Sunday, January 21, 2024

فرقان صدیقی ایک کردار ( محمد داؤد پھول نگر )







 فرقان صدیقی ایک کردار

فرقان کا ایک علمی گھرانے سے تعلق ہے فرقان کا دادا ایک عالم با عمل فقید المثال خطیب اور شیری بیان ولایت اور بزرگی کے حامل ٹلے والی مسجد کے احاطہ میں مزار پر انوار حضرت علامہ مولانا محمد اسحاق صدیقی انکے فرزند حکیم انعام الحسنین صدیقی جو ابا حضور کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ اپنی حکمت کے مفید مشوروں سے مریض کو فیضیاب کرتے انکے فرزند فرقان صدیقی ایک ہونہار طالب علم اپنے دوستوں کا وفادار ساتھی اور ملنسار خوش اخلاق خوش گفتار اپنی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے والا فرقان صدیقی فرقان کے دوستوں کی بات جاۓ محمد وقاص بھٹی جو فرقان کی طرح ہر محاز پر فرقان کا ساتھ دینے والا مخلص دوست ہے فرقان ثمر موباٸیل اینڈ کمپیوٹر پر کام کرتا ہے سہیل انور فرقان کو اپنے بچوں پر فوقیت دیتے ہیں اور ان بچوں سے شفقت سے پیش آتے ہیں سہیل انور فرقان کا کزن ہے سہیل خوش گفتار خوش مزاج مہمان نواز محبت اور اخلاص کا جامع انسان سہیل انور ہے میری ان سے وہی ملاقات ہوتی ہے

Friday, January 19, 2024

دھند میں سفر اور ہماری زمہ داری ( یاسین یاس )






 دھند میں سفر اور ہماری زمہ داری 

تحریر : یاسین یاس 

آج کل جس قدر دھند اور سردی پڑ رہی ہے بنا مجبوری کے گھر سے نکلنا بے وقوفی ہی کہلائے گا

لیکن پھر بھی ڈیوٹی کے لیے اور دیگر کام کاج کے بندے کو گھر سے باہر تو نکلنا ہی پڑتا ہے اسی لیے آپ اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا لیکن روڈز پر پھر بھی رش ہوتا ہے لوگ اپنے اپنے کام دھندے تے سلسلے میں روڈز پر رواں دواں ہے اور ہمارے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے نیشنل ہائی وے اور موٹروے پولیس بھی جگہ جگہ نظر آتی ہے چاہے دن ہو چاہے رات یہ ہوتے ہیں اپنے ساتھ اس لیے ان کی بات تحمل سے سنا کریں 

پتہ نہیں ہمیں کس چیز کی جلدی ہے جہاں دیکھو

 دوڑ لگی ہوئی ہے جس کو کوئی کام نہیں ہوتا وہ بھی موٹرسائیکل نوے کی سپیڈ سے چلاتا ہے کئی نوجوان تو ایسے بھی دیکھے گئے ہیں کہ ان کو ان کی اپنی موٹرسائیکل گالیاں بک رہی ہوتی وہ جہاں جہاں سے گزرتے ہیں لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے سائلنسر سے بھی آگ نکل رہی ہوتی ہے  نہ وہ  اشارے پہ رکنے کی زحمت کرتے ہیں اور نہ ہارن کو تکلیف دیتے ہیں ان سے اگر بچنا ہے تو آپ کو خود ہی بچنا ہے اچھے بھلے سمجھدار نظر آنے والے بھی جاہلوں جیسا برتاؤ کرتے نظر آتے ہیں اتنا رش دودھ دہی کی دکان پر نہیں ہوتا جتنا سموسے پکوڑے اور برگر شوارمے والے کے پاس ہوتا ہے لوگوں کے پاس ڈھنگ سے بیٹھ کر کھانا کھانے کا وقت بھی نہیں ہے اور کام ہے کوئی نہیں آپ کسی بھی ایسے بندے کو روک کر پوچھیں لیں جو آپ کو لگے کہ یہ کچھ زیادہ ہی ایمرجنسی میں ہے تو آپ حیران ہوں گے کہ وہ بھی کچھ نہیں کرتا بالکل فارغ ہے کوئی کام دھندہ نہیں صبح سویرے جب آفس کے لیے نکلتے ہیں بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے گاڑیوں کو دیکھتے ہیں عجیب سی بھیڑ اور بے ہنگم ٹریفک دفتر پہنچنے سے پہلے ہی تھکا دیتی ہے آج کل بہت زیادہ دھند ہے روزانہ کہیں نہ کہیں کوئی حادثہ دیکھنے کو ملتا ہے جس میں کئی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن مجال ہے ہم لوگ ٹس سے مس ہوتے ہوں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ دھند ہے جس کی وجہ سے سڑک پر پھسلن ہوتی ہے حد نگاہ صفر ہے لیکن مجال ہے کوئی گھر سے چند منٹ پہلے نکل آئے یا کوئی اپنی سپیڈ کم کر لے سب نے دس سے پندرہ منٹ میں پہنچنا ہے وہاں جا کر بھلے موبائل پر گیم ہی کھیلنے لگ جائیں زندگی بہت خوبصورت چیز ہے اس کی قدر کریں آپ کو آفس آٹھ بجے پنہچنا ہے اگر آپ دھند سے پہلے سوا سات بجے نکلتے تھے تو آج کل سات بجے نکل آئیں سردی سے بچاؤ کے لیے ٹوپی ، پاجامہ، سویٹر اور مفلر استعمال کریں بائک پر ہیں تو ہیلمٹ ضرور پہنیں بائک کی سپیڈ ہلکی رکھیں اگر لوکل ٹرانسپورٹ پر ہیں تو ڈرائیور کو آہستہ گاڑی چلانے کا کہیں اپنی گاڑی پر ہیں تو گھر سے نکلتے وقت گاڑی کا تیل پانی چیک کرنے کے ساتھ ساتھ ہیڈ لائٹ اور انڈیکٹر چیک کرکے نکلیں تاکہ آپ کا سفر محفوظ ہو روڈ پر کسی دوسرے سے ریس لگانے سے گریز کریں لائن بنا کر ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے مناسب فاصلہ رکھ کر چلیں نیشنل ہائی وے اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بنائے گئے رولز فالو کریں روڈز پر سب سے رف ڈرائیونگ مرغیوں والے ڈالے اینٹوں والے ٹرک اور دودھ والے مزدے کرتے ہیں ان کی اپنی بھی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے  اس لیے ان کو رستہ دے کر آپ اپنی جان چھڑائیں

اور آرام سے سفر کریں  خدانخواستہ  روڈ پر کسی کا کہیں کوئی ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے تو تحمل کا مظاہرہ کریں زخمیوں کو 1122 اور موٹروے پولیس کے آنے تک طبی امداد دینے کی کوشش کریں اور ٹریفک جام ہو جانے کی صورت میں موٹروے پولیس سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ وہ صرف آپ کے لیے روڈز پر موجود ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف آپ کے سفر کو محفوظ بنانا ہے آپ کی جان بہت قیمتی ہے آپ کے لیے اور آپ کے گھر والوں کے لیے اسے ایسے ہی ضائع نہ کریں احتیاط کیجئے 

Tuesday, January 16, 2024

راوی کا راٹھ عمران سحر ( یاسین یاس )




  

راوی کا راٹھ عمران سحر 

تحریر : یاسین یاس 

دریاؤں کے نزدیک آبادی کی تاریخ کافی پرانی ہے جب انسان اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا تب وہ اپنی ضرورت کے لیے پانی دریاؤں سے ہی حاصل کیا کرتا تھا اور آج بھی دریا اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ پہلے ہوا کرتے تھے بس فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت آبادی دریاؤں کے ساتھ ساتھ نظر آتی تھی اور اب انہی دریاؤں سے نہریں نکال کر ان نہروں سے راجباہے اور راجباہوں سے کھال بنا کر انسان دریا  کا پانی جہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے استعمال کر رہا ہے اور جہاں اس کا جی چاہتا ہے رہائش رکھ لیتا ہے کیونکہ پینے کا پانی وہ ٹیوب ویل اور نلکے سے حاصل کر لیتا ہے بہرحال دریاؤں کی اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کہہ سکتے ہیں ان دریاؤں کے دونوں طرف کی آبادی قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے اور اب بھی ویسے کی ویسی ہے بلکہ اب تو دریاؤں کے پشتوں پر لوگوں کا رہن سہن دیکھ کر  بھی شہروں کا گماں ہوتا ہے دریائے راوی کے بھی دونوں کناروں پر آبادی ہے لاہور سے نکلیں تو اس کے ایک طرف ملتان روڈ ہے جو دریائے راوی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے تو دوسری فیصل آباد روڈ بھی بالکل ایسے ہی چلتا ہے لاہور سے نکلیں تو دریا کے ایک طرف ضلع قصور اور دوسری طرف ضلع ننکانہ صاحب ہے دونوں اضلاع کی زمین بہت ہی زرخیز ہے ایک طرف حضرت بابا بلھے شاہ کی نگری ہے تو دوسری طرف بابا جی گرو نانک کا جنم استھان اور ان دو روڈز کے درمیان بسنے والے لوگ پنجابی ہیں لیکن دونوں کے لہجے مختلف ہیں ایک ماجھی لہجہ ہے اور دوسرا جانگلی یا راوی لہجہ کہہ سکتے ہیں  پنجابی زبان صوفیاء کی زبان ہے اس لیے اس میں مٹھاس کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اگر راوی کے لہجہ کی بات کریں تو اس کی مٹھاس کچھ زیادہ ہی  ہے یہاں کے مرد کرتہ اور تہبند اور عورتیں کرتہ اور لاچا پہنتی تھیں جو کہ اب شلوار قمیض میں بدل گیا ہے سیدھے سادھے اور محنتی لوگ ہیں اس دھرتی کے چھوٹے سے قصبہ موڑ کھنڈا میں بسنے والے ایک مزدور نوجوان عمران سحر کا حال ہی میں ایک پنجابی مجموعہ کلام شائع ہوا جس کا نام " چپ تے میں " ہے عمران سحر ایک مزدور ہے کبھی وہ مونجی لگا رہا ہوتا ہے اور کبھی گندم کاٹ رہا ہوتا ہے تو کبھی سیلر پر پلے داری کرتا نظر آتا ہے سپننگ مل کے رنگ کھاتہ میں اس کی پھرتیاں دیدنی ہوتی ہیں مزدور بہرحال مزدور ہی ہوتا ہے اور موجودہ دور میں کسی مزدور کا مجموعہ چھپ کر آجانا ایک معجزہ ہے بہرحال یہ معجزہ ہوچکا اور اس معجزے کا سہرا عابد بھائی کے سر جاتا ہے جسے میں ملا تو نہیں ہوں لیکن عمران سحر مجموعہ دیکھ کر اتنا جان چکا ہوں کہ وہ ادب پرور بندہ ہے انشاءاللہ کسی دن اس سے ملاقات بھی کرونگا اور اس نیک کام کے لیے اس کا شکریہ ادا کرو نگا کتاب میں شاعری بہت ہی عمدہ اور بہترین ہے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور کتاب کی پرنٹنگ کوالٹی اعلی درجہ کی ہے آرٹ پیپر پر چھپی بہترین کتاب ہے آپ کسی بھی اعلی سطح کی لائبریری میں بلا جھجک نہیں بلکہ فخر سے رکھ سکتے ہیں پنجابی زبان و ادب کی بھلے یہ عمران سحر کی پہلی کوشش ہے لیکن یہ ہر حوالے سے ایک بہترین کتاب ہے جس میں غزلوں کے ساتھ ساتھ بولیاں بھی شامل ہیں عمران سحر کی کے کلام سے چند اشعار اور کچھ بولیاں میں آپ کی نظر کروں گا تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ میں جو کچھ عمران سحر کے بارے میں کہا ہے اس میں کتنا سچ ہے عمران سحر ہوری لکھدے نیں 

جتھے راج وڈیرے دا  

اوتھے کمی سولی تے 

دوری موت دا دوجا ناں ایں 

ایویں رنگ نئیں پیلا ہندا 

عشقا! تیری جت اے ہر تھاں 

 تیتھوں ودھ کھڈکاری کوئی نئیں 

مینوں مارن لگا ایں تے 

دے اوہ مار ،تماشہ بن جائے 

بھکھ شکلاں نوں کھاہدی جاوے 

شکلاں شیشے کھا گیئاں نیں 

جنہے پڑھیاں پتھر ہویا 

کیہڑے اکھر سی دو اکھاں 

اوہ سوہنا تے ایناں سوہنا 

شیشہ پڑھنے کا دیندا اے 

بسم اللہ اج راوی دی وی 

سجناں ورگی ٹور اے ویکھو 

مینوں تیری یاد نے قسمے ایسراں پاگل کیتا 

بھل جاناں واں اکثر ہتھیں چیزاں رکھیاں ہویاں 

ویلا کیہہ انہونی کردا جاندا اے 

ساڈے مکھ توں ساول چر دا جاندا اے 

دوویں اتھرو پیندے رہے 

میرا خالی جام تے میں 

بمب نئیں لقمہ روٹی دا 

شالا ہووی خیر بنا 

یہ تھا عمران سحر کا غزل رنگ "چپ تے میں" کا پہلا حصہ دوسرےحصہ بولیوں پر مشتمل ہے آئیے اس میں سے بھی کچھ بولیاں آپ کی نذر کرتے ہیں 

انج ازلوں میں کوئی ناہ گونگا 

آہ ویلے میری جبھ ودھ لئی 

ایتھے جثیاں تے کھل نئیں راہندی 

توں لیڑیاں دی گل کرنا ایں 

تیرے سر اتوں ماہیا وار چھڈیاں 

میں سدھراں جوان کر کے 

کل بھٹھی توں بھنا کے دانے 

میں جندڑی مرونڈا کر لئی 

مینوں اک دے نیں دو دو دسدے 

تے لوکی کہندے گھٹ دسدا 

ساڈے گل چوں پنجالی کنج نکلے 

جے نکلے کھراس رکدا 

میں عمران سحر کو ان کے پہلے شعری مجموعہ " چپ تے میں " کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کا یہ مجموعہ ان کی نیک نامی میں اضافے کا سبب بنے گا 




 

Friday, January 12, 2024

کوئل کی دانائی ( فاکہہ قمر )

 




شہر اقبال سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی نوجوان ادب اطفال ادیبہ فاکہہ قمر کی بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیوں کا دوسرامجموعہ ”کوئل کی دانائی“ شائع ہو گیا ہے۔ اس کتاب میں تیس سے زائد کہانیاں شامل ہیں جو کہ دل چسپ پیرائے میں لکھی گئی ہیں جو معلومات کے ساتھ تفریح فراہم کرتی ہیں۔ ان کہانیوں کے عنوانات بھی دل چسپ ہیں جیسے کہ سنہری بال،چار دن کی چاندنی،جنم دن کا قصہ،سکول کا پہلا دن،کتابستان،خون آشام،پری کا پیزا وغیرہ۔اس مجموعے کو ادبی تنظیم سرائے اُردو، پاکستان نے بچوں کو کتب بینی کی جانب مائل کرنے کے لئے بطورخاص شائع کیا ہے۔کتاب میں معروف پاکستا نی ناول نگار کاوش صدیقی صاحب،ادب اطفال شاعر و ادیبہ ڈاکٹر سیما شفیع، ذوالفقار علی بخاری اورنامور بھارتی ادب اطفال ادیب سراج عظیم صاحب کی رائے بھی شامل ہے۔بچوں کے لئے شائع ہونے والے کہانیوں کے مجموعے ”کوئل کی دانائی“ کو گھر بیٹھے مبلغ چارسو روپے ایزی پیسہ اکاونٹ03425088675پربھیجوا کرمنگوایا جا سکتا ہے۔

Thursday, January 11, 2024

تیر بہدف نسخہ ( یاسین یاس )

 





تیر بہدف نسخہ 

تحریر : یاسین یاس 

سردی بہت زیادہ ہے اور اس سردی میں بہت سارے ایسے کام ہیں جو بالکل بند ہو جاتے ہیں یا بالکل سلو ہو جاتے ہیں جیسا کہ کنسٹرکشن کا کام ہے اور اس کام سے جڑے ہوئے بہت سارے لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں جن میں مستری مزدور پلمبر الیکٹریشن رنگ والے اس لیے اپنے اردگرد کا جائزہ لے کر ایسی جگہوں پر کام کرنے والے لوگوں کا جس قدر ممکن ہوسکے خیال رکھیں انہیں جس چیز کی ضرورت ہو پوری کرنے کی کوشش کریں اپنے گلی محلے تک تو ہر بندہ ایسا کرسکتا ہے اور اس انداز سے کریں کہ اس کو محسوس بھی نہ ہو کہ یہ میری مدد کر رہا ہے بالکل اس طرح جس طرح ایک ہاتھ دے تو دوسرے ہاتھ کو بھی علم نہ ہو مثال کے طور پر آپ نے گھر میں مچھلی بنائی ہے یا کوئی ایسی چیز جو آپ کا پڑوسی افورڈ نہیں کرسکتا تو پکا ہوا سالن کسی برتن میں ڈالیں اور بالکل اسی طرح  جس طرح تہواروں میں ہم ایک دوسرے کے گھر دینے جاتے ہیں ان کے دروازے پر دستک دیں اور انہیں دے آئیں اور ساتھ اسے کہیں یار یہ مجھے ایک دوست نے دریا کی مچھلی کا  تحفہ بھیجا تھا خرید تو آپ بھی سکتے ہیں لیکن دریائی مچھلی تو قسمت سے ملتی ہے اس لیے آپ کے لیے لایا ہوں یا  اس کو کچھ بھی کہہ دیں یا ویسے ہی دے آئیں ایسا آپ ہر روز بھی کرسکتے ہیں اور وقفے وقفے سے بھی ایک گھر کے لیے بھی اور زیادہ گھروں کے لیے جتنا آپ کی جیب اجازت دے  کسی کو سویٹر جرسی یا گرم چادر لے دیں ضروری نہیں بہت مہنگی ہی ہو آپ اپنی حیثیت کے مطابق خرید سکتے ہیں  ہسپتالوں یا لیبارٹریوں کا چکر لگائیں وہاں کچھ ایسے لوگ نظر آئیں گے جو سچ میں ضرورت مند ہوں گے ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کا علاج کروا سکیں لوگوں کو خوشیاں دینا شروع کردیں یقین مانیں آپ کو اتنی خوشیاں ملیں گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے آپ کو اپنا ہر عید جیسا لگنے لگے گا اور اس پہ کچھ خاص خرچ نہیں ہوگا شدید سردی اور دھند میں پرندوں کے لیے بہت زیادہ مشکلات ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست کریں پارکوں میں چلے جائیں سڑکوں کے درمیان گرین بیلٹ پر اپنے گھروں کی چھتوں پر صحن میں جہاں پرندوں کا آنا جانا ہو ان کے دانہ دنکا ڈال آئیں اسی طرح کتے اور بلیوں کا بھی خیال رکھیں ان کو بھی خوراک کا مسئلہ درپیش ہے الغرض آپ جس کے لیے جو کرسکتے ہیں جتنا کرسکتے ہیں ضرور کریں ایسا کرنے سے آپ کو ذہنی سکون بھی ملے اور انشاءاللہ رزق میں برکت بھی ہوگی وہ سکون جو ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی نہیں ملتا ایک دفعہ ٹرائی کر کے دیکھ لیں تیر بہدف نسخہ ہے ایسے بہت سے چھوٹے چھوٹے کام ہیں جن کو آپ اور ہم آسانی سے کرسکتے ہیں اور اپنی زندگی کو پر سکون بنا سکتے ہیں کسی سے کوئی ناراضگی ہوجائے بھلے غلطی اسی کی کیوں نہ ہو تو اسے معاف کردیں آپ شاید نہیں جانتے کہ غصہ آپ کی صحت کا دشمن ہے اس سے جتنا ہوسکے بچیں ۔ رزق اور خوشیاں آپ جتنی بانٹیں گے اتنی زیادہ آپ کو ملیں گی اس لیے کسی دوسرے کو آسانی اور خوشی دینے کے معاملے میں ہچکچائیں مت 

کیوں کہ اس کے ساتھ ہی آپ کی خوشیاں بھی جڑی ہوئی ہیں اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کتنا خوش رہنا چاہتے ہیں 

Monday, January 8, 2024

نقطے وچ جہان ( ظفر اقبال ) تحریر : یاسین یاس

 




نقطے وچ جہان ( ظفر اقبال ) 


تحریر  :  یاسین یاس 

پنجابی کو صوفیاء کرام کی زبان کہا جاتا ہے

 کیونکہ صوفیاء کرام نے برصغیر میں فروغ اسلام کے لیے پنجابی زبان کا انتخاب کیا اور یہاں کے لوگوں کے رہن سہن اور بود وباش کو مدنظر رکھتے ہوئے کلام لکھا جو پسند کیا گیا اور لوگ جوق در جوق حلقہ اسلام میں داخل ہوتے گئے ثبوت آپ کے سامنے موجود ہے برصغیر میں مسلمانوں کی تعداد صوفیاء کرام کی طفیل ہے ان کا پنجابی میں کیا گیا کام آج بھی لوگوں کو یاد ہے جسے لوگ محافل میں پڑھتے ہیں اور لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ فیض یاب بھی ہوتے ہیں پنجابی زبان میں کہیں حضرت بابا وارث شاہ جنڈیالوی براجمان ہیں تو کہیں حضرت بابا بلھے شاہ دھمال ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں کہیں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے اشلوک زبان زد عام ہیں تو کہیں حضرت میاں محمد بخش کھڑی شریف والے راج کر رہے ہیں  الغرض پنجابی زبان میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا موجود ہے اور صوفیاء کرام کا مشن الحمد و للہ اسی طرح جاری و ساری ہے بے شمار درویش شاعروں نے اپنی ماں بولی کی زلفیں سنواریں اور اسے مضبوط کیا دوسری زبانوں کے ادب کو ترجمہ کرکے ماں بولی کو دان بھی کیا اور ماں بولی سے دوسری زبانوں میں تراجم کرکے دوسری زبانوں کو بھی سنبھالا دیا جہاں پرانی صنفوں کو سنبھالا دیا وہاں  نئی صنفوں پر طبع آزمائی بھی کی جن میں غزل سرفہرست ہے بہت سارے نام ہیں جو اس صنف کو اپنا خون جگر دیتے رہے اور دے رہے ہیں میں اگر کسی ایک کا نام لوں گا تو احباب ناراضگی کا اظہار کریں گے سوشل میڈیا کا دور ہے جس نے جتنا کام کیا ہے یا جو جتنا کام کر رہا ہے آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں میرے ہاتھوں میں ظفر اقبال کی جو کتاب ہے اس کا نام ہے " نقطے وچ جہان " بابا بلھے شاہ سرکار نے کہا تھا گل اک نقطے وچ مکدی اے اس میں کوئی شک نہیں اور ظفر اقبال بھی یہی کہہ رہا ہے کہ نقطے وچ جہان مطلب یہ ہوا کہ ظفر اقبال بھی بلھے شاہ کی سوچ اور وژن کو الحمد اللہ آگے بڑھ رہا ہے ظفر اقبال اک مزدور ہے دن رات بچوں کی روزی روٹی کمانے میں لگا رہتا ہے اس کا کلام دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اتنا اچھا کلام اور اتنا کچھ کیسے اور کب لکھ لیتا ہے ایسے ایسے مضامین باندھتا ہے کہ حیرت گم ہوجاتی ہے ظفر اقبال کا یہ دوسرا مجموعہ ہے کمالات تو اس نے پہلے مجموعہ ویکھن والی اکھ میں بھی کیے تھے لیکن اپنے حالیہ مجموعہ کلام میں تو وہ اپنے عروج پر نظر آتا ہے ضلع قصور کی دھرتی غزل کے حوالے سے بہت اہم ہے اس بات کو ظفر اقبال کی شاعری پڑھ کر مذید تقویت ملی ہے اور حوصلہ بھی بڑھا ہے ظفر اقبال کے چند اشعار میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں یہ میں صرف آپ کے ذوق کی نذر کر رہا ہوں ورنہ اسی کالم میں ان کی پوری کتاب رکھی جاسکتی ہے میں نے ظفر اقبال کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا انشاءاللہ پڑھ کر آپ بھی میری باتوں کی تائید کریں گے 

نسلاں گروی ہوگیاں  

  منہ  نہیں بھریا  کاسے دا 

اسیں تے ہارے وجود وچ آں   

  اسیں مقدر نوں کیہہ کہواں گے 

اک تھاپڑی اے کنڈ نوں 

لاسہ مذاق نئیں جے 

ہن جیواں گا سر چڑھ کے 

گونگی سوچ ہندا لئی میں 

ہوس نے قبراں تک سی مینوں گھیریا 

میں ویکھدا ساں نال دی زمین وی 

حوصلے نوں کندھ بنا کے اٹھ ظفر 

ہار دے دے ہار دی مٹھی دے وچ 

فانی ہون دی گل ظفر ایس توں ودھ کیہہ کھلے گی 

نقطے وچ اے اک جہان کل من علیہا فان 

میں جس مٹی تے محنت کر رہیا واں 

ایہہ میری جد نوں پورا جان دی اے 

ظفر اقبال مشاعرے نہیں پڑھتا نہ اس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ مشاعروں کے پیچھے بھاگتا پھرے وہ مزدور ہے یا شاعر اور یہ دونوں کام وہ ایمانداری سے کررہا ہے آپ حیران ہوں گے کہ وہ اپنے شہر میں ہونے والے مشاعروں میں بھی شرکت نہیں کرتا اور اس نے اپنی کوئی کتاب کسی ایوارڈ کے لیے کسی تنظیم یا ادارے کو نہیں بھیجی بلکہ شاعری کی کتاب چھپوائی اور قاری کے ہاتھ دے دی مجھے اس نے اپنی یہ کتاب ایک دوست کے ہاتھ بھیجی تھی جو مجھے کوئی تین چار ماہ بعد ملی اس کا حق بنتا تھا کہ اس پر لکھا جائے سو میں نے اپنے ٹوٹے پھوٹے انداز میں اپنے بھائی کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی ہے میں ظفر اقبال کو ان کے دوسرے مجموعہ نقطے وچ جہان پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ان کے علم , قلم , آل اولاد , کاروبار ، نیک نامی ،صحت ، کام اور نام میں برکت عطا فرمائے ۔آمین 



Monday, January 1, 2024

بانس کا مربہ ( حکیم مختار احمد قادری )

 




بانس کا مربہ بنانے کا طریقہ اور فوائد 

بانس کے مربہ سے سانس کی تنگی ، دمہ ختم ہو جاتا ہے بانس کا مربہ جن بچوں کی صحت نہیں بنتی ان کے لیے بہترین ہے بانس کا مربہ قد تیزی سے قد بڑھاتا ہے بانس کا مربہ روز کھانے سے بچہ صحت مند خوش باش موٹا تازہ نظر ائے گا۔

 جس طرح بانس کی بڑھوتری ہوتی ہے اسی تیزی سے بانس کا مربہ کھانے والے کا قد بڑھتا اور دماغ کو تیز ہوتا ہے ۔ جوڑوں میں کڑکڑ کی آواز آتی ہے تو بانس کا مربہ استعمال کریں جوڑوں سے آوازیں آنا بند ہو جائیں گی۔ 

ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرنے کے لیے ۔ کیلشیم کی کمی دور کرے۔ 

اچھی کوالٹی کا بانس کا مربہ آپ کے امیونٹی سسٹم کو بڑھاتا ہے۔

: بانس کا مربہ بنانے کا آسان طریقہ

کچے بانس جو ابھی ابتدائی مرحلے میں ہوں لیکر انکے چھلکے اتارلیں۔

پھر انکے گول گول ٹکڑے کاٹ لیں چھری کی مدد سے جو درمیانے سائز کے ہوں اسکے بعد ان ٹکڑوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ بنائیں دندانے دار چمچ کی مدد سے۔۔پھر پانی ابالیں جب ابلنے لگے تو بانس کے ٹکڑیں اس میں ڈال دیں اور پکائیں ۔۔

اور الگ سے چینی کی چاشنی تیار کریں مناسب مقدار میں اور ابلے ہوۓ بانس کے ٹکڑے اس چاشنی میں ڈال ہلکی آنچ پر دو سے تین۔منٹ ہلائیں۔۔۔( لذت و ذائقہ میں اضافہ کیلۓ ایک دن رات ڈھانپ کر رکھ دیں) 

لیجیۓ آپکا مربہ تیار ہے 

ٹھنڈا کر کے کسی برتن میں محفوظ کرلیں

ایک ٹکڑا مربہ کا روزانہ صبح نہار منہ کھلایا کریں۔ دو ماہ کھلائیں پھر دیکھیے کتنا قد میں اضافہ ھوتا ہے۔ ضروری نہیں گھر میں ہی بنائیں آپ پنسار سٹور سے بھی لے سکتے ہر پنسار سے آسانی سے مل جاتا ہے صحت مند اشیاء کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور صحت مند زندگی گزاریں ۔