تیرے بنا سبھی سے خفا خفا دل ہے
تیرے خیال کو بھولا نہیں یہ کیا دل ہے
بڑا کٹھن ہے محبتوں کی منزلوں کا سفر
قدم قدم پہ میرے پہلو میں سوچتا دل ہے
گزر نہ جائے کہیں انتظار کا موسم
کہیں سے آ کہ تیری راہ دیکھتا دل ہے
کسی سبب سے ستانے کا قرض ہے جن پر
میرے خیال میں اک تو ہے دوسرا دل ہے
میں کس طرح سے جیوں گا اداس دنیا میں
بجھی ہوئی تمنا ہے بجھا ہوا دل ہے
تیرے نثار یہ قاضی کی زندگی کا قرار
اے میری جان ! تیری جان ہے تیرا دل ہے
عظیم قاضی
No comments:
Post a Comment