Wednesday, April 3, 2024

محمد شیراز ( مصنف, موٹیویشنل سپیکر , گرافکس ڈیزائننگ ) انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری

 






محمد شیراز

موٹیویشنل سپیکر، گرافکس ڈیزائننگ، کمپیوٹر انجینئر، مصنف، ٹیچر

انٹرویو: صاحبزادہ یاسر صابری

03115311991


اپنے جذبات و احساسات کو ضبط تحریر میں لانا ایک قسم کانفسیاتی علاج بھی ہے کیوں کہ اس سے انسان اپنے غم و غصہ اور فرط انبساط کی صورت حال کو اگل سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسان کی ٹینشن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اسے ٹینشن رفع کرنے کے علاج کا درجہ بھی دیتے ہیں۔ اسے رائٹنگ تھراپی کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں اس پر تحقیق ہو رہی ہے اور تحریر کے ذریعے علاج کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔.  نیو یارک کے ایک تھراپسٹ کا کہنا ہے کہ اگر ایک مریض سے اس کے حالات زندگی تحریر کی صورت میں اگلوائے جائیں تو اس کا علاج بے حد آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے ایسے ماہرین بھی موجود ہیں جو کسی کی تحریر دیکھ کر اس کی اندرونی بیماری جان جاتے ہیں۔ تحریر کا انداز یہ پتہ دیتا کہ یہ شخص کسی بیماری میں مبتلا ہے مگر یہ صرف ماہر تحریر شناس ہی کر سکتا ہے۔ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔

         آج میں ایک نوجوان لکھاری محمد شیراز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں لے کر آیا ہوں جو 27 فروری 2007ء میں شاہینوں کے شہر ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے گاؤں منڈیکی میں پیدا ہوئے۔ جنہوں نے ساتویں جماعت سے دوران کرونا لکھنے کا کام شروع کیا اور نہایت ہی کم عمری میں آئی ٹی کی دنیا میں نام پیدا کیا ہے۔

سوال۔ آپ اپنی تعلیم اور لکھنے کے بارے میں کچھ بتائیں کہ لکھنے کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

جواب۔ میں نے میٹرک تک کی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول ڈسکہ کوٹ سے حاصل کی اور اب پنجاب کالج ڈسکہ سے آئی سی ایس جاری ہے۔ میں اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سیکھنے کے لئے اپنے والد صاحب کے دوست کی دوکان پر جایا کرتا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ 2022ء میں لکھنے کا آغاز کیا تا کہ جولوگ مہنگائی کی وجہ سے اتنے مہنگے کورسز نہیں کر پاتے وہ گھر بیٹھے کتابوں کی صورت میں سیکھ کر کچھ نہ کچھ کما کر اپنی زندگی کو اچھے طریقے سے گزار سکیں۔ میں کمپیوٹر میں بے حد ذہین تھا، مجھے ڈسکہ کے نامور اداروں نے کہا کہ آپ ہمارے ادارے میں آکر بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دیں، میں ایک ادارے کے بہت اصرار کرنے پر تقریباً ایک سال وہاں ایک ٹیچر کی حیثیت سےطلباء کو کمپوٹر سیکھاتا رہا.

سوال۔  کیا آپ نے اپنے گھر میں کوئی ادارہ بھی کھول رکھا ہے؟

جواب۔ میں نے 2020ء میں ایس اے گرافکس اینڈ گروپ آف انسٹیٹیوشنز کے نام سے اپنے گھر میں ہی ایک ادارہ کھولا ، جس میں بچوں کو انتہائی مناسب فیس میں کورسز بھی کروا رہا ہوں اور ساتھ فلیکس پر نٹنگ، ڈیزائننگ وغیرہ بھی کرارہا ہوں۔

سوال۔ آپ کی اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں؟

جواب۔ میں نے اپنی پہلی کتاب ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر لکھی جو 2022 ء کے آخر میں شائع ہوئی ۔ اس کے کل 80 کے قریب صفحات ہیں۔ جس میں ہم اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل طریقے سے کیسے تشہیر کر سکتے ہیں ، سب کچھ تفصیل کے ساتھ لکھا گیا۔ اس کتاب کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ دوسری کتاب آؤ یوٹیوب سیکھیں 2024ء کے بالکل شروع میں شائع ہوئی جس میں یوٹیوب چینل کے بنانے سے لے کر یوٹیوب سے پیسے کس طرح کمائے جاسکتے ہیں۔ تمام تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد تیسری کتاب میں نے گرافکس ڈیزائننگ کے کورس میں سے ایک سوفٹ ویئر ان پیچ پر شائع کی۔

سوال۔ آپ کس لئے لکھتے ہیں؟

جواب۔ میں ان عظیم نوجوانوں کے لئے لکھتا ہوں جن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ جو اتنے مہنگے کورسز کر سکیں ، وہ یہ کتابیں خرید کر بہت اچھے طریقے سے سیکھ سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہوں گا کہ اپنے ملک کے نوجوانوں میں خودی کو بیدار کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔

سوال۔ دوران تعلیم آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا جو مشکل بھی ہے اور نوجوان طبقے کے لئے ایک سبق آموز بات بھی ہے؟

جواب۔ جی بالکل ایک عام انسان کے لئے پڑھائی کے ساتھ اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنا ایک مشکل

مرحلہ ہوتا ہے۔ مشکلات نہیں آتیں اگر کوئی بڑا سہی سمجھانے والا ہو۔ ہمیں کوئی گائیڈ کرنے والا ہو۔ لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ سمجھانے والا مخلص کوئی کوئی ملتا ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ سنوں سب کی مگر مانوں من کی ۔ یعنی سب کے مشورے لیں مگر اپنے لئے وہی انتخاب کریں جو آپ کو اچھا لگے جس میں آپ کا دل چاہے۔

سوال۔ آپ کی کتابوں سے کیا طلباء مستفیض ہو رہے ہیں؟

جواب۔ جی الحمدللہ! مختلف کمپیوٹر کالجز کے اساتذہ کرام نے بھی یہ کتابیں خریدی ہیں اور وہ اپنے طلباء کو خرید کر دے رہے ہیں۔ الحمدللہ مختلف شہروں سے لوگ رابطہ کر رہے ہیں کہ یہ کتابیں ہمیں بھی دیں، تو ان شاءاللہ جلد ہی پاکستان کے ہر شہر میں یہ کتابیں موجود ہو گی۔

جواب۔ آپ کے مشاغل؟

جواب۔ لکھنا، کمپیوٹر پر کوئی ایسا کام جو کوئی فائدہ مند ہو۔ یعنی گیمز وغیرہ کھیلنا پسند نہیں ، اور نہ ہی کوئی فلم وغیرہ ، اس لئے جب فارغ ہوں تو کچھ نیا سے نیا سیکھتا ہوں ۔

سوال۔ کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا خیال ہے جسے آپ نے تخلیق نہیں کیا ہے؟

جواب۔ جی ۔ ان شاءاللہ ایک ایسا روبوٹ تیار کریں گے جو انسانوں کی طرح ان کو فری کورسز کروائے گا،خود مختار بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سوال۔ کوئی قابل ذکر شخصیت؟

جواب۔ خادم حسین رضوی ایک ایسے مرد قلندر تھے جنہوں نے صرف مدرسے میں پڑھنے والے طلباء کو دین سمجھنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے دین ایسے بیان کیا کہ ہر بندہ وہ چاہیے بچہ ہو، نوجوان ہو یا بوڑھا ہو ۔ ان کے سمجھانے کا انداز نہایت ہی نرالا تھا اور شاید ہی کوئی اور خادم حسین رضوی پیدا ہو۔

سوال۔ کیا الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا پر حاوی ہو گیا ہے؟

جواب۔  جی بالکل الیکٹرانک میڈیا لوگوں کے زیادہ دیکھنے کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کم پڑھا جاتا ہے۔

سوال۔ کیا انگریزی کی تعلیم ضروری ہے؟

جواب۔ غیر ملکی افراد سے بات جیت کرنے کے لئے انگریزی کی تعلیم ضروری ہے۔

سوال۔ کیا کسی عالمی ادبی چینل کی ضرورت ہے؟

جواب۔ جی ایسے چینل کی نہایت ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں میں اس تخلیقی جذبہ ابھرے۔

سوال۔ طلباء کے لئے کوئی پیغام؟

جواب۔ طلباء کے لئے یہی پیغام ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں قدم رکھنا شروع کریں تا کہ آنے والا وقت آسان ہو سکے اور کچھ نہ کچھ سوچ کر کسی موضوع پر لکھا کریں ۔ جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کرتے رہیں ۔

☆☆☆

پنج نمازاں ( اندر جیت اندر ) لدھیانہ - چڑھدا پنجاب

 





پنج نمازاں


انتظار تاں کراں گی تیرا

آخری سانہواں تیکن

توں ہُن آکے بچاونا

یاں اُڈیکدے مُکدی تکنا

ایہ فیصلہ تیرے تے چھڈیا


میں تیری محبت نوں 

اپنے دل وچ 

بالاں وانگ پالیا اے

میں تے تینوں سمبھال لیا

بھاویں توں مینوں دِلوں کڈھیا۔


اُسدا سبھ کُجھ بن جاندا

جس نے لے کے سانبھ لیا

اُسدا ککھ نہیں بنیا

جس نے جس ٹاہنی تے بیٹھ

اُوسے نوں ہی وڈھیا۔


میں تیرے لئی پنج نمازاں

کردی تے روز ادا

تیرے کر کے میں فقر ہوئی

ہوؤ پورا جو میں مونہو کڈھیا۔


اِندر دے عشق حقیقی نوں

کِتے نظر نہ لگ جاوے

میری عرض مدینے نوں

لے اج پلّا اڑَیا۔

شاعرہ 

اندرجیت اِندر لوٹے

لُدھیانہ چڑھدا پنجاب

شاہ مُکھی لپّی

سلیم آفتاب سلیم قصوری

Tuesday, April 2, 2024

نعت شریف ( سلیم آفتاب سلیم قصوری )

 






نعت پاک

یا مُصطفٰے لِکھوں یا حبیبِ خُدا لِکھوں

خیر ا لانام  آپٌ   کو  خیرُالورٰی لِکھوں


بھیجوں درودِ پاک میں حضرت کی آل پر

صلّے  علٰے   نبیّنا   صلّے    علٰے  لِکھوں


عظمت ہے ضو فشاں تری نبیوں میں یا نبیﷺ

تاروں میں بدر آپٌ کو شہ دوسرا لِکھوں

 

عرشِ  بریں  کو   زیبا   کِیا   آپٌ کے لیے

معراج  قاب  قوسین  سے  ابتدا لِکھوں 


کیا کیا نہ آپ  کو  میں   لِکھوں شاہ مُرسلیں

احمدٌ لِکھوں خلیلٌ لِکھوں مُجتبٰی لِکھوں 


مِدحت کے ہیں سلیم یاں لاکھوں ہی عاشقاں

کیاآفتابِ دوجہاں کی میں ثنا لِکھوں

نعت رسول مقبول ﷺ ( عمر علی شاہ ) لودہراں

 






🥀نعت رسول مقبولﷺ 🥀


ندرت ہے تخیل میں فقط تیری ثنا سے

آتے ہیں خیالات مدینے کی فضا سے


پائی ہے اماں آپ کے قدموں میں بشر نے

بہتر ہے تری بھیک بھی شاہوں کی عطا سے


مداح ملائک بھی ہیں انسان بھی سارے

توحید کی تبلیغ کو آیا جو حرا سے


تقدیس خداوند کی آقا نے بتائی

عالم یہ منور جو ہوا نورِ خدا سے


ہرعیب سے بے عیب بنایا ہے خدا نے

یکتا ہیں خصائل میں وہ اللّٰہ کی رضا سے


مہتاب یہ سورج یہ ضیا پاش ستارے

اجرام ترے نور کے ٹکڑے ہیں ذرا سے


اسباب میسر ہوں عمر کو بھی سفر کے

آتا ہے بلاوا بھی محمد کی رضا سے


✍️:: عمر علی شاہ (لودہراں)

مقبول ذکی مقبول ( شاعر و ادیب ) بھکر ( انٹرویو : صاحب زادہ یاسر صابری )

 







شاعر و ادیب مقبول ذکی مقبول ، بھکر


انٹرویو  : صاحب زادہ یاسر صابری 

اسلام آباد

03115311991


جب انسان اپنی تکالیف کا اظہار لکھ کر یعنی اپنی تحریر کے ذریعے کرتا ہے تو نصف تکلیف اس کے اظہار سے رفع ہو جاتی ہے کہتے ہیں جتنے بھی شاعر افسانہ نگار ناول و تبصرہ نگار اور سب لکھنے والے دراصل اپنے دل کی بھڑاس اپنی تحریر کی ذریعے نکالتے ہیں جو ان کو ہر آن چاک و چوبند و توانا رکھتی ہے اگر انسان اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالے تو پھر اندر ہی اندر کھولتا رہتا ہے اور آخر کار نفسیاتی مریض بن جاتا ہے لکھاری اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ تحریر کے ذریعے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں دوسرے لوگ جن کے پاس دل کی بھڑاس نکالنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا وہ نفسیاتی مریض بن کر کبھی قاتل بن جاتے ہیں اور کبھی دوسروں کو ایذا دینا ہی اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔

آج ہم جس ادبی شخصیت کا انٹرویو  لے کر آئے ہیں ان کا نام مقبول ذکی مقبول ہے جو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے میں مصروف رہتے ہیں ان کا تعلق منکیرہ ضلع بھکر سے ہے انہوں نے شعر و سخن کے میدان میں اردو اور سرائیکی ہر دو زبانوں میں اپنے جوہر دکھائے ہیں درویش صفت انسان ہیں دوسروں کے دکھ درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں اور پھر اسی درد کو اپنی شاعری میں سمونے کی کوشش کرتے ہیں شاعری کے ساتھ ساتھ ادباء و شعراء کے انٹرویوز ان کا محبوب مشغلہ ہے اور وہ اس میدان میں بھی خاصے سرخرو دکھائی دیتے ہیں ۔

سوال : آپ کی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش؟

جواب : میں کینال کالونی لیہ میں یکم جنوری1977ء کو پیدا ہوا ۔

سوال : آپ کا پوا نام اور تخلص؟

جواب : میرا نام مقبول حسین ہے اور تخلص ذکی کرتا ہوں ( مکمل قلمی نام مقبول ذکی مقبول ہے)

سوال : حصولِ تعلیم اور ملازمت کی تفصیل ۔؟

جواب : تعلیم میری واجبی ہے ۔ اچھے برے میں تمیز کر لیتا ہوں ۔ علاوہ ازیں کوئی بڑی ڈگری میرے پاس نہیں ۔

سوال : ملازمت اور عملی زندگی کا آغاز ۔ ؟

جواب : 29 اپریل 2009ء کو تحصیل منکیرہ کے گاؤں بنڈیانوالہ میں گورنمنٹ ڈسپنسری میں تعینات ہوا ۔ 2010ء میں جنرل ڈیوٹی ٹی ایچ کیو ہسپتال منکیرہ میں آٹھ ماہ بیس دن تک سر انجام دی ہے ۔ 12 نومبر 2021ء سے لے کر 21 فروری 2023ء تک ڈی ڈی ایچ او آفس منکیرہ میں جنرل ڈیوٹی سر انجام دی ہے ۔ 19 جون 2023ء سے جنرل ڈیوٹی ٹی ایچ کیو ہسپتال منکیرہ ( بھکر) میں دے رہا ہوں ۔

سوال : ادب اور شاعری سے وابستگی کے بنیادی محرکات کیا ہے ۔ ؟

جواب : موزونی طبع ہی بنیادی محرک ہے ۔ اس کے علاوہ بھکر کی ادبی فضا اور منکیرہ میں علی شاہ مرحوم کی رفاقتیں بنیادی محرک ہیں ۔

سوال : شاعری کے علاوہ ادب کی اور کون سی صنف سے وابستگی ہے ۔؟

جواب : تحقیق و تنقید

سوال : شعر گوئی کے لئے کون سی کیفیت یا جذبہ آپ کے لئے سب سے بڑا محرک ہے ۔ ؟

جواب : عقیدت و محبت محمد و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ۔ جب بھی کوئی واقعہ نظر سے گزرتا ہے تو دل و دماغ اور قلم حرکت میں آ جاتا ہے۔۔

سوال : آپ کس نظریے کے تحت شعر کہتے ہیں ۔ ؟

جواب : محمد و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے فضائل و مصائب بیان یعنی ذکرِ پاک دوسروں تک پہنچانا ۔ شعر برائے شعر ہی نہیں کہتا شعر برائے اصلاح بھی میری کوشش ہوتی ہے ۔ مقصدیت شعریت کے ساتھ ترجیح رہتی ہے ۔

سوال : آپ کِن رسائل و اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں ۔ ؟

جواب : روزنامہ ٫٫ طالبِ نظر ،، کراچی اور ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ اکبر ،، رحیم یار خان

سوال : آپ کی تخلیقات ۔؟

جواب :اَلْحَمْدُلِلّٰه میری سات کتب طبع شدہ ہیں ٫٫سجدہ ،، سرائیکی اسلامی شاعری (2017ء)

٫٫ منتہائے فکر ،، اُردو مجموعہ سلام (2020ء)

٫٫ سُنہرے لوگ ،، نام ور ادبی شخصیات کے انٹرویوز ( 2023ء)

٫٫ روشن چہرے ،، معروف ادبی شخصیات سے مصاحبے (2023ء)

٫٫ اعترافِ فن ،، پروفیسر عاصم بخآری تحقیق و تنقید (2024ء)

٫٫ شذراتِ مقبول ،، مضامین و تبصرے (2024ء)

٫٫ یہ میرا بھکر ،، فردیات (2024ء)

سوال : آپ کے اعزازات ۔ ؟

جواب :  مجھے جو اعزازات ملے ہیں ان کی تفصیل کچھ اِس طرح سے ہے 


  1 گولڈ میڈل ، منجانب ادب سرائے انٹرنیشنل (لاہور) 10 دسمبر 2018ء


2 حسنِ کارکردگی اول ایوارڈ ، منجانب شاخِ ادب فیض پور خرد انصاری فاؤنڈیشن پاکستان (شیخو پورہ)14 مارچ 2019ء


3 نعت ایوارڈ ، منجانب عشقِ لہر ادبی انجمن (لاہور) 24 مارچ 2019ء


4 ڈاکٹر یاسین جاوید ادبی ایوارڈ ، منجانب کاروانِ بیدل (جھنگ) 30 مارچ 2019ء


5 گولڈ میڈل ، منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 3 اگست 2020ء


6 بھیل ادبی ایوارڈ ، سند اور دیگر تحائف منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 28 مارچ 2021ء


7 سند امتیاز ، منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 10 جولائی 2021ء


8 ایوارڈ برائے بہترین تصنیف ، منتہائے فکر ، منجانب انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان (راولپنڈی) 26 جولائی 2021ء


9 گولڈ میڈل ، سند ، کیش اور دیگر تحائف منجانب تنظیم کارِ خیر (گوجرانولہ) 21 نومبر 2021ء


10 خوشبوئے نعت ایوارڈ ، منجانب عبد الحق نعت فاؤنڈیشن پاکستان (سرگودھا) 25 دسمبر 2021ء


11 حسنِ کارکردگی ایوارڈ ، منجانب ماہنامہ اوج ڈائجسٹ (ملتان) 16 جنوری 2022ء


12 سردار ادبی ایوارڈ اور سند امتیاز منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 13 مارچ 2022ء


13 نقیبی ادبی ایوارڈ 2021ء منجانب نقیبی کاروانِ ادب (فیصل آباد)  26 دسمبر 2022ء



14 سریٹفکیٹ منجانب ادارہ اشا  ( ڈیرہ اسماعیل خان )3 مارچ 2023ء



15 گولڈ میڈل 2024ء منجانب المصطفیٰ فاؤنڈیشن اور مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے 5 اسناد ، یعقوب فردوسی ( فیصل آباد) 20 اگست 2023ء


16 اعزای سند ، منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل (لاہور) 24 اگست 2023ء


17 سندِ اِعزاز منجانب ای میگزین آئی اٹک ( اٹک ) 25 دسمبر 2023ء


سوال : انٹرویو نگاری کی طرف کیسے ماحول ہوئے ۔؟

جواب : یاسر صابری صاحب آپ کی انٹرویو کی کتاب ٫٫ اندازِ گفتگو ،، کا مطالعہ کیا تو بہت متاثر ہوا میرے اندر بھی خواہش پیدا ہوئی کہ ادبی شخصیات کے انٹرویو لینا شروع کروں کچھ مصروفیات کی وجہ سے یہ خواہش دل میں رہی ایک دن لاہور سے میرے  دوست پروفیسر جاوید صدیقی بھٹی کا فون آیا تو انہوں نے کہا آپ نے کبھی کسی کا انٹرویو لیا ہے تو میں نے کہا لیا تو نہیں پر ارادہ رکھتا ہوں اِن شاء اللّٰہ یہ کام شروع کروں گا پھر اللّٰہ کا نام لے کر یہ کام میں نے شروع کر دیا اللّٰہ پاک کا کرم ہوا اِس میں کامیابی ملی ہے ۔

سوال :  شاعری ہو یا نثر معیاری ادب کے پیمانے کیا ہیں ۔ ؟

جواب :از دل خیزد بر دل ریزد کا قائل ہوں ۔ نثر سادہ ہو دل نشیں ہو پر پیچ نہ جو کہ قاری کو ہلا کے رکھ دے تاکہ قاری اس کو ہضم اور جذب کر سکے ۔

سوال : اپنا کوئی تازہ کلام تھوڑا سا سنائے گا ۔؟

جواب : جی ہاں فردیات سنائے دیتا ہوں ۔


جس کا تَن مَن دھَن تجھ پر قربان بھکر

میں صحرائی میں وہ ہی مقبول ذکی


شہر پیارے ہیں دیس کے سارے

بات لیکن ہے اور بھکر کی


پنڈی اور لاہور کراچی ساحل پر

بادِ صحرا بھول نہ پایا بھکر کی


اوڑھ میں ذکی ، ریت کی چادر لیتا ہوں

جب چلتی ہے ، تیز ہوا منکیرے میں


ربّ پر رکھتے خاص یقین

ہم  جیسے  بارانی  لوگ

                      *****

سلام ( نزیر حسین نذر ) پھول نگر

 






سلام 

سہہ کے ظلم دے وار کمالاں کر چھڈیاں

جنت دے سردار

کمالاں کر چھڈیاں

عرشاں اتوں ویکھ فرشتے کہن لگے

قاسم دی تلوار کمالاں کر چھڈیاں

ویکھو یارو جگرا صابر سیداں دا

سب نیں وارووار کمالاں کر چھڈیاں

شامیں آیا پانی کسے وی پیتا نہ

پیاسیاں نے سرکار کمالاں کر چھڈیاں

نذرا بھورا سی نہ کیتی بالاں نیں 

تتی ریت تے  یار کمالاں کر چھڈیاں


نذیر احمد نزر پھولنگر

Monday, April 1, 2024

سچ بولیے ( یاسین یاس )

 






اپریل فول کے حوالے سے میرا پرانا کالم  " سچ بولیے " جو روزنامہ " صحافت " لاہور ، وائس آف پاکستان کے کلر پیج اور روزنامہ کشمیر مظفرآباد / کینیڈا، جہان امروز، حریف، لیڈر ، آغاز سفر، عوامی دستک اور روزنامہ کے ٹو  میں چھپا 

سچ بولیے 


جس معاشرے میں ہر کوئی دوسرے کو فول بنانے میں لگا ہے اسی معاشرے میں سچ بولنا کتنا مشکل ہے یقین نہیں آتا تو بول کر دیکھ لیجیئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا

آپ جو ہیں وہ نہیں رہیں گے ( لوگوں کی نظر میں) ہاں مگر جو عزت جو مرتبہ اللہ پاک نے آپ کودیا ہے وہ آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا کیونکہ وہ سب جانتا ہے. فرق صرف اتنا پڑے گا کہ آپ کے اپنے ( جنہیں آپ اپنا سمجھتے ہیں)  آپ کو کھڈے لائن لگانے کے لیے سرگرم ہوجائیں گے شعبہ کوئی بھی ہو کلیہ یہی ہے جہاں جس کا داؤ لگے گا آپ کے لیے معافی نہیں ہوگی.

  سچ بولیے مگر احتیاط سے کیونکہ لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں سچ بولنا چاہیے سچ کا ساتھ دینا چاہیے سچ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے کیونکہ سچ ہمیشہ سچ رہے گا سانچ کو آنچ نہیں والا محاورہ پڑھنے سننے کی حد تک بہت بھلا لگتا ہے مگر حقیقت اس سے مختلف بھی ہوسکتی ہے اس لیے بولیے مگر احتیاط سے.تاریخ گواہ ہے کہ سچ بولنے والے ہمیشہ دار پر چڑھادیے گئے اگر آپ بھی دار کا نظارہ کرناچاہتے ہیں تو بےدھڑک بولیے ممنوع تھوڑی ہے بلکہ سچ ہی تو سچ ہے .

اپریل فول کی بیماری دوسرے ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی چند سالوں سے زور پکڑ گئی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے جھوٹ ثواب سجھ کر بولنے لگے ہیں ارے بھائی کیا ہوگیا ہے آپ کو یہ ہمارا کام نہیں ہے جس کا کام اسی کو ساجھے جو بولتا ہے اسے بولنے دو آپ کیوں اپنی عاقبت خراب کرنے پہ تلے ہو ہمارے مذہب میں اس کی اجازت نہیں ہے  ہاں مگر اگر آپ کے سچ بولنے سے کسی کی جان کو خطرہ ہو لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہو تو مصلحتا" بولا جاسکتا ہے مگر یہ کیا یہاں تو جان بوجھ کر ایک دوسرے کو تنگ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کو ثواب سمجھ کر بولا جا رہا ہے بلکہ ایک دن مقرر کردیاگیا جسے منچلوں نے اپریل فول نام بھی  دے دیا خدا کا خوف کریں صاحب. ہمیں یہ سب کجھ زیب نہیں دیتا ہمارا دین ہمارا مذہب ہمارے پیارے نبی اخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات ہمیں سچ بولنے کا کہتی ہیں ہمارے بزرگانِ دین نے بھی ہمیشہ سچ بولا اور  سچ کا ہی پرچار کیا ایک دفعہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم تجارت کی غرض سے گندم فروخت کرنے کے لیے گئے تو راستے میں بارش ہونے کی وجہ سے  گندم گیلی ہوگئی تو آپ نے منڈی میں جاکر خشک اور گیلی گندم الگ الگ کی اور دونوں کو الگ الگ ریٹ سے بیچا گیلی گندم کا وزن بڑھ گیا تھا اس لیے اسے کم قیمت پر بیچا اور خشک گندم کو اصل ریٹ پر. اور ہمارے تاجر بھائی کیا کرتے ہیں اپنے اپنے گریبان میں جھانکیے. کیا ہم جان بوجھ کر مرچ میں بھوسہ، بیسن میں مکئی، چائے کی پتی میں بورا، کالی مرچ میں پپیتے کے بیج،  آٹے میں چاول کا نکا، مسور میں کوکرو، دودھ میں کیمیکل، چینی میں سوجی، ڈالڈا گھی کے پراسیس میں کمی، چاولوں میں ٹوٹا، گندم میں مٹی کی ڈھیلیاں نہیں ملاتے. خدا سے ڈریے اپنے ہاتھوں سے دوزخ کا ایندھن اکٹھا مت کیجیے.

ایک دفعہ شیخ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بچپن میں حصولِ علم کی غرض سے جارہے تھے کہ راستے میں قافلے کو ڈاکوؤں نے گھیر کر سب کو لوٹنا شروع کردیا جب ڈاکو آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ لڑکے بتا تیرے پاس کیا ہے تو آپ نے فرمایا " چالیس دینار" ڈاکو نے تلاشی لی تو اسے نہیں  ملے اس نے دوبارہ پوچھا آپ نے فرمایا چالیس دینار  وہ ڈاکو آپ کو لیکر سردار کے پاس چلا گیا سردار کے پوچھنے پر بھی آپ نے کہا میرے پاس چالیس دینار ہیں سردار کے کہنے پر آپ نے اپنی قمیض میں سلے ہوئے چالیس دینار نکال کر ان کے حوالے کردیے ڈاکوؤں کے سردار نے کہا آپ جھوٹ بول کر یہ دینار بچا سکتے تھے اس پر آپ نے کہا کہ.میری ماں نے مجھے نصیحیت کی تھی کہ بیٹا جھوٹ مت بولنا.  اس بات کا ڈاکوؤں کے سردار پر بہت گہرا اثر ہوا اس نے آپ کے دینار بھی واپس کردیے اور قافلے کے دوسرے لوگوں کا سامان بھی واپس کردیا اور آئندہ سے توبہ کرلی.

خدارا اپریل فول منانے کے چکر میں کسی کا گھر نہ اجاڑیں،کسی کی زندگی سے نہ کھیلیں،  کسی کو دکھ نہ پنہچائیں کسی کا دل نہ توڑیں کیونکہ دل اللہ پاک کا گھر ہے اور ایسے فضول اور مذہب میں ممنوع (جھوٹ) فعل کی حوصلہ شکنی کریں اور بچوں میں شعور اجاگر کریں کہ وہ ایسی فضولیات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کوبھی بچائیں اس کے لیے اساتذہ، والدین ،  امام مسجد، دانشور حضرات اپنے اپنے طریقے سے آگاہی لیکچر، گل بات،  اشعار و کالم  و خطبہ میں اس کا اہتمام کریں اور  منانے والوں کی بھی ہر محاذ پر حوصلہ شکنی کریں