Thursday, March 16, 2023

ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستانیوں کی محسن

 پاکستانیوں کی مُحسن، ڈاکٹر رتھ فاؤ            


1963 میں ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پاکستان میں پہلی مرتبہ کراچی کے علاقے برنس روڈ پر لیپروسی سینٹر ( جزام سینٹر) کی بنیاد رکھی اور فیصلہ کیا کہ میکلوڈ روڈ پر جھونپڑ پٹی میں موجود کوڑھ کے مریضوں کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔


اس زمانے میں کوڑھ کے مریضوں کے پاس جانے کو بھی خطرناک سمجھا جاتا تھا اس لئے مریضوں کی منتقلی کا کام رات کی تاریکی میں کیا جاتا، چند ہی روز میں علاقہ مکینوں کو اسپتال کا معلوم ہوا تو انہوں نے اسپتال کے خلاف ہائیکورٹ میں کیس دائر کردیا۔


اس زمانے میں بااثر خاندان کی بااثر شخصیت ڈاکٹر زرینہ فضل بائی نے ڈاکٹر رتھ کا ساتھ دیا اور کیس لڑنے میں بھرپور تعاون کیا، انہوں نے عدالت کو مطمئن کیا اور فیصلہ حق میں آنے کے بعد لیپریسی سینٹر نے باقاعدہ طور پر کام شروع کردیا۔


ڈاکٹر رتھ نے مشاہدہ کیا کہ کراچی کے لیپریسی سینٹر میں ملک بھر سے مریض آنے لگے جس کے بعد انہوں نے 1965 میں مقامی لوگوں کو تربیت دینا شروع کی اور خاص طور پر خیبرپختونخوا اور شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے پیرا میڈکس کو کوڑھ کے علاج کی تربیت دی۔


ڈاکٹر رتھ فاؤ نے خود باہر نکل کر کوڑھ کے مرض سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے کراچی کی سڑکوں پر ریلیاں نکالیں، گرم ترین صحرائے تھر گئیں، دشوار گزار پہاڑی علاقوں کا دورہ کیا اور سرحدی علاقوں میں موجود کوڑھ کے مریضوں کا علاج کیا۔


سادہ سے کپڑوں میں ملبوس اور مشرقی روایات میں ڈھل کر ڈاکٹر رتھ ٹوٹی پھوٹی اردو میں مریضوں سے بات کیا کرتیں اور پاکستانی زبانوں پر عبور حاصل نہ ہونے کے باوجود وہ مریضوں کی بات سنا کرتیں اور جب وہ کوڑھ کے مریضوں کو ہاتھ لگا کر علاج کرتیں تو دیکھنے والے حیرت زدہ ہوجاتے۔


ملک میں کوڑھ کے مرض کے خاتمے اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر حکومت پاکستان نے انہیں 1969 میں ستارہ قائداعظم کے ایوارڈ سے نوازا اور اس وقت کے صدر جنرل یحیٰ خان سے میڈل وصول کیا۔


ڈاکٹر رتھ نے 1975 میں خیبرپختونخوا، 1976 میں بلوچستان اور 1984 میں گلگت بلتستان میں لیپریسی سینٹر کھولے۔ 


1986 میں عالمی ادارہ صحت نے کوڑھ کے مریضوں کے لئے ملٹی ڈرگ تھراپی متعارف کرائی جو اس مرض پر قابو پانے کے لئے سود مند ثابت ہوئی۔


ڈاکٹر فاؤ کی بھارت کی مدر ٹریسا سے ملاقات کے دوران لی گئی فوٹو، یہاں سابق صدر ضیاء الحق کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر رتھ جس سماجی تنظیم سے جرمنی میں وابستہ تھیں اس نے انہیں بھارت میں مدر ٹریسا سے ملنے کا کہا تھا لیکن ویزا مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر رتھ بھارت تو نہ جاسکیں البتہ مدر ٹریسا خود ہی پاکستان آگئیں۔


اس وقت کے صدر ضیاالحق نے مدر ٹریسا کو پاکستان مدعو کیا اور کراچی سے خصوصی طور پر ڈاکٹر رتھ کو بھی اسلام آباد بلایا گیا، اگر یوں کہا جائے کہ صدر ضیاالحق نے پاکستانی اور بھارتی مدر ٹریسا کی ملاقات کا اہتمام کیا تو غلط نہ ہوگا۔


صدرضیاالحق نے ڈاکٹر فاؤ کو فیڈرل ایڈوائزر مقرر کیا جس کے بعد پاکستان میں جاری لیپروسی پروگرام ان کے حوالے کردیا اور ڈاکٹر رتھ کی کوششوں کی بدولت 1996 میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ پاکستان سے کوڑھ کے مرض کا خاتمہ ہوچکا ہے۔


میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے میڈیا منیجر نثار ملک کے مطابق صدر ضیاالحق نے ڈاکٹر رتھ کی خدمات کے پیش نظر انہیں پاکستانی شہریت جاری کی لیکن ڈاکٹر رتھ نے شہریت لینے سے انکار کردیا کیوں کہ وہ اپنی جرمن شناخت کو ختم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔


نثار ملک کے مطابق ڈاکٹر رتھ ہمیشہ کہتی تھیں جرمنی تو وہ ملک ہے جہاں میں پیدا ہوئی لیکن پاکستان میرے دل کا ملک ہے اور اگر میں مرجاؤں تو مجھے یہیں دفن کیا جائے


نثار ملک کے مطابق ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خواہش کے مطابق گورا قبرستان میں ان کی تدفین کی جائے گی۔


ایڈی لیڈ لیپروسی سینٹر کے میڈیا منیجر کے مطابق جرمن لیپروسی ریلیف ایسوسی ایشن نامی تنظیم ان کی پارٹنر ہے جو پاکستان میں میری لیڈ سینٹر کے لئے 60 فیصد فنڈنگ کرتی ہے جب کہ پاکستان سے زکواۃ، خیرات، صدقات اور ڈونیشن کی صورت میں 40 فیصد امداد جمع ہوتی ہے۔


ڈاکٹر رتھ فاؤ کے ملک بھر میں 157 سینٹر کام کر رہے ہیں جس میں نہ صرف کوڑھ کے مریضوں کا بلکہ اندھے پن کے کنٹرول، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، تپ دق کے مریضوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے،


ڈاکٹر رتھ کے سینٹر میں سالانہ 400 سے 500 کوڑھ کے مریض علاج کے لئے آتے ہیں تاہم مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے اور اس وقت تقریبا ساڑھے 500 مریض زیرعلاج ہیں جب کہ مجموعی رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 57 ہزار 700 سے ہے۔


ان کے مطابق ڈاکٹر رتھ سال 2000 تک تمام امور کی نگرانی خود کیا کرتیں اور ہر سینٹر میں جاکر انتظامات کا جائزہ لیتیں لیکن 2002 میں انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی جس کے بعد وہ تقریبا ہر سال جرمنی جاکر تنظیم کے لئے فنڈ ریزنگ کرتیں۔


نثار ملک کے مطابق ڈاکٹر رتھ فاؤ کے خاندان کے لوگ جب تک زندہ تھے تو وہ جرمنی جاتی تھیں تاہم آخری مرتبہ وہ 2012 میں جرمنی گئیں جس کے بعد ڈاکٹروں نے ناساز طبیعت کے باعث انہیں سفر نہ کرنے کی ہدایت کی۔


ڈاکٹر رُتھ فاؤ اپنی زندگی کے 56 برس پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل رہیں، انہیں پاکستان کی’مدر ٹریسا‘ بھی کہا جاتا ہے۔


لاکھوں مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں

افسوس ایسے لوگوں کو ہم مطلب نکل جانے کے بعد بھول جاتے ہیں 

ہمارے نصاب تعلیم میں ایسے ہیروز کے لئے کوئی جگہ نہیں جو ہماری زبوں حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے


رائٹرز ویلفئر فاؤنڈیشن حافظ آباد اور پنجاب حکموت کی جانب سے محفل مشاعرہ منتظم شاہ دل شمس ، سید محمود بسمل

  رائٹرز کلب ویلفیئر سوسائٹی حافظ آباد کی جانب سے  شاندار تاریخی جشن_ بہاراں مشاعرہ 

حافظ آباد کی سر زمیں پر انعقاد پزیر ہوا،جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام کی شرکت مشاعرہ کے انتظامات ڈپٹی کمشنر حافظ آباد عمر فاروق وڑائچ اور محترمہ مائدہ اشتیاق سوشل ویلفیئر آفیسر نے کئے  صدر مشاعرہ 

سید کرامت بخاری لاہور تھے مہمان خصوصی سید نجم الحسن کاظمی حافظ آباد ، اعظم توقیر لاہور ، پروین سجل لاہور ، محسن شبیر جعفری ایڈووکیٹ ، یاسین یاس پھول نگر ، آصف جاوید حافظ آباد ، آسناتھ کنول لاہور ، صبا ممتاز بانو لاہور مہمان اعزاز ڈاکٹر مظہر محسن ، لطیف ساجد ، شہزاد اوپل ، قاری عتیق احسن ، مزمل حسین مزمل ، خالدہ شریف ، شمائلہ فاروق ، عفت نزیر ، نبیل حاجب ، محمد علی ، طیب کوثر و دیگر شامل تھے خلوصی شرکت رائے غضنفر علی کھرل چئیرمین پریس کلب حافظ آباد ، سینئر صحافی چودھری جاوید اسد ، سعد اللہ فیلڈ سپروائزر سوشل ویلفئیر حافظ آباد شامل تھے ۔

میزپان مشاعرہ شاہ دل شمس ، سید محمود بسمل ، اسد سلیم شیخ ، پی ایم صفدر ، اور عزیز علی شیخ تھے ۔حافظ آباد کی دھرتی نے یہ ثابت کیا وہ اچھا شعر کہنے کے ساتھ ساتھ اچھے سامع بھی رکھتے ہیں مشاعرہ گاہ میں فیملیز کی بھرپور شرکت جس میں بچے نوجوان و خواتین شامل تھیں شاہ دل شمس اور سید محمود بسمل و دیگر احباب کو کامیاب مشاعرے کی مبارک باد پیش کرتا ہوں. یاسین یاس 

وائس چئیرمین بھائی پھیرو پریس کلب پھول نگر 

وائس چئیرمین ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان ( پتوکی ) 



Tuesday, March 14, 2023

رپورٹ : فریدہ خانم ( سالانہ تقریب دارارقم سکول )

 رپورٹ  :   فریدہ خانم   .





"  دار ارقم سکول میں سالانہ تقریب کا انعقاد  "  .



دو مارچ دو ہزار تئیس میں  " دار ارقم سکول " ,  بشیر ایونیو 1' راۓ ونڈ روڈ' لاہور میں سالانہ تقریب کا انعقاد  کیا گیا. تقریب ہذا میں میاں ساجد علی چیئرمین علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی کو بطور  مہمان خصوصی مدعو کیا گیا. میاں ساجد علی نے ڈاکٹر بشیر مغل ڈاریکٹر دار ارقم سکول کے ہمراہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں میں اسناد و شیلڈز تقسیم کیں. اس موقع پر اپنے خطاب میں میاں ساجد علی نے علامہ اقبال رح  کی شخصیت اور بچوں میں ان کی فکر اجاگر کرنے پر روشنی ڈالی. انہوں نے بچوں کو " اقبال کا شاہین  " کہا اور یہ امید ظاہر کی کہ بچے اقبال کی فکر کو اپناتے ہوۓ عملی طور پر آگے بڑھیں  اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنے کردار ادا کریں . محترم ڈاکٹر بشیر مغل نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوۓ کہا کہ آج کے بچے ہمارا مستقبل ہیں,  ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارا سکول ان کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ دار ارقم سکول کی تمام شاخوں میں قرآن پاک کی تعلیم ایک اہم جزو ہے. اس تقریب میں بچوں نے بڑے شوق سے ٹیبلو اور دیگر سرگرمیاں بھی پیش کیں .


رفاقت حسین ممتاز ( میں تینوں کسراں دساں )

 میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

لکھے ہندے نیں جیہڑے

پانیاں دے ریڑھ دے اُتے

اوہ وعدے توڑ نہیں چڑھدے


میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

جہڑے ککھاں توں ہولے نیں

اوہناں دے موڈھیاں اُتے

بڑے ای بھار ہوندے نیں


میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

جے بُوہے بھیڑ لیۓ تے

سراں تے دُھوڑ نہیں پیندی

ہنیری لنگھ جاندی اے


میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

ایہ تیرے شہر دے لوکی

کدے وی گھٹ نہ کردے

کفن نوں جیب جے ہوندی


میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

ایہ جہے ویلے وی آؤندے نیں

اکٹھے رہندے ہویاں وی

اکثر میل نہیں ہوندے


میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

جے مُٹھ نوں کھول وی لیۓ

اُڈیکاں دی تلی اُتے

ہوا دے رنگ نہیں چڑھدے


میں تینوں کسراں دساں

میں تینوں کسراں آکھاں

جے وقتوں کھنج جائیے تے

سدا سُولاں تے لنگھدی اے

حیاتی بوسکی ورگی


رفاقت حسین ممتاز


Monday, March 13, 2023

خام خیالی ( ایس کے شاہد )

 خام خیالی


اسی ایسے دھرتی تے جمے پلے ۔

کئی موسم وی گرم تے سرد جھلے ۔

بانئ وطن توں لے کے اج تائیں ۔

چنگیاں نال جو ھویا سلوک سائیں ۔

بندہ بندہ ایہہ تے جان دا اے ۔

مندا چنگا ، خوب سنجھان دا اے ۔

بھکھ سہندی ، نہیں ایہہ پانی منگ دی ۔

تبدیلی تاں ھمیش قربانی منگ دی ۔

اقتدار دے بھکھے ، ھوس دے مارے ۔

ایہہ راہزن چور لٹیرے سارے ۔

گل اپنے آپے ، پھاہی پاوسن ۔

تبدیلی ووٹاں نال لیاوسن ۔

ایہہ تیری خام خیالی اے 

ایہہ تیری خام خیالی اے ۔

ایس کے شاھد


ترجمہ: عزیز بلگامی ( شہد اور دار چینی )

 بطورِ دوا:شہد اور دارچینی :ایک تعارف


انگریزی سے ترجمہ: عزیز بلگامی


یہ حقیقت پایۂ ثبوت کوپہنچ چکی ہے کہ شہد اور دارچینی کے مرکب کا استعمال بیشتر امراض کے لیے اکسیر کا کام دیتا ہے۔دنیا کے کئی ملکوں میں شہد کی افزائش کے انتظامات موجود ہیں۔ صدیوں سے آیورویدک سمیت یونانی دواﺅں میں شہد کا استعمال ہورہا ہے۔ جدید دور کے سائنسدانوں نے بھی ہر طرح کے امراض کے لیے شہد کو بطور دواانتہائی مجرب قرار دیا ہے۔ کسی بھی قسم کی ذیلی بیماری Side Effectکے خوف کے بغیرشہد استعمال کی جاسکتی ہے۔جدید سائنس کہتی ہے کہ گو کہ شہد میٹھی ہوتی ہے،لیکن اگر دواکی حیثیت سے مناسب خوراک دی جائے توزیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی یہ نقصان دہ ثابت نہ ہوگی۔ کینڈا سے شائع ہونے والے”ویکلی ورلڈ نیوز“ نامی ایک معروف رسالہ نے اپنے ۷۱جنوری ١٩٩۵ءکے شمارے میں اُن بیماریوں کی ایک فہرست شائع کی ہے،جن کا شہد اور دارچینی کے ذریعہ علاج ممکن ہے، جیسا کہ مغربی سائنسدانوں کی تحقیق بتاتی ہے۔

جوڑوں میں درداور جلن:

شہد کے ایک حصہ کونیم گرم پانی کے دو حصوں میں گھولیے اور اس میں ایک چائے چمچ "دارچینی" کا سفوف ملائیے۔ پھر اس کا پیسٹ بنائیے اور اسے متعلقہ مقام کے درد کےحصہ پر آہستہ آہستہ مَلیے۔یہ بات مشاہدے کی ہے کہ درد ایک دو منٹ میں رفتہ رفتہ کم ہوتا ہوا محسوس ہوگا۔یا جوڑوں کے درد وجلن کے مریض روزانہ صبح و شام ایک عمل یہ بھی کر سکتے ہیں کہ ایک کپ گرم پانی میں دو چمچ شہد کے ساتھ، ایک چھوٹا چمچ دارچینی کے سفوف کاگھول لیں۔جوڑوں کے درد اور جلن کے دائمی مریض اگر اسے روزانہ پئیں تو افاقہ محسوس کریں گے۔”کوپن ہیگن یونیورسٹی “میں کی جانے والی حالیہ تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا ہے کہ ناشتہ سے پہلے ایک ٹیبل چمچ میں شہد اور آدھے چائے چمچ میں دارچینی کے سفوف کے مرکب کو لے کرجب ڈاکٹروں نے اپنے مریضوں کا علاج کیا،تواُنہیں معلوم ہوا کہ ایک ہی ہفتے میں دو سو افراد میں سے،جن پر یہ علاج آزمایا گیا تھا،عملی طور پر ۳۷ افراد کامکمل طور پر درد ختم ہوا۔ اور ایک ہی مہینے میں زیادہ تر مریض جو جوڑوں کے درد کی وجہ سے بغیر درد محسوس کیے کے چل نہیں پاتے تھے یا حرکت نہیں کر سکتے تھے،چلنا شروع کر دیا۔ 

سانس کی بدبو:

شمالی امریکہ کے لوگ علی الصبح سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ گرم پانی میں گھولے گئے شہد اور دارچینی کے سفوف کے ایک چمچ مرکب سے غرغرہ کرتے ہیں۔ اس طرح اُن کی سانس دن بھر تازگی بخش رہتی ہے۔

مثانہ کو لاحق ہونے والی بیماریاں ایک گلاس نیم گرم پانی میں دو ٹیبل چمچ دار چینی کا سفوف اور ایک چائے چمچ میں شہد گھولیے اور اسے پی لیجیے۔ یہ مثانہ کی بیماریوں کے جراثیم کو ختم کردے گا۔

سرطان (کینسر):

 جاپان اور آسٹریلیا میں کی جانے والی حالیہ تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ پیٹ اور ہڈیوں کے پیش قدمی کیے ہویے سرطان (Advanced Cancer)کی  کامیاب شفایابی ممکن ہوئی ہے۔ اس نوع کے سرطان میں مبتلا مریضوں کو ایک ٹیبل چمچ شہد کے ساتھ ایک چائے چمچ دارچینی سفوف، روزانہ تین دفعہ،ایک مہینے تک کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

کولیسٹرال:

شہد کے دو ٹیبل چمچ اور دار چینی کے سفوف کے تین چھوٹے چمچ کو۶۱آؤنس چائے کے پانی میں گھولا ہوا مرکب اگر کولیسٹرال کے مریض کو دیا جائے تو یہ دو گھنٹوں کے اندر اُس کے خون میں کولیسٹرال کی سطح کودس فی صد تک کم کر دیتا ہے۔جیسا کہ جوڑوں کے درد کے مریضوں کے سلسلے میں بتایا گیا، اگر مذکورہ مرکب دن میں تین مرتبہ استعمال کیا جائے تو کوئی بھی دائمی کولیسٹرال کا مریض شفایاب ہو جائے گا۔ متذکرہ رسالے میں درج اطلاع کے مطابق غذا کے ساتھ خالص شہد کاروزانہ اِستعمال کولیسٹرال کی شکایتوں سے چھٹکارا دلائے گا۔

سردی زکام:

عام یا شدید قسم کی سردی میں جو لوگ مبتلا ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ چائے کے چمچ میں ایک ٹیبل چمچ شہد اور اس کا ایک چوتھائی دارچینی سفوف نیم گرم پانی میں روزانہ استعمال کریں۔تین دنوں تک کے لیے۔ یہ عمل قدیم دائم المرض کھانسی اورسردی کی شفا یابی میں مجرب ثابت ہوتا ہے اور سائی نس (Sinuses) کو صاف کرتا ہے۔

تھکاوٹ:

حالیہ تحقیقی مطالعہ بتا تا ہے کہ شہد میں شکر کی موجودگی جسم کی مضبوطی کے لیے ضرر رساں سے زیادہ اسے قوت پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔جوبزرگ شہری یکساں مقدار میں شہد اور دارچینی کا سفوف استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ چاق و چوبند رہتے ہیں۔ڈاکٹر ملٹن، جنہوں نے اس سلسلے میں تحقیق کی ہے، کہتے ہیں کہ پانی کے ایک گلاس میں آدھا ٹیبل چمچ شہد،دارچینی کے سفوف کے چھڑکاﺅکے ساتھ روزانہ دانت مانجنے کے بعد،پھر دوپہر اور تقریباً شام تین بجے لیا جائے۔جوں ہی جسم کی چستی اور پھرتی میں کمی واقع ہونے لگے گی،ایک ہی ہفتے میں جسم کی چستی اور پھرتی بڑھ جائے گی۔

بالوں کا گرنا:

بال گرنے یاگنجے پن کے مرض میں جو مبتلا ہیں، نہانے سے پہلے زیتون کے گرم تیل میں گھُلے ایک ٹیبل چمچ شہد،ایک چائے چمچ دارچینی کے سفوف کا بنا ہوا پیسٹ اپنے بالوں پر مل سکتے ہیں۔پھر ۵۱ منٹ بعد انہیں دھولیں۔یہ معلوم کیا گیاہے کہ پانچ منٹ تک کے لیے بھی رکھا جا نا مفید ہوتا ہے۔

سماعت کا متاثر ہونا:

صبح اور شام روزانہ شہد اور دارچینی کے سفوف کا یکساں مقدار میں استعمال سماعت کو دوبارہ لوٹا سکتا ہے۔

دل کے امراض:

شہد اور دارچینی کے سفوف کاپیسٹ بنائیے،جیلی یا جام کے بجائے اِسے بریڈ پر یا چپاتی پر لگائیے اور پابندی کے ساتھ ناشتہ میں نوش فرمائیے ۔یہ شریانوں میں کولیسٹرول کو کم کرتا ہے،اوردل کے دورے سے مریض کو محفوظ رکھتاہے ۔یہ بھی کہ وہ افراد جنہیں دل کاایک دورہ پڑ چکا ہو، اگر وہ ہرروز اس عمل کو آزمائیں گے تو وہ دوسرے دورے کے اعادے کو میلوں دور دھکیل سکتے ہیں۔پابندی کے ساتھ مذکورہ نسخے پر عمل آوری سے تنفس کی گرانی سے چھٹکارا ملتا ہے اور یہ دل کی دھڑکن کو مستحکم کرتا ہے۔امریکہ اور کینڈا میں، مختلف شفاخانوں نے کامیابی کے ساتھ مریضوں کا علاج کیا ہے اورانہیں اس حقیقت کا پتہ چلا کہ بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے اپنی ملائمت کھو دینے والی اور کثافت سے بھری ہوئی شریانوں اور گندے خون کی نالیوں میں جیسے ایک نئی جان پڑ گئی ہے۔

بدہضمی:

کھانا کھانے سے پہلے دو ٹیبل چمچ شہدپر دارچینی کے سفوف کاچھڑکاﺅ”ترشویّت“یا(Acidity) سے چھٹکارا دلاتا ہے اور ثقیل غذاکو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

بانجھ پن:

سالوں سے یونانی اور آیورویدی کے طبیب آدمی کی منی(نطفہ) میں قوت بڑھانے والی دواﺅں کی تیاری میں شہد کواستعمال کرتی رہی ہیں۔اگر لاولد اشخاص سونے سے پہلے پابندی کے ساتھ شہد کے دو ٹیبل چمچ استعمال کرتے ہیں تو اُن کی لاولدی کی کمزوریوں کے مسائل حل ہوں گے۔چین اور جاپان اور دور دراز کے مشرقی ممالک میں وہ خواتین جو حاملہ نہیں ہو پاتی ہیں ،بچہ دانی(Uterus) کی مضبوطی کے لیے دار چینی کا سفوف صدیوں سے استعمال کرتی رہی ہیں۔

خواتین جو حاملہ نہیں ہو پاتیں،آدھے چھوٹے چمچ شہد میں چٹکی بھردارچینی کے سفوف کوملا لیں اور پورے دن کے دوران اسے وقفے وقفے سے مسوڑوں پر مَل لیں تاکہ وہ آہستہ آہستہ لعاب دہن میں تحلیل ہو کر جسم میں داخل ہوجائے۔میری لینڈ،امریکہ کے ایک جوڑے کو ۴۱ سال تک کوئی اولادنہیں ہوئی تھی اور بچوں کی پیدائش سے وہ مایوس ہو چکے تھے۔جب ان سے اس نسخہ پر عمل کرنے کے فوائد کے بارے میں بتایا گیا تو میاں بیوی نے شہد اور دارچینی کا استعمال اوپر بتائے گیے طریقے کے مطابق شروع کیا۔چند ہی مہینوں میں وہ خاتون حاملہ ہوگئی اور اُسے حمل کے فطری وقفے کے بعد جڑواں بچے پیدا ہوئے۔

انفلوئنزایا وبائی زکام:

اسپین میں ایک سائنسدان نے ثابت کیا ہے کہ شہدمیں ایسے مجرب قدرتی اجزاءپائے جاتے ہیں جو انفلو ئنزا یا وبائی زکام کے جراثیم کومار دیتے ہیں اور مریض کو فلو(کے بخار) سے بچاتے ہیں۔

 بیماریوں سے دفاع کا جسمانی نظام:

شہد اور دارچینی کا روزانہ استعمال جسم کے دفاعی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔جراثیم اورVirusسے پیدا ہونے والی متعدی بیماریوں کے حملوں سے جسم کو بچاتا ہے ۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ شہدمیں مختلف حیاتین(Vitamins)پائے جاتے ہیں۔نیز اس میں لوہا بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔شہد کا مستقل استعمال، خون کے سفید ذرات کومستحکم کرتا ہے، تاکہ جراثیم اورVirusسے پیدا ہونے والی متعدی بیماریوں کامقابلہ کر سکیں۔

درازیِ عمر:

 شہد کی اور دارچینی کے سفوف کی بنائی ہوئی چائے، جب پابندی کے ساتھ استعمال کی جاتی ہےتوبوڑھاپے  کے طاری ہونے پر اپنی گرفت مضبوط کرلیتی ہے۔چار چمچ شہد اورایک چمچ دارچینی کاسفوف لیجیے اور تین کپ پانی میں چائے کی طرح اُبالیے۔روزانہ تین تا چار مرتبہ ایک چوتھائی کپ استعمال کیجیے ۔یہ جلد کو تازہ اور ملائم رکھتا ہے اور بو ڑھاپے کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔عمر میں اضافہ کرتا ہے۔اگر کوئی آدمی سو سال کی عمر ہی کا کیوںنہ ہو ایک بیس سالہ نوجوان کی سی پُھرتی دکھانا شروع کرے گا۔

کیل مہاسے:

شہد تین ٹیبل چمچ اور دارچینی کے سفوف ایک چائے کا چمچ ، دونوں کو ساتھ ملا کرپیسٹ بنا لیجیے۔ اس پیسٹ کوکیل مہاسوں پرسونے سے پہلے ملیے اور اگلی صبح گرم پانی سے دھو لیجیے۔یہ عمل دو ہفتوں کے لیے اگر روزانہ کیا جائے تو یہ جڑ سے مہاسوں کوختم کر دیتا ہے۔

جلد کی متعدی بیماریاں:

شہد اور دارچینی کے سفوف کی مساوی مقدار لے کر متاثرہ مقام پر لگانے سے کھجلی،جلد پرخارش زدہ دائرہ نما دھبے پیدا کرنے والی جلدی بیماری Ringworm نیز ہر طرح کے دیگر جلدی امراض کا کامیا ب علاج ہوتا ہے۔

وزن میں کمی کی شکایات:

روزانہ صبح کے وقت ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلے خالی پیٹ اور رات میں سونے سے پہلے ایک کپ اُبلے ہوئے پانی میں شہد اور دارچینی سفوف کوگھو ل کرپی لیجیے۔یہ اگرپابندی کے ساتھ استعمال کیاجائے تویہ وزن کو گھٹاتا ہے چاہے آدمی فربہ یا حد سے زیادہ موٹاپا رکھنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ ان دونوں کے مرکب کوپابندی کے ساتھ پینا جسم میں چربی کی افزائش کو روکتا ہے ، چاہے آدمی معیاری حرارہ (Calorie) والی غذا کیوں نہ استعمال کرتا ہو۔

دانتوں کا درد:

ایک چائے چمچ دارچینی کے سفوف اور پانچ چمچ شہد کو ملا کر پیسٹ بنالیجیے اور درد ہونے والے دانتوں کوملائمت کے ساتھ مَلیے۔اس عمل کو ایک دن میں تین مرتبہ دہرائیے تاوقت یہ کہ دانت کا در د ختم ہو جائے۔

پیٹ کا درد اور پیٹ کے دیگر مسائل:

شہد کے ساتھ دار چینی کے سفوف کا استعمال پیٹ کے درد اور ہرطرح کی گڑ بڑ کے علاج کے لیے مجرب ہے اور یہ نہ صرف پیٹ کو صاف رکھتا ہے ہے بلکہ السر کو اور اس کے امکانات کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے۔

گیس:

ہندوستان اور جاپان میں کیے جانے والے مطالعہ کے مطابق یہ انکشاف ہوا ہے کہ شہد کے ساتھ دار چینی کے سفوف کا استعمال پیٹ کی گیس سے چھٹکارا دلاتاہے۔


اگر آپ دارچینی اور شہد کے بطورِ دوا استعمال کی ان تجاویز سے مستفیض ہو رہے ہیں تو دوسروں کو بھی اس سے استفادے کا موقع عنات کریں اور اس مضمون کو ان کی اوراپنے احباب کی خدمت میں ضرور ارسال کریں....*


رپورٹ : عابد علیم سہو . ڈاکٹر خالد جاوید اسراں کا پانچواں افسانوی مجموعہ

 بھکر (       عابد علیم سہو  )  سرپرست بزمِ رفیق انٹرنیشنل بھکر ڈاکٹر خالد جاوید اسراں کا پانچواں افسانوی مجموعہ منشہہ شہود پر آ گیا ، دوست احباب کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری 

تفصیلات کے مطابق بھکر سے معروف افسانہ نگار ، شاعر سرپرست بزمِ رفیق انٹرنیشنل بھکر ڈاکٹر خالد جاوید اسراں صاحب کا پانچواں افسانوی مجموعہ ، فسوں زار ، چھپ کر مارکیٹ میں آ چکا ہے

فسوں زار کی اشاعت پر ڈاکٹر خالد جاوید اسراں کو دوست احباب کی جانب سے مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری

یاد رہے ڈاکٹر خالد جاوید اسراں کی اب تک چھ افسانوی اور شاعری کی کتابیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں جن میں پانچ افسانے اور ایک شعری مجموعہ شامل ہے