کی ہی ایک قسم ہے۔ ناول زندگی کا کل اور افسانہ زندگی کا ایک جز پیش کرتا ہے۔ جبکہ ناول اور افسانے میں طوالت کا فرق بھی ہے اور وحدت تاثر کا بھی۔ افسانہ کو کہانی بھی کہا گیا ہے۔ لیکن موجودہ ادبی تناظر میں افسانے سے مقصود مختصر افسانہ ہے جو کم سے کم آدھے گھنٹے میں یا آدھی نشست میں پڑھا جاتا ہے۔ افسانہ دراصل ایک ایسا قصہ ہے جس میں کسی ایک واقعہ یا زندگی کے کسی اہم پہلو کو اختصاراً اور دلچسپی سے تحریر کیا جاتا ہے ۔اس کی ترتیب میں اجزائے ترکیبی کا بہت زیادہ عمل دخل رہتا ہے اور ان میں سے وحدت تاثر کو ذیادہ اہمیت حاصل ہے .

افسانہ زندگی کے کسی ایک واقعے یا پہلو کی وہ خلّاقانہ اور فنی پیش کش ہے جو عموماً کہانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ ایسی تحریر جس میں اختصار اور ایجاز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وحدتِ تاثر اس کی سب سےاہم خصوصیت 

 ہے۔ داستان، ناول، ڈراما اور افسانہ بنیادی طور پر کہانی ہونے کے باوجود تکنیک کے اصول و قواعد کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ داستان میں تخیل اور تصور کی رنگینی، ڈرامے میں کوئی نہ کوئی کش مکش، ناول میں زندگی کی وسعت اور گہرائی اور افسانہ میں موضوع کی اکائی، یہ امتیازی اور انفرادی خصوصیات ہیں ۔۔۔

سوال ۔۔۔ ناول لکھنے کے لیے کیا ضروری ہوتا ہے؟

جواب ۔۔ ناول لکھنے کے لیے پلاٹ کا ہونا ضروری ہے ۔ کرداروں کا ہونا ۔ یہ لکھاری کی سوچ پر بھی منصر ہوتا ہے ۔۔۔ 

سوال ۔۔۔ آپ کس لیے لکھتی ہیں اپنے لیے یا معاشرے کی اصلاح کے لیے ؟

جواب ۔۔۔ کوشش تو یہی ہے معاشرے کی اصلاح کر سکوں ۔ لیکن معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے میرے جیسے تین سو اور لکھاری مل کر بھی اس معاشرے کی اصلاح نہیں کر سکتے ۔۔اب اللہ پاک ہی رحم کر سکتا آمین ۔۔۔

سوال ۔۔ ادب اور ادیب کا بنیادی فریضہ کیا ہے ؟

جواب ۔۔۔  ادب کی ذمے داری یہ ہے کہ معاشرے میں چلنے والی ہر بات چاہے وہ  مثبت ہو یا منفی اسے پیش کرے اور ادیب کا کام یہ ہے وہ اپنی قلمی طاقت کا پورا زور لگا کے  معاشرے کی ہر خوبصورتی اور بد صورتی کو دکھائے ۔۔

سوال ۔۔ اب تک کتنے تبصرے لکھ چکی ہیں؟

جواب۔۔۔شاید دس یا اس سے کچھ زائد۔

سوال ۔۔ ملتان کے حوالے سے کوئی خاص بات ؟

جواب ۔۔۔۔ الحمدللہ میرا شہر بہت خوبصورت ہے یہ اولیاءکا شہر ہے ۔۔۔۔

سوال ۔۔ ہمارے ہاں مطالعے کےزوال کےاسباب ؟

جواب ۔۔۔ میرے خیال سے موبائل انٹرنیٹ۔

سوال ۔۔۔ ادبی رسائل کے بارے میں آپ کی رائے ؟ 

جواب ۔۔۔ آج کل کے جو نئے پڑھنے والے ہیں ان کو ادب کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے میں خود بھی ایک نئی لکھاری اور نئی پڑھنے والی ہوں تو میں یہی کہوں گی کہ ایسے رسائل ضرور ہوں ہمیں ابھی ادب کے بارے میں زیادہ پتہ نہیں ہے ۔۔۔

سوال ۔۔۔ عہد جدید میں اردو کا نمائندہ  ناول نگار ؟  

جواب ۔۔۔۔ معذرت کے ساتھ ۔۔۔ میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتی کیوں کہ میں ابھی نئی اس میدان میں اتری ہوں زیادہ نہیں جانتی ۔۔۔