Wednesday, February 7, 2024

شب معراج کے نوافل اور روزے ( حسنہ نور )

 





*شب معراج کے نوافل اور روزے*


ستّائیسویں رَجَبُ الْمُرَجَّب کی عظمتوں کے کیا کہنے ! اس رات کواللہ عزوجل نے اپنے پیارے محبوب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج شریف کی دولت عطا فرمائی اور پیارے آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت اور دوزخ کو ملا حظہ فرمایا اور چشمان مبارک سے اللہ عزوجل کا دیدار کیا۔لہذا اس رات کوخوب عبادت میں گزارنا چاہنے


حضرت ِسیِّدُناسلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائےغُیُوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذِیشان ہے:’’رجَب میں ایک دن اور رات ہے جو اُس دن روزہ رکھے اور رات کو قِیام (عبادت )کرے تو گویا اُس نے سو سال کے روزے رکھے ، سو برس کی شب بیداری کی اور یہ رَجَب کی ستائیس(ست۔تا۔ئیس) تاریخ ہے۔‘‘(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۳ص۳۷۴حدیث ۳۸۱۱)


*ایک نیکی سو سال کی نیکیوں کے برابر*

رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شَب ہے ۔جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ اورکوئی سی ایک سُورت اور ہر دو رکعت پراَلتَّحِیّاتُ پڑھے اور بارہ پوری ہونے پر سلام پھیرے ، اس کے بعد100بار یہ پڑھے: سُبْحٰانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَر ، اِستِغفار100 بار، دُرُود شریف 100 بار پڑھے اوراپنی دنیاوآخِرت سے جس چیز کی چاہے دُعا مانگے اور صبح کوروزہ رکھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی سب دُعائیں قَبو ل فرمائے سوائے اُس دُعا کے جوگناہ کے لئے ہو۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۷۴حدیث۳۸۱۲)


چھ رکعات نفل دو سلام سے ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد7 بار سورہ اخلاص پڑھیں۔ چھ رکعات مکمل ہونے کے بعد50 بار دُرُود شریف پڑھے - انشااللہ تعالیٰ جو بھی حاجت ہو قبول ہوگی


دو رکعات نفل پڑھے ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد27 بار سورہ 

اخلاص پڑھیں اَلتَّحِیّاتُ کے بعد27 بار درود شریف پڑھیں پِھر سلام پھیرے اس کا ہدیہ حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کریں


دو رکعات نفل پڑھے پہلی رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد1 بار سورہ علم نشرح اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد1 بار سورہ قریش پڑھے - انشااللہ تعالیٰ یہ نماز پڑھنے سے اولیا کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب ملےگا


دس رکعات نفل پانچ سلام سے ہر رکعت میں سورۂ فاتِحہ کے بعد ۳ بار سورہ کافروں اور۳ بار سورہ اخلاص پڑھیں دس رکعات پوری ہونے پر 1بار کلمہ توحید یعنی چوتھا کلمہ پڑھیں


شب میں اپنی قضا نمازیں پڑھے ، غسل کرے غسل یا وضو کے بعد ٢ رکعت نفل تہایتول وضو پڑھے ، عطر لگاے، سرما پہنے ، اپنی گناہوں سے توبہ کرے استغفار پڑھے ، دررود شریف ، قرآن شریف پڑھے ، سورہ یاسین پڑھے ،دوا مانگے ، صدقہ - خیرات کرے ، بے ہودہ اور خرافاتی باتوں سے بچے


رجب کے نفلی روزے


60 مھینوں کا ثواب

حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : ستّائیسویں رجب کا جو کوئی روزہ رکھے، اللہ تَعَالٰی اُس کیلئے ساٹھ مہینے کے روزوں کا ثواب لکھے۔ (فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب ، لِلخَلّال ص۱۰)


سوسال کے روزے کا ثواب

ستّائیسویں رجب کا جو کوئی روزہ رکھے تو گویا اُس نے سو سال کے روزے رکھے


*جنّتی محل*

تابِعی بُزُرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابوقِلابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :رجب کے روزہ داروں کیلئے جنت میں ایک مَحَل ہے۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۸حدیث۳۸۰۲)


ایک جنّتی نہر کا نام رجب ہے

حضرت ِسَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رضی اللہ تعالٰی عنہ سےروایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جنت میں ایک نَہر ہے جسے ’’رجب‘‘ کہا جا تا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ عَزَّوَجَل اسے اس نَہر سے سیرَ اب کر ے گا۔‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۶۷حدیث۳۸۰۰)


*ایک روزے کی فضیلت*

مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل کرتے ہیں کہ سلطانِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:ماہِ رجَبَ حُرمَت والے مہینوں میں سے ہے اور چھٹے آسمان کے دروازے پر اِس مہینے کے دن لکھے ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص رجَبَ میں ایک روزہ رکھے اور اُسے پرہیزگاری سے پورا کرے تو وہ دروازہ اور وہ(روزے والا)دن اس بندے کیلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مغفِرت طلب کریں گے اور عرض کریں گے:یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اِ س بندے کو بخش دے اور اگر وہ شخص بغیر پرہیزگا ر ی کے روزہ گزارتا ہے تو پھر وہ دروازہ اور دن اُس کی بخشِش کی درخواست نہیں کریں گے اور اُس شخص سے کہتے ہیں :’’اے بندے !تیرے نفس نے تجھے دھوکا دیا۔‘‘ 

(مَاثَبَتَ بِالسُّنۃ ص۲۳۴،فَضائِلُ شَہْرِ رَجَب ، لِلخَلّال ص۳،۴)بخاری، کتاب الدعوات، باب أفضل الاستغفار، حدیث نمبر:5831)

................ *شب معراج کیسے گزاریں؟* ...................

..... شب معراج کی عبادت اور ستائیسویں تاریخ کے روزہ کی فضیلت


سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رجب میں ایک ایسادن اور ایک ایسی رات ہیکہ جس نے اس دن روزہ رکھا اور اس رات قیام کیا گویا اس نے سو 100 سال روزہ رکھا اور سو100 سال شب بیداری کی اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے-(فضائل الاوقات للبیہقی،باب فی فضل شہر رجب،حدیث نمبر11-کنز العمال ، فضائل الازمنۃ،حدیث نمبر:35169۔ماثبت بالسنۃ ،ص :70۔الغنیۃ لطالبی طریق الحق ج1 ص182,183۔ شعب الإیمان للبیہقی،باب الصیام، تخصیص شہر رجب بالذکر،حدیث نمبر:3650۔ جامع الأحادیث للسیوطی، حرف الفاء ، حدیث نمبر: 14813۔ الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الفاء ، حدیث نمبر: 172۔کنز العمال، فضائل الأزمنۃ والشہور، حدیث نمبر: 35169۔ تفسیر در منثور،زیر آیت سورۂ توبہ :36)


....... *شب معراج میں بارہ رکعات نفل نمازکی خصوصی 

چونکہ معراج میں صلوٰۃ التسبیح بھی پڑھی جاتی ہے اسی لئے یہاں صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت اور اس کا طریقہ بیان کیا جاتاہے ۔صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ یہ ہے کہ صلوٰۃ التسبیح کی نیت سے چاررکعت اس طرح اداکریںکہ تکبیر تحریمہ اور ثناء کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے: سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَر پھر تعوذ،تسمیہ،سورہ فاتحہ اور ضمِ سورہ کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے‘ پھر رکوع کرلے اور سبحان ربی العظیم کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے‘ رکوع سے سراٹھاکر تسمیع وتحمید کے بعد قومہ میں دس بار تسبیح پڑھے‘ پھر پہلے سجدے میں سبحان ربی الاعلی کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان کے جلسہ میں دس مرتبہ تسبیح پڑھے‘ اور دوسرے سجدہ میں بھی سبحان ربی الاعلی کے بعددس مرتبہ تسبیح پڑھے‘ اور دوسرے سجدے سے کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھے۔ 


........... *شبِ معراج میں حسب ذیل ماثور دعائیں پڑھیں:*


اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔


ترجمہ :ائے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والاہے، اور معافی کوپسند کرتاہے‘ پس مجھے معاف فرمادے۔(جامع ترمذی،ابواب الدعوات،باب ای الدعاء


ترجمہ: اے اللہ! میرے دینی امور کو درست فرمادے جو میرے معاملہ کی حفاظت کا ذریعہ ہیں اور میری دنیا درست فرمادے جس میں میری معیشت ہے ‘میری آخرت درست فرمادے جہاں مجھے لوٹنا ہے‘ میری زندگی کو میرے لئے ہر بھلائی میں زیادتی کا ذریعہ بنا ‘اور میری موت کو میرے لئے ہر مصیبت سے راحت کا سبب بنا۔ (صحیح مسلم،کتاب 


اللہ رب العزت تمام امت مسلمہ کو اس رات کے فیوض و برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور بغیر حساب کتاب جنت عطا فرمائے۔

آمیـن یارب العالمیـن 🌸🍃


*آپ معراج پر بھی نہ بھولے ہمیں*

*ان کی ایسی محبت پہ لاکھوں سلام*


*آمین ثمہ آمین۔*


🍃💚🍃💛🍃💜🍃💙🍃🤎🍃🤎

Tuesday, February 6, 2024

چھوٹے ( یاسین یاس )

 





چھوٹے 


تحریر : یاسین یاس 


چھوٹےایک لفظ ہی نہیں ہے

 بلکہ اس  میں زمانے بھر کے دکھ ، تکلیفیں اور محرومیاں سمٹی ہوئی ہیں ان چھوٹوں کو آپ کسی چائے والے کھوکھے، روڈز پر بنے ٹرک ہوٹل , ورکشاپس پنکچر والوں ، جوتے اور کپڑے کی دکانوں ، ٹیکسٹائل ملوں , پوش علاقے کے گھروں میں , برتن دھوتے ، پنکچر لگاتے ، لوگوں کو چائے پانی دیتے ہوئے , اپنے استادوں میں چابی پانہ اور ہتھوڑی دیتے ہوئے کہیں تپڑی پوچا کرتے ہوئے تو کہیں بسوں میں ٹھنڈے پانی کی آواز لگاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں یہ وہ کردار ہے جسے ہماری توجہ کی اشد ضرورت ہے ہم میں سے اکثر جب کبھی باہر ہوٹل یا چائے کی دکان میں جاتے ہیں کسی دکان یا مالز پر جاتے ہیں تو ان کو دیکھ کر کیوں ہمیں اپنے بچے یاد نہیں آتے کیوں ہم بلاوجہ ان کی چھوٹی سی غلطی پر انہیں ڈانٹ دیتے ہیں یہ زمانے کے ستائے ہوئے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے غریب گھرانوں کے غیور چشم و چراغ ہیں جو چھوٹی سی عمر میں بھی اپنے بوڑھے والدین کو بہن بھائیوں کا سہارا بنے ہوئے اور اس عمر میں بھی ان کی ترجیح محنت مزدوری ہے ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ان سے پیار کرنا چاہیے اور جہاں کہیں بھی ایسے کسی کردار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہوئی محسوس کریں ان کو اپنا بچہ سمجھ کر ان کی وکالت کرنی چاہیے ان کا خیال رکھنا چاہیے ان سے پیار کرنا چاہیے کچھ بھی نہ کرسکتے ہوں تو ان کو پیار سے مخاطب کرنا چاہیے کوئی بھی ماں باپ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بچہ ایسا کام کرے تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اعلی تعلیم حاصل کرے اور بڑا ہوکر انجینئر ، ڈاکٹر اور پائلٹ بنے لیکن یہ حالات و مجبوری انسان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں اس لیے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ان کے زخموں پر مرہم رکھیں نہیں رکھ سکتے تو کم ازکم ان کو ستانے والوں میں شمار نہ ہوں یہ چھوٹے ہمارا مستقبل ہیں کل کو ان چھوٹوں نے بڑا ہونا ہے اگر ہم ان سے اچھا سلوک کریں گے تو کل کو جب ان کے پاس چھوٹے آئیں گے تو یہ بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے یہی کل کو اچھے مکینک ہوں گے یہی کل کے اچھے ہوٹل مالک ہوں گے یہی کل کے ٹرانسپورٹ ہونگے یہی کل کے دکان دار ہوں گے ان میں سے کچھ لوگ محنت کے بل بوتے پر سیٹھ و سرمایہ دار ہون گے اگر آج ہم ان سے اچھا برتاؤ کریں گے تو ہمارے بچے یا ان کے بچے ان چھوٹوں سے کام کرواتے ہوئے ان کے ہاں کھانا کھاتے ہوئے ان کے ہاں سے خریداری کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے اس لیے ان چھوٹوں کو عزت و احترام دیا کریں ان سے پیار کیا کریں اس طرح ہم ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینے میں کارامد ثابت ہوں گے

" واہ " کی واہ واہ ( رپورٹ اسلوب انٹرنیشنل )

 




محبتوں سے " واہ " کی واہ واہ 


04 فروری 2024 بروز اتوار دن ایک بجے رائل گارڈن دینا ناتھ میں خوبصورت لب و لہجہ کے نوجوان شاعر حافظ صادق فدا کے پہلے پنجابی شعری مجموعہ " واہ " کی تقریبِ پذیرائی و مشاعرہ کا  انعقاد کیا گیا۔ جس کی میزبانی بابا لطیف ، ظفر پہلوان ، صابر و دیگر نے کی۔


جس کی صدارت ساہیوال سے تعلق رکھنے والے اُردو و پنجابی زبان کے معروف استاد شاعر سید فدا بخاری صاحب نے فرمائی۔


مہمانانِ خصوصی:

 جناب عامر رفیق عامر (ڈسکہ سیالکوٹ)

جناب عمران سحر (موڑ کھنڈا)


 نقابت کے فراٸض اردو و پنجابی زبان کے نوجوان شاعر جناب اکمل حنیف نےخوبصورتی سے سر انجام دیئے۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتیہ کلام سے کیا گیا۔


پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا پہلے حصہ میں شعری مجموعہ" واہ " اور صاحبِ کتاب حافظ صادق فدا کی شخصیت پر جناب صاحبِ صدر سید فدا بخاری، اکمل حنیف، ولی محمد عظمی، یاسین یاس، عامر رفیق عامر، عمران سحر اور نذیر نذر نے خوبصورت گفتگو فرمائی۔


صاحبِ کتاب حافظ صادق فدا نے تمام منتظمین بالخصوص بابا لطیف، آنے والے شعراء کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اپنا کلام سنا کر حاضرینِ محفل سے خوب داد وصول کی۔


دوسرا حصے میں مشاعرہ منعقد ہوا جس میں جن احباب نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں

سید فدا بخاری ، حافظ صادق فدا ، عامر رفیق عامر ، عمران سحر، اشتیاق اثر ، ولی محمد عظمی ، یاسین یاس ، رائے ظہیر ایڈووکیٹ ، سلیم نجمی ، ملک ارشاد ، ذین جٹ ، متر سید مہدی بخاری ، فرید عشق زادہ ، نذیر نذر ، مزمل زائر ، صابر پیا ، محمد اعجاز اور بطور ناظم مشاعرہ اکمل حنیف نے سب سے پہلے اپنا کلام سنایا۔

تقریب میں شعراء کرام کے ساتھ ساتھ باذوق سامعین کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔


صاحبِ صدر اور باقی دوستوں نے جناب حافظ صادق فدا کو ان کے شعری مجموعہ " واہ " کی اشاعت پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔


بابا لطیف اور ظفر پہلوان کو خوبصورت پروگرام کے انعقاد پر اور حافظ صادق فدا کو شعری مجموعہ واہ کی پذیرائی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد 


رپورٹ:

ادبی تنظیم "اسلوب انٹرنیشنل"


Friday, January 26, 2024

غزل ( ماہ رخ علی ماہی )

 




غزل 

ہاتھ پھیلائے ہیں، آرزو چاہیے! 

رب سے کرنے کو کچھ گفتگو چاہیے! 


پُوچھتا ہے خدا تو بھی جلدی بتا!

تجھ کو کیا چاہیے؟ مجھ کو تُو چاہیے! 


لمسِ آخر ہی دے دے رفو گر مرے

اس دریدہ بدن کو رفو چاہیے


خامشی کی چڑھانی پڑی بھینٹ پھر

کیا کریں دل کو بس ہاؤ ہو چاہیے!! 


اپنی آنکھیں ذرا دیر کو کر عطا!

جام پینا ہے مجھ کو سبو چاہیے!!


تتلیاں کھو گئیں، رنگِ گل اڑ گیا، 

اب کے گلشن کو دادِ لہو چاہیے! 


دشت کی خاک چھانو، تیمم کرو! 

عشق میں جان و تن با وضو چاہیے


چار سو آندھیاں ہیں تغافل بھری

شجرِ الفت کو زورِ نمو چاہیے!


ماہ رخ علی ماہی

Wednesday, January 24, 2024

انسان میں شیطان (محمد داؤد پھول نگر )

 




انسان میں شیطان

کل رات میں ایک چاۓ کے سٹال پر چاۓ پینے کے لیے گیا روڈ پر ایک گاڑی سڑک پر  چلتی ہوئی نظر آئی جس سے سلنسر کی آواز آ رہی تھی وہ ایک چکر لگا کر عین اسی  ہوٹل کے سامنے رکی چند نوجوان اس گاڑی سے باہر نکلے کولڈ ڈرنک پینے میں مصروف اور گپیں ہانکنے میں لگے رہے ان میں ایک نے اپنی بوتل پی اور اسی بوتل کو سلنسر کے منہ میں رکھ دیا اور دوسرا گاڑی کا سلف مارنے کے گیا اور جیسے ہی اس نے ریس دی اسی سلنسر سے پڑ پڑ کی آواز آئی جس نے مجھے بہت تکلیف دی اور ساتھ ہی مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان نوجوانوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہو گا کیوں کہ انسان میں چھپا شیطان بہت ہی خطر ناک ہوتا ہے اہل علم کہتےہیں دل کے چار خانے ہوتے ہیں ان میں سے ایک خانہ شیطان کا ہوتا ہے جس میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے جو شیطان کے نرغے میں آ جاۓ اور وہ کر  گزرے جو شیطان نے کروانا چاہا تو شیطان قہقہ لگاتا اپنی اگلی منزل کی طرف لوٹ جاتا ہے شیطان نے اس لیے اللہ سے مہلت لی تھی کہ میں آسانی کے ساتھ انسان کو ورغلاٶں گا تو اللہ کے نیک بندے اولیإء صالحین انبیإء اس چالاک شیطان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے اہل علم بتاتے بروز قیامت شیطان کو خطاب کرے گا جب قیامت کا میدان لگا ہو گا تو اس وقت گنہگار کفار یہ کہیں گے کی ہمیں شیطان نے ورغلایا تو وہاں پر شیطان خطاب کرتے ہوۓ کہے گا کیا میں نے تم کو کہا تھا کہ میرے بہکاوے میں آٶ کیا تم اپنی سوچ نہیں رکتھے تھے کیا عقل مند نیھں تھے میں کب کہا کہ میرے بہکاوے آٶ جو جو کام تم اب بھگتو اس دن شیطان صاف انکار کردے گا 

تحریر محمد داٶد پھول نگر

نوسر بازی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان سے بچاؤ ( یاسین یاس )

 





نوسربازی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان سے بچاؤ


تحریر : یاسین یاس 


نوسربازی کےبڑھتے ہوئے واقعات  تشویش کا باعث ہیں جن پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ ان واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے مگر سوال یہ ہے کہ اب ادارے ہر بندے کا خیال کس طرح رکھیں اور کس کس کو کہیں کہ بھائی ایسا نہ کرو اصل میں اس معاملے میں اویرنس کی ضرورت ہے اداروں کو چاہیے کہ وہ عوام کو اویرنس دیں تاکہ لوگ محتاط رہیں یہی اس کا بہترین حل ہے یہ صرف اداروں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہم سب کا فرض ہے کہ گاہے بگاہے ہم اپنے پیاروں بہنوں بیٹیوں اور بچوں کو یہ بتائیں کہ آپ دوران سفر کسی انجان بندے کے ساتھ اس کی گاڑی میں نہ بیٹھیں مطلب لفٹ نہ لیں اور حتی الامکان کوشش کریں کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں جائیں اچھا  یہ نوسرباز آپ کو رش والی جگہوں پر ٹارگٹ نہیں کرتے ان کا شکار ہمیشہ الگ تھلگ کھڑے ہوئے لوگ بنتے ہیں جنہیں کہیں جانے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی سواری مل جائے جو کہیں نہ رکے بس سیدھا میری مطلوبہ جگہ پر جا کر ہی رکے اور مجھے پیسے یا تو دینا ہی نہ پڑیں یا دینے بھی پڑیں تو پبلک ٹرانسپورٹ جتنے دینا پڑیں خدا کے بندو کس دنیا میں جی رہے ہو جس دور میں آپ جی رہے ہیں اس میں اگر کوئی آپ سے پیسے لے کر بھی آپ کو منزل مقصود تک پہنچا دے تو غنیمت جانیے اور آپ ہیں کہ بنا پیسوں کے جانا چاہ رہے ہیں اس لیے احتیاط کیا کریں آپ کے ساتھ بہت سارے لوگ وابستہ ہیں کسی کے بھائی ہیں کسی کے باپ ہیں کسی کے بیٹے ہیں گھر سے نکلتے وقت پوری تسلی کر کے نکلیں کہ جہاں آپ جا رہے ہیں وہاں کے لیے مناسب کرایہ اور جیب خرچ آپ کے پاس ہے اگر صرف کرایہ ہے تو کرایہ ہی خرچ کریں ادھر ادھر کی چیزوں پر دھیان دینے کی بجائے منزل مقصود پر توجہ مرکوز رکھیں ہمارے گاؤں میں ایک عورت کی سونے بالیاں نوسرباز لے اڑے اور اس کو ایک ویران جگہ پر پھینک دیا جو ہمارے شہر سے پندرہ بیس کلومیٹر دور تھی وہ اس بے چارگی کو جب ہوش آیا تو وہ منت سماجت کرکے کسی رکشہ میں بیٹھ کر واپس پنہچی جب کے عورت  بازار سے سودا سلف لینے گئی تھی ہوا یہ کہ جب وہ بازار سے سودا سلف خرید رہی تھی تو وہ نوسربازوں کے ریڈار میں آگئی اب انہوں نے اپنی ساتھی عورت کو سگنل دے دیا جو ہی اسے سگنل ملا اس نے بازار میں چلتے ہوئے ایک گتھلی جس میں اکثر دیہات کی عورتیں روپیہ پیسہ رکھ کر پلو سے باندھ لیتی ہیں اس عورت کے سامنے گرا دی جونہی وہ اس گتھلی کو اٹھانے لگی پیچھے سے نوسربازوں کی  دوسری ساتھی عورت نے وہ گتھلی اٹھا لی اب یا تو وہ  دستبردار ہوجاتی یا اس سے اپنا حصہ مانگتی اس نے لالچ میں آکر اپنا حصہ مانگا تو اس نے رازداری سے اسے بتایا کہ یہاں نہیں بازار سے باہر نکل چلتے ہیں جلدی سے تاکہ جس کی گتھلی گری ہے وہ واپس نہ آجائے اور دونوں آدھا آدھا کرلیں گے وہ مان گئی اور اس نوسرباز عورت کے ساتھ چل دی تھوڑی دور جاکر اس نے پھر تقاضہ کیا کہ مجھے میرا حصہ دو تو اس نے کہا میں چور نہیں ہوں لیکن اس لیے کہہ رہی ہوں کہ کہیں گتھلی والی بی بی نہ جائے وہ سامنے میرے بھائی کی گاڑی کھڑی ہے اس میں بیٹھ کر دیکھ لیتی ہیں اور آدھا آدھا کرلیتی ہیں لالچ میں وہ بھی آندھی ہوئی تھی اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ میں اس عورت کو تو جانتی بھی نہیں تو پھر اس کے ساتھ کار میں کیوں بیٹھوں بس جونہی وہ کار میں بیٹھی ہے کار میں  پہلے سے موجود عورت نے اس نے ناک کے سامنے رومال کیا اور پھر اسے کچھ ہوش نہ رہا گاڑی شہر سے باہر نکل گئی چلتی ہوئی گاڑی میں انہوں نے بڑے آرام سے اس کی بالیاں اتار لیں اور ایک ویراں سی جگہ دیکھ کر اسے گاڑی سے نیچے پھینک دیا 

نوسرباز تو نوسر باز ہیں ان کا قلعہ قمع ہونا چاہیے مگر ہم لوگوں میں بھی اتنی سینس ہونی چاہیے کہ ہم کر کیا رہے ہیں کیوں کسی انجان پر اتنا بھروسہ کر لیتے ہیں صرف اس لیے کہ ہم لالچ میں آجاتے ہیں دوستو جس دور میں آپ جی رہے ہیں اس اپنی آنکھیں کھلی رکھیں ورنہ آپ کو پیر پیر پر نوسرباز ملیں گے آپ ان سے اسی وقت بچ سکتے ہیں جب آپ لالچ نہیں کریں گے ملتان روڈ پر  لاہور ٹھوکر سے لے کر پتوکی تک ایسے واقعات روز ہورہے ہیں اداروں کو ان گروہوں کا سراغ لگا کر انہیں پابند سلاسل کرنا چاہیے تاکہ سادہ لوح لوگ ان سے محفوظ رہ سکیں اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں ۔شکریہ

Tuesday, January 23, 2024

دیہاتی خوراک و رہن سہن ( یاسین یاس )

 





دیہاتی خوراک و رہن سہن  


تحریر : یاسین یاس 


ابھی لمبا چوڑا عرصہ نہیں گزرا پندرہ بیس سال پیچھے چلے جائیں تو دیہاتوں کی زندگی بڑی پر سکون و صحت مند تھی ہر گاؤں میں صحت مند سرگرمیاں زور شور سے ہوا کرتی تھیں دیہاتوں کی صبح تہجد سے بھی پہلے ہو جایا کرتی تھی بڑے  تہجد پڑھنے کے بعد اپنی اپنی جوگ نکال کر ہل چلانے نکل جاتے تھے بزرگ اپنے ہی بستر پر بیٹھے اللہ اللہ کرنے لگ جاتے  گھر کی بڑی عورتیں مدھانی ڈال کر دودھ رڑکنا شروع ہوجاتی تھیں بچوں کو اٹھا کر سپارہ پڑھنے کے لیے بھیج دیا جاتا تھا بچے سپارہ پڑھ کر باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس آیا کرتے تھے پھر ناشتہ کر کے سکول کے لیے نکل جاتے پورا گاؤں نوبجے کا خبرنامہ سن کر سو جایا کرتا تھا جاگتے صرف وہی لوگ تھے جن کو کھیتوں میں پانی لگانا ہوتا یا گاؤں میں پہرہ وغیرہ دینا ہوتا پورے گاؤں میں ایک آدھ گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا جو ڈیرے یا بیٹھک میں لگایا جاتا بڑے بزرگ چارپائیوں یا موڑھوں پر بیٹھے ہوتے اور بچے چٹائی یا توڑے بچھا کر زمین پر بیٹھتے تھے تب مشہوریاں بھی صاف ستھری ہوا کرتی تھیں اور ٹی وی ڈرامے بھی ناظرین کو کچھ نہ کچھ سکھایا کرتے تھے اردو ہو یا پنجابی زبان کے اتار چڑھاؤ اور گرائمر کا پورا خیال رکھا جاتا تھا خبریں پڑھنے والی لڑکی بھی سر پر دوپٹہ اوڑھ کر رکھتی تھی ہر ڈرامے کی کہانی ہوا کرتی تھی لچر پن کا دور دورہ نہیں تھا ہر کام ایک سلیقے سے ہوتا تھا پیسوں کی دوڑ سے زیادہ اچھے کام کی دوڑ ہوتی تھی بچے سکول سے واپس آتے ہی دوپہر کا کھانا کھا کر کھیل کود میں مصروف ہو جایا کرتے تھے یہ تب کی بات ہے جب بچوں کے بستے اس قدر وزنی نہیں تھے دو چار کتابیں دوچار کاپیاں سلیٹ اور ایک تختی ہوا کرتی تھی سارا رف کام سلیٹ پر اور خوشخطی اور املاء تختی پر لکھی جاتی اساتذہ کی حتی الامکان کوشش ہوتی کہ والدین پر بچوں کا بوجھ نہ ہو 

ٹیوشن کا کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا ہر گاؤں میں ہر روز عصر کے وقت کسی کھلی جگہ پر میلے کا سا سماں ہوتا تھا جہاں ہر بچہ اپنی عمر کے حساب سے یعنی اپنے ہم عمروں کے ساتھ وانجو ، گلی ڈنڈا ، پٹھوگرم ،رسہ کشی ، والی بال ، فٹ بال ، چھلانگیں لگانا ،  دوڑ ،چینڈی چینڈا , دھپ چھاں کبڈی اور وینی پکڑنا کھیلتا تھا اور بڑے بوڑھے اسی میدان کے اردگرد بیٹھے ان بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے تب تک کرکٹ کی چسکا دیہاتیوں کو نہیں لگا تھا اور شام ہوتے ہی سارے لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے شام کا کھانا کھانے کے بعد گھروں میں بچیاں کوکلا چھپاکی , دھپ چھاں ، اینڈیا منٹینڈیا , اور یسو پنجو جیسی گیمز کھیلتی اور لڑکے گلیوں بازاروں میں لکن میٹی کھیلا کرتے تھے کچھ بچے دن میں کینچے اور اخروٹ بھی کھیل لیا کرتے تھے لیکن کوئی بھی بڑا اور سمجھدار اسے اچھا نہیں سمجھتا تھا اور اسے کھیلنے سے بچوں کو منع کرتے تھے  اس وقت کسی کے علم میں بھی نہیں تھا کہ بلڈ پریشر کیا ہوتا ہے شوگر کیا ہوتی ہے یہ اٹیک کیا ہوتا ہے لوگ گرما گرم گڑ، چینڈ کھاتے اور پیٹ بھر کر گنے کی روہ پی جایا کرتے تھے آدھا آدھا کلو دیسی گھی پی جایا کرتے تھے دل کھول مکھن کھاتے تھے پراٹھے کھاتے تھے لسی پیتے تھے لیکن یہ بات ہے کہ پھر اسی حساب سے محنت بھی کرتے تھے سارا سارا دن مویشیوں کے لیے چارا بنانا کھیتی باڑی کرنی گندم کی کٹائی کرتے اور سبزیاں کاشت کرتے ان کی گوڈی کرتے کھال صاف کرتے تاکہ پانی آسانی سے فصلوں تک پنہچ سکے اور بھر پور طریقے سے کھیل کود بھی کرتے تاکہ ہر چیز ہضم ہو جائے اس وقت صرف دو ہی عام بیماریاں ہوتی تھیں جو موسمی تھیں گرمیوں میں مچھر کے کاٹنے سے ملیریا اور سردیوں میں نزلہ زکام اس کا بھی علاج گھروں میں ہی کرلیا جاتا تھا کسی کو ملیریا ہوتا تو وہ اجوائن کا گھوٹا کالی مرچ، بادام اورخشخاش ڈال  کر پی لیتا اور جسے نزلہ زکام ہوتا وہ گھر میں بنی ہوئی سیویاں پکا کر اس کی بھاپ لے لیتا اور انہیں سویوں کو پیٹ بھر کے کھا لیتا ہر گھر میں پانی ذخیرہ اور ٹھنڈا کرنے کے لیے مٹی کا ایک گھڑا رکھا ہوتا کہیں گھڑونجی پر اور کہیں اینٹوں سے ایک خاص بنی ہوئی جگہ پر جس سے چھوٹے بڑے سب پانی پی کر پیاس بجھاتے پسے ہوئے نمک کا رواج بھی کم تھا ڈلی والا گلابی نمک استعمال کیا جاتا اگر کھانا کھاتے ہوئے کسی کو نمک کم محسوس ہو تو وہ اس ڈلی کو دھو کر سالن میں گھما لیتا ہلدی اور لال مرچ بھی کونڈے میں یا پتھر کی ایک سل پر کوٹ کر دو چار دن کے لیے رکھ لی جاتی پسی ہوئی مشینی مرچ کو بالکل بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا سل پر پسی ہوئی مرچ کا اپنا ایک ذائقہ ہوتا تھا جسے عموما بچے روٹی کے ساتھ بھی کھا لیتے تھے اور کئی تو بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے گلی محلے یا پاس پڑوس سے کوئی لسی لینے آتا تو سو دو سو گرام مکھن کا پیڑا بھی بنا بتائے اس کی لسی میں ڈال دیا جاتا تاکہ ان کے بچے بھی مکھن کھا سکیں یا روٹی کو لگا سکیں جن کے گھر ( لیارا ) دودھ نہیں ہے دودھ بھی اسی طرح ایک دوسرے سے لے لیا جاتا تھا لوگ دودھ بیچنے کی بجائے مکھن بنایا کرتے تھے جو گھر والوں کے کھا لینے کے بعد بچ جاتا ہفتے ڈیڑھ ہفتے بعد اسی مکھن سے  گھی بنا کر محفوظ کر لیا جاتا جو سردیوں میں پنجیری اور پنیاں بنانے کے کام آتا ہاں البتہ عورتیں بھی وغیرہ بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر کیا کرتی تھیں وہ بھی اگر کوئی لینے آ جاتا تو تاکہ جو بھی لینے آیا ہے اس کی بھی ضرورت پوری ہو جائے اور وہ بھی سردیوں میں پنجیری وغیرہ بنالیں امیر غریب ہر گھر میں پنجیری ( بھانڈا ) بنایا جاتا جس میں  سنھھاڑے کا آٹا , چنے کا آٹا , پھل مکھانہ , تل , السی، چاروں گوندیں , سہاگہ, گری بادام اخروٹ چھوہارے اور پستہ بادام وغیرہ بھی ڈالے جاتے جو کسی طرح بھی کسی معجون  سے کم نہ ہوتا عموما زچگی کے دوران عورتی چھ سات کلو گھی بنا کر کھا لیتی تھیں اس وقت لیڈی ڈاکٹروں اور نرسوں کی نہیں بلکہ گھر کی وڈیری ماں یا دادی کی سنی جاتی تھی جو پھر بھی نہ افورڈ کر پاتا وہ پنیاں تو ہر صورت بنا ہی لیتا کیونکہ ان میں گھی کم استعمال ہوتا تھا دوپہر کے وقت بھٹھی سے دانے بھنوا کر چبائے جاتے اور شام کو عورتیں آٹا گوندھ کر ایک بھٹھ ( کافی بڑا توا یا توی کہہ لیں جس پر بیک آٹھ سے دس روٹیاں پک سکیں ) پر لے جاتیں جہاں ایک دوسری سے گپ شپ بھی کرتیں اور روٹیاں بھی بنالیتں شام ہوتے ہی شادی شدہ مرد اور بچے گھروں میں اور لڑکے اور بابے باہر کھلی جگہ پر چوک یا چوراہے پر گھروں کے نزدیک ہی چارپایاں ڈال لیتے جہاں وہ نوجوانوں کو اپنی جوانی کے قصے کہانیاں اور دین و دنیا کی باتیں بتاتے بتاتے سو جاتے کیا ہی اچھے دن تھے وہ لیکن یہ تب کی بات ہے جب موبائل نہیں تھا کسی کو ضرورت سے زیادہ کی ہوس نہیں تھی ایک دوسرے کا احساس تھا بنا مانگے دوسروں کی ضرورت پوری کردی جاتی تھی محنت پر یقین کامل تھا اور اپنے رب پر پورا بھروسہ بھی۔