Monday, February 6, 2023

جائیں تو کدھر جائیں

 



جائیں تو کدھر جائیں 


 مہنگے پٹرول اور گیس نے عوام کی زنڈگی اجیرن کردی

مہنگائی کا جن ایسا بے قابو ہوا ہے کہ حکومت کے ہاتھ ہ


ی نہیں آرہا کچھ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ  حکومت کے ہاتھ پاؤں ہی نہیں ہیں اس کے ووٹر سپورٹر اور کرتا دھرتا بھی حال دہائی دیتے نظر آرہے ہیں جو بھی ہو عوام رل گئی ہے اور سب سے برا حال سفید پوش طبقے کا ہے جو نہ رو سکتا ہے نہ پیٹ سکتا اور نہ کسی کو گھسیٹ سکتا ہے کوئی طریقہ کار کوئی قاعدہ کلیہ کوئی حق حقوق دکھائی نہیں دے رہا بالکل ایسے ہے جیسے سب اندھے ہوں پچھلے چند دنوں سے پتہ نہیں کس طرح کی تبدیلی آئی ہے  دکان سے کوئی چیز لینے جاتے ہیں ریٹ پہلے سے زیادہ ہوتا ہے پوچھنے پر دکاندار حکومت کو کوستا ہے ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیا کریں ؟ کس کا گریباں پکڑیں نہ تو ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے اور نہ ہی ہم کوئی وزیر شزیر لگے ہوئے ہیں نہ گالی ہمیں زیب دیتی ہے اور نہ جیب اجازت دیتی ہے کہ منہ مانگے پیسے دے کر جو چاہیے خرید لیں ہم تو ٹھہرے سفید پوش لوگ اور یقین مانیے اب ہم سفید پوش لوگوں کو زندہ رہنا مشکل نظر آنے لگا ہے ادھار سے ہماری جان جاتی ہے اور گھر میں بچوں کی ماں جان کھاتی ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ جائیں تو کدھر جائیں آج کل شٹل کاک بنے ہوئے ہیں گھر سے کڑوی کسیلی سنتے دفتر کو بھاگتے ہیں اور شام تک باس کی نوک جھوک سن کر ادھ موئے سے ہوکر بیگم  کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں نہ  ہمارا خیال حکومت کو آتا ہے اور نہ ہی یہ منافع خور کرتے ہیں دس روپے کی چیز بھی سو روپے میں فروخت کررہےہیں اور حکومت کو گالیاں فری میں دے رہے ہیں تنخواہ کی رفتار کچھوے سی ہے اور مہنگائی خرگوش کی چال چل رہی ہے رات کو ریٹ کچھ ہوتے ہیں صبح جائیں تو کلو پہ دس روپے بڑھ جاتے ہیں رات کو جیب میں دو سو ڈال کر سوتے ہیں کہ صبح پٹرول  ڈلوائیں گے صبح ہوتے ان ہی پیسوں سے لیٹر پٹرول بھی نہیں ملتا چیک اینڈ بیلنس نام کی چڑیا پتہ نہیں کہاں غائب ہوگئی ہے افسران بالا جن کی ذمہ داری ریٹ چیک کرنے کی ہے وہ بڑے بڑے ریٹ لکھے بینرز چوراہوں پر آویزاں کروا کر ان پر دیا گیا نمبر بند کرکے یا بیل بند کرکے بیٹھے ہیں تاکہ موبائل کی گھنٹی بھی ہماری تنہائی میں دخل انداز نہ ہو چین کی بانسری بجا رہے ہیں اور حکومت کو سب اچھا کی رپورٹ بھیج رہے ہیں اور حکومت بھی آنکھیں بند کرکے آئے دن ریٹ بڑھا رہی ہے حالت یہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹوروں پر اشیاء کی کمی کا سامنا ہے اور جو اشیاء دستیاب ہیں ان کے ریٹ اور بازار کے ریٹ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور عوام کی الٹی چھری سے کھال ادھیڑ رہے ہیں مجال ہے کوئی ٹس سے مس ہورہا ہو  پچھلے دنوں کچھ چیزیں خریدنا تھیں اپنے شہر میں ان کا ریٹ چیک کیا پھر دوسرے شہر جاکر وہی چیزیں خریدیں تو یقین جانیے ہوش ٹھکانے آ گئے ہمارے شہر کے دکاندار پانچ سو روپے والی چیز پندرہ سو میں بیچ رہے ہیں اتنا منافع .

دکاندار حضرات کو بھی ناجائز منافع خوری سے بچنا چاہیے آخر اتنا پیسہ کرنا کیا ہے وہی بھوک ہے چند نوالوں کی اور آپ میں سے اکثر پرہیزی کھانا کھاتے ہیں بیماریوں میں گھرے ہوئے ہیں جس طرح حقوق اللہ کا خیال کرتے ہیں اسی طرح حقوق العباد کا بھی خیال کریں 


تحریر:  یاسین یاس

No comments:

Post a Comment