Tuesday, April 4, 2023

نظم ( سوکھے برگد ہرے ہوں گے )ساجد علی امیر

 نظم: سوکھے برگد ہرے ہوں

شاعر:ساجد علی امیر



اگر

میں

اتار دوں

اپنے وجود سے


چمکدار خلعت

تو

مرے وجود کی سیاہی

پھیل جائے

انجانے جہانوں تک

جو 

سمٹ کر 

اک نئے سورج کو جنم دے

جس کی تپش سے

بنجر کھیت لہلہا اٹھیں

سوکھے برگد ہرے ہوں


بچیا ( ایس کے شاہد کوٹ مومن )

 ،، بچیا ،،

توں جے آکھیں جی بچیا

ھور  میں  لینا  کی بچیا


تیری قسمیں تیرے ھاسے

پھٹ وی دندے سی بچیا


میری اکھ دا چانن توں ایں

جگ جگ ، جگ تے جی بچیا


تیری اکو جی تے مینوں

سب کجھ جاندا ڈھی بچیا


جگ دے لکھ کروڑاں نالوں

ودھ نے تیرے ویھی بچیا


ویخ کے تیرے مکھڑے نوں

رجدا نہیں اے جی بچیا


شاھد تیریاں خیراں منگے

نت شہد  پیالے  پی بچیا


ایس کے شاھد

کوٹ مومن


Wednesday, March 29, 2023

غزل ( ایس کے شاہد ) کوٹ مومن

 ایس کے شاھد

کوٹ مومن


جو کہنا سی کہہ نہیں ھویا

چپ وی سجنا رہ نہیں ھویا


سارے دکھڑے سہ لئے نے پر

تیرے غم نوں سہہ نہیں ھویا 


تیرے شہر چ فر فر چناں

سوکھا ساہ وی لے نہیں ھویا


غیرت غرضاں نالوں ودھ سی

جگ دے پیریں ڈھہہ نہیں ھویا


سچ دا پلڑا چھڈ کے شاھد

جوٹھ سمندرے لیھہ نہیں ھویا


اسلوب اور اسلوب نگار ( تحریر : ساجد علی امیر )

 اُسلوب اور اُسلوب نگار


تحریر :ساجد علی امیر


اُسلوب کے متعلق مختلف آراء ملتی ہیں ۔لیکن ان تمام آراء میں یہ بات مشترک ہے کہ اُسلوب اُسلوب نگار کی شخصیت کا  مظہر ہوتا ہے۔اس میں اُسلوب نگار کی شخصیت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس طرح سے جلوہ گر ہوتی ہے کہ اس کی ذات کی تمام داخلی اور خارجی کیفیات اور واردات کا بھر پور اظہار ہوجاتا ہے۔اُسلوب شخصی صفت ہے جو اُسلوب نگار کی شخصیت کا مجموعی تاثر پیش کرتے وقت اس کے افکارو خیالات اور جذبات و احساسات کو  تخلیقی طور پر دریافت کرتی ہے۔اُسلوب شخصی اور انفرادی استعداد کا مطالعہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اُسلوب سے مراد ایساطرزِِ اظہار لیتے ہیں جو انسان اور اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔فرانسیسی نقاد بوفان "اُسلوب خود انسان ہے"کا داعی ہے جبکہ پروفیسر مرے مصنف کی مکمل شخصیت کو اُسلوب کہتا ہے۔ادبی اظہار کے لیے اسلوب زیور کا کام دیتا ہے اور زبان و بیان کے ان تمام وسائل کو بروئے کار لاتا ہے جن کی مدد سے  تخیل یا موضوع کو موثر طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر سید عبداللہ کے نزدیک:

"اُسلوب سے مراد بات کو بلیغ انداز میں پیش کرنا ہے اور وہ تمام وسائل کو استعمال کرنا مراد ہے, جن سے کوئی ادبی تحریر موثر ثابت ہو سکتی ہے۔"(١)

اُسلوب خاص قسم کا طرزِتحریر ہے جو ادبی تخلیق کے ان تمام خصائص سے تعلق رکھتا ہے جو خیال یاموضوع کا اظہاروابلاغ کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔اُسلوب ہی اُسلوب نگار کو انفرادیت سے نوازتا ہے ۔جس کے بل بوتے پر وہ اپنے معاصرین میں نمایاں مقام حاصل کرتا ہے اور اپنی شناخت بناتا ہے۔اُسلوب کی تشکیل میں ان سیاسی ,سماجی,تہذیبی,ثقافتی اور مذہبی حالات واقعات کابڑا عمل دخل ہوتا ہے جو اُسلوب نگار کی شخصیت پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر انداز ہوتے ہیں۔اگر اُسلوب نگار اپنی شخصیت اور اس سے وابستہ حالات و واقعات کو منہا کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا کیونکہ اُسلوب کا کوئی نہ کوئی زاویہ اس کی شخصیت کی مختلف جزئیات اور اسے پیش آنے والے سیاسی ,سماجی اوردیگر واقعات کے مابین ربط تلاش کر لیتا ہے ۔جس سے اس کی شخصیت کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔ اُسلوب تجربے یا خیال اور اس تجربے یا خیال کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کے امتزاج سے وجود میں آتا ہے۔تجربے یا خیال کا تعلق شخصیت کی فکری گہرائی,ذہنی وسعت,دینی نظریات و افکار اور ذہنی میلانات سے ہوتا ہے۔ جب ان کو الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے تو یہ محض تجربہ, مشاہدہ یا تخیل نہیں ہوتا بلکہ شخصیت کے اندرون کی الفاظ کے ذریعے خارجی ہئیت تخلیق کی جارہی ہوتی ہے۔یوں اس کے خدوخال وضع ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی کتاب "اقبال کی اردو نثر "میں رقم طراز ہیں:

"اور یہ صورت حال اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ لکھنے والا اپنے اُسلوب کے ذریعے سے اپنے خیالات و نظریات کی وضاحت کرتا ہے۔یہ خیالات و نظریات در حقیقت لکھنے والے کے جذباتی اور ذہنی تجربات کی صورت میں سامنے آتے ہیں"۔(٢)


گورکھ دھندہ ( ناز خیالوی)

 تم اک گورکھ دھندا ہو ۔ ناز خیالوی


تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا

غریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکن

کسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچا

ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو


ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے

حیراں ہے مگر عقل میں کیسا ہے تو کیا ہے

تجھے دیر و حرم میں میں نے ڈھونڈا تو نہیں ملتا

مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دل میں دیکھا ہے

جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں

پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا

تم اک گورکھ دھندہ ہو


کوئی صف میں تمہاری کھو گیا ہے

اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے

نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے

مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے

عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے

کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے

نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا

نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے

میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی

اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے

نہیں آیا خیالوں میں اگر تو

تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے

تم اک گورکھ دھندہ ہو


حیران ہوں

میں حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو

ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو

اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا

جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا

فلسفی کو بحث میں اندر خدا ملتا نہیں

ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں

چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم

جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم

دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم

جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم

حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح

حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم

یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں

ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم

بس تم اک گورکھ دھندہ ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو


نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو

جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو

کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی

کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو

زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے

وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو

خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی

طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو

نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل

خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو

چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں

نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو

بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں

آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو

جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی

بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو

خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر

خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو

اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے

اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو

کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری

تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو

جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی

اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو

جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے

تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو

سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے

اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو

خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب

ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ناز خیالوی



Monday, March 27, 2023

جگر مراد آبادی ( نعتیہ مشاعرہ)

 "اجمیر شریف میں نعتیہ مشاعرہ" 

 فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے۔ وہ کھلے رِند تھے اور نعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کا نام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت ‏اختلاف پیدا ہوگیا۔

کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔

دراصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔

بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائقِ اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند علماء حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے ‏بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود علماء حضرات اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔

آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمینِ مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔ کو مدعو کیا جانا چاہیے۔ یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عزت کا اس سے بڑا اعتراف نہیں ہوسکتا تھا۔ جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ 

’’میں گنہگار، رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! 

" نہیں صاحب نہیں‘‘ 

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ان کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، 

بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے ‏حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔ 

ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے جاتے تھے ۔ دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے کہ مجھے نعت لکھنی ہے ۔اگر شراب کا ایک قطرہ بھی ‏حلق سے اترا تو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، ممکن ہے  یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شاید اللّه کو مجھ پر ترس آجائے!

ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل ‏کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ 

پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارشِ انوار ہو گئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔

کونین کی‏ دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ 

 مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ‏ بپھرے ہوئے تھے۔ 


اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھا کہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔ وہ کئی دن پہلے اجمیر شریف پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گے۔


جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے؎


کہاں پھر یہ مستی، کہاں ایسی ہستی

جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں


آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔ 

اسٹیج سے آواز ابھری

’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی!‘‘ ۔


اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا… اور محبت بھرے لہجے میں گویاں ہوئے۔۔


’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعتِ رسولِ پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔


شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے…


اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ

ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ


جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی زبان سے شعر ادا ہو رہاہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہو رہا ہے۔


نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔ وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہو گئے، اختلاف ختم ہو گئے، رحمتِ عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی

’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی.

نعت یہ تھی..


اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ

ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطانِ مدینہ


دامانِ نظر تنگ و فراوانئِ جلوہ

اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ


اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق

تو خلد ہے تو جنت ِسلطانِ مدینہ


اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت

دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ


اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید

صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ


کونین کا غم، یادِ خدا ور شفاعت

دولت ہے یہی دولتِ سلطانِ مدینہ


ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی

یہ عالم شاہوں سے سوا سطوتِ سلطانِ مدینہ


اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا

نازک ہے بہت غیرتِ سلطانِ مدینہ


کچھ ہم کو نہیں کام جگر اور کسی سے

کافی ہے بس اک نسبت ِسلطانِ مدینہ


منقول🙏