Friday, March 15, 2024

راس نہیں آیا ( شاعر دکھبھنجن ) شاہ مکھی : سلیم آفتاب قصوری

 




راس نہیں آیا جگ


دس مینوں کاہتوں راس نہیں آیا بابا تیرا جگ

کوئی میرے رستے دے وچ  

روڑے بنھ گیے تے راہاں دے وچ اگ

کوئی سچّی محبّت نوں بدنام کریندے پھردے نے ایتھے ٹھگ

دُکھبھنجن ہیرا سُٹ دیندے بدقسمت تے سانبھ کے رکھدے نگ 

شاعر 

دُکھبھنجن 

چیف ایڑیٹر  شبد قافلہ میگزین انڈیا

شاہ مُکھی 

سلیم آفتاب سلیم قصوری

Thursday, March 14, 2024

رپورٹ : دکھبنجھن چیف ایڈیٹر شبد قافلہ

 






پُنگردے حرف وِشو ساہیتک منچ ولّوں امرتسر دی پویتر دھرتی کھہرا ریسٹورنٹ چھیرٹا وچ اک  شاعری محفل دا انعقاد کیتاگیا


محفل دا آغاز کردیا ہوییاں نقیب رمن دیپ کور رمّی ہوراں ساریاں مہماناں نوں جی آییاں نوں آکھیا تے اوہناں دا سواگت کیتا۔پروگرام  دا سنچالن کر دے کِرنجیت کور  جی نے کُجھ شعراں نال سارے شاعراں نوں سنبودھن کردیاں محفل دا آغاز کیتا۔ ایس کوی دربار وچ شرکت کرن والے ستکاریوگ کویجن اجیت سِنگھ نبی پوری راج کلانور مندیپ سِدھو سِمرنجیت کور سِمر نوین کُمار.  ڈاکٹر گُرشرن سِنگھ سوہل راج بیر کور گریوال پروین کور سِدّھو ستیندر کور نے اپنیاں خوبصورت رچناواں پیش کر کے پروگرام دا خوب رنگ بنھیا۔اتے نال ہی دھرمیندر سِنگھ جی تے گُرساہب سِنگھ بھُلر جی نے پنجاپ دے حالات تے پنجابی زبان بارے گل بات کیتی۔مشاعرے مگروں نویں قلم نویں اُڈان کتاب نوں اُچیچے پروہنے سُکھی باٹھ جی تے پُنگردے حرفاں دی ساری ٹیم اتے بلہال لیہل چیرمین  رمنجیت کور رمّی  سیکرٹری امنبیر دھامی پردھان  جی دی  ماں جی پریم جیت کور اتے سپتنی بلجیت کور پریت ڈاکٹر گُرشرن سِنگھ سوہل  پروفیسر سکتّر  تے کِرنجیت کور مجمان دوارا لوک ارپن سنمان سماروگ کیتا گییا۔ سُکھی باٹھ جی نے زندگی دے راہ نوں سوکھا کردیاں بہت ای چنگی گل بات کیتی۔آخر تے رمنجیت کور رمّی جی اتے بلیہال لیہل جی نے مہماناں دا شکریہ اداکیتا۔ایس پروگرام نوں سوشل میڈیا تے وی لاییو چلایا گییا۔رپورٹ دُکھبھنجن 

چیف ایڈیٹر شبد قافلہ

فلک زاہد ( افسانہ نگار ،تبصرہ نگار ،ناول نگار ،کہانی نویس ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری






 فلک زاہد 

کہانی نویس ۔افسانہ نگار تبصرہ نگار اور ناول نگار  .

انٹرویو۔ صاحبزاد یاسر صابری۔03115311991 


 فلک زاہد نے نہایت کم عمری میں ہی ادب کی دنیا میں اپنا نمایاں مقام اور ایک منفرد شناخت قائم کی۔ خداداد صلاحیتوں کی مالک اس کم عمر مصنفہ کا تعلق زندہ دلوں کے شہر لاہور سے ہے۔ جہاں آپ 2دسمبر 1999ءکوپیدا ہوئیں۔آپ نے بچوں کے لیے ہارر کہانیاں لکھنے سے آغاز کیا اور بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے بےشمار طبع زاد ہارر کہانیاں لکھیں۔ آپ تراجم بھی خوب کر لیتی ہیں۔ کہانیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر افسانہ نگاری، تبصرہ نگاری، ناول نگاری، آرٹیکلز، سوانح حیات اور سفرنامے تک پہنچا۔ اکادمی ادبیات اطفال کی جانب سے آپ کو پاکستان کی کم عمر ترین مصنفہ ہونے کے اعزاز میں ایوارڈ اور کیش پرائز دیا گیا کیونکہ آپ نے بارہ سال کی عمر سے لکھنے کا آغاز کیا اور پہلی کتاب سترہ سال کی عمر میں منظر عام پر آئی۔

آپ کی تحاریر پاکستان کے کئ معیاری جرائد و رسائل، اخبارات اور قومی اور بین الاقوامی ویب سائٹس کی زینت بن چکی ہیں۔ جن میں اخبار جہاں، ڈر ڈائجسٹ کراچی، خوفناک ڈائجسٹ لاہور، مارگلہ نیوز انٹرنیشنل، بچوں کا باغ، بچوں کی دنیا، جگنو اور پھول قابلِ ذکر ہیں۔ کئ نامور کتابوں کے اندر آپ کے ثاثرات بھی محفوظ ہیں۔

آپ گولڈ میڈلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کئ اعزازات، اعزازی سند اور متعدد ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن کی تعداد چالیس کے لگ بھگ ہے۔ جن میں بہترین مصنفہ، بہترین کتاب، بہترین ہارر رائٹر جیسے ایوارڈز شامل ہیں۔آپ کی اب تک پانچ کتب منظز عام پر آ چکی ہیں ۔پہلی کتاب 15 پراسرا کہانیاں(ایورڈ و کیش پرائز ونر) کے باعث آپ کو پاکستان کی کم ترین مصنفہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔دوسری کتاب بھوتوں کا تاج محل تیسری کتاب قدیم چرچ ایوارڈ یافتہ ناول چوتھی کتاب داستان ہو شربہ اور پانچویں کتاب وادی سیر کمراٹ ایوارڈ و کیش پرائز سفرنامہ ہیں ۔آپ کو ہارر رائٹر کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ سے ہونے والی گفتگو ملاحظہ کیجئے۔ 

س۔تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ج۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پرائیویٹ تعلیم جاری ہے۔

س۔بچوں کی کہانیاں لکھنے کے علاوہ کس کس زبان میں تراجم کیے ہیں؟

ج۔میں انگریزی سے اردو میں ترجمے کرتی ہوں۔

س۔پلاٹ ذہن میں آنے کے بعد کس وقت لکھتی ہیں؟

ج۔موڈ پر انحصار کرتا ہے کوئی مخصوص وقت نہیں ہے۔

س۔آپ کے افسانے کیا آپ کی شناخت بن چکے ہیں؟

ج۔میں افسانے نہیں ہارر کہانیاں لکھتی ہوں جو میری پہچان ہیں۔ افسانے فی الحال دو تین سے زیادہ نہیں لکھے۔

س۔۔پسندیدہ ادبی شخصیت۔؟

ج۔چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ مصنف مقرر نعت خواں حذیفہ اشرف عاصمی

س۔ادبی جریدے ادب کو پروان چڑھانے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟

ج۔آج کے دور میں جب کاغذ مہنگا اور پڑھنے والے کم ہیں ایسے میں مسلسل ماہانہ بنیادوں پر ادبی جریدوں کی اشاعت اردو ادب میں گراں قدر خدمات ہیں جن سے ادب سے لگاؤ رکھنے والے قارئین بھرپور فایدہ اٹھاتے ہیں۔

س۔تبصرہ نگاری میں کیا کچھ لکھا؟

ج۔جن کتابوں کا بھی مطالعہ کرتی ہوں ان پر مختصراً اپنے خیالات کا اظہار تبصرے کی صورت ضرور کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ کئی کتب کے اندرونی صفحات پر میرے تاثرات بھی محفوظ ہیں۔

س۔آج کل کس موضوع پر  لکھ رہی ہیں؟

ج۔حال ہی میں سفرنامہ کشمیر مکمل کیا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں اور بڑوں کے لیے ہارر کہانیاں لکھنے کے ساتھ ساتھ رومانوی افسانہ بھی قلمبند کر رہی ہوں۔

س۔لکھنے کے لیے ادبی ماحول کا ہونا ضروری ہے؟

ج۔ہرگز نہیں! لکھنے کے لیے ادبی یا کسی قسم کے بھی مخصوص ماحول کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جب الفاظ کسی دریا کی طرح آپ پر بہنا شروع ہوتے ہیں تو پھر وہ راہ میں آئی کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتے بلکہ تواتر سے بہتے چلتے جاتے ہیں۔

س۔آپ کس سے متاثر ہیں؟

معروف مافوق الفطرت عناصر پر مبنی ناولز لکھنے والے مصنف انوار علیگی سے بہت متاثر ہوں۔

س۔ناول کا کینوس بہت وسیع ہوتا ہے اور بہت محنت طلب کام ہے اس کے لیے آپ کو وقت کیسے میسر آیا؟ 

ج۔انسان اپنے شوق کے لیے وقت نکال ہی لیتا ہے۔ اپنے پسندیدہ مشاغل کو وقت دینا درحقیقت خود کو وقت دینا ہے۔

س۔لکھنے کے لیے تنہائی کا ہونا ضروری ہے؟

ج۔بیشک لکھنے کے لیے تنہائی خاموشی اور یکسوئی ضروری ہے تاہم میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں جب الفاظ ہاتھ باندھ کر آپ کے سامنے کھڑے ہوں پھر وہ کوئی وقت یا ماحول نہیں دیکھتے۔

س۔لاہور کی ادبی محفلوں کے حوالے سے کیا کہیں گی؟

ج۔لاہور ادب کا شہر ہے یہاں ادب کی خوشبو چار سو پھیلی ہوئی ہے۔ آئے روز ایک سے بڑھ کر ایک ادبی تقریبات و محافل لاہور کا حسن بڑھاتی ہیں جن میں شرکت کر کے ادبی شوق کو تسکین ملتی ہے۔

س۔اپنے ہم عصر لکھنے والوں کو کیا پیغام دیں گی۔؟

ج۔ہمیشہ مخلص رہیں۔ جھوٹ فریب سے گریز کریں۔

غزل ( امر جیت سنگھ جیت ) ساہت جاگرتی سبھا بٹھنڈہ

 






غزل 



نِکّے  نِکّے  واکاں  دے وِچ  ، وڈے   چاواں  ورگے

ڈاڈھے  چنگے  لگدے  نے ایہ، بول دُعاواں ورگے



ساری  دنیا  گھمّ  گھما  کے ، ویکھ  لئی  ہے آپاں

اَیپر  کدھرے لبھدے  ہے نہ ، ساک بھراواں ورگے


انھی  دَوڑ  'چ  بندہ  جد وی، ہپھ کے ہے بہِ جاندا

لبھدَے  فیر  گواچے  ہوئے ، رِشتے  چھاواں ورگے



پیجے    برگر    ونّ سونے   کھانے  ہور  بتھیرے،

پردیشاں وچ کون کھواؤندَے، پُھلکے ماواں ورگے



بھورا    ماسہ   دابے  تھلّے  ، تاپ  چڑا  جو  لَیندے

جھٹّ بدلدے ویکھے نے میں، شخس ہواواں ورگے



پیار محبت  ہُندا  ہے بس ،  جیون   لئی خوشحالی 

نتّ دے روسے ، جھورے ہُندے ، گھور سزاواں ورگے



پیار دے رنگاں دے وچ سبھ نوں، اوہ تاں رنگ نے دِندے

جِتھے    ہُندے   سجن    غزلاں    تے   کوتاواں   ورگے


بھٹکن  اندر  'جیت' کدے وی ، کوئی  حلّ نہ ہُندا

چپّ چپیتا   بہِہ جا حیلے پھُرن  سجھاواں  ورگے


امرجیت سنگھ جیت

Wednesday, March 13, 2024

فرحانہ عنبر ( شاعرہ ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 





شاعرہ: فرحانہ عنبر

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991

اردو غزل میں آج بھی کچھ شعرا ایسے ہیں جنہوں نے خوبصورت الفاظ کے ساتھ ساتھ غزل کو موضوعاتی سطح پر زندہ رکھا اور غزل کے ان شعرا میں ایک نام فرحانہ عنبر کا ہے۔ آپ نے حمد۔ نعت ۔منقبت ۔غزل اور نظم میں طبع آزمائی کی نعت کے حوالے سے آپ نے مقابلہ جات میں صف اول کی حیثیت اختیار کی۔

آپ گوجرانوالہ میں ،18اگست 1981ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ کے گھر کا ماحول ادبی تھا آپ کے دادا نصیر احمد ناصر ایک اچھے شاعر تھے آپ کی والدہ شعبہ تدریس سے وابستہ تھیں ان دونوں شخصیات کی وجہ سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا جس کی وجہ سے آپ شاعری کی طرف راغب ہوئیں۔ آپ سے ایک تفصیلی گفتگو ہوئی جو نظر قارئین ہے۔ 

سوال۔ بچپن سے جوانی تک کی زندگی کا مختصر خلاصہ؟ 

جواب۔ میں نے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔میری والدہ   سرکاری ٹیچر تھیں اور والد محکمہ اصلاح قیدیاں میں ڈائریکٹر تھے ۔گریجویشن گوجرانوالہ سے کی جب کہ ایم اے ایم ایڈ لاہور ایجوکیشن کالج برائے خواتین سے کیا۔اس دوران شاعری ،موسیقی اور نعت پڑھنا جاری رہا ۔

نعت الحمداللہ بچپن سے پڑھ رہی ہوں اور بےشمار انعامات بھی جیتے ۔سکول کالج سے لے کر ایم ایڈ تک تمام  نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی اور اسی طرح گلوکاری میں بھی ہمیشہ پہلا انعام جیتا۔

سوال۔ آپ نے شعر کہنے کا آغاز کب اور کس سے متاثر ہو کر کیا؟ 

جواب۔میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔وہ ایک علمی و ادبی شخصیت تھے۔گورنمنٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور پانچ زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ان کا کلام اسوقت کے اخبارات و رسائل میں باقاعدگی سے چھپتا رہا۔

میری یہ خوش قسمتی ہے کہ مجھے ان کی صحبت میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔میرے دادا سب بچوں کو اکٹھا کر کے اکثر ہمیں کہتے کہ تم سب چاند کو دیکھو اور سوچو کیا تمہارے ذہن میں آ رہا ہے پھر مجھے بتاؤ تو ہم سب اپنی سی کوشش کرتے تھے اور الحمداللہ مجھے ہمیشہ شاباش ملتی تھی بلکہ انہوں نے میرے والد سے کہنا کہ مجھے لگتا ہے میری بیٹی فرحانہ میرے کام کو آگے لے کر جاے گی۔مجھ سے نعت بہت شوق سے سنتے تھے اور پھر اس وقت ٹیلی ویژن پر جو غزلیں گائی جاتی تھیں وہ بھی میری آواز میں سنتے ۔انہیں میری آواز بے حد پسند تھی ۔تو شعر کہنے کا سلسلہ گھر سے ہی شروع تھا ۔

سوال۔ آپ کا رجحان غزل کی طرف زیادہ ہے کیوں؟

جواب۔ غزل میرا پہلا عشق ہے تب سے جب یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ غزل کسے کہتے ہیں ۔ہوش سنبھالتے ہی مہدی حسن۔جگجیت سنگھ اور چترا کو بہت زیادہ سنا ۔اور نہ صرف سنا بلکہ سیم ٹو سیم سب کو گایا بھی۔۔تو غزل نے مجھے آغاز سے ہی اپنے حصار میں جکڑ لیا تھا ۔۔۔نظم بہت کم کہی کیونکہ زیادہ رجحان ہی غزل کی طرف ہے بچپن سے۔ 

سوال۔ آپ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں یہ بتا دیں کہ لکھنے کے لیے کیا علمی معلومات کا ہونا ضروری ہے؟

جواب۔ بہت اہم سوال ہے یہ۔۔سب سے پہلے تو اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ آپ کو شعر و شاعری کی دولت ورثے میں ملے۔آپ کے فطری رجحانات میں یہ شامل ہوجاتی ہے تو یہ بہت بڑا پلس پوائنٹ ہے ۔آپ کے اردگرد کا ماحول بہت اہم ہے آپ کے لیے کیوں کہ اس طرح کا ادبی ماحول  آپ کی قدرتی صلاحیت کو مزید جلا بخشتا  ہے.

سوال۔آپ کی شادی کب ہوئی؟ 

جواب ۔میری شادی 2002ء میں ہوی اور الحمداللہ چار بیٹے ہیں۔

علی رضا۔حافظ عبدالرحمن عبداللہ اور عبدالہادی ہیں۔ 

سوال۔ ایک گھریلو عورت ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے لیے کیا وقت نکالنا مشکل نہیں ہوتا؟

جواب۔ جی آپ نے درست فرمایا ۔گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہے لیکن علم و ادب کی پیاس۔  جستجو اور لگن کے ساتھ ہی یہ سب ممکن ہوتا رہتا ہے۔اب جیسے میرا بڑا بیٹا پیدائشی معذور ہے وہ ہل کر کروٹ بھی نہیں لے سکتا ۔مجھے اس کی دیکھ بھال کے لیے سب دنیا داری چھوڑنی پڑی ۔اب یہاں میرے شوہر کا تعاون بہت اہم ہے انہوں نے جب اس چیز کو دیکھا تو محسوس کیا کہ ایک تخلیق کار کا ایک شاعر کا تخلیقی سفر رکنا نہیں چاہیے تو یہاں انہوں نے ہر قدم پر میرا پورا ساتھ دیا۔جب کوئی مشاعرہ ہو تو وہ گھر بڑے بیٹے علی کی دیکھ بھال کے لیے گھر اس کے پاس رک جاتے ہیں اور مجھے اپنی علمی و ادبی تسکین کے لیے تھوڑا وقت دیتے ہیں ۔تو آج میں جہاں ہوں بے شک اللہ کے کرم کے بعد اپنے والدین کی دعاؤں کے بعد اپنے شوہر کے بھرپور تعاون کی وجہ سے ہوں ۔اور الحمداللہ میری فیملی بہت ساتھ دیتی ہے میرا ۔۔تو ان سب سے پھر ادبی سفر جاری رہتا ہے ۔آپ کے ساتھ اپنی فیملی کا ساتھ بہت ضروری ہے اور میں اس سلسلے میں بہت خوش قسمت ہوں۔

سوال۔آپ نے مادری زبان میں شاعری کیوں نہیں کی؟ 

جواب۔ مادری زبان میں شاعری کی ہے میرے پنجابی قطعات اور غزلیات سوشل میڈیا اور مختلف رسائل و جرائد میں موجود ہیں بلکہ پنجابی غزلوں کو بھی اردو کی طرح ترنم میں گایا ہے۔

سوال۔ ہمارے قارئین کے تازہ کلام عنائیت فرمائیں؟ 

جواب۔ ایک تازہ غزل قارئین کے لئے :

خواب سہانے بیچ رہی ہوں 

گیت پرانے بیچ رہی ۔۔۔۔ہوں


ٹوٹی آس امید کے ٹکڑے

دو دو آنے بیچ رہی ہوں


غزلوں کا بیوپار کیا ہے

اور کچھ گانے بیچ رہی ہوں


میں ہوں مالک بس اک پل کی

اور زمانے بیچ رہی۔۔۔۔۔ہوں


کوئی میری آنکھیں لے لے

یہ میخانے  بیچ رہی ہوں


میرے اپنے ہاتھ ہیں ٹھٹھرے

اور دستانے بیچ رہی ہوں


خوشیوں کے بازار میں عنبر

اشک خزانے بیچ رہی ہوں

سوال۔ آپ کی شاعری پر کتنا کام ہوا ہے؟ 

جواب۔الحمدللہ بہت سے نقاد میری شاعری پر آرٹیکل لکھ چکے ہیں ۔مختلف اخبارات ورسائل میں میرا کلام باقاعدگی سے چھپ رہا ہے۔بہت سے چینلز اور اخبارات انٹرویو کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔میری کچھ غزلیں بہت اچھے سنگرز گا چکے ہیں ۔میری کہی ہوئی نعتیں نعت خوان بچے بچیاں پڑھ چکے ہیں ۔پاکستان اور پاکستان سے باہر مختلف ریڈیو پروگرامز میں میرا کلام منتخب کیا جاتا ہے۔اور پڑھا جاتا ہے۔میری آواز اور ترنم کو دوسرے ممالک میں بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے الحمدللہ ۔اور میری خوش قسمتی ہے کہ موسیقی کا بہت بڑا نام استاد غلام عباس صاحب نہ صرف میرے پروگرام میں تشریف لائے بلکہ مجھے بلبل پاکستان کا خطاب بھی دیا جو میں سمجھتی ہوں میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

چار شعری مجموعے،انتخاب ،چھپ چکے ہیں۔

دشت دروں۔حسن انتخاب

سانجھیاں سوچاں۔کتاب پر کام ہو رہا ہے ان شاءاللہ جلد منظر عام پر آ جاے گا۔

سوال۔ کیا آپ کے ارد گرد کا ماحول ادبی ہے؟

جواب۔ جی الحمداللہ میرے اردگرد کا ماحول ادبی ماحول ہے۔میرے شوہر میرا نیا کلام سنتے ہیں پڑھتے ہیں۔ اور ہم اس پر گفتگو بھی کرتے ہیں۔

سوال۔ آپ کن کن کن کن شعرا سے متاثر ہیں اور کیوں؟

جواب۔ خاتون ہونے کے ناطے میں پروین شاکر کی شاعری سے بہت متاثر ہوں۔پروین شاکر کی شاعری نسای جذبات کی عکاسی کرتی ہے ان کے علاوہ مرزا غالب اور احمد فراز میرے پسندیدہ شاعر ہیں غالب کی تراکیب اور استعارات اور فراز کی رومانوی شاعری سے بہت متاثر ہوں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, March 12, 2024

نظم کجھ وی ناممکن نئیں شاعرہ : راجویندر کور شاہ مکھی : سلیم آفتاب سلیم قصوری

 






نظم 

کُجھ وی نا ممکِن نہیں


نامُمکِن نوں میں مُمکِن کیتا

بُھلا دِتّا اک پل وچ اوس نوں

جِس نوں یاد ہر پل ہر دِن کیتا۔


اُس دیاں یاداں دا قافلہ سی

تے سی میں اِکلّی

ایس لئی ہی او نال لے گئیا 

لگاکے مینوں گلّیں


ٹور دِتّا اُس نے اوہناں راہوواں تے مینوں

جنہاں توں میں انجان سی

مینوں سی کہ اوہ مالک ہے میری روح دے گھر دا

پر اوہ تاں جِسماں دے گھر دا مہمان سی

جیویں اُس نے چاہیا میں یقین اُس تے اِن بِن کیتا

میں نامُمکِن نوں مُمکِن کیتا۔


اُس دی پیاس سی 

جِسم

تے پیندا سی رت میرا

آوندا سی اپنی لوڑ لئی

تے کھاندا سی وقت میرا

میں وی اُس دا سُواگت

ہر  وار جِسم دا لوتھڑا رِن کیتا

میں نا مُمکِن نوں مُمکِن کیتا۔


اُس داآونا میرے لئی ساہاں توں

گھٹ ناں ہوندا

اوہ کِنّا وی رُکھا بولدا

پر میتھوں پاسا وٹ نا ہوندا

میں اُس دی ہر بے رُخی نوں سیہہ کے وی 

کدی اُس نوں دُکھی اک پل ناں اک چِھن کیتا۔

میں نامُمکِن نوں مُمکِن کیتا ۔

شاعرہ

راجویندر کور

امرتسر چھیرٹا

شاہ مُکھی لپّی

سلیم آفتاب سلیم قصوری

Monday, March 11, 2024

ثوبیہ راجپوت ( افسانہ نگار، شاعرہ ، کالمسٹ , صحافی ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 






۔۔۔۔۔۔۔۔ثوبیہ راجپوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ نگار۔تبصرہ نگار کالمسٹ صحافی اردو اور پنجابی زبان کی شاعرہ

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991


پاکستان کی نئی نسل کی اہلِ قلم خواتین کی کھیپ میں ثوبیہ راجپوت کا نام جانا پہچانا ہے۔ان کا تعلق شہرِ اقبال سیالکوٹ سے ہے۔اُن کے افسانوں کا مجموعہ وجودِ شب جون 2023ء میں زیورِطباعت سے آراستہ ہوا۔افسانوں کے علاوہ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں شاعری بھی کرتی ہیں۔ ان کا کلام کئی اخبارات میں شائع ہوتا رہتا ہے۔محکمہ اطلاعات وثقافت سے ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔کاروانِ قلم ویلفئیر سوسائٹی کے نام سے ایک ادبی تنظیم بھی چلارہی ہیں جس کے تحت بہت سے نٸے لکھاریوں کو منظرِ عام پر لا چکی ہیں۔ان کی کتاب وجودِشب جہاں بہت سے ایوارڈ حاصل کرچکی ہے وہیں پر اس کتاب کو آل پاکستان ویلفئیر ایسوسی ایشن (اپووا)سے بہترین کتاب کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے ۔وجودِشب کی ورق گردانی کے بعد بہت سی نامور شحصیات نے اس کتاب پر تبصرہ کیا جن میں سرِ فہرست حسیب پاشا المعروف ہامون جادوگر شامل ہیں۔ ان سے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے ان کی ایک نعتِ رَسُولِ مقبول ﷺ ملاحظہ کیجئے: 

جہاں میرے آقاﷺ  کا روضہ بنا ہے

مری آنکھ میں وہ مدینہ بسا ہے 


صحابہ  بھی ہیں ساکِنانِ مدینہ

ہے قرآن میں اُن پہ راضی خُدا ہے


وہ شیرِ خدا جس کو بابُ المدینہ

رَسُولِ خُدا نے ہمیشہ کہا ہے


نصیب اُن کے در کی گداٸی ہو مجھ کو

مرا دل اسی آرزو میں لگا ہے


وہ صَلِّ علٰی کی صداٶں کا اُٹھنا

معطر مدینے کی ساری فِضا ہے


خُدامجھ سے راضی تو کس بات کا غم

زمانے کی پرواہ کیا گر خفا ہے


وہ  خَتمِ  رُسُل  بن کے  آٸے ہیں  ثوبی

 اُنھی کی  اِطَاعَت  میں سب کی بقا ہے

سوال۔ آپ کا یوم پیدائش؟

جواب۔ اس وادیِ پُرخار میں ہماری  آمد بہار کے موسم میں ہوئی تھی یعنی کہ 7 اپریل۔ 

سوال۔ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

جواب:ابتداٸی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوٹلی بہرام سے کیا۔ایف اے دارالعلوم میراں بخش،دارالعلوم نورالقرآن سے عالمہ فاضلہ کا کورس مکمل کیا اور باقی پڑھنے کا عمل تو ابھی تک جاری ہے۔کتابیں پڑھنے کا جنون کی حدتک شوق ہے اور اسی شوق کے پیشِ نظر ہر کتاب کا مصنف میرا اُستاد ہے کیونکہ ایک اچھی کتاب سے کوئی نہ کوئی خوبصورت بات مل ہی جاتی ہے اس لیے میں مصنف کو اپنا اُستاد اور کتاب کو بہترین درس گاہ سمجھتی ہوں۔

سوال: آپ کے لکھنے کا آغاز کیسے ہوا؟

جواب۔ لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا بچوں کے رسائل و میگزین بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی جب میں پانچویں کلاس میں تھی تو ایک لوکل میگزین میں ایک چھوٹی سی تحریر بھیجی جوکہ شائع  ہوگئی پھر اس کے بعد گاہے بگاہے سلسلہ جاری رہا لیکن پچھلے دو سال سے باقاعدگی سے لکھ رہی ہوں۔

سوال: نظم زیادہ لکھتی ہیں یا نہ نثر؟ 

جواب۔شاعری و نثر میں یکساں دلچسپی ہے۔اگرایک نظم لکھی ہے تو نثری تبصرہ یاکوٸی مضمون بھی لگ جاتاہے۔

سوال۔ کاروان قلم رائٹر فورم سیالکوٹ سے کب وابستہ ہوئیں؟ 

جواب۔ 7 اکتوبر بروز ہفتہ 2023ء کو باقاعدہ کاروانِ قلم رائٹر فورم کا آغاز کیاگیا۔

سوال:افسانہ اور ناول لکھنے کے لیے کن لوازمات کا ہونا ضروری ہے؟

جواب: پلاٹ،وسیع تخیل،مشاہدہِ کاٸنات اورماشرتی پہلوٶں پر غوروخوض۔

سوال:آپ اُردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں شاعری کرتی ہیں یہ بتا دیں کہ آپ کو اپنی اردو شاعری زیادہ عزیز ہے یا پنجابی شاعری؟ 

جواب۔ اردو ہماری قومی زبان ہونے کے ناتے ہمیں بہت عزیز ہےمگرپنجابی ثقافت میں گُندھے ہوٸے اپنی ماں بولی پہ فخر کرنے والے لوگ ہیں۔پنجابی زبان دی گل ای وکھری اے۔پنجابی ساڈی ماں بولی اے تے ماں بولی ہون دے ناتے مینوں پنجابی نال عشق جیہا اے۔ میں کوشش کرنی آں کہ جناں ہوسکے پنجابی دے فروغ لئی کم کیتا جاوے پنجابی بوہت خوبصورت تے دلکش زبان اے۔

سوال۔ شاعری میں کس سے رہنمائی حاصل کی؟ 

جواب۔ سیالکوٹ کے نامور مصنف شاعر جناب اُستادِ محترم ڈاکٹر محمد الیاس عاجز صاحب اللہ پاک اُن کے علم وفضل میں برکت دے کہ ان کی کوشش سے مجھ ناچیز کا نام بھی شاعرات میں شامل ہوگیا۔ میں نے ایسے لوگ بہت کم دیکھے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہنر، فن یاعلم ہے اور وہ دوسروں کو بغیر لالچ کے سکھائیں یہ صفت اللہ پاک نے عاجز صاحب میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے خدا اُن کے عزت ومرتبے میں مزید اضافہ فرماٸے۔

سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کی تحریروں میں معاشرے کے دکھ درد کا اظہار ہے یا نہیں؟

جواب۔ جی بالکل میری تحریریں مکمل طور پر معاشرتی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں میرا افسانوی مجموعہ وجودِ شب اپنے اندر ہرقسم کے معاشرتی کردار اور کہانیاں سمیٹے ہوٸے ہے۔

سوال۔ آپ کے پسندیدہ لکھاری؟

جواب۔ احمد ندیم قاسمی اور سعادت حسن منٹو۔

سوال۔ آپ کس سے متاثر ہیں؟

جواب۔ ہر اُس شحص سے جس سے کچھ سیکھنے کو ملے۔

سوال: پلاٹ ذہن میں آنے کے بعد کس وقت لکھتی ہیں؟

جواب: فوراً لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔

سوال۔ شاعرات کو ادبی بابے صدارت کے لیے برداشت نہیں کرتے کئی شاعرات نے اپنی تنظیمیں بنا کر اپنی صدارت میں عالمی مشاعروں کا اہتمام شروع کر دیا ہے؟

جواب۔ جی بالکل ایسا ہی دیکھنے میں آرہا ہے چلیں جی اگر جگہ نہ ملے تو پھر ایسے ہی سہی۔ ہر کسی کو اپنا شوق پورا کرنے کا حق ہے اگر ایک راستہ دشوار ہے دوسرا آسان رستہ تلاش کرلینا چاہیے۔

سوال۔ ہر مرد عالی ظرف نہیں ہوتا کچھ کم ظرف ہیں جو آج بھی اپنے رب کی طرف سے بنائے گئے آسمانی رشتے کی ناقدری کرتے ہیں۔ 

جواب۔ جی بالکل صحیح کہا ہمارا معاشرہ ہر قسم کے کرداروں سے بھرا پڑا ہے کہیں بے قدرے تو کہیں قدر دان بھی موجود ہیں۔ایسے مرد جو اپنے آسمانی رشتے کی قدر نہیں کرتے دراصل وہ دوسرے سے زیادہ خود کو ذلیل کرتے ہیں۔

اپنے ساتھ مخلص رشتوں کی بے قدری کرنے والے دراصل اپنی ذات کی بے قدری کر رہے ہوتے ہیں۔ایسے مردوزن کبھی بھی ایک پرسکون ذہنی طور پر آسودہ زندگی بسر نہیں کرسکتے۔

سوال۔آپ کی اپنی پسندیدہ شاعری؟

جواب۔ اپنی شاعری ہر کسی کو عزیز ہوتی ہے: 

کہنے میں یہ عار نہیں  ہے

تو  بھی  اپنا یار  نہیں  ہے


بغض  بھرا  ہے   سینہ  تیرا

دشمن ہے غم خوار نہیں ہے 


قول اقرار ہیں جھوٹے سارے

لب  پر  بھی انکار نہیں  ہے


چہروں سے میں دیکھ رہی ہوں

کوٸی بھی بیدار نہیں ہے


سارے  بیوپاری  آ بیٹھے  ہیں

عشق  ہے یہ  بازار نہیں  ہے


ساقی جانب  دار  ہے  نکلا

ہوش میں بھی  میخوار نہیں ہے


خستہ  ہے  بنیاد وطن کی

زیرک اب معمار نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 پنجابی غزل

اونھے   وی  اعتبار   نٸیں   کیتا

لوکاں   کیتا     یار   نٸیں   کیتا


دل  وچ   آس  ملن  دی  لے  کے

دِل   اپنا    بیمار    نٸیں    کیتا


پھٹ   کلیجے  کھا   بیٹھا   اے

مَیں  تے  کوٸی  وار  نٸیں  کیتا


اکھاں   نال  او   کر  لیندا   اے

جیہڑا   کم   تلوار    نٸیں  کیتا

 

بھریا     میلہ    چھڈنا    چنگا

پردل کوئی  بیزار  نٸیں  کرنا


ہس دا  ریہندا  اے  نِمَّاں  نِمَّاں

پر اونے   اقرار   نٸیں  کیتا


میچ  کے  اکھاں   دل  دتا  اے

لوکاں وانگ  بیوپار نٸیں  کیتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔