Wednesday, December 27, 2023

نظم (سچی گل ) یاسین یاس


  سچی گل 


سچی گل اے 

جنہوں ول اے 

اوہدا اج اے 

اوہدی کل اے 

سچی گل اے 

یاسین یاس 

Tuesday, December 26, 2023

ماہ رخ علی ماہی ( انتخاب نادر فہمی )


 غزل ( ماہ رخ علی ماہی ) 

انتخاب : نادر فہمی 

ارے آفتاب تری قسم! ترا حسن پایا ہے چاند نے،

بڑی دور سے, بڑی دیر تک, تجھے خوب دیکھا ہے چاند نے،


جو بھٹک سکے نہ اِدھر اُدھر، جو مدار سے نہیں ہٹ سکے، 

تو زمین ہے جسے زاویوں میں جکڑ کے رکھا ہے چاند نے


 مرا وہم ہی ہو بھلے مگر مجھے اب بھی لگتا ہے دوستا! 

سبھی آب و تاب کو چھوڑ کر کسی دن دھڑکنا ہے چاند نے


کوئی عکس پانی پہ اشک باری کا، کپکپی کا شکار تھا

تمہیں ہے خبر سرِ رہ گزر کسے آج کھویا ہے چاند نے


وہ جو اک ستارا گرا تھا دامن عرش سے بڑے دیر قبل, 

مری آنکھ میں تھا رکا ہوا، اسے گھر بلایا ہے چاند نے


وہ جو راز تو نے کہا تھا چاندنی شب میں چاند سے ایک دن،

ترا راز راز رہا نہیں! مجھے سب بتایا ہے چاند نے


ماہ رخ علی ماہی




Sunday, December 24, 2023

آواز ادبی فورم پاکستان مشاعرہ


 بھائی پھیرو ( یاسین یاس ) آواز ادبی فورم پھول نگر پاکستان  کے زیر اہتمام کھوج گڑھ للیانی( قصور ) میں ایک یادگار مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر محمد علی صابری نے کی صاحب شام معروف شاعر صدیق جوہر تھے ۔ نقابت کی زمہ داری منظور شاہد ارواڑہ اور اشرف خاں شاذی نے احسن طریقہ سے نبھائی ۔ کھوج گڑھ کے روح رواں معروف شاعر اقبال قیصر نے آنے والے مہمانوں کا آواز ادبی فورم کے چیئرمین نزیر نذر اور آواز ادبی فورم کے صدر عبدالغفور قصوری کے ساتھ مل کر آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا صاحب شام صدیق جوہر اور صاحب صدارت محمد علی صابری سے بھرپور کلام سنا گیا سامعین نے دل کھول کر داد دی اقبال قیصر نے کہا میری خواہش ہے کہ جس طرح آپ لوگ آج اکٹھے ہوئے ہیں اسی طرح یہاں آتے جاتے رہیں کھوج گڑھ کے دروازے آپ کے لیے ہروقت کھلیں ہیں جو دوست پہلی دفعہ آئے ہیں ان سے گذارش ہے کہ یہ آخری بار نہ ہو جو بھی دوست یہاں پروگرام کرنا چاہے کھوج گڑھ انتظامیہ حاضر ہے آواز ادبی فورم کے چیئرمین نزیر نذر نے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا مشاعرہ کا آغاز تلاوت کلام سے کیا گیا جس کی سعادت عبدالشکور کے حصہ آئی  اور نعت رسول مقبول کی سعادت نزیر نذر نے حاصل کی 

صدارت محمد علی صابری نے فرمائی صاحب شام 

 صدیق جوہر تھے مہمان خصوصی فقیر کامل رائے ونڈ , یاسین یاس پھول نگر , وحید ناز لاہور ٫ احمد فہیم میو  لاہور , نسیم گلفام  اور شوکت علی ناز تھے ۔مہمان اعزاز آصف علی جٹ سرائے مغل اسد اللہ ارشد میو , رمضان رضوی , زاہد صدیقی پھول نگر , اور لیاقت لاہوری تھے۔ دیگر مہمان شعراء میں منظور شاہد ارواڑہ , میاں جمیل احمد جمیل رائے ونڈ , عبدالغفور قصوری , جی ایم ساقی , سلیم ماہی , سلیم شہزاد  , یونس ساقی , اشفاق فخر ,

نزیر نذر ٫ عامر صدیقی اور منیر حسین منیر شامل تھے  ۔انے والے مہمانوں کو آواز ادبی فورم پھول نگر کے چیئرمین نزیر نذر , آواز ادبی فورم پھول نگر کے صدر عبدالغفور قصوری , آواز ادبی فورم کے جنرل سیکرٹری عامر صدیقی ٫ کھوج گڑھ کے ڈائریکٹر اقبال قیصر اور منظور شاہد ارواڑہ نے خوش آمدید کہا مہمانوں کو پرتکلف عشائیہ بھی دیا گیا آنے والے مہمان کھوج گڑھ کے خوبصورت پھولوں سے لدے باغیچے میں تصاویر بناتے رہے ٹھنڈے اور دھند میں لپٹے دن کو کھوج گڑھ کی صحت افزا فضا نے ایک یادگار مشاعرے میں بدل دیا کامیاب اور خوبصورت مشاعرے کے اہتمام پر آواز ادبی فورم کے سارے منتظمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

یاسین یاس 

جنرل سیکرٹری 

مجلس احباب ذوق بھائی پھیرو 

 



Sunday, December 17, 2023

پنجابی مجموعہ " واہ " صادق فدا ( تحریر یاسین یاس )

 تحریر : یاسین یاس 

 صادق فدا کا پنجابی مجموعہ " واہ


واہ منہ سے بے اختیار نکلنے والا لفظ ہے جسے سننے کے لیے فنکار کو عمر بھر کی ریاضت سال ہا سال کی محنت و مشقت درکار ہے پھر کہیں جا کر کسی سننے والے , پڑھنے والے یا دیکھنے والے کے منہ سے واہ کا لفظ نکلتا ہے جسے سن کر فنکار کو خوشی محسوس ہوتی ہے زندگی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ اتنی محنت صرف زندہ رہنے کے لیے کرتا ہے اس زندگی کے لیے جو موت کا ذائقہ چکھنے کے بعد کی ہے اور اس نے سارے دکھ درد تکلیفیں قربانیاں اسی زندگی کے لیے دی ہیں جس کا دروازہ " واہ " ہے اسی واہ کے لیے اس نے اپنی نیندیں سکھ, چین ,محبت بھرے پل , وعدوں کی مٹھاس , وصل کی انگ انگ سے پھوٹتی ہوئی خوشیاں, پل پل مرتی ہوئی خواہشوں کو اپنے اوپر وارد کرکے پڑھنے اور سننے والوں کے لیے مصرعے ترتیب دیے پھر ان مصرعوں سے شعر تخلیق اور پھر ان شعروں کو غزلوں میں ڈھال کر ایک مجموعہ ترتیب دیا جس مجموعہ کی تقریب رونمائی میں آج ہم سب موجود ہیں ویسے تو بے شمار غزلیں میں نے صادق فدا سے سنی بھی ہیں کچھ میرے لیے بھی نئی ہی تھیں لیکن سارا مجموعہ پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صادق فدا نے کہیں بھی اپنے فن میں ڈنڈی نہیں ماری میرا ایک شعر ہے 

یاس جگر دا خون ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فر غزلاں دی مٹی گو 

صادق فدا اس پر پورا اترتا ہے اس نے سچ میں پنجابی غزل کو خون جگر دیا ہے اس کا مصرعہ مصرعہ سچ ہے صادق فدا نے اشعار کہے نہیں ہیں بلکہ جنے ہیں کمال صادق فدا نے یہ کیا کہ ماں بولی پنجابی غزلوں کی کتاب کا نام ماں جی سے رکھوایا اور ماں جی نے کیا کمال نام دیا " واہ " اس کا فائدہ صادق فدا کو یہ ہوا کہ کسی بھی شاعر کی کتاب پڑھ کر ہی بندہ واہ کرتا ہے لیکن صادق فدا خوش قسمت ہے کہ اس کی کتاب کو بندہ دیکھ کر بھی واہ کرسکتا ہے پنجابی غزل کی جھولی میں صادق فدا نے بہت عمدہ اور بہترین کتاب ڈالی ہے ماں جی کا دیا ہوا نام اور ماں بولی میں تخلیق کیا گیا صادق فدا کا مجموعہ " واہ " دو آتشہ ہے جس میں قاری کے لیے کو ہر وہ رنگ میسر ہے جس کی اس کو طلب ہے کیونکہ صادق فدا اک نڈر بےباک اور منجھا ہوا شاعر بن کر ابھرا ہے اور یہ واہ دیکھنے سے لے کر پڑھنے تک قاری واہ واہ واہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے لکھنے والا جب بھی لکھتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے سارے رنگ ساری خوشبوئیں اس میں شامل کرے لیکن پھر بھی ایک ڈر ہوتا ہے جو اسے عاجز رکھتا ہے اسی میں بہتری ہے اسی میں عزت ہے اسی میں بڑا پن ہے اور صادق فدا میں یہ ساریاں خوبیاں موجود 

ہیں صادق فدا کا بھلے یہ پہلا مجموعہ ہے لیکن

 سچ یہ ہے صادق فدا پنجابی ادب کا کوہ نور ہیرا ہے جس کی گونج پاکستان انڈیا کینیڈا اور جہاں جہاں پنجابی بولی جاتی ہے پڑھی جاتی ہے سنی جاتی ہے سنائی دے رہی ہے جو وقت کے ساتھ اپنے لیے نئی راہیں تلاش کرے گی جو ہمارے لیے باعث عزت اور باعث مسرت ہے کہ ہمارا بھائی ہمارا دوست جگہ جگہ پڑھا جارہا ہے سنا جارہا ہے سراہا جارہا ہے اور الحمد و للہ ہمارے شہر پھول نگر ہمارے ضلع قصور اور ہمارے پنجاب ہمارے پنجابی ادب کے لیے یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے 

اس کے پاس لفظوں کا تخیل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے کیونکہ وہ آل رسول سے پیار کرنے والا ہے اور ایسے بندے کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہوسکتی میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت صدقہ محمد و آل محمد صادق فدا کے قلم , علم , عمر, نام , کام اور عزت  و مرتبے میں اضافی فرمائے اور اس کا پنجابی شعری مجموعہ واہ صادق فدا کو اک نئی زندگی دے ہر زبان پر صادق فدا کے لیے واہ واہ ہو اور اس کی نیک نامی میں اضافہ کرے ۔آمین 


Tuesday, April 4, 2023

نظم ( سوکھے برگد ہرے ہوں گے )ساجد علی امیر

 نظم: سوکھے برگد ہرے ہوں

شاعر:ساجد علی امیر



اگر

میں

اتار دوں

اپنے وجود سے


چمکدار خلعت

تو

مرے وجود کی سیاہی

پھیل جائے

انجانے جہانوں تک

جو 

سمٹ کر 

اک نئے سورج کو جنم دے

جس کی تپش سے

بنجر کھیت لہلہا اٹھیں

سوکھے برگد ہرے ہوں


بچیا ( ایس کے شاہد کوٹ مومن )

 ،، بچیا ،،

توں جے آکھیں جی بچیا

ھور  میں  لینا  کی بچیا


تیری قسمیں تیرے ھاسے

پھٹ وی دندے سی بچیا


میری اکھ دا چانن توں ایں

جگ جگ ، جگ تے جی بچیا


تیری اکو جی تے مینوں

سب کجھ جاندا ڈھی بچیا


جگ دے لکھ کروڑاں نالوں

ودھ نے تیرے ویھی بچیا


ویخ کے تیرے مکھڑے نوں

رجدا نہیں اے جی بچیا


شاھد تیریاں خیراں منگے

نت شہد  پیالے  پی بچیا


ایس کے شاھد

کوٹ مومن